شیطان کی چال !…تحریر: عبدالوحید شانگلوی

شیطان کی چال

ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ آرام فرما رہے تھے کہ کسی نے جگایا۔ آپ ؓ بیدار ہوئے ادھر ادھر دیکھا کوئی بندہ نظر نہیں آیا۔ آپ ؓ نے جب تلاش کیا تو دروازے کے پیچھے ایک شخص کھڑا ہے۔

آپ ؓ نے فرمایا: تو کون؟ اس شخص نے کہا: میرا نام تو زمانہ جانتی ہے، میں ابلیس ہو۔ حضرت امیر معاویہ ؓ نے فرمایا: تم نے مجھے کیوں جگایا؟  ابلیس نے کہا: نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے، میں نے اس لئے جگا یا کہ آپ نماز پڑھے، آپ کو مسجد کی طرف جلد دوڑ کر جانا چاہیے۔

آپ ؓ نے فرمایا: اے ابلیس! تمہارا مقصد ہرگز نماز نہیں، تم تو مردود ہے، تم سے خیر کی توقع ناممکن ہے۔ چور کی طرح میرے گھر میں گھس گئے ہو، میں تم سے کیسے خیر کی طمع کرو۔

شیطان نے کہا: میں بھی فرشتوں کےساتھ رہا ہو، میں بھی خدا کی رحمت کا پانی پی چکا ہو، میں نے نیکی کی عرض سے آپ کو جگایا۔ آپ ؓ نے فرمایا: بس کر زیادہ باتیں نہ کرو، تو مجھے دھوکہ نہیں دے سکتا، سچ سچ بتاؤ، تو نے مجھے نماز کےلیے کیوں جگایا تیرا کام تو گمراہ کرنا ہے ۔

شیطان نے کہا:  میں نے صرف ایک بدی کی جس کی وجہ سے میں بدنامِ زمانہ ہوگیا۔ اے امیر میں نے آپ کو اس لیے جگایا کہ اگر یہ نماز آپ سے فوت ہوجاتی تو دنیا آپ کی نظر میں تاریک ہو جاتی، آپ شدید غم سے رو رو کر نڈھال ہو جاتے، آپ کی یہ آہ وزاری سو نمازوں کے ثواب سے بڑھ جاتا۔

اس وجہ سے میری حسد نے مجھے اس پر آمادہ کیا کہ آپ کو نماز کے لیے جگاؤ۔ میں کب یہ گورا کر سکتا ہو کہ آپ کو اتنا بڑا اجر و ثواب ملیں، بس یہی حسد تھا۔ میں نے اسی خوف سے آپ کو بیدار کیا تاکہ آپ کی آہ وفغاں مجھے جلا نہ دے۔ میں انسان کا حاسد ہو، میں اس کا بھلا کیسے سوچ سکتا ہوں۔

حضرت امیر معاویہ ؓ نے فرمایا:” ہاں اب تو نے اصل بات بتائی۔ در اصل تو نہیں چاہتا کہ میں خلوص اور درد کے ساتھ اللہ تعالی کے حضور گڑ گڑاؤ اور اپنی آنکھوں سے ندامت اور پشیمانی کے آنسو بہاؤں، کیونکہ اس آہ وفغاں کا حق تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا درجہ ہے”۔

دیکھئے! شیطان نے کیسی چال چلائی، نماز کے ذریعے اپنی حسد ظاہر کی۔ معلوم ہوگیا کہ شیطان ہر وقت کوشش میں رہتا ہے کہ کس طرح انسان کو دھوکہ دی جائے، کس طرح اپنی جال میں پھنسا لے۔ اللہ ہم سب کو شیطان کی چال و جال سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں