مغل اعظم اور ذوالفقار علی بھٹو!

ریحان فضل

اگر فلم ‘مغل اعظم’ انڈین سینیما کے سر کا تاج ہے تو سنہ 1950 کی دہائی میں اس تاج کو بنانے کے لیے جس جنون، تخلیقی صلاحیت اور ضد کی ضرورت تھی وہ کے آصف میں بدرجۂ اُتم موجود تھی۔

ہمیشہ چٹکی سے سگریٹ یا سگار کی راکھ جھاڑنے والے کریم الدین آصف اداکار نذیر کے بھتیجے تھے۔

ابتدائی طور پر نذیر نے انھیں فلموں سے وابستہ کرنے کی کوشش کی لیکن آصف وہاں دل نہیں لگا۔

پھر نذیر نے اپنے بھتیجے کے لیے درزی کی ایک دکان کھلوا دی۔

تھوڑے ہی عرصے میں وہ دکان بند کروانی پڑی کیونکہ یہ دیکھا گیا کہ آصف کا زیادہ وقت پڑوس کے ایک درزی کی بیٹی کے ساتھ رومانس میں گزر رہا ہے۔

ایک بار پھر نذیر نے انھیں فلمی صنعت میں زبردستی بھیج دیا۔

کے آصف نے اپنی زندگی میں صرف دو فلموں کی ہدایت کی، ان کی پہلی فلم سنہ 1944 میں ‘پھول’ آئی جبکہ سنہ 1960 میں ‘مغل اعظم’۔

لیکن اس کے باوجود ان کا نام ہمیشہ ہندوستانی فلم کی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ‘یہ ان دنوں کی بات ہے’ کے مصنف یاسر عباس بتاتے ہیں وہ مغل اعظم تقریبا 100 بار دیکھ چکے ہیں۔

‘لیکن آج بھی جب ٹی وی پر وہ فلم دکھائی جاتی ہے تو میں چینل نہیں بدل سکتا۔

‘کے آصف میں کمال کا ‘ویژن’ اور ‘جذبہ’ تھا۔ صرف دو فلموں کی ہدایات دینے کے باوجود انھیں سرکردہ ہدایت کاروں کی صف میں رکھا جاتا ہے۔’

یوں تو ‘مغل اعظم’ کا ہر پہلو مضبوط ہے، لیکن مکالمے نے ناظرین کے درمیان اس فلم کو مقبول کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔

یاسر عباسی بتاتے ہیں کہ انارکلی کو دیوار میں زندہ چنوائے جانے کے منظر سے قبل اکبر ان سے آخری خواہش پوچھتے ہیں۔ اور وہ کہتی ہے کہ ایک دن کے لیے وہ ہندوستان کی عظیم الشان سلطنت کی ملکہ بننا چاہتی ہے۔

‘کے آصف نے اپنی فلم کے تینوں مکالمہ نگاروں سے پوچھا کہ انارکلی کو کیا کہنا چاہیے۔ امان اللہ صاحب جو زینت امان کے والد تھے اور احسان رضوی نے اپنے لکھے ڈائیلاگ سنائے۔ اس کے بعد آصف صاحب نے وجاہت مرزا کی طرف دیکھا۔’

وجاہت مرزا نے پان کی پیک اگلدان میں ڈالتے ہوئے کہا کہ ‘یہ سب مکالمے بکواس ہیں۔ اتنے سارے لفظوں کی کیا ضرورت؟’

‘پھر انھوں نے اپنے پاندان سے ایک پرچی نکال کر پڑھا، انارکلی صرف سلام کرے گی اور بس اتنا کہے گی کہ ‘شہنشاہ کی ان بے حساب بخششوں کے بدلے میں یہ کنیز جلال الدين محمد اکبر کو اپنا یہ خون معاف کرتی ہے۔’

‘مرزا کا یہ کہنا تھا کہ آصف نے بھاگ کر انھیں گلے لگا لیا اور وہاں موجود دونوں مکالمہ نگاروں نے اپنے اپنے پرزے پھینک دیے۔’

لچھو مہاراج نے مدھوبالا کو کتھک رقص سکھایا
جب ‘موہے پنگھٹ پہ نندلال چھیڑ گیو’ گانا فلمایا جا رہا تھا تو پہلے آصف اور پھر رقص ڈائریکٹر لچھو مہاراج موسیقار نوشاد کے پاس گئے اور کہا: ‘نوشاد صاحب یہ گانا ایسا بنائیں کہ واجد علی شاہ کے دربار کے زمانے کی ٹھمری اور دادرا یاد آجائے۔’

‘نوشاد نے کہا کہ كتھک رقص میں چہرے اور ہاتھ کے بھاؤ سب سے اہم ہوتے ہیں۔ اسے مدھوبالا پر فلمایا جائے گا۔ لیکن کیا وہ اس کے ساتھ انصاف کر پائیں گی، کیونکہ وہ كتھک رقاصہ تو ہیں نہیں؟’

‘لچھو مہاراج نے کہا، یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ انھوں نے شوٹنگ سے پہلے مدھوبالا سے رقص کی گھنٹوں مشق کروائی۔ مکمل گیت ان پر فلمایا گیا اور کسی ‘ڈپلیکیٹ’ کا استعمال نہیں کیا گیا۔’

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گیت کی شوٹنگ دیکھنے بہت سے لوگ آیا کرتے تھے جن میں بہت سے معروف لوگ بھی شامل تھے جن میں چینی وزیر اعظم چو این لائی، معروف شاعر فیض احمد فیض اور بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بننے والے ذوالفقار علی بھٹو اہم تھے۔

یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘اس زمانے میں بھٹو ممبئی میں ہی رہا کرتے تھے۔ اس گانے کی شوٹنگ جتنے دن جاری رہی، وہ روز شوٹنگ دیکھنے آتے۔ بھٹو اور آصف میں گہری دوستی تھی۔ وہ جب بھی سیٹ پر ہوتے تھے، آصف صاحب اور دیگر لوگ ساتھ ہی کھانا کھاتے تھے۔

‘اس وقت کسی کے حاشیہ خیال میں نہیں آيا ہوگا کہ یہ شخص ایک دن پاکستان کا وزیراعظم بن جائے گا۔’

بیلجیئم سے منگائے گئے تھے شیش محل کے شیشے
اس فلم کی جان کے آصف کی باریک بینی تھی جس کے تحت وہ چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی نظر رکھتے تھے۔

فلم میں جودھا بائی نے جو کپڑے پہنے وہ حیدرآباد کے سالار جنگ میوزیم سے مستعار لیے گئے تھے۔ سیٹ کے محراب، ستون اور دیواروں کو بنانے میں مہینوں لگ گئے تھے۔

خدیجہ اکبر نے اپنی کتاب ‘دی سٹوری آف مدھوبالا’ میں لکھا کہ ‘شیش محل کا سیٹ بنانے میں پورے دو سال لگ گئے۔’

شیش محل کا ایک منظر
کے آصف کو شیش محل کی تحریک آمیر کے قلعے میں تعمیرشدہ شیش محل سے ملی تھی لیکن اس وقت ہندوستان میں دستیاب شیشوں کی قسم بہت اچھی نہیں تھی۔

‘ان شیشوں کو بہت زیادہ قیمت پر بیلجیئم سے منگوایا گیا۔ اس سے پہلے عید آگئی۔ عیدی کی رسم پر عمل کرتے ہوئے مغل اعظم کے فائنینسر شاہپور جی مستری آصف کے گھر پہنچے۔

‘وہ ایک چاندی کی ٹرے پر کچھ سونے کے سکے اور ایک لاکھ روپے لے کر گئے تھے۔ آصف نے پیسے اٹھائے اور مستری کو واپس کرتے ہوئے کہا ‘ان پیسوں کا استعمال بیلجیئم سے شیشے منگانے پر کیجیے۔’

جب پیار کیا تو ڈرنا کیا کی تخلیق
‘مغل اعظم’ فلم کا سب سے زیادہ مشہور گیت ‘پیار کیا تو ڈرنا کیا۔۔۔’ ثابت ہوا۔ اس کو لکھنے اور موسیقی میں ڈھالنے میں نوشاد اور شکیل بدایونی نے ساری رات لگا دی۔’

یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘جب آصف نے نوشاد کو اس گانے کی ‘سیچوئيشن’ بتائی تو اسی زمانے میں انارکلی نام سے ایک دوسری فلم بن رہی تھی۔ نوشاد نے ان سے کہا کہ دونوں فلموں میں بہت مماثلت ہے ان کا گانا ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے میں نے سنا ہے۔’

فلم مغل اعظم میں انارکلی کا کردار اداکارہ مدھوبالا نے ادا کیا
‘اگر ہم بھی اسی طرح کے گیت دیں گے تو یہ ‘رپيٹیشن’ ہوگا۔ آپ اس ‘سیچوئیشن’ کو تبدیل کیوں نہیں کر دیتے۔ آصف صاحب نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ میں نے یہ چیلنج قبول کیا ہے۔ اب آپ کی باری ہے۔ جب اسے موسیقی میں ڈھالنے کا وقت آیا تو سب سے مشکل کام اس گیت کا لکھنا تھا۔

‘شام کو چھ بجے جب سورج غروب ہو رہا تھا نوشاد اور شکیل بدایونی نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔ شکیل صاحب نے قریب ایک درجن مکھڑے لکھے، کبھی گیت کا سہارا لیا تو کبھی غزل کا۔ لیکن بات بنی نہیں تھوڑی دیر میں پورے کمرہ کاغذ کے ٹکڑوں سے بھرا پڑا تھا۔’

انھوں نے ساری رات نہ کچھ کھایا اور نہ ہی پیا۔ کافی دیر بعد نوشاد کو ایک پوربي گیت کا مکھڑا یاد آیا جو انھوں نے اپنے بچپن میں سنا تھا، ‘پریم کیا کا چوری کری’۔ انھوں نے شکیل کو سنایا، شکیل کو وہ جملہ پسند آیا پھر شکیل نے اسی وقت وہ گیت لکھا:

‘پیار کیا تو ڈرنا کیا، پیار کیا کوئی چوری نہیں کی۔۔۔’

‘جب ہم صبح یہ گانا ‘كمپوز’ کر کے باہر نکلے تو ہمارے سر پر سورج چمک رہا تھا۔ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پرانے گانوں کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟ میرا جواب ہوتا ہے کہ ان کے بنانے میں پوری رات گزر جاتی تھی تب کہیں جا کر اسے حتمی شکل ملتی تھی۔’

بڑے غلام علی خان کو ایک گیت کے لیے 25000 روپے ملے
ایک دن آصف نے نوشاد سے کہا کہ وہ سکرین پر تان سین کو گاتے ہوئے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ سوال تھا کہ اسے گائے گا کون؟ نوشاد نے کہا کہ اس وقت کے تان سین بڑے غلام علی خان سے اس کے بات کرنی چاہیے لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘آصف نے کہا یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ آپ صرف ان سے ملاقات کا وقت طے کیجیے۔‘

جب دونوں ان سے ملنے گئے تو انھوں نے انکار کردیا اور کہا کہ فلموں میں گلوکاروں پر بہت پابندیاں ہوتی ہیں۔

آصف نے کہا کہ ‘خان صاحب یہ گانا تو آپ ہی گائیں گے۔’ یہ سن کر بڑے غلام علی خاں نے نوشاد کو ایک طرف لے جا کر کہا، آپ کس کو میرے پاس لے آئے ہیں؟ میرے منع کرنے پر بھی یہ کہہ رہا ہے یہ گانا تو آپ ہی گائیں گے۔ میں اس شخص سے اس گانے کے لیے اتنی زیادہ فیس مانگوں گا کہ خود ہی بھاگ کھڑا ہوگا۔’

غلام علی نے آصف سے پوچھا، ’آپ مجھے کتنے پیسہ دیں گے؟‘

آصف نے کہا: ’جو بھی آپ چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’25 ہزار روپے۔’

آصف نے کہا ’صرف 25 ہزار؟ آپ اس سے زیادہ مستحق ہیں۔’

اس طرح بڑے غلام علی خاں ‘مغل اعظم’ فلم کے لیے 25ہزار روپے پر راضی ہوئے جبکہ اس وقت کے نامورگلوکاروں لتا منگیشکر اور محمد رفیع کو ایک گانے کے لیے صرف 500 سے 1000 روپے ہی ملتے تھے۔’

بڑے غلام علی خان نے مغل اعظم کے لیے ‘پریم جوگن بن کے۔۔۔ سندر پیا اور چلے’ گیت گایا۔

سننہ 1954 میں محبوب خان کی فلم ‘امر’ میں دلیپ کمار اور مدھو بالا ایک ساتھ نظر آئے

مدھوبالا اور دلیپ کمار کے درمیان بات چیت بند
مغل اعظم بننے کے آخری مرحلے میں مدھوبالا اور دلیپ کمار کے درمیان بات چیت بند ہو گئی تھی، کیونکہ مدھوبالا نے اپنے خاندان کے دباؤ کے تحت دلیپ کمار کی شادی کی پیشکش ٹھکرا دی تھی۔

فلم میں درجن سنگھ کا رول کرنے والے اجیت نے ایک بار لکھا تھا کہ ‘ایک سین میں دلیپ کمار کو مدھوبالا کو تھپڑ مارنا تھا۔ جب کیمرا رول ہوا تو دلیپ کمار نے مدھوبالا کو اتنی زور سے تھپڑ مارا کہ وہاں موجود سارے لوگ سناٹے میں آ گئے، شاٹ ٹھیک تھا، لیکن لوگوں کو سمجھ نہیں آیا کہ اگلا قدم کیا ہوگا؟’

“کیا مدھوبالا سیٹ سے واک آؤٹ کر جائیں گی؟ کیا شوٹنگ روکنی پڑے گی؟ اس سے پہلے کہ مدھوبالا کچھ كہتيں، آصف انھیں کونے میں لے جا کر کہنے لگے ‘میں آج بہت خوش ہوں، کیونکہ یہ واضح ہے کہ وہ اب بھی تم سے محبت کرتا ہے۔ اور یہ کہ ایک عاشق کے علاوہ کوئی اپنی معشوقہ سے ایسا کیونکر کر سکتا ہے؟’

مدھوبالا کے والد کو رمی میں الجھانا
آصف کے سامنے یہ مشکل تھی کہ مدھوبالا کے والد عطاء اللہ اکثر فلم کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر حاضر رہتے تھے لیکن آصف نے ان سے چھٹکارے کی نئی راہ نکالی۔

فلم مؤرخ بنی ريوبن اپنی کتاب ‘فالی وڈ فلیش بیک: اے کلیکشن آف فلم میموائرس’ میں لکھتے ہیں: ‘جس دن دلیپ کمار اور مدھوبالا کے درمیان قریبی محبت کے مناظر فلمائے جانے ہوتے تھے، آصف مدھوبالا کے والد عطاء اللہ خان کو سیٹ سے دور رکھنے کے لیے انھیں اپنے ایک معاون کے ساتھ رمی کھیلنے بھیج دیتے۔ کیونکہ عطاء اللہ کو رمی کا بہت شوق تھا۔

‘اپنے پبلسسٹ تاركناتھ گاندھی کو کچھ ہزار روپے دے کر کہا، آج سے تمہارا کام، اگلے چند دنوں تک خاں صاحب کے ساتھ رمی کھیلنا ہے اور تم جان بوجھ کر ہر بازی ہار جاؤ گے۔’

فلم کی تکمیل کے لیے سہراب مودی سے رابطہ
برسوں کی شوٹنگ کی وجہ سے فلم اپنے بجٹ سے تجاوز کر گئی اور فلم ساز شاہپورجی مستری یہ بھی سوچنے لگے کہ فلم کے آصف سے لے کر سہراب مودی کی ہدایت میں بنے۔

یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘اس فلم کو بننے میں بہت وقت لگا۔ دس سال کا عرصہ گزرا۔ ظاہر ہے سارا بجٹ بگڑ گیا۔ آصف صاحب پانی کی طرح پیسہ بہاتے تھے، کیونکہ انہیں معیار چاہیے تھا۔ ایک دن تنگ آکر شاہپورجی نے فیصلہ کیا کہ اب میں ہدایتکار کو ہی تبدیل کروں گا۔’

‘انھوں نے سہراب مودی سے بات کی اور ایک دن وہ انھیں شیش محل کا سیٹ دکھانے لے آئے۔ آصف صاحب وہاں موجود تھے۔ تھوڑی دیر تک وہ خاموشی سے دیکھتے رہے، پھر وہ دونوں کے پاس جا کر بولے، سیٹھ جی جس سے چاہے یہ فلم مکمل کروا لیں۔

‘لیکن یہ سیٹ میں نے بنایا ہے اور میں ہی یہاں شوٹنگ مکمل کروں گا۔ اگر کوئی دوسرا اس سیٹ پر قدم رکھے گا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دونگا۔’

کے آصف کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں تھی
مغل اعظم اپنے وقت کی سب سے مہنگی اور کامیاب فلم تھی لیکن اس کے ڈائریکٹر کے آصف تا عمر ایک کرایہ کے گھر میں رہے اور ٹیکسی پر سفر کرتے تھے۔

یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘جب شاہپور جي بہت تنگ آگئے تو ان سے ایک بار نوشاد نے پوچھا کہ اگر آپ کو آصف سے اتنی شکایات ہیں، تو آپ نے ان کے ساتھ فلم بنانے کا فیصلہ ہی کیوں کیا؟ شاہپورجی نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہا کہ نوشاد، ایک بات بتاؤں، یہ آدمی ایماندار ہے۔

‘اس نے اس فلم میں ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کر دیے لیکن اس نے اپنی جیب میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ڈالی۔ باقی تمام فنکاروں نے اپنا کنٹریکٹ کئی بار تبدیل کرایا کیونکہ وقت گزرتا جا رہا تھا۔ لیکن اس شخص نے پرانے کنٹریکٹ پر کام کیا اور کسی قسم کی دھوکہ دہی نہیں کی۔‘

‘رقم میں کوئی غبن نہیں کیا۔ یہ آدمی آج بھی چٹائی پر سوتا ہے، ٹیکسی پر چھ آنا فی میل کرایہ دے کر سفر کرتا ہے اور سگریٹ بھی دوسروں سے مانگ کر پیتا ہے۔ یہ آدمی 20 گھنٹے کھڑے ہو کر مسلسل کام کرتا ہے اور ہم حیران رہ جاتے ہیں۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں