حاملہ ہونے کے باوجود محسن عباس نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، اہلیہ کا الزام

محسن عباس

اداکار اور میزبان محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے شوہر پر تشدد اور بےوفائی کا الزام عائد کرتے ہوئے زخموں والی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں۔

اداکار محسن عباس کی اہلیہ نے فیس بُک پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے اپنے شوہر کے خلاف خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے۔

اہلیہ فاطمہ سہیل لکھتی ہیں کہ ان کے شوہر محسن عباس کے ایک ماڈل گرل کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں اور گزشتہ برس 26 نومبر کو انہوں نے محسن عباس کو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔

اداکار کی اہلیہ نے بتایا کہ محسن عباس نے اپنے کیے پر شرمندہ ہونے کے بجائے اُن پر تشدد کیا اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا، لاتیں ماریں اور چہرے پر مُکے بھی مارے جب کہ اس وقت وہ حاملہ تھیں۔

انہوں نے لکھا کہ شدید صدمے کی حالت میں فیملی کو بتانے کے بجائے ایک دوست سے رابطہ کیا اور فوری طور پر اسپتال گئی جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر اسے پولیس کیس قرار دے کر علاج سے انکار کر دیا جب کہ مجھے صدمے سے نکلنے کے لیے کچھ وقت چاہیے تھا۔

اداکار کی اہلیہ نے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو کوئی شکایت درج نہیں کرائی، الٹرا ساؤنڈ کرایا تو کچھ سکون ملا کہ بچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا، 20 مئی کو آپریشن کے بعد بیٹے کی پیدائش ہوئی۔

فاطمہ سہیل لکھتی ہیں کہ جب وہ لاہور میں آپریشن تھیٹر میں تھیں تو اس وقت ان کے شوہر محسن عباس کراچی میں اپنی ماڈل گرل فرینڈ کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہے تھے اور اس دوران محسن عباس نے خود کو پریشان ظاہر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹ بھی ڈالیں۔

ڈپریشن میں ساتھ دینے پر سب کا شکرگزار ہوں: اداکار محسن عباس

فاطمہ سہیل نے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے وقت اُن کی فیملی ساتھ تھی لیکن شوہر نہیں تھا، دو دن بعد اسپتال آکر محسن عباس نے عوامی پزیرائی کے لیے کچھ تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر ڈالیں لیکن اپنے بچے کو دیکھنا تک گوارا نہیں کیا۔

محسن عباس کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ 17 جولائی کو وہ محسن عباس کے گھر گئیں اور کہا کہ اپنے بچے کی ذمے داری اٹھاؤ جس پر پھر مار پیٹ کی اور بچے کی ذمہ داری اٹھانے سے مکمل انکار کر دیا۔

فاطمہ سہیل نے لکھا کہ سماجی دباؤ ہو یا نہیں لیکن اب بہت ہو چکا، جو کچھ آپ خود اپنے لیے کر سکتے ہیں کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، میں نہیں جانتی کہ بچے کی پرورش کیسے کروں گی لیکن یہ جانتی ہوں کہ اللہ مدد کرے گا۔

فاطمہ نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زبانی اور جسمانی تشدد بہت سہہ لیا، طلاق کی دھمکیاں بھی بہت برداشت کر لیں، سچ بتا دیا، ثبوت پیش کر دیئے، اب محسن عباس سے عدالت میں ملاقات ہو گی۔

آخر میں فاطمہ سہیل نے کہا کہ انھوں نے 20 جولائی کو تھانے میں رپورٹ درج کرائی لیکن پولیس نے دانستہ یا نادانستہ طور پر ایف آئی آر میں اس معاملے کو گھریلو تشدد یا بدسلوکی کے بجائے محض میاں بیوی کا جھگڑا لکھا۔

دوسری جانب محسن عباس کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد تمام حقائق ثبوتوں کے ساتھ عوام کے سامنے لائیں گے۔

واضح رہے کہ محسن عباس شوبز انڈسٹری میں بطور اداکار اور میزبان مقبول ہیں اور حال ہی میں ان کی فلم “باجی” ریلیز ہوئی ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں