بچوں کی تدفین کا انوکھا طریقہ !

دنیا میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے اپنے رسم و رواج اور روایات کے مطابق خوشی اور غمی کو مناتے ہیں. جپ کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اس کو دفن کرنے کے بھی ہر مذہب میں مختلف طریقے ہیں کہیں جلا دیا جاتا ہے، کوئی دفن کرتا ہے اور کہیں لاشوں کو حنوط کردیا جاتا ہے.

لیکن انڈونیشیا میں سلواویسی کے گاؤں میں بچوں‌ کو دفنانے کا ایسا طریقہ ہے جسے ہر کوئی جان کر حیران ہو جاتا ہے. سلواویسی کے لوگ اپنے مرے ہوئے بچوں کو درختوں کے تنوں میں دفنا دیتے ہیں ۔

Photo: File

سلواویسی کے لوگ مرے ہوئے بچوں کو ایک مخصوص کپڑے میں لپیٹ کر انہیں درختوں کے وسیع تنوں میں دفن کردیتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ اس طرح ان کے بچے درختوں کے ساتھ پروان چڑھیں گے اور فطرت میں جذب ہوجائیں۔

یہ لوگ بچوں کو بڑے درختوں میں دفناتے ہیں. اس کے لیے بڑے درختوں میں سوراخ کیا جاتا ہے پھر اس سوراخ میں مردہ بچے کو رکھ کر درخت میں کئے گئے اس سوراخ کو بند کردیا جاتا ہے.

شامِ غریباں میں کیا ہوتا ہے؟

خاص بات یہ ہے کہ ایک درخت میں صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زیادہ بچوں کو دفنایا جاتا ہے. اس طرح ایک درخت کئی بچوں کی قبر بنتا ہے جسے گھاس اور پام کے پتوں سے بند کردیا جاتا ہے۔

Photo: File

بچے کو قبر میں رکھنے کے بعد اس کےگھر والے اپنے کپڑے بدل کر پورے گاؤں کا چکر لگاتے ہیں اور اس پوری رسم کو مائی نین کہا جاتا ہے. اان کا یہ ماننا ہے کہ اس طرح مرنے والا بچہ ان کے ساتھ رہے گا خواہ اسے مرے ہوئے کتنے ہی سال بیت چکے ہیں۔

Photo: File

اس گاؤں کے لوگ بڑوں کے مرنے کے بعد اس کے تابوت کو رسی سے باندھ کر پہاڑ پر لٹکا دیتے ہیں جب کہ اس گاؤں میں مرنے کے رسومات بھی کئی دن تک جاری رہتی ہیں۔

(Visited 1,028 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں