خودکش بمبار اور کوٹ لکھپت کا قیدی نمبر 4470

خودکش بمبار

دنیا میں سب سے خطرناک شخص اسے سمجھا جاتا ہے۔ جو ٹھان لے کہ اُس نے مرنا ہے۔ چاہے اس کے اس ذاتی فعل کی وجہ جنت کی 70 حوریں حاصل کرنا ہو یا پھر بچھڑ جانے والی دنیاوی حور کا صدمہ۔

عمومی طور پر خود کش حملوں میں ایسے نوجوان استعمال ہوتے ہیں۔ جنھیں یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ دنیا تو فانی ہے اور اصل زندگی تو بعد از موت شروع ہوگی۔ جس کی خاطر کُن ذہن نوجوان لقمہ انتہا پسندی بنتے ہیں اور دھماکے کا نشانہ بننے والے سینکڑوں لوگ لقمہ اجل۔

ذہنی طور پر مفلوج ہو جانے والے ان بمباروں سے بھی زیادہ خطرناک وہ شخص ہوسکتا ہے۔ جو اپنے محبوب کو بستر مرگ پر چھوڑ کر مقدمات کا سامنا کرنے اپنی دختر کے ہمراہ پاکستان پہنچ جائے۔ جو ادھیڑ عمر میں اپنے ”باؤ جی“ (کلثوم نواز) کا سہارا چھن جانے کے بعد دوران قید بضد ہے کہ وہ اس کو لاحق مہلک بیماریوں کا علاج نہیں کروائیگا۔ تین بار وزیراعظم رہنے والا یہ قیدی جو نا تو اب صادق ہے اور نا امین۔ اب ہے تو بس لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کا قیدی نمبر 4 ہزار 4 سو 70۔

یہ حقیقت ہے کہ جیل میں قید ہر قیدی یکساں سلوک کا مستحق ہوتا ہے۔ لیکن اس 69 سالہ قیدی اور دیگر قیدیوں میں فرق یہ ہے کہ یہ قیدی اپنی باؤ جی کو بستر مرگ پر تنہا چھوڑ کر مقدمات کا سامنا کرنے پاکستان آیا۔ اب اسے اگر علاج کے لئے لندن بھیجا بھی جائے تو اس کی واپسی یقینی ہے کیونکہ لندن میں زیر علاج اس قیدی کی حور قضائے الہی سے انتقال کرچکی ہے۔

اس کے علاوہ جیل میں قید کوئی بھی قیدی تین بار پاکستان کا وزیراعظم نہیں رہا اور نا ہی ان ہزاروں قیدیوں میں سے کسی قیدی کی سیاسی جماعت کو 2018 کے انتخابات میں ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ ووٹ ملے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے علاج کی حکومتی پیش کش کو ٹھکرانا در حقیقت اِس نظام کے خلاف اعلان بغاوت ہے۔ جس نظام میں تین بار وزیراعظم رہنے والے کو اپنے بیٹے کی کمپنی سے نا حاصل کردہ تنخواہ کو اپنے اثاثہ جات میں ظاہر نا کرنے پر نا اہل کردیا جاتا ہے۔

یہ قیدی اُس نظام کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ جس میں سابق وزیراعظم کے خلاف نیب میں دائر ریفرنسز سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی زیر نگرانی چلائے جاتے ہیں۔

لاہور کے کوٹ لکھپت جیل میں قید اس قیدی کے بارے میں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس قیدی کو باخوبی علم ہے کہ اس کی صحت سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی سات سالہ قید جیل میں کاٹنے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ قیدی اپنے پیاروں اور اپنے سیاسی لواحقین کے غیر متوقع سلوک پر رنجیدہ ہے۔ اس برے وقت میں یہ قیدی سیاسی وارث بیٹی کے مستقبل کی خاطر اپنے ہونٹ نا کھولنے پر مجبور تو ہے۔ لیکن اپنے اوپر ظلم کرنے میں آزاد ہے۔

تین بار وزیراعظم بن کر قیدی بننے والے یہ قیدی جانتا جانتا ہے کہ ان کے دیے جانے والے دو بیان حکمرانوں کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنسے ہیں۔ چنانچہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح کسی بھی طرح کی ڈیل سے انکاری ہے۔ جس کی بیٹی بینظیر بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی میراث سنبھالی اور دو بار وزیراعظم بنیں۔

دہشتگردوں کے ہاتھ چڑھنے والا نوجوان تو دھماکے سے پھٹ کر اپنے علاوہ سینکڑوں جانیں لیتا ہے۔ لیکن یہ قیدی دوران قید ایسا خود کش سیاستدان بن چکا ہے۔ جو زندہ رہے تو پوشیدہ اور غیر پوشیدہ حکومت کرنے والوں کی نیندیں حرام کری رکھے گا اور موت کی صورت میں تاریخ انھیں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرح یاد رکھے گی۔ جنھیں بھی اس وقت کے آرمی ڈکٹیٹر نے بذریعہ سپریم کورٹ اپنے ذاتی انتقام کا نشانہ بنایا تھا۔

پاکستان کو ایٹمی طاقت منوانے والے وزیراعظم اب خود کش بمبار کی طرح گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ان کے مرمت شدہ دل کی دھڑکنیں، خون کی سپلائی روکیں اور وہ اپنے باؤ جی سے ملنے روانہ ہوں۔ بس دیکھنا اب یہ ہے کہ کوٹ لکھپت کے اس قیدی کی موت کا جمہوریت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ بہتر ہے کہ اس قیدی نمبر 4 ہزار 4 سو 70 سے کچھ لے دے کر لندن بھیج دیا جائے۔

اس یقین کہ ساتھ کہ جو قیدی اپنے باؤ جی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر نیب ریفرنسز کا سامنا کرنے پاکستان آسکتا ہے۔ وہ علاج کے بعد کوٹ لکھپت کا قیدی بننے پھر واپس آئے گا۔ وگرنہ یہ نا ہو کہ ایک اور لیڈر عدالت کے حکم پر جیل کی کوٹھڑی میں حکمرانوں کے ظلم کا نشانہ بن جائے۔

بشکریہ ہم سب

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں