افغانستان میں امن مذاکرات کی ٹیڑھی کھیر

امریکہ

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود پاکستان علاقائی امن واستحکام کے لئے اپنے حصے کی تمام کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ کوششیں جاری رکھے گا. افغانستان میں امن خطے کے لئے اہم ہے…

جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف ایل ووٹل نے خطے میں امن و استحکام کے لئے پاک فوج کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ علاقائی امن کیلئے افواج پاکستان کا کردارقابل تعریف ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پا کستان افغان مسئلے کے سیاسی حل کیلئے امریکا اور دوسرے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتارہے گا۔افغان مفاہمتی عمل کیلئے تعاون جاری رہے گا،علاقائی تعاون کے لئے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی ضرورت ہیجبکہ افغان مفاہمت کیلئے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا چار روزہ دورہ پاکستان اختتام پذیر ہوگیا۔ امریکی سفارتخانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم عمران خان ،شاہ محمود قریشی،تہمینہ جنجوعہ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ودیگرحکام سے ملاقاتیں کیں۔مشاورت کے دوران دونوں اطراف نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ سفیر خلیل زاد نے زور دیا کہ خطہ کے تمام ممالک کو افغانستان میں امن کا فائدہ ہوگا۔

پاکستان اور امریکہ کی طرف سے طالبان کو افغان حکومت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کیلئے قائل کرنے کے سلسلے میں کوششیں جاری ہیں ۔طالبان نے اسلام آباد میں زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی اور براہ راست افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے پھر انکار کیا ہے۔ سینئر طالبان رہنماوں کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت علاقائی طاقتوں نے انکے ساتھ رابطہ کیا اور ہم نے مذاکرات کیلئے ان کا مطالبہ مسترد کر دیا ۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا جب تک افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی، قیدیوں کے تبادلے اور طالبان کی نقل و حرکت پر پابندی ختم کرنے کے حوالے سے یقین دہانی نہیں کرائی جاتی مذاکرات نہیں کرینگے۔ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام میں طالبان اور امریکہ کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔

جب تک یہ فریقین مذاکرات کیلئے دو انتہاؤں پر تھے امن کی بحالی کا امکان مظر نہیں آتا تھا۔ امریکہ اور اسکی کٹھ پتلی افغان انتظامیہ طالبان کے ساتھ مذاکرات سے صریحاً انکار کرتی رہی۔ امریکہ اپنے چالیس سے زائد نیٹو ممالک کے ساتھ طالبان کے مکمل خاتمے کیلئے آخری حد تک گیا مگر 17 سال میں سوائے طالبان حکومت کے خاتمے کے کوئی کامیابی نہ ملی۔ طالبان حکومت کا خاتمہ کرکے اکثر علاقوں پر قبضہ کرلیا گیا مگر یہ تسلط عارضی ثابت ہوا۔

تھوڑے عرصے بعد طالبان اکثر علاقوں پر قابض ہوگئے۔ حکومتی رٹ سکڑتی سمٹتی کابل تک محدود ہوگئی۔ کابل میں بھی امریکہ کے سائے میں قائم افغان حکومت کا مکمل کنٹرول نہیں۔ حکومت دہشت گردی کے بدترین واقعات روکنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ طاقت کا استعمال افغانستان میں بے سود ثابت ہوا۔ ایک عرصہ امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات سے انکاری رہا۔ امریکہ اسکے اتحادیوں اور افغان انتظامیہ کا افغانستان سے غیرمشروط سرنڈر کا مطالبہ تھا۔ ایسے مطالبات فاتح شکست خوردہ دشمن سے کرتے ہیں جو بے بسی کی تصویر بنے ماننے پر مجبور ہوتے ہیں، اگر امریکہ افغانستان میں اپنی کامیابی کا دعویدار ہے تو طالبان سے شرائط منوا سکتا ہے۔

امریکہ اپنے درجنوں اتحادیوں سمیت جدید ترین اسلحہ تربیت یافتہ افواج مہلک اسلحہ اور ظلم کا ہر حربہ آزمانے کے باوجود طالبان کو سرنگوں نہیں کر سکا، یہی زمینی حقیقت ہے۔ دوسری طرف طالبان بھی جارح فورسز کے ساتھ مذاکرات کیلئے آمادہ نہیں تھے۔ وہ افغان مسئلے کا حل غیرملکی قوتوں کے انخلا کو قرار دیتے رہے ہیں۔ دونوں کو پاکستان کی طرف سے لچک پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی جس میں کافی حد تک کامیابی ملی جس کا اعتراف امریکہ اور افغان انتظامیہ کی طرف سے کیا جارہا ہے۔ زلمے خلیل زاد کے دورہ پاکستان سے افغان امن عمل میں مزیدپیشرفت ہوتی نظر آرہی ہے۔ پاکستان مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہوئے امن عمل کے ذریعے افغانستان کے تنازع کے مذاکرات کے ذریعہ حل کیلئے پرخلوص کاوش کررہا ہے۔ خطے میں امن کے استحکام کیلئے افغانستان کا پرامن ہونا ضروری ہے۔

امن کی خواہش کا اظہار تو افغان انتظامیہ اور امریکہ سمیت سب کی طرف سے کیا جاتا ہے مگر امن کے حصول کیلئے عرصہ سے حقائق کو نظرانداز کی جاتا رہا۔ پاکستان کے اصرار اور تلخ لہجے میں بات کرنے سے امریکہ حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوا ۔اب طاقت کے استعمال کے بجائے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کو کلید سمجھ رہا ہے۔ پاکستان نے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات پر زور دیا جس سے صورتحال بہتر ہوتی نظر آئی۔

افغانوں کے مابین مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں تاہم افغان مسئلہ کا حل امریکہ اور طالبان قیادت کے مابین براہ راست مذاکرات ہی میں ہے کیونکہ امریکہ افغانستان حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں امریکہ اور طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کی میز پر لا بٹھایا تھا جس سے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی۔ معاملات درست سمت جارہے تھے کہ امریکہ نے طالبان سے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مطالبہ کردیا جس سے بدمزگی ہوئی۔ طالبان افغان انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار نہیں۔

انکے خیال میں افغان حکمران اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کیلئے مذاکرات میں مخلص نہیں ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں ہونیوالے مذاکرات کے دوران امریکہ کی طرف سے طالبان کو عبوری حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کی گئی جس پر افغان حکمرانوں کی طرف سے منفی ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ اسکے ساتھ ہی اگلے روز اپریشن میں کئی طالبان کو ہلاک کردیا گیا۔ بادی النظر میں پاکستان کا طالبان پر خاص اثر نہیں ہے تاہم رابطے ضرور ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لابٹھایا۔ اب معاملات امریکہ کو ہینڈل کرنے ہیں۔

افغانستان میں امریکہ فیصلہ سازی پر قادر ہے۔وہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے تو نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں۔ فریقین عبوری حکومت کے قیام پر متفق ہوتے ہیں تو معاملات طے کرنے کیلئے طالبان کی سیکنڈ لائن لیڈر شپ کی کمیٹی افغان حکمرانوں سے بات چیت پر آمادہ ہوسکتی ہے۔صدر ٹرمپ افغانستان سے جلد جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ امریکہ انخلا سے قبل افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائے۔ افغان حکمرانوں کے اقتدار کے طوطے کی جان امریکی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی میں ہے۔ افغانستان میں امن کا قیام ایک ایسی ٹیڑھی کھیر ہے جسے کھانے کو کوئی تیار نہیں ، حالات ساز گار بنانے کی مساعی کی نتیجہ خیزی متوقع ہے تاہم طالبان اب مذاکرات میں شامل ہو رہے ہیں ۔پاکستان کے علاوہ چین اور قطر بھی اپنا رول ادا کرنے کیلئے خاصے متحرک ہیں۔ افغانستان میں قیام امن اس خطے کی اہم ترین ضرورت ہے لہذا تمام سٹیک ہولڈرز اپنے اپنے مفادات کا کوئی مناسب انتظام کریں تاکہ قیام امن کی کوئی صورت نکل سکے۔ امریکہ نے ماضی کی طرح افغانستان کو اسکے حال پر چھوڑ کر رختِ سفر باندھا تو افغان سرزمین ایک بار پھر خون سے رنگین نظر آئیگی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں