باجوہ ڈاکٹرائن کا تسلسل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی ، موجودہ حالات و واقعات میں جو ایک صائب فیصلہ ہے۔ اس زمینی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پوری دنیا خصوصی طور پر جنوبی ایشیا کے اس خطے میں صورتحال تیزی سے تغیر پذیر ہے۔ ایک طرف بھارتی حکومت اپنے ہی آئین کے آرٹیکل 370 اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بھارتی یونین کا حصہ بنانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے تو دوسری جانب افغانستان کے داخلی تنازعات اور تضادات ختم کرنے کے حوالے سے کوششیں کنارے پر لگنے کے قریب ہیں۔

پھر پاک چین اقتصادی راہ داری کی تکمیل کے بعد اس علاقے میں معاشی انقلاب برپا ہونے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں جبکہ عرب بہار کی تباہ کاریوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کی تگ و دو بھی زور پکڑ رہی ہے اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہوا چاہتا ہے۔ ملک کے داخلی معاملات پر نظر ڈالی جائے تو پہلے آپریشن ضربِ عضب اور پھر آپریشن ردالفساد کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی کمر توڑی جا چکی ہے جس کا نتیجہ ملک میں ماضی کی نسبت قدرے پائیدار امن کی صورت میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں ملک کو معاشی و اقتصادی بحران سے نکالنے کے حوالے سے بھی ٹھوس اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔

خوش کن امر یہ ہے کہ ان تمام معاملات میں حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور بہت سے ایشوز پر فیصلے باہمی صلاح مشورے سے کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام ایشوز میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوششیں بھی واضح طور پر سب کو نظر آ رہی ہیں؛ چنانچہ ان معاملات اور صورتحال کے تسلسل میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں ایک اور ٹرم کا اضافہ معاون ثابت ہو گا۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بالکل درست بات کی ہے کہ آرمی چیف جنرل کی مدتِ ملازمت میں توسیع آج دنیا کے سامنے ایک واضع پیغام ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔

بلاشبہ پاکستان کے موجوہ حالات میں آرمی چیف وقت کی ضرورت ہیں۔ یہ فیصلہ اس امر کا غماز ہے کہ حکومت کو موجودہ سکیورٹی حالات کی سنجیدگی کا پوری طرح ادراک ہے اور وہ اس کے لیے فوری کے ساتھ ساتھ پیشگی اقدامات بھی کر رہی ہے۔ یہ بھی تو سامنے کی حقیقت ہے کہ ہمارا ملک اس وقت تاریخ کے اہم ترین دو راہے پر کھڑا ہے۔

کشمیر کی جنگ ناگزیر ہے؟

اس زمانے میں کیے گئے فیصلے ہی ہمارے مستقبل کا تعین کریں گے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ملک کو معاشی اعتبار سے مستحکم کرنے کے سلسلے میں آگے بڑھے مسئلہ افغانستان کے حل کے معاملے میں کردار ادا کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گزشتہ برس آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرا کے ملک میں جمہوری عمل کو تسلسل بخشا۔ ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے سے ان جاری پالیسیوں میں گیپ نہیں آئے گا اور یہ تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔

حکومت کے اس فیصلے کے مثبت اثرات آنے والے برسوں میں سامنے آئیں گے۔ حکومت اور افواج کے مابین اعتماد کا رشتہ ملک و قوم کیلئے نعمت ہوتا ہے کیونکہ ماضی میں جب جب یہ ورکنگ ریلیشن کم ہوئی اس کے نتائج کبھی بہتر نہیں نکل سکے؛چنانچہ یہ فیصلہ اس اعتماد کی علامت ہے جو حکومت اور فوج میں پایا جاتا ہے ۔اس طرح توقع پیدا ہوئی ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے دور میں جن اہداف کا تعین کر رکھا ہے اعتماد کا یہ ماحول انہیں حاصل کرنے میں آسانی پیدا کرے گا۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں