ڈاکٹر شروڈکر

غسل خانہ

بمبئی میں ڈاکٹر شروڈ کر کا بہت نام تھا۔ اس لیے کہ عورتوں کے امراض کا بہترین معالج تھا۔ اس کے ہاتھ میں شفا تھی۔ اُس کا شفاخانہ بہت بڑا تھا ایک عالیشان عمارت کی دو منزلوں میں جن میں کئی کمرے تھے نچلی منزل کے کمرے متوسط اور نچلے طبقے کی عورتوں کے لیے مخصوص تھے۔

بالائی منزل کے کمرے امیر عورتوں کے لیے۔ ایک لیبارٹری تھی۔ اس کے ساتھ ہی کمپاؤنڈر کا کمرہ۔ ایکس رے کا کمرہ علیحدہ تھا۔ اس کی ماہانہ آمدن ڈھائی تین ہزار کے قریب ہو گی۔ مریض عورتوں کے کھانے کا انتظام بہت اچھا تھا جو اُس نے ایک پارسن کے سپرد کر رکھا تھا جو اس کی ایک دوست کی بیوی تھی۔ ڈاکٹر شروڈ کر کا یہ چھوٹا سا ہسپتال میٹرنٹی ہوم بھی تھا۔ بمبئی کی آبادی کے متعلق آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کتنی ہو گی۔

وہاں بے شمار سرکاری ہسپتال اور میٹرنٹی ہوم ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر شروڈکر کا کلینک بھرا رہتا۔ بعض اوقات تو اسے کئی کیسوں کو مایوس کرنا پڑتا۔ اس لیے کہ کوئی بیڈ خالی نہیں رہتا تھا۔ اس پر لوگوں کو اعتماد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی بیویاں اور جوان لڑکیاں اس کے ہسپتال میں چھوڑ آتے تھے جہاں ان کا بڑی توجہ سے علاج کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر شروڈ کر کے ہسپتال میں دس بارہ نرسیں تھیں۔ یہ سب کی سب محنتی اور پُر خلوص تھیں۔ مریض عورتوں کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کرتیں۔

ان نرسوں کا انتخاب ڈاکٹر شروڈکر نے بڑی چھان بین کے بعد کیا تھا۔ وہ بری اور بھدّی شکل کی کوئی نرس اپنے ہسپتال میں رکھنا نہیں چاہتا تھا۔ ایک مرتبہ چار نرسوں نے دفعتاً شادی کرنے کا فیصلہ کیا تو ڈاکٹر بہت پریشان ہوا۔ یہ چاروں چلی گئیں۔ اُس نے مختلف اخباروں میں اشتہار دیے کہ اسے نرسوں کی ضرورت ہے کئی آئیں ڈاکٹر شروڈ کر نے اُن سے انٹرویو کیا مگر اُسے اُن میں کسی کی شکل پسند نہ آئی۔ کسی کا چہرہ ٹیڑھا میڑھا۔ کسی کا قد انگشتا نے بھرکا۔ کسی کارنگ خوفناک طور پر کالا۔

کسی کی ناک گز بھر لمبی۔ لیکن وہ بھی اپنی ہٹ کا پکا تھا۔ اُس نے اور اشتہار اخباروں میں دیے اور آخر اُس نے چار خوش شکل اور نفاست پسند نرسیں چُن ہی لیں۔ اب وہ مطمئن تھا چنانچہ اُس نے پھر دلجمعی سے کام شروع کر دیا۔ مریض عورتیں بھی خوش ہو گئیں۔ اس لیے کہ چار نرسوں کے چلے جانے سے اُن کی خبر گیری اچھی طرح نہیں ہو رہی تھی یہ نئی نرسیں بھی خوش تھیں کہ ڈاکٹر شروڈ کر اُن سے بڑی شفقت سے پیش آتا تھا۔

انھیں وقت پر تنخواہ ملتی تھی۔ دوپہر کا کھانا ہسپتال ہی انھیں مہیا کرتا۔ وردی بھی ہسپتال کے ذمے تھی۔ ڈاکٹر شروڈکر کی آمدن چونکہ بہت زیادہ تھی اس لیے وہ ان چھوٹے موٹے اخراجات سے گھبراتا نہیں تھا۔ شروع شروع میں جب اُس نے سرکاری ہسپتال کی ملازمت چھوڑ کر خود اپنا ہسپتال قائم کیا تو اُس نے تھوڑی بہت کنجوسی کی، مگر بہت جلد اُس نے کھل کر خرچ کرنا شروع کر دیا۔

اس کا ارادہ تھا کہ شادی کر لے۔ مگر اسے ہسپتال سے ایک لمحے کی فرصت نہیں ملتی تھی۔ دن رات اس کو وہیں رہنا پڑتا۔ بالائی منزل میں اس نے ایک چھوٹا سا کمرہ اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا جس میں رات کو چند گھنٹے سو جاتا۔ لیکن اکثر اُسے جگا دیا جاتا جب کسی مریض عورت کو اس کی فوری توجہ کی ضرورت ہوتی۔ تمام نرسوں کو اُس سے ہمدردی تھی کہ اُس نے اپنی نیند اپنا آرام حرام کر رکھا ہے۔ وہ اکثر اس سے کہتیں

’’ڈاکٹر صاحب آپ کوئی اسسٹنٹ کیوں نہیں رکھ لیتے‘‘

ڈاکٹر شروڈکر جواب دیتا

’’جب کوئی قابل ملے گا تو رکھ لوں گا‘‘

وہ کہتیں

’’آپ تو اپنی قابلیت کا چاہتے ہیں۔ بھلا وہ کہاں سے ملے گا‘‘

’’مل جائے گا‘‘

نرسیں یہ سُن کر خاموش ہو جاتیں اور الگ جا کر آپس میں باتیں کرتیں۔ ڈاکٹر شروڈکر اپنی صحت خراب کررہے ہیں ایک دن کہیں کولیپس نہ ہو جائے‘‘

’’ہاں ان کی صحت کافی گر چکی ہے۔ وزن بھی کم ہو گیاہے‘‘

’’کھاتے پیتے بھی بہت کم ہیں‘‘

’’ہر وقت مصروف جو رہتے ہیں‘‘

’’اب انھیں کون سمجھائے‘‘

قریب قریب ہر روز ان کے درمیان اِسی قسم کی باتیں ہوتیں۔ ان کو ڈاکٹر سے اس لیے بھی بہت زیادہ ہمدردی تھی کہ وہ بہت شریف النفس انسان تھا۔ اس کے ہسپتال میں سینکڑوں خوبصورت اور جوان عورتیں علاج کے لیے آتی تھیں مگر اُس نے کبھی اُن کو بُری نگاہوں سے نہیں دیکھا تھا وہ بس اپنے کام میں مگن رہتا۔ اصل میں اُسے اپنے پیشے سے ایک قسم کا عشق تھا۔

وہ اس طرح علاج کرتا تھا جس طرح کوئی شفقت اور پیار کا ہاتھ کسی کے سر پر پھیرے۔ جب وہ سرکاری ہسپتال میں ملازم تھا تو اس کے آپریشن کرنے کے عمل کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ نشتر نہیں چلاتا بُرش سے تصویریں بناتا ہے۔ اور یہ واقعہ ہے کہ اُس کے کیے ہوئے آپریشن نوّے فیصد کامیاب رہتے تھے۔ اُس کو اِس فن میں مہارت تام حاصل تھی۔ اس کے علاوہ خود اعتمادی بھی تھی جو اُس کی کامیابی کا سب سے بڑا راز تھی۔ ایک دن وہ ایک عورت کا جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی بڑے غور سے معائنہ کر کے باہر نکلا اور اپنے دفتر میں گیا تو اُس نے دیکھا کہ ایک بڑی حسین لڑکی بیٹھی ہے۔ ڈاکٹر شروڈکر ایک لحظے کے لیے ٹھٹک گیا۔ اس نے نسوانی حسن کا ایسا نادر نمونہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ اندر داخل ہوا ٗ لڑکی نے کرسی پر سے اُٹھنا چاہا۔ ڈاکٹر نے اُس سے کہا

’’بیٹھو بیٹھو‘‘

اور یہ کہہ کر وہ اپنی گھومنے والی کُرسی پر بیٹھ گیا اور پیپر ویٹ پکڑ کر اُس کے اندر ہوا کے بلبلوں کو دیکھتے ہوئے اُس لڑکی سے مخاطب ہوا

’’بتاؤ تم کیسے آئیں‘‘

لڑکی نے آنکھیں جھکا کرکہا

’’ایک پرائیویٹ بہت ہی پرائیویٹ بات ہے جو میں آپ سے کرنا چاہتی ہوں‘‘

ڈاکٹر شروڈکر نے اُس کی طرف دیکھا۔ اس کی جھکی ہوئی آنکھیں بھی بلا کی خوبصورت دکھائی دے رہی تھیں۔ ڈاکٹر نے اس سے پوچھا

’’پرائیویٹ بات تم کر لینا۔ پہلے اپنا نام بتاؤ‘‘

لڑکی نے جواب دیا

’’میں۔ میں اپنا نام بتانا نہیں چاہتی‘‘

ڈاکٹر کی دلچسپی اس جواب سے بڑھ گئی

’’کہاں رہتی ہو؟‘‘

شولا پور میں

’’۔ آج ہی یہاں پہنچی ہوں‘‘

ڈاکٹر نے پیپر ویٹ میز پر رکھ دیا

’’اتنی دور سے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے‘‘

لڑکی نے جواب دیا

’’میں نے کہا ہے ناکہ مجھے آپ سے ایک پرائیویٹ بات کرنی ہے‘‘

اتنے میں ایک نرس اندر داخل ہوئی۔ لڑکی گھبرا گئی۔ ڈاکٹر نے اُس نرس کو چند ہدایات دیں جو وہ پوچھنے آئی تھی اور اُس سے کہا

’’اب تم جاسکتی ہو۔ کسی نوکر سے کہہ دو کہ وہ کمرے کے باہر کھڑا رہے اور کسی کو اندر نہ آنے دے‘‘

نرس

’’جی اچھا‘‘

کہہ کر چلی گئی۔ ڈاکٹر نے دروازہ بند کر دیا اور اپنی کُرسی پر بیٹھ کر اُس حسین لڑکی سے مخاطب ہوا

’’اب تم اپنی پرائیویٹ بات مجھے بتا سکتی ہو‘‘

شولا پور کی لڑکی شدید گھبراہٹ اور اُلجھن محسوس کررہی تھی اُس کے ہونٹوں پر لفظ آتے مگر واپس اُس کے حلق کے اندر چلے جاتے۔ آخر اُس نے ہمت اور جرأت سے کام لیا اور رُک رُک کر صرف اتنا کہا

’’مجھ سے۔ مجھ سے ایک غلطی ہو گئی۔ میں بہت گھبرا رہی ہوں‘‘

ڈاکٹر شروڈکر سمجھ گیا، لیکن پھر بھی اُس نے اُس لڑکی سے کہا

’’غلطیاں انسان سے ہو ہی جاتی ہیں۔ تم سے کیا غلطی ہُوئی ہے۔ ‘‘

لڑکی نے تھوڑے وقفے کے بعد جواب دیا

’’وہی۔ وہی جو بے سمجھ جوان لڑکیوں سے ہوا کرتی ہیں‘‘

ڈاکٹر نے کہا

’’میں سمجھ گیا۔ لیکن اب تم کیا چاہتی ہو‘‘

لڑکی فوراً اپنے مقصد کی طرف آگئی

’’میں چاہتی ہوں کہ وہ ضائع ہو جائے۔ صرف ایک مہینہ ہوا ہے‘‘

ڈاکٹر شروڈکر نے کچھ دیر سوچا، پھر بڑی سنجیدگی سے کہا

’’یہ جرم ہے۔ تم جانتی نہیں ہو‘‘

لڑکی کی بھوری آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو اُمڈ آئے

’’تو میں زہر کھالوں گی‘‘

یہ کہہ کر اس نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔ ڈاکٹر کو اس پر بڑا ترس آیا۔ وہ اپنی جوانی کی پہلی لغزش کر چکی تھی۔ پتا نہیں وہ کیا لمحات تھے کہ اس نے اپنی عصمت کسی مرد کے حوالے کر دی اور اب پچھتا رہی ہے اور اتنی پریشان ہو رہی ہے۔ اس کے پاس اس سے پہلے کئی ایسے کیس آچکے تھے مگر اُس نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا تھا کہ وہ جیون ہتیا نہیں کرسکتا۔ یہ بہت بڑا گناہ اور جرم ہے۔ مگر شولا پور کی اُس لڑکی نے اس پر کچھ ایسا جادو کیا کہ وہ اس کی خاطر یہ جرم کرنے پر تیار ہو گیا۔ اس نے اس کے لیے ایک علیحدہ کمرہ مختص کر دیا۔ کسی نرس کو اس کے اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔

اس لیے کہ وہ اس لڑکی کے راز کو افشا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اسقاط بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جب اُس نے دوائیں وغیرہ دے کر یہ کام کر دیا تو شولا پور کی وہ مرہٹہ لڑکی جس نے آخر اپنا نام بتا دیا تھا بے ہوش ہو گئی جب ہوش میں آئی تو نقاہت کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے پانی بھی نہیں پی سکتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ جلد گھر واپس چلی جائے مگر ڈاکٹر اسے کیسے اجازت دے سکتا تھا جب کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل ہی نہیں تھی اس نے مس للیتا کھمٹے کر سے (شولا پور کی اُس حسینہ کا یہی نام تھا) کہا

’’تمھیں کم از کم دو مہینے آرام کرنا پڑے گا۔ میں تمہارے باپ کو لکھ دُوں گا کہ تم جس سہیلی کے پاس آئی تھیں وہاں اچانک طور پر بیمار ہو گئیں اور اب میرے ہسپتال میں زیر علاج ہو۔ تردّد کی کوئی بات نہیں‘‘

للیتا مان گئی۔ دو مہینے ڈاکٹر شروڈکر کے زیرِ علاج رہی۔ جب رخصت کا وقت آیا تو اُس نے محسوس کیا کہ وہ گڑ بڑ پھر پیدا ہو گئی ہے اُس نے ڈاکٹر شروڈکر کو اُس سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر مسکرایا

’’کوئی فکر کی بات نہیں۔ میں تم سے آج شادی کرنے والا ہوں‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں