حامد کا بچہ

دیکھ کبیرا رویا

لاہورسے بابوہرگوپال آئے تو حامد گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ انھوں نے آتے ہی حامد سے کہا۔

’’لو بھئی فوراً ایک ٹیکسی کا بندوبست کرو۔ ‘‘

حامد نے کہا۔

’’آپ ذرا تو آرام کرلیجئے۔ اتنا لمبا سفر طے کرکے یہاں آئے ہیں۔ تھکاوٹ ہو گی۔ ‘‘

بابوہرگوپال اپنی دھن کے پکے تھے۔ نہیں بھائی مجھے تھکاوٹ واوٹ کچھ نہیں۔ میں یہاں سیر کی غرض سے آیا ہوں۔ آرام کرنے نہیں آیا۔ بڑی مشکل سے دس دن نکالے ہیں۔ یہ دس دن تم میرے ہو۔ جو میں کہوں گا تمہیں ماننا ہو گا میں اب کے عیاشی کی انتہا کردینا چاہتا ہوں۔ سوڈا منگواؤ۔ ‘‘

حامد نے بہت منع کیا کہ دیکھئے بابوہرگوپال صبح سویرے مت شروع کیجیے مگر وہ نہ مانے۔ بکس کھو کر جونی واکر کی بوتل نکالی اور اسے کھولنا شروع کردیا۔

’’سوڈا نہیں منگواتے تو لاؤ تھوڑا سا پانی لاؤ۔ کیا پانی بھی نہیں دو گے۔ ‘‘

بابوہرگوپال، حامد سے عمر میں بڑے تھے۔ حامد تیس کا تھا تو وہ چالیس کے تھے۔ حامد ان کی عزت کرتا تھا اس لیے کہ اس کے مرحوم باپ سے بابو صاحب کے مراسم تھے۔ اس نے فوراً سوڈا منگوایا اور بڑی لجاجت سے کہا۔

’’دیکھئے مجھے مجبور نہ کیجیے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ میری بیوی بڑی سخت گیر ہے۔ ‘‘

مگر بابوہرگوپال کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ چلی اوراسے ساتھ دینا ہی پڑا۔ جیسی کہ امید تھی، چار پیگ پینے کے بعد بابوہرگوپال نے حامد سے کہا۔

’’لو بھئی اب چلیں گھومنے۔ مگر دیکھو کوئی ایسی ٹیکسی پکڑنا جو ذرا شاندار ہو۔ پرائیویٹ ٹیکسی ہو تو بہت اچھا ہے۔ مجھے ان میٹروں سے نفرت ہے۔ ‘‘

حامد نے پرائیویٹ ٹیکسی کا بندوبست کردیا۔ نئی فورڈ تھی۔ ڈرائیور بھی بہت اچھا تھا۔ بابوہرگوپال بہت خوش ہوئے ٹیکسی میں بیٹھ کر اپنا چوڑا بٹوا نکالا کھول کر دیکھا۔ سوسو کے کئی نوٹ تھے اور اطمینان کا سانس لیا اور اپنے آپ سے کہا۔

’’کافی ہیں۔ لوبھئی ڈرائیور اب چلو۔ ‘‘

ڈرائیور نے اپنے سر پر ٹوپی کو ترچھا کیا اور پوچھا۔

’’کہاں سیٹھ۔ ‘‘

بابوہرگوپال حامد سے مخاطب ہوئے

’’بولو بھئی تم۔ ‘‘

حامد نے کچھ دیر سوچ کر ایک ٹھکانہ بتایا۔ ٹیکسی نے ادھر کا رخ کیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد بمبئی کا سب سے بڑا دلال ان کے ساتھ تھا۔ اس نے مختلف مقامات سے مختلف لڑکیاں نکال نکال کر پیش کیں مگر حامد کو کوئی پسند نہ آئی وہ نفاست پسند تھا۔ صفائی کا شیدا تھا۔ یہ لڑکیاں سرخی پاؤڈر کے باوجود اس کو گندی دکھائی دیں۔ اس کے علاوہ ان کے چہروں پر کسبیت کی مہر تھی۔ یہ اسے بہت گھناؤنی معلوم ہوتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ عورت کو کسبی ہونے پر بھی عورت ہی رہنا چاہیے۔ اپنے عورت پن کو اپنے پیشے کے نیچے دبا نہیں دینا چاہیے۔ اس کے برعکس بابوہرگوپال غلاظت پسند تھا۔ لاکھوں میں کھیلتا تھا۔ چاہتا تو بمبئی کا پورا شہر صابن پانی سے دھلوا دیتا مگر اپنی ذاتی صفائی کا اسے کچھ خیال نہیں تھا۔ نہاتا تھا تو بہت ہی تھوڑے پانی سے۔ کئی کئی شیو نہیں کرتا تھا۔ گلاس چاہے میلا چکٹ ہو، اٹھا کر اس میں فرسٹ کلاس وسکی انڈیل دیتا تھا۔ غلیظ بہکارن کو سینے کے ساتھ چمٹا کر سو جاتا تھا اور کہتا تھا

’’لطف آگیا۔ کیا چیز تھی۔ ‘‘

حامد کو حیرت ہوتی تھی کہ یہ بابو کس قسم کا انسان ہے۔ اوپر نہایت ہی قیمتی شیروانی ہے نیچے ایسی بنیان ہے کہ اس کو دیکھنے سے ابکائیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ رومال پاس ہیں لیکن کرتے کے دامن سے ناک کا بہتا ہوا رینٹھ صاف کررہا ہے۔ غلیط پلیٹ میں چاٹ کھا کر خوش ہورہا ہے۔ تکیے کے غلاف میلے ہو کر بدبو چھوڑ رہے ہیں مگر اسے ان کو بدلوانے کا خیال تک نہیں آتا۔ حامد نے اس کے متعلق بہت غور کیا تھا مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچا۔ اس نے کئی مرتبہ بابوہرگوپال سے کہا۔

’’بابو جی آپ کو غلاظت سے گھن کیوں نہیں آتی۔ ‘‘

یہ سن کر بابوہرگوپال مسکرا دیتے۔

’’کیوں نہیں آتی۔ لیکن تمہیں تو ہر جگہ غلاظت ہی غلاظت نظر آتی ہے۔ اب اس کا کیا علاج ہے۔ ‘‘

حامد خاموش ہو جاتا اور دل ہی دل میں بابوہرگوپال کی غلاظت پسندی پر کڑھتا رہتا۔ ٹیکسی دیر تک اِدھر اُدھر گھومتی رہی۔ دلال نے جب دیکھا کہ حامد انتخاب کے معاملے میں بہت کڑا ہے تو اس نے دل میں کچھ سوچا اور ڈرائیور سے کہا۔

’’شیوا جی پارک کی طرف دباؤ۔ وہ بھی پسند نہ آئی تو قسم خدا کی بھڑواگیری چھوڑ دوں گا۔ ‘‘

ٹیکسی شوا جی پارک کی ایک بنگلہ نما بلڈنگ کے پاس رکی۔ دلال اوپر چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا اور بابوہرگوپال اور حامد کو اپنے ساتھ لے گیا۔ بڑا صاف ستھرا کمرہ تھا۔ فرش کی ٹائلیں چمک رہی تھیں۔ فرنیچر پر گرد کا ذرہ تک نہیں تھا۔ ادھر دیوار پر سوامی وولیکانند کی تصویر لٹک رہی تھی۔ سامنے گاندھی جی کی تصویر سوبھاش کا فوٹو بھی تھا۔ میز پر مرہٹی کی کتابیں پڑی تھیں۔ دلال نے ان کو بیٹھنے کے لیے کہا۔ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔ حامد گھر کی صفائی سے بہت متاثر ہوا۔ چیزیں مختصر تھیں مگر قرینے سے رکھی گئی تھیں۔ فضا بڑی سنجیدہ تھی اس میں کسبیوں کا وہ بے شرم تیکھا پن نہیں تھا۔ حامد بڑی بے صبری سے لڑکی کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ دوسرے کمرے سے ایک مرد نمودار ہوا۔ اس نے ہولے ہولے سرگوشیوں میں دلال سے باتیں کیں۔ بابوہرگوپال اور حامد کی طرف دیکھا اور کہا۔

’’ابھی آتی ہے۔ نہا رہی تھی، کپڑے پہن رہی ہے۔ ‘‘

یہ کہہ وہ چلاگیا۔ حامد نے غورسے کمرے کی چیزیں دیکھنا شروع کی۔ میز کے پاس کونے میں بڑی خوبصورت رنگین چٹائی پڑی تھی۔ میز پر کتابوں کے ساتھ دس پندرہ رسالے تھے۔ نیچے بڑے نازک چپل چمکیلے فرش پرپڑے تھے۔ کچھ اس انداز سے کہ ابھی ابھی ان سے پاؤں نکل کر گئے ہیں۔ سامنے شیشوں والی الماری میں قطار در قطار کتابیں تھیں۔ بابوہرگوپال نے فرش پر جب اپنے سگرٹ کا آخری حصہ اپنی گرگابی کے نیچے دبایا تو حامد کو بہت غصہ آیا۔ سوچ ہی رہا تھا کہ اسے اٹھا کر باہر پھینک دے کہ دوسرے کمرے کے دروازے سے اس کے کانوں میں ریشمیں سرسراہٹ پہنچی۔ اس نے زاویہ بدل کر دیکھا۔ ایک گوری چٹی لڑکی، بالکل نئے کاشٹے میں ملبوس ننگے پیر آرہی تھی۔ ۔ کاشٹے کا پلو اس کے سر سے کھسکا۔ سیدھی مانگ تھی۔ جب قریب آکر اس نے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا تواس کے چمکیلے جوڑے میں حامد نے ایک پتا اڑسا ہوا دیکھا۔ پتے کا رنگ سفیدی مائل تھا۔ موٹے جوڑے میں جو بڑی صفائی سے کیا گیا تھا یہ پتا بہت خوبصورت دکھائی دیتا تھا۔ حامد نے پرنام کا جواب اٹھ کر دیا۔ لڑکی شرماتی لجاتی ان کے پاس کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کی عمر حامد کے اندازے کے مطابق سترہ برس سے اوپر نہیں تھی۔ قد درمیانہ، رنگ گورا جس میں ہلکی ہلکی پیاری جھلک تھی۔ جس طرح اس کی ساڑھی نئی تھی اسی طرح وہ خود نئی معلوم ہوتی تھی۔ کرسی پر بیٹھ کر اس نے بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جھکالیں۔ حامد کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ آہستہ آہستہ اس کے وجود میں سرایت کررہی ہے۔ لڑکی بڑی صاف ستھری، بڑی اجلی تھی۔ بابوہرگوپال نے حامد سے کچھ کہا تو وہ چونک پڑا جیسے اس کو کسی نے جھنجھوڑ کر جگا دیا ہے

’’کیا کہابابوہرگوپال؟‘‘

بابوہرگوپال نے کہا۔

’’بات کرو بھئی۔ ‘‘

پھر آواز دھیمی کردی۔

’’مجھے تو کوئی خاص پسند نہیں۔ ‘‘

حامد کباب ہو گیا۔ اس نے لڑکی کی طرف دیکھا۔ دھلا ہوا شباب اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ نکھری ہوئی بے دماغ جوانی۔ ریشم میں لپٹی ہوئی اس کی نظروں کے سامنے تھی جس کو وہ حاصل کرسکتا تھا۔ ایک رات کے لیے نہیں، کئی راتوں کے لیے، کیونکہ وہ قیمت ادا کرکے اپنائی جاسکتی تھی، لیکن حامد نے جب یہ سوچا تو اسے دکھ ہوا کہ ایسا کیوں ہے۔ یہ لڑکی بکاؤ مال ہرگز نہیں ہونی چاہیے تھی۔ پھر اسے خیال کہ آیا اگر ایسا ہوتا تو اس کو حاصل کیسے کرتا۔ بابوہرگوپال نے بڑے بھونڈے انداز میں پوچھا۔

’’کیا خیال ہے بھئی۔ ‘‘

’’خیال؟‘‘

حامد پھر چونکا۔ آپ کو تو پسند نہیں، لیکن میں۔ ‘‘

وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ بابوہرگوپال بڑے دوست نواز تھے۔ اٹھے اور دلال سے کاروباری انداز میں پوچھا۔

’’کیوں بھئی کیا دینا پڑے گا؟‘‘

دلال نے جواب دیا۔

’’چھوکری دیکھ لیجئے۔ ابھی تازہ تازہ دھندا شروع کیا ہے۔ ‘‘

بابوہرگوپال نے اس کی بات کاٹی۔

’’تم اسے چھوڑے۔ معاملے کی بات کرو۔ ‘‘

دلال نے بیڑی سلگائی، سو روپے ہوں گے۔ پورا دن رکھئے یا پوری رات رکھئے۔ ایک ڈیڑھیا کم نہیں ہو گا۔ ‘‘

بابوہرگوپال حامد سے مخاطب ہوئے۔

’’کیوں بھئی۔ ‘‘

حامد کو بابوہرگوپال اور دلال کی گفتگو بہت ناگوار گزر رہی تھی۔ اس کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس لڑکی کی توہین ہورہی ہے۔ سو روپے میں یہ دھڑکتا ہوا شباب یہ دہکتی ہوئی جوانی۔ اس کو یہ سن کر بہت کوفت ہوئی کہ مرہٹی حسن کا جو یہ نادر نمونہ اس کے سامنے سانس لے رہا تھا اس کی قیمت صرف سو روپے ہے۔ مگر اس کوفت کے ساتھ ہی اس خیال نے اس کے دل میں چٹکی للی کہ سوروپے دے کر آدمی اس کو حاصل تو کرسکتا ہے۔ ایک دن یا ایک رات کے لیے لیکن پھر اس نے سوچا۔

’’صرف ایک دن یا ایک رات کیلیے۔ اس کے ساتھ تو آدمی کو اپنی ساری عمر بتا دینی چاہیے۔ اس کی ہستی میں اپنی ہستی مدغم کردینی چاہیے۔ ‘‘

بابوہرگوپال نے پھر پوچھا۔

’’کیوں بھئی کیا خیال ہے؟‘‘

حامد اپنا خیال ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بابوہرگوپال مسکرایا۔ جیب سے بٹوہ نکالا اور سو کا ایک نوٹ دلال کو دے دیا۔

’’ایک ڈیڑھیا کم نہ ایک ڈیڑھیا زیادہ۔ پھر وہ حامد سے مخاطب ہوا۔

’’چلو بھئی۔ معاملہ طے ہو گیا۔ ‘‘

حامد خاموش ہو گیا۔ دونوں نیچے اتر کر ٹیکسی میں بیٹھے۔ دلال لڑکی لے کر آگیا۔ وہ شرماتی لجاتی ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ہوٹل میں ایک کمرے کا بندوبست کرکے بابوہرگوپال اپنے لیے کوئی لڑکی تلاش کرنے چلا گیا۔ لڑکی پلنگ پر آنکھیں جھکائے بیٹھی تھی۔ حامد کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ بابوہرگوپال وسکی کی بوتل چھوڑ گیا تھا۔ آدھی کے قریب باقی تھی۔ حامد نے سوڈا منگوا کر ایک بہت بڑا پیگ لگایا۔ اس سے اس میں کچھ جرأت پیدا ہوئی۔ اس نے لڑکی کے پاس بیٹھ کر پوچھ۔

’’آپ کا نام؟‘‘

لڑکی نے نگاہیں اٹھا کر جواب دیا۔

’’لتا منگلاؤں کر۔ ‘‘

بڑی پیاری آواز تھی۔ حامد نے ایک بڑا پیگ اپنے اندر انڈیلا اور لتا کے سر سے کاشٹے کا پلوہٹا کر اس کے چمکیلے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ لتا نے بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جھپکائیں۔ حامد نے ساڑھی کا پلو بالکل نیچے گرا دیا۔ چست چولی کے کھلے گریبان سے اس کو لتا کے سینے کی ابھار کی ننھی سی دھڑکتی ہوئی جھلک دکھائی دی۔ حامد کا سارا وجود تھرا گیا۔ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ چولی بن کر لتا کے ساتھ چمٹ جائے۔ اس کی میٹھی میٹھی گرمی محسوس کرے اور سو جائے۔ لتا ہندوستانی نہیں جانتی تھی۔ اس کومنگلاؤں سے آئے صرف دومہینے ہوئے تھے۔ مرہٹی بولتی تھی۔ بڑی کرخت زبان ہے لیکن اس کے منہ میں یہ بڑی ملائم ہو گئی تھی۔ وہ ٹوٹی پھوٹی ہندوستانی میں حامد کی باتوں کا جواب دیتی تو وہ اس سے کہتا

’’نہیں لتا، تم مرہٹی میں بات کرو۔ مجھے بہت چانگلی لگتی۔ ‘‘

لفظ

’’چانگلی‘‘

سن کر لتا ہنس پڑتی اور صحیح تلفظ اس کو بتاتی، لیکن حامد چے اور سے کی درمیانی آواز پیدا نہ کرسکتا۔ اس پر دونوں کھلکھلا کر ہنسنے لگتے۔ حامد اس کی باتیں نہ سمجھتا لیکن اس نہ سمجھنے میں اس کو لطف آتا تھا۔ کبھی کبھی وہ اس کے ہونٹ چوم لیتا اور اس سے کہتا۔

’’یہ پیارے پیارے بول جو تم اپنے منہ سے نکال رہی ہو میرے منہ میں ڈال دو۔ میں انھیں پینا چاہتا ہوں۔ ‘‘

وہ کچھ نہ سمجھتی اور ہنس دیتی۔ حامد اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیتا۔ لتا کی بانھیں بڑی سڈول اور گوری گوری تھیں ان پر چولی کی چھوٹی چھوٹی آستینیں پھنسی ہوئی تھیں۔ حامد نے ان کو بھی کئی بار چوما لتا کا ہر عضو حامد کو پیارا لگتا تھا۔ رات کو نو بجے حامد نے لتا کو اس کے گھر چھوڑا تو اپنے اندر ایک خلا سا محسوس کیا۔ اس کے ملائم جسم کا لمس جیسے ایک دم چھال کی طرح اترکر اس سے جدا ہو گیا۔ ساری رات کروٹیں بدلتا رہا۔ صبح بابوہرگوپال آئے۔ انھوں نے تخلیے میں اس سے پوچھا

’’کیوں کیسی رہی؟‘‘

حامد نے صرف اتنا کہا۔

’’ٹھیک تھی۔ ‘‘

’’چلتے ہو پھر؟‘‘

’’نہیں مجھے ایک ضروری کام ہے۔ ‘‘

’’بکواس نہ کرو۔ میں نے تم سے آتے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ دس دن تم میرے ہو۔ ‘‘

حامد نے بابوہرگوپال کو یقین دلایا کہ اسے واقعی بہت ضروری کام ہے۔ پونے جارہا ہوں۔ وہاں اس کو ایک آدمی سے مل کر اپنا کام کرانا ہے۔ بابوہرگوپال انجام کار مان گئے اور اکیلے عیاشی کرنے چلے گئے۔ حامد نے ٹیکسی لی۔ بینک سے روپے نکلوائے اور سیدھا لتا کے ہاں پہنچا۔ وہ اندر نہا رہی تھی۔ کمرے میں ایک مرد بیٹھا تھا، وہی جس نے پہلے دن کہا تھا۔

’’ابھی آتی ہے۔ نہا رہی تھی، کپڑے بدل رہی ہے۔ ‘‘

حامد نے اس سے کچھ دیر باتیں کیں اور سو کا ایک نوٹ اس کے حوالے کردیا۔ لتا آئی پہلے سے بھی زیادہ صاف ستھری اور نکھری ہوئی۔ ہاتھ جوڑ کر اس نے پرنام کیا۔ حامد اٹھا اور اس مرد سے مخاطب ہوا۔

’’میں چلتا ہوں۔ تم لے آؤ انھیں۔ وقت پر چھوڑ جاؤں گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ نیچے اتر گیا، لتا آئی اور حامد کے پاس بیٹھ گئی۔ اس کا لمس محسوس کرکے حامد کو بڑی راحت ہوئی۔ وہ اس کو وہیں ٹیکسی میں اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیتا مگر لتا نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔ شام کے ساڑھے سات بجے تک وہ اس کے ساتھ رہی۔ جب اس کے گھر چھوڑا تو ایسا محسوس کیا کہ اس کے دل کی راحت اس سے جدا ہو گئی ہے۔ رات بھر وہ بے چین رہا۔ حامد شادی شدہ تھا۔ چھوٹے چھوٹے دو بچوں کا باپ تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ سخت حماقت کررہا ہے۔ اگر اس کی بیوی کو پتہ چل گیا تو آفت برپا ہو جائے گی۔ ایک بار سلسلہ ہو گیا ٹھیک ہے، مگر یہ سلسلہ تو اب دراز ہونے کی طرف مائل تھا۔ اس نے عہد کرلیا کہ اب شوا جی پارک کا رخ نہیں کریگا۔ مگر صبح دس بجے وہ پھر لتا کے ساتھ ہوٹل میں لیٹا تھا۔ پندرہ روز تک حامد بلاناغہ لتا کے ہاں جاتا رہا۔ اس کے بینک کے اکاؤنٹ میں سے دو ہزار روپے اڑ چکے تھے۔ کاروبار الگ اس کی غیر موجودگی کے باعث نقصان اٹھا رہا تھا۔ حامد کواس کا کامل احساس تھا مگر لتا اس کے دل و دماغ پر بری طرح چھا چکی تھی۔ لیکن حامد نے ہمت سے کام لیا اور ایک یہ سلسلہ منقطع کردیا۔ اس دوران میں بابوہرگوپال اپنی میلی اور غلیظ عیاشیاں ختم کرکے لاہور واپس جا چکا تھا۔ حامد نے خود کو زبردستی اپنے کاروباری کاموں میں مصروف کردیا اور لتا کو بھولنے کی کوشش کی۔ چار مہینے گزر گئے۔ حامد ثابت قدم رہا۔ لیکن ایک دن اتفاق سے اس کا گزر شیوا جی پارک سے ہوا۔ حامد نے غیر ارادی طور پر ٹیکسی والے سے کہا۔

’’روک لو یہاں۔ ‘‘

ٹیکسی رکی۔ حامد سوچنے لگا۔

’’نہیں یہ ٹھیک نہیں۔ ٹیکسی والے سے کہو چلے!‘‘

مگر دروازہ کھول کر وہ باہر نکلا اور اوپر چلا گیا۔ لتا آئی تو حامد نے دیکھا کہ وہ پہلے سے موٹی ہے۔ چھاتیاں زیادہ بڑھی ہیں۔ چہرے پر گوشت بڑھ گیا ہے۔ حامد نے سو روپے دیے اور اس کو ہوٹل میں لے گیا۔ یہاں اس کو جب معلوم ہوا کہ لتا حاملہ ہے تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ سارا نشہ ہرن ہو گیا۔ گھبرا کر اس نے پوچھا۔

’’یہ۔ یہ حمل کس کا ہے۔ ؟‘‘

لتا کچھ نہ سمجھی۔ حامد نے اس کو بڑی مشکل سے سمجھایا تو اس نے سر ہلا کر کہا۔

’’ہم کو مالوم نہیں۔ ‘‘

حامد پسینہ پسینہ ہو گیا۔

’’تمہیں بالکل معلوم نہیں۔ ‘‘

لتا نے سر ہلایا۔

’’نہیں۔ ‘‘

حامد نے تھوک نگل کر پوچھا۔

’’کہیں۔ میرا تو نہیں؟‘‘

’’مالوم نہیں۔ ‘‘

حامد نے مزید استفسار کیا۔ بہت ہی باتیں کیں تو اسے معلوم ہوا کہ لتا کے لواحقین نے حمل گروانے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے۔ کوئی دوا اثر نہیں کرتی تھی۔ ایک دوا نے تو اسے بیمار کردیا چنانچہ ایک مہینہ وہ بستر پر پڑی رہی۔ حامد نے بہت سوچا۔ ایک ہی بات اس کی سمجھ میں آئی کہ کسی اچھے ڈاکٹر سے مشورہ کرے اور بہت جلدی کرے کیونکہ بچے کی خاطر لتا کو گاؤں بھیجا جارہا تھا۔ حامد نے اس کو گھر چھوڑا اور ایک ڈاکٹر کے پاس گیا جو اس کا دوست تھا اس نے حامد سے کہا۔

’’دیکھو یہ معاملہ بڑا خطرناک ہے۔ زندگی اور موت کا سوال درپیش ہوتا ہے۔ ‘‘

حامد نے اس سے کہا۔

’’یہاں میری زندگی اور موت کا سوال ہے۔ نطفہ یقیناً میرا ہے۔ میں نے اچھی طرح حسات لگایا ہے۔ اس سے بھی اچھی طرح دریافت کیا ہے۔ خدا کے لیے آپ سوچئے میری پوزیشن کیا ہے۔ میری اولاد۔ میں تو یہ سوچتے ہی کانپ کانپ جاتا ہوں۔ آپ میری مدد نہیں کریں گے تو سوچتا سوچتا پاگل ہو جاؤں گا۔ ‘‘

ڈاکٹر نے اس کو دوا دے دی۔ حامد نے لتا کو پہنچا دی مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ حامد خوشخبری سننے کے لیے بے قرار تھا مگر لتا نے اس سے کہا کہ اس پر پہلے بھی کسی دوا نے اثر نہیں کیا تھا۔ حامد بڑی مشکلوں سے ایک اور دوا لایا مگر یہ بھی کارثر ثابت نہ ہوئی۔ اب لتا کا پیٹ صاف نمایاں تھا۔ اس کے لواحقین اسے گاؤں بھیجنا چاہتے تھے۔ لیکن حامد نے ان سے کہا۔

’’نہیں ابھی ٹھہر جاؤ۔ میں کچھ اور بندوبست کرتا ہوں۔ ‘‘

بندوبست کچھ بھی نہ ہوا۔ سوچ سوچ کر حامد کا دماغ عاجز آگیا۔ کیا کرے کیا نہ کرے۔ کچھ اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ بابوہرگوپال پر سو لعنتیں بھیجتا تھا۔ اپنے آپ کوکوستا تھا کہ کیوں اس نے حماقت کی۔ یہ سوچا تو لرز جاتا کہ اگر لڑکی پیدا ہوئی تو وہ بھی اپنی ماں کی طرف پیشہ کریگی۔ ڈوب مرنے کی بات ہے۔ اس کو لتا سے نفرت ہو گئی۔ اس کا حسن اس کے دل میں اب پہلے سے جذبات پیدا نہ کرنا۔ غلطی سے اس کا ہاتھ لتا سے چھو جاتا تو اس کو ایسا محسوس ہوتا کہ اس نے انگاروں میں ہاتھ جھونک دیا ہے۔ اس کو اب لتا کی کوئی ادا پسند نہیں تھی۔ اس کی زبردست خواہش تھی کہ وہ اس کا بچہ جننے سے پہلے پہلے مر جائے۔ وہ اور مردوں کے پاس بھی جاتی رہی تھی، کیا اسے حامد ہی کا نطفہ قبول کرنا تھا؟ حامد کے جی میں آئی کہ وہ اس کے سوجھے ہوئے پیٹ میں چھرا پھونک دے یا کوئی ایسا حیلہ کرے کہ اس کا بچہ پیٹ ہی میں مر جائے۔ لتا بھی کافی فکر مند تھی۔ اس کی کبھی خواہش نہیں تھی کہ بچہ ہو۔ اس کے علاوہ اس کو بہت بوجھ محسوس ہوتا تھا۔ شروع شروع میں تو اس کو الٹیوں نے نڈھال کردیا تھا۔ اب ہر وقت اس کے پیٹ میں اینٹھن سی رہتی تھی۔ مگر حامد سمجھتا تھا کہ وہ فکر مند نہیں ہے۔

’’اور کچھ نہیں تو کم بخت میری حالت دیکھ کر ہی ترس کھا کر بچہ قے کردے۔ ‘‘

دوائیں چھوڑ کر ٹونے ٹوٹکے بھی کیے مگر بچہ اتنا ہٹ دھرم تھا اپنی جگہ پر قائم رہا۔ تھک ہار کر حامد نے لتا کو گاؤں جانے کی اجازت دے دی لیکن خود وہاں جا کر مکان دیکھ آیا۔ حساب کے مطابق بچہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں پیدا ہونا تھا۔ حامد نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے کسی نہ کسی طرح مروا ڈالے گا، چنانچہ اس غرض سے اس نے بمبئی سے ایک بہت بڑے دادا سے راہ و رسم پیدا کی، اس کو خوب کھلاتا پلاتا رہا۔ اس پراس کا کافی روپیہ خرچ ہوا۔ مگر حامد نے کوئی خیال نہ کیا۔ ‘‘

وقت آیا تو اس نے اپنی ساری اسکیم دادا کریم کو بتادی۔ ایک ہزارروپے طے ہوئے۔ حامد نے فوراً دے دیے۔ دادا کریم نے کہا۔

’’اتنا چھوٹا بچہ مجھ سے نہیں مارا جائے گا۔ میں لاکرتمہارے حوالے کردوں گا۔ آگے تم جانو اور تمہارا کام۔ ویسے یہ راز میرے سینے میں دفن رہے گا۔ اس کی تم کچھ فکر نہ کرو۔ ‘‘

حامد مان گیا۔ اس نے سوچا کہ وہ بچے کو گاڑی کی پٹڑی پر رکھ دے گا۔ اپنے آپ کچلا جائے گا یا کسی اور ترکیب سے اس کا خاتمہ کردے گا۔ دادا کریم کو ساتھ لے کر وہ لتا کے گاؤں آپہنچا۔ دادا کریم نے بتایا کہ بچہ پندرہ روز ہوئے پیدا ہو چکا ہے۔ حامد کے دل میں وہ جذبہ پیدا ہوا جو اپنے پہلے لڑکے کی پیدائش پر اس کو محسوس ہوا تھا مگر اس نے اس کو وہیں دبا دیا اور کریم سے کہا۔

’’دیکھو آج رات یہ کام ہو جائے۔ ‘‘

رات کے بارہ بجے ایک اجاڑ جگہ پر حامد کھڑا انتظار کررہا تھا۔ اس کے دل و دماغ میں ایک عجیب طوفان برپا تھا۔ وہ خود کو بڑی مشکلوں سے قاتل میں تبدیل کرچکا تھا۔ وہ پتھر جو اس کے سامنے پڑام تھا۔ بچے کا سر کچلنے کے لیے کافی تھا۔ کئی بار اسے اٹھا کر وہ اس کے وزن کا اندازہ کر چکا تھا۔ ساڑھے بارہ ہوئے تو حامد کو قدموں کی آواز آئی۔ حامد کا دل اس زور سے دھڑکنے لگا جیسے سینے سے باہر آجائے گا۔ دادا کریم اندھیرے میں نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھوں میں کپڑے کی ایک چھوٹی سی گٹھڑی تھی۔ پاس آکر اس نے حامد کے کانپتے ہوئے ہاتھوں میں دے دی اور کہا۔

’’میرا کام ختم ہوا۔ میں چلا۔ ‘‘

یہ کہہ وہ چلا گیا۔ حامد بہت بری طرح کانپ رہا تھا۔ بچہ کپڑے کے اندر ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ حامد نے اسے زمین پر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر اپنے لرزے پر قابو پانے کی کوشش کی۔ جب یہ کچھ کم ہوا تو اس نے و زنی پتھر اٹھایا۔ ٹٹول کر سر دیکھا۔ پتھر زور سے پٹکنے ہی والا تھاکہ اس نے سوچا، بچے کو ایک نظر دیکھ تو لوں۔ پتھر ایک طرف رکھ کر اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دیا سلائی نکالی اور ایک تیلی سلگائی۔ یہ اس کی انگلیوں ہی میں جل گئی۔ اس کی ہمت نہ پڑی۔ کچھ دیر سوچا۔ دل مضبوط کیا۔ دیا سلائی کی تیلی جلائی۔ کپڑا ہٹایا۔ پہلے سرسری نظر سے پھر ایک دم غور سے دیکھا۔ تیلی بجھ گئی۔ یہ کس کی شکل تھی؟۔ اس نے کہیں دیکھی تھی۔ کہاں؟۔ کب؟ حامد نے جلدی جلدی ایک تیلی جلائی اور بچے کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ ایک دم اس کی آنکھوں کے سامنے اس مرد کا چہرہ آگیا جس کے ساتھ لتا شیواجی پارک میں رہتی تھی۔ ہٹ تیری ایسی کی تیسی۔ ہوبہو وہی شکل۔ وہی ناک نقشہ! حامد نے بچے کو وہیں چھوڑا اور قہقہے لگاتا چلا گیا۔

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں