بالادست پارلیمان کے بے بس ارکان

بالادست پارلیمان

قومی اسمبلی کے رکن محسن شاہنواز رانجھا کی درخواست کی سماعت کے دوران فاضل چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ مسٹر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمانی معاملات عدالت میں لانا پارلیمینٹ اور عدالت دونوں کے لئے ٹھیک نہیں،جو کام پارلیمینٹ سے ہونا چاہئے وہ کام آپ عدالت سے نہ کرائیں۔عدالت چاہتی ہے پارلیمینٹ کی بالادستی برقرار رہے۔

فاضل رکن اسمبلی نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ سی پیک کے24ارب روپے کے فنڈز ارکانِ اسمبلی کو دینے کے بارے میں انہوں نے قومی اسمبلی میں تفصیلات مانگی تھیں جو انہیں نہیں دی گئیں، کئی روز گزر جانے کے باوجود وزارت مواصلات نے جواب نہیں دیا، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایسی درخواست اگر عدالت سنتی ہے تو پارلیمینٹ کی بالادستی پر حرف آئے گا،رکنِ قومی اسمبلی کے پاس بہت اختیارات ہیں،رکنِ اسمبلی اگر اپنے اختیارات استعمال کرے تو یہ پارلیمینٹ کے لئے اچھاہے۔ درخواست گزار نے مزید کہا کہ اِس معاملے میں حکومت ملوث ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ آئینِ پاکستان پر مکمل عملدرآمد ہو، ہم صرف وزارت سے تفصیلات مانگ رہے ہیں۔

فاضل چیف جسٹس نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔پارلیمینٹ کہنے کو تو بالادست ہے لیکن ماضی میں دیکھا یہی گیا ہے کہ کسی نہ کسی وجہ سے اس کی بالادستی پر حرف آ جاتا ہے اور یہ بالادست سے زیر دست بن کر رہ جاتی ہے۔بہت سے ارکانِ اسمبلی اکثر یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ وہ فلاں معاملے کو عدالت میں لے جائیں گے،حالانکہ اس کا تعلق سو فیصد پارلیمینٹ سے ہوتا ہے،اور اسے پارلیمینٹ ہی میں نپٹانا چاہئے، لیکن لگتا یوں ہے کہ ارکانِ اسمبلی یا تو خود اس اعتماد سے محروم ہیں جو ایک بالادست ادارے کے رکن میں ہونا چاہئے یا پھر کسی اور وجہ سے وہ پارلیمانی امور عدالتوں میں لے جاتے اور وہاں سے فیصلہ لینے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں عدالتوں نے بہت سے ایسے فیصلے کئے جو اصولاً پارلیمینٹ کو کرنے چاہئیں تھے۔جہاں تک سی پیک کے فنڈز ارکانِ اسمبلی کو منتقل کرنے کا تعلق ہے یہ معاملہ کئی دن سے میڈیا میں زیر بحث ہے۔،اسے اِس پہلو سے بھی دیکھا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ یہی موقف اپنایا کہ ترقیاتی کاموں سے ارکانِ اسمبلی کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے،کیونکہ ان کا بنیادی فرض قانون سازی ہے،ترقیاتی کام بلدیاتی اداروں کی ذمے داری ہے۔

امن و آشتی کا سبق: نفرتوں کا خاتمہ

وہ اس معاملے میں اتنے سخت موقف پر قائم تھے کہ ارکانِ اسمبلی کو فنڈز دینے کو بھی رشوت اور کرپشن کی ذیل میں شمار کیا کرتے تھے،اِس لئے یہ ہو نہیں سکتا کہ ان کی حکومت میں کرپشن کا یہ کاروبار ہو،لیکن میڈیا میں جب مسلسل اِس حوالے سے خبریں آ رہی ہیں تو متعلقہ حکام کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف اس کی وضاحت کریں بلکہ وزیراعظم خود اسمبلی میں جائیں اور اس سوال کا جواب دیں اور وضاحت کریں کہ وہ اب بھی ارکانِ اسمبلی کو فنڈز دینے کو کرپشن ہی تصور کرتے ہیں یا پھر انہوں نے اس معاملے میں بھی یوٹرن لے لیا ہے۔

حیرت ہے کہ ایک معزز رکن نے اِس سلسلے میں سوال پوچھا ہے تو اسے جواب تک نہیں دیا جا رہا، قومی اسمبلی میں جو سوالات پوچھے جاتے ہیں بہت سے سوالوں کے جوابات کسی نہ کسی وجہ سے نہیں دیئے جاتے یا ادھورے جواب دیئے جاتے ہیں،لیکن اس کا حل پارلیمینٹ کے اندر تلاش کرنا چاہئے۔ رکنِ قومی اسمبلی کو یہ معاملہ سپیکر کے ساتھ اٹھانا چاہئے یا اپنی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے پلیٹ فارم سے اٹھانا چاہئے۔ خود فاضل چیف جسٹس تسلیم کر رہے ہیں کہ ایک رکنِ اسمبلی کو وہ اختیارات حاصل ہیں، جو اعلیٰ عدالت کے جج کے پاس بھی نہیں تو پھر حیرت ہے کہ ایسا بااختیار رکن اسمبلی اپنے اختیار ہی سے واقف نہیں اور محض ایک سوال کے جواب کے لئے عدالت سے رجوع کر رہا ہے۔فنڈز کی منتقلی کا معاملہ اس لحاظ سے سنجیدہ ہے کہ سی پیک کے لئے رکھے گئے فنڈز کسی دوسرے منصوبے کے تحت خرچ نہیں کئے جا سکتے ۔

لگتا ہے کہ حکومت اِس معاملے کو پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے، اسی لئے جواب دینے میں تاخیر کی جارہی ہے، کیونکہ اس کی تفصیلات اسمبلی میں آ گئیں تو شاید چین بھی اس پر معترض ہو،لیکن جو بھی معاملہ ہے متعلقہ وزارت کو اِس کا جواب دینا چاہئے، اب اگر ایک رکن کو اس کے سوال کا جواب تک نہیں ملتاتو تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ بااختیار ہے یا مجبورِ۔ لگتا ہے کہ حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم کو اپنے بعض اصول بالائے طاق رکھ کر ارکانِ اسمبلی کو خوش رکھنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں پارلیمینٹ کی بالادستی محض ایک خالی خولی نعرہ ہی رہ جاتی ہے۔ اپنے آپ کو بالادست منوانے کے لئے اس ادارے کو ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں