خدا اور ایک کنگلے کا جوڑا

سعودی شہزادہ محمد بن سلمان

محمد حنیف

چند سال پہلے میں نے اور میری بیوی نے سوچا کہ ہم اپنے بچے کا نام چنگیز خان رکھیں۔۔۔ لیکن چنگیز خان تو ایک بڑا قاتل تھا۔ جس نے بہت سے لوگوں کو قتل کیا۔ نام چونکہ اچھا تھا اس لئے ہم نے رکھنے کا اعلان کیا۔ لیکن پھر میں نے اپنی بہن سے اس بارے میں مشورہ کیا کہ آپکا کیا خیال ہے؟۔ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ کسی نبی کا نام کیوں نہیں رکھتے۔ پھر میں نے کہا کہ نبیوں کو بھی کچھ لوگوں کو مارنا پڑا اور کوئی انہیں روک نہیں پایا ۔

اتوار والے دن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جب پاکستان آئے۔ تو انکا استقبال بہت شاندار طریقے سے کیا گیا۔ اس دوران بہت سے مختلف موضوعات پہ بات کی گئی مگر جمال خشوگی کے قتل کا کوئی ذکر نا ہوا۔

کچھ صحافیوں نے سعودی صحافی جمال خشوگی جسے اکتوبر کے مہینے میں ترکی کے شہر استنبول میں قتل کیا گیا۔ اسکی تصویر سوشل میڈیا پر لگائیں۔ مگر ان سب کو بالکل نظر انداز کیا گیا۔ ہماری ٹی وی سکرینز پر صرف شہزادے کا شاندار استقبال دکھایا گیا۔ ہمیں باربار بتایا گیا کہ انکا استقبال انتہائی شاندار طریقے سے کیا جا رہا ہے۔

لوگوں کی عدم دلچسپی کے باوجود اس دورے کی میڈیا پر خوب تشہیر کی گئی۔ کفائت شعاری کی مہم پر ہونے کی وجہ سے پاکستانی حکومت کی طرف سے مہنگی گاڑیاں فروخت کر دینے کی وجہ سے سعودی وفد کے لئے 300 پراڈوز ایس یو وی گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئیں۔ حکومتی افسران کو 3500 کبوتر ہوا میں چھوڑنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ گلیوں میں خوبصورت رقص بھی ہوا۔ 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور سعودی ولی عہد کا جہاز پاکستان کی حدود میں داخل ہونے پر پاکستان ایئر فورس کی طرف سے سلامی دی گئی۔ جی ہاں، یہ ایک شاہی خوش آمدید تھا۔

سعودی ولی عہد کی آمد سے قبل ٹی وی پر بیٹھے صحافیوں کی سانسیں اس دورے کے فوائد بیان کر کر کے پھولی ہوئی تھیں۔ سعودی ولی عہد کا سامان بزریعہ 80 کنٹینرز دورے سے پہلے پاکستان پہنچا۔ وزیراعظم عمران خان کے گھر میں خصوصی جم قائم کی گئی۔ دو بچوں نے اپنے سائز کے برابر کے گلدستے محمد بن سلمان کو پیش کئے۔ جس کے بدلے میں ان بچوں کو ماتھوں پر صرف بوسے ملے۔

کہا جاتا ہے مسلمانوں کے مقامات مقدسہ سعودی عرب میں ہونے کی وجہ سے سعودیہ مسلم امہ کا “لیڈر” ہے اور اس کے حکمران ان مقامات مقدسہ کے نگران ہیں۔ پاکستان نیو کلیئر طاقت ہوتے ہوئے اپنے آپ کو سعودی عرب کے حکمرانوں کا محافظ سمجھتا ہے۔ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ہم سب بھائی بھائی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو معاشی مسائل سے نکالنے کے لئے مدد فراہم کررہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ خدا اور معاشی طور پر غیر مستحکم پاکستان کے درمیان ایک جوڑ ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ جو پیسہ وہ خرچ کر رہے ہیں وہ ان کے والد صاحب کا ہے۔ لیکن پاکستانی سمجھتے ہیں کہ چونکہ خدا نے سعودی عرب کو بہت سارے امرا سے نوازا ہے اور ہم ان سے صرف اپنا حصّہ وصول کررہے ہیں۔

سعودی ولی عہد کی طرف سے عنائت کردہ اربوں ڈالرز کی وجہ سے ممکن ہے کہ ہم بھول جائیں کہ سعودی عرب نے مسلم امہ کو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ کہ سعودی عرب دنیا کے ایک ٖغریب ترین ملک پر بمباری کررہا ہے۔ سعودی عرب پاکستان اور دیگر ممالک سے سعودیہ جانے والے مزدوروں کو تنخواہیں بھی نہیں دے رہا اور کمروں میں بند کرکے چابی پھینک دیتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر پرنس محمد بن سلمان نے دو ہزار سے زائد سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا حکم تو دے دیا۔ لیکن کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ یہ کیسا عدالتی نظام ہے۔ جسمیں ایک شہزادہ اچھے موڈ میں ہونے کی وجہ سے ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا حکم دے سکتا ہے۔ اگر شہزادہ برے موڈ میں ہو تو سوچیں کہ وہ کتنے لوگوں کی قید کا حکم دے سکتا ہے؟۔

سعودی ولی عہد کو ایک دور اندیش اور عالمی سوچ رکھنے والا لیڈر ماننے کے بعد دنیا کو یہ جان کر جھٹکا لگا کہ صحافی جمال خشوگی کے وحشیانہ قتل کا حکم ممکنہ طور پر محمد بن سلمان نے دیا تھا۔ جس کے بعد سعودی ولی عہد کو ایک عالمی برینڈ بنا دیا ہے۔

سعودی ولی عہد کا دورہ ایشیا ایسے وقت میں ہورہا ہے۔ جب بھارت کشمیر میں ایک خود کش حملے کے بعد پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دے رہا ہے۔ کسی کو امید نہیں کہ سعودی ولی عہد ایسے نازک موقع پر ثالث کا کردار نبھائیں گے۔ جب سعودی ولی عہد اس ہفتے بھارت کا دورہ کریں گے تو توقع ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ بڑی سرمایہ کاری کے معاہدات طے کریں گے۔ محمد بن سلمان بنیادری طور پر پاکستان اور بھارت کے ساتھ کھیل رہا ہے اور اس کی وجہ یہ کہ سعودی ولی عہد کو مغربی لڑکے لڑکیوں نے وقتی طور پر رد کردیا ہے۔

یہ دورہ پرانی یادوں کو تازہ کرتا ہے جب 1979 میں ایرانی انقلاب اور افغانستان میں سویت یونین کی دخل اندازی کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کو ڈالروں سے نوازا تھا۔ افغانستان میں سعودی عرب نے امریکہ کے ڈالر کے مقابلے میں ڈالر دیا اور دونوں نے مل کر کثیر ملکی جہاد کی بنیاد رکھی۔ جس سے آج بھی دنیا خوف زدہ ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں