اسٹریس سے نجات کیسے ممکن ہے ؟

اسٹریس

ایک تحقیقات کے مطابق موت کی سب سے بڑی وجہ اسٹریس ہے اسٹریس سے بچنا ناممکن جیسا ہی ہے کوئی اس سے نہیں بچ سکتا کیوں کہ یہ ایک فطری عمل ہے عالمی ادارہ صحت نے اسٹریس کو اکیسویں صدی کی وبا قرار دے دیا ہے۔ ہمارے تعلقات خراب ہونے کی وجہ بھی اسٹریس ہی ہے اسٹریس کے شکار لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ زندگی کو جینے سے زیادہ اچھا موت ہی ہے کیوں کے وہ اپنی زندگی سے ہار مان چکے ہو تے ہیں۔

اسٹریس سے بچنے کے لیے خود کو مینج کرنا ضروری ہے جو کے سیلف مینجمنٹ کہلاتا ہے۔ جو شخص جتنا اچھا مینج اور منظم کریگا۔ اس کی زندگی میں اتنا ہی اسٹریس کم ہو گا ہے۔ اسٹریس مینجمنٹ ہر اس شخص کا مسئلہ ہے۔ جس کے پاس سیلف مینجمنٹ نہیں ہے اپنی زندگی کو مینج کرنے نہ کرنے کا مطلب اسٹریس کو  خود دعوت دینے جیسا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو نا دراصل اپنے مسائل کی گھڑی اپنے رب کے حضور پیش کرنے کا نام ہے۔ اپنے اﷲ کے سامنے جھکیں۔ انسان اپنی خوشی اور کامیابی کے لیے طرح طرح کی پلا ننگ کرتا ہے۔

 آپ کو کن چیزوں نے اسڑیس میں مبتلا کیا ہے۔ ان کی ایک فہرست بنالیں مثال کے طور پر امتحان میں ناکامی، کاروباری نقصان یا کوئی گھریلو مسائل  پھر اس فہرست میں سے جو چیز یں آپ کے اختیار میں نہیں تھیں ان  پرنشان لگایے، پھر سوچیں کہ ان غیر اختیاری واقعات سے میں نے کیا سیکھا۔

جو لوگ دوسروں پر خرچ کرتے ہیں ان کی زندگی میں اسٹریس کم ہوتا ہے ،کنجوس انسان اپنا اسٹر یس مینج نہیں کر سکتاجبکہ سخی کے لیے اسٹر یس کو مینج کرنا کچھ مشکل نہیں ہوتا بلکہ سخی کو دیکھ کر  اسٹریس تو دور سے بھاگتاہے ۔

انسان کو اسٹرلیس میں مبتلا کرنے والی دو ہی سوچیں ہیں، ایک ماضی کے غم اور دوسری مستقبل کے خدشات۔ خودکو ماضی کے غموں اور مستقبل گی تشویشوں سے نکال کر حال میں رہنا آج کے انسان کے لئے بہت ضروری ہے حال کی گھڑی سے لطف اندوز ہونا اسٹریس کا فطری علاج ہے ۔

کسی بھی بات کو حتمی نہ سمجھیں ۔تبدیلی کی گنجائش رکھیں، جوآپ سن یا دیکھ رہے ہیں ممکن ہے کہ اس کی حقیقت کچھ اور ہو ۔

بعض اوقات اسٹریس برا ہی نہیں بلکے اچھا بھی ثابت ہوتا ہے۔ جو کہ انسان میں آگے برھنے کے لیے جوش پیدا کرتا ہے اور ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

(Visited 1,053 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں