بھارت کی جارحیت پرقومی اتفاق رائے کی ضرورت

بھارت

وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو پلوامہ حملے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اگر بھارت نے حملہ کیا توپاکستان جواب دینے کا سوچے گا نہیں بلکہ جواب دے گا۔

جنگ شروع کرنا آسان مگر ختم کرنا انسان کے ہاتھ میں نہیں، جنگ شروع کی گئی تو بات کہاں تک جائے گی یہ اللہ ہی جانتا ہے ۔بھارت کے پاس پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد ہیں تو ہمیں فراہم کرے، ہم کارروائی کریں گے ۔نئے پاکستان میں نئی سوچ ہے یہ بات ہمارے اپنے مفاد میں ہے کہ نہ تو ہماری سرزمین سے باہر جا کر کوئی دہشت گردی کرے اور نہ ہی پاکستان آ کر کوئی دہشت گردی کریپاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنا ہمارے مفاد کے خلاف اور پاکستان سے دشمنی ہے۔

پاکستان میں نئی سوچ ہے یہ بات ہمارے اپنے مفاد میں ہے کہ نہ تو ہماری سرزمین سے باہر جا کر کوئی دہشت گردی کرے اور نہ ہی پاکستان آ کر کوئی دہشت گردی کرے پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنا ہمارے مفاد کے خلاف اور پاکستان سے دشمنی ہے۔

جو جواب وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھارتی الزام تراشی کے فوری بعد آنا چاہیے تھا، وہ واقعہ کے پانچ روز بعد سامنے آسکا ہے۔ عمران خان نے اس کا عذر بھی پیش کیا ہے لیکن بطور وزیر اعظم انہیں یہ خبر ہونی چاہیے کہ وقت رکتا نہیں اور نہ ہی کسی لیڈر کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ضروری کاموں سے فارغ ہو لے تو الزامات کا جواب دے کر حساب برابر کرسکتا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ پانچ روز میں تقریباً ہرروز پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکی دی ۔ بھارتی میڈیا گزشتہ چھ روز ہی پاکستان سے انتقام لینے اور اس پر حملہ کے لئے بھارتی حکومت پر دباو ڈال رہا ہے اور عوام میں غم و غصہ اور نفرت کی آگ کو بھڑکایا جارہا ہے۔مواصلات کے موجودہ دور میں جنگیں اسلحہ کے زور پر میدان جنگ کے علاوہ میڈیا اور سفارتی و سیاسی محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم سے لے کر معمولی سیاسی ورکر اور میڈیا اینکرز تک نے پاکستان کے خلاف نفرت کی غیر معمولی فضا پیدا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اس ماحول میں پاکستان کی طرف سے متبادل بیانیہ سامنے آنا بے حد اہم تھا تاکہ یک طرفہ بھارتی موقف کو مسترد کیاجاسکے اور پاکستانی عوام کو یہ معلوم ہو کہ ان کی حکومت بھارتی جنگ جویانہ رویہ سے آگاہ ہے اور اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔عمران خان نے یہ کہنا ضروری سمجھا ہے کہ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ یہ نیا پاکستان، نئی ذہنیت اور نئی سوچ ہے۔

اس طرح ان کے بیان سے یہ تاثر بھی سامنے آتا ہے کہ گویا تحریک انصاف کی حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کروانے کی پاکستانی پالیسی تبدیل کی ہے۔ قومی مسائل اور بپھرے ہوئے دشمن کا جواب دینے کے لئے پارٹی سیاسی بیانیہ کو اپنے خطاب کا حصہ بنا کر وزیر اعظم نے افسوسناک ٹھوکر کھائی ہے۔تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب وہ ملک کے منتخب لیڈر کے طور پر کسی بیرونی ملک یا مہمان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ پاکستان کے سب عوام، سب اداروں، اور پوری ریاست کے نمائندے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں میں ان سے اتفاق کرنے والے بھی شامل ہوتے ہیں اور ان سے اختلاف کرنے والے بھی۔

ملک سے باہر ان کی بات سننے والوں کو بھی یہ خبر ہونی چاہیے کہ پاکستان کا وزیر اعظم پاکستانی قوم کی آواز ہے، وہ جب بھارت کو للکارتا ہے یا اس کے الزام کا جواب دیتا ہے یا اسے مذاکرات اور مفاہمت کی پیش کش کرتا ہے تو اس وقت پوری قوم اس کی پشت پر ہے۔اگر وزیر اعظم سیاسی نعروں کو اپنے اہم قومی خطاب کا حصہ بنائیں گے اور غیر ملکی دوروں میں بات کرتے ہوئے دیگر سیاسی پارٹیوں یا سابقہ حکومتوں کے ساتھ اختلافات کو مسائل کی جڑ قرار دے کر خود کو مسیحا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کی باتوں کا اعتبار کم ہو گا اور بطور لیڈر ان کا قد چھوٹا رہ جائے گا۔ بدنصیبی سے عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد سے ابھی تک اپنی اس کمزوری پر قابو نہیں پاسکے ۔ وہ بیرونی دوروں میں پاکستانی نظام کے نقائص اور بدعنوانی کا ذکر اس انداز میں ہی کرتے رہے ہیں گویا ان سے پہلے حکومت کرنے والے سب لیڈر پاکستان کے دشمن تھے، اصل محب وطن اب اقتدار میں آیا ہے۔ بھارت کے بارے میں ان کا پالیسی بیان بھی اس تاثر سے خالی نہیں رہا۔

امور مملکت کے حوالے سے موجودہ حکومت کا یہ طرز عمل وزیر اعظم کی باتوں کے علاوہ ان کے وزیروں کے بیانات اور حکومت کے اقدامات سے بھی عیاں ہوتا ہے۔ اس طرح حکومت پاکستان میں وہ یک جہتی، اتفاق رائے اور قومی جذبہ پیدا کرنے میں ناکام ہورہی ہے جو بھارت جیسے ملک کے الزامات اور دھمکیوں کے جواب میں بے حد اہم ہے۔ پلوامہ حملہ کے بعد اگر پاکستانی لوگوں، سیاست دانوں، میڈیا یا مبصرین کو یہ اندازہ ہورہا ہے کہ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی ا س موقع کو جان بوجھ کر پاکستان دشمنی کے لئے استعمال کرتے ہوئے دو ماہ بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن پاکستان میں حکومت نے ملک کے تمام سیاسی عناصر کے ساتھ ہم اور تم کی تفریق پیدا کر رکھی ہے۔ حکومت اپوزیشن پارٹیوں اور مخالف رائے کو سختی سے مسترد کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

وہ اپنے سیاسی مخالفین کو ان کا واجب احترام دینے کی دیرینہ جمہوری روایت کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کررہی ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پر ان کے اعزاز میں دیے جانے والی سرکاری ضیافتوں میں اپوزیشن لیڈروں کو مدعو کرنے سے گریز کیا گیا اور وزیر اطلاعات نے اس کی یہ وجہ بتانا بھی ضروری سمجھا کہ یہ لوگ چونکہ بدعنوان ہیں، اس لئے انہیں غیر ملکی مہمان کے ساتھ ملنے کا موقع نہیں دیا جاسکتا۔ یہ کسی جمہوری حکومت کا رویہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس طرز عمل سے قومی یگانگت کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ بھارتی جارحیت کے خلاف عمران خان پر لازم ہے کہ وہ اپنے موقف کو پوری قوم کی آواز بنانے کے لئے اپنا آنگن اور رویہ درست کریں۔ حکومت کے نمائندوں کے لئے ایسے بیانات اور اقدامات سے گریز کرنا اہم ہے جو داخلی تفریق اور سفارتی شرمندگی کا سبب بنیں۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں