پورے چاند کی رات کا انسانی جسم پر اثر

پورا چاند

بات کی جائے چاند کی تو چاند جہاں دنیا میں ایک قدرتی حُسن پیش کرتا ہے وہیں اس چاند کا پورا ہونا اور رات کو روشن کرنا بھی بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے اور اس رات کو پورے چاند کی رات کہا جاتا ہے۔

پورے چاند کی رات سمندر کی لہروں پر اثر مرتب کرتی ہے جس سے لہروں میں شوخی آجاتی ہے اور  تیز ہو جاتیں ہیں۔
کہانیوں میں پورے چاند کی رات کو وئیر وولف کے درمیان تعلق کو بھی بیان کیا جاتا ہے۔

کیا اس چاند کا انسانی جسم پر بھی کوئی اثر ہوتا ہے؟

ایسا بیشتر افراد مانتے ہیں کہ چودہویں کا چاند انسانی جسم پر اثرات مرتب کرتا ہے اور ایک تحقیق کے دوران ڈاکٹروں اور نرسوں کی بھی ایک مخصوص تعداد اسے درست سمجھتی تھی۔
1985 میں ایک امریکی جریدے جرنل آف میڈیسن میں اس کے حوالے سے ایک مقالہ جاری ہوا تھا، کچھ سال پہلے کینیڈا کی ایک یونیورسٹی کے ایک محقق نے اس پر سرچ کرنے کا سوچا اورجاننا چاہا کہ کیا انسان کی ذہنی صحت اور چاند کی روشنی کا آپس میں کوئی تعلق ہے کہ نہیں۔

اور اس پر جاننے کے لیے محققین نے 2005 سے 2008 تک 771 مریضوں پر جانچ پڑتال کی ، ان مرٰیضوں نے سینے میں درد کی شکایت پیش کی اور اس کے برعکس ڈاکٹر اس کی طبی وجوہات جاننے میں ناکام رہے۔

ان مریضوں میں ذیادہ تر کو چڑچڑے پن اور ذہنی بے چینی جیسی کیفیت کا سامنا تھا. اس پر محققین نے مریضوں اور چاند کے درمیان تعلق پر ڈیٹا اکھٹا کیا تو معلوم ہوا کہ چاند اور ان مریضوں کی ایسی حالت میں کوئی تعلق نہیں۔
اس کے بعد ماہرین نے کہا کہ پورے چاند کی رات اور نفسیاتی مسائل پر کوئی اثرات نہیں ہوتے۔

چاند میں یہ تبدیلی آخرت کی نشانی ہے !

  تو اگر لوگ چودہویں کے چاند پر بے بنیاد حرکتیں کریں تو اس کیوجہ چاند کو نہ ٹھرائیں بلکہ ان لوگوں کی اپنی ذات خود ہے۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں