سراج الحق ایک بار پھر امیرجماعت اسلامی پاکستان منتخب ہو گئے!

سراج الحق

جماعت اسلامی پاکستان نے نئے امیر کا اعلان کر دیا اور سینیٹر سراج الحق مسلسل دوسری مرتبہ پانچ سال کے لیے امیر جماعت اسلامی پاکستان منتخب کر لیا گیا۔

جماعت اسلامی کے چیف الیکشن کمشنر اسد اللہ بھٹو نے آج منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 2019-2024 تک کے سیشن کے لیے ہونے والے انتخابات میں سراج الحق کی کامیابی اور امیر منتخب ہونے کا اعلان کیا۔

سراج الحق کے پہلے دور امارت کی مدت 9 اپریل 2019 کو ختم ہو گی اور وہ اب 5سال کے لیے دوبارہ امیر جماعت اسلامی منتخب ہو گئے ہیں۔

الیکشن میں حصہ لینے کے لیے مجموعی طور پر جماعت اسلامی کے 39ہزار 124 اراکین کو بیلٹ پیپرز بھیجے گئے تھے جن میں 34 ہزار 4 سو 66 مرد جبکہ 4 ہزار 8 سو 58 خواتین ووٹرز شامل تھیں۔

سراج الحق 1988 میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ بنے اور تعلیمی مراحل سے فراغت کے بعد جب عملی میدان میں آئے تو تقریباً ایک سال جماعت اسلامی کے کارکن کے طور پر کام کیا بعد میں رکن بن گئے۔

اکتوبر 2002 کے انتخابات میں سینئر وزیر جبکہ دو ہزار تین میں جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے امیر بنے، 2009 میں انہیں جماعت اسلامی کے نائب امیر کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔

منور حسن کی جانب سے امیر جماعت کے عہدے کے انتخاب میں حصہ نہ لیے جانے کے بعد 2014 میں وہ پہلی مرتبہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ سراج الحق قیام پاکستان سے قبل وجود میں آنے والی جماعت اسلامی کے پانچویں امیر ہیں جہاں ان سے قبل بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں محمد طفیل، قاضی حسین احمد اور منور حسن امیر کے منصب پر فائض رہ چکے ہیں۔

بلاول اور مریم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے اپنے ابوؤں کے پیسے اُن کی رہائی پر لگا دیں، فواد

مولانا مودودی 1972 تک امیر کے عہدے پر فائز رہے اور ان کی جگہ میاں طفیل کو جماعت کا نیا امیر منتخب کر لیا گیا تھا جو 1987 تک امیر جماعت اسلامی رہے۔

اس کے بعد قاضی حسین احمد اس عہدے پر منتخب ہوئے لیکن 1993 کے عام انتخابات میں شکست کے سبب قاضی حسین احمد نے 1994 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا البتہ امیر کے لیے ہونے والے چناؤ میں انہیں دوبارہ امیر منتخب کر لیا گیا۔

قاضی حسین احمد کے بعد 2008 میں منور حسن امیر منتخب ہوئے لیکن انہوں نے مسلسل خراب ہوتی صحت کے سبب اگلے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور یوں وہ اب تک جماعت کے واحد امیر ہیں جو محض ایک مرتبہ امارات کے منصب پر فائض ہوئے۔

دنیا کے مختلف ملکوں میں سرگرم جماعت اسلامی کو اس وقت پاکستان کے علاوہ اکثر ممالک میں شدید مشکلات اور پابندیوں کا سامنا ہے۔

بھارت اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں اس پر پابندی عائد کر کے کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔

جماعت اسلامی پارٹی کے اندر جمہوری اقدار کے حساب سے ملک میں سب سے ممتاز جماعت نظر آتی ہے جس کے پارٹی کے اندر انتخابی نظام کو عالمی ادارے بھی سراہتے رہے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیجسیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کی پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت پر 2015 کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جماعت اسلامی پاکستان کی سب سے زیادہ جمہوری پارٹی ہے جبکہ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) بھی جماعت اسلامی کو ملک کی سب سے بہترین جمہوری جماعت قرار دے چکا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں