لان پرنٹس۔۔۔ اصل سے بہتر نقل

لان

گرمیوں کے موسم میں لان کے ملبوسات خواتین کی اولین ترجیح قرار پاتے ہیں جب کسی چیز کی طلب یا پسندیدگی اس قدرعروج پر ہو تو پھر وہ نت نئی چھب اور ایک سے ایک نئی دھج کے ساتھ بازار میں آتی ہے۔

اب تو یہ عالم ہے کہ موسم سرما پوری طرح رخصت نہیں ہونے پاتا کہ موسم بہار کے لان پرنٹس مارکیٹ میں آ جاتے ہیں اور چاروں جانب ان رنگا رنگ پرنٹس کی بہار دیکھ کر گویا بہار آنے کا یقین سا ہو جاتا ہے۔

یہاں تک کہ گرمیوں کا موسم آتے آتے تو جیسے لان کا ایک سیلاب سا آ جاتا ہے کپڑے کی ہر دوکان لان کی نت نئی ورائٹی سے بھری ہوئی نظر آتی ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک جاذب نظر اور خوش رنگ پرنٹ ہر عمر کی خواتین کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے نظر آتے ہیں۔

لان
فوٹو فائل

لیکن دوسری جانب دیکھا جائے تو مہنگے سے مہنگ برانڈز کی  لان پہننا اب ایک سٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔

چند مشہور برانڈز جیسے کہ سفائر٬ گل احمد٬ الکرم اور کھاڈی وغیرہ اپنے حیرت انگیز لان سوٹس اور کرتیوں اور ان کی قابلِ استطاعت قیمتوں کے باعث پاکستانی خواتین کی آنکھوں کا تارہ بن چکے ہیں- ان پرنٹڈ لان سوٹ کی قیمت 3 ہزار سے لے کر 6 ہزار تک ہوتی ہے۔

جبکہ بھاری کڑھائی دار سوٹ 6 ہزار سے 8 ہزار تک کی قیمتوں میں دستیاب ہوتے ہیں- خواتین میں مقبول ترین ڈیزائنرز جیسے ماریہ بی یا پھر ثنا سفیناز کی نئی لان کلیکشن کے حوالے سے کافی بےچینی پائی جاتی ہے- ثنا سفیناز کے لان کے سوٹ 6950 روپے سے لے کر 8750 روپے کی قیمت میں دستیاب ہوتے ہیں۔

 اگرچہ یہ مہنگے ترین برانڈز ہیں لیکن یہ قیمتیں ان خواتین کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں جو اپنی من پسند لان کے حصول کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرسکتی ہیں۔

لان کی مارکیٹنگ سے وابستہ افراد کو داد دینی چاہیے جو اپنے نت نئے طریقوں سے خواتین کو لان کی خریداری آمادہ کرتے ہیں- مارکیٹنگ کی حکمتِ عملی میں ٹی وی کمرشل اور بل بورڈ کا سہارا لے کر خواتین کو اپنی جانب متوجہ کیا جارہا ہے جس کا اختتام آخر لان کی خریداری پر ہی ہوتا ہے۔

لان
فوٹو فائل

اس کے علاوہ موسم بہار کے آغاز کے ساتھ ہی ہوٹلز میں رنگارنگ لان کی نمائش انعقاد ہوتا ہے۔ اس نمائش میں صاحب ثروت خواتین اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بہت بڑی تعداد اس نمائش میں موجود ہوتی ہے۔

 ان نمائشوں کو بڑے پیمانے پر کوریج ملتی ہے۔ میڈیا اب اس نمائش کو ضرورت سے زیادہ کوریج دینے لگا ہے جس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ مڈل کلاس خواتین پر بھی برانڈ کی کا بھوت سوار ہوگیا ہے۔

لان
فوٹو فائل

ایسی خواتین جو اتنے مہنگے لان کے کپڑے نہیں خرید سکتیں وہ اپنے پسندیدہ ڈیزائن سوٹ کا ریپلیکا حاصل کرسکتی ہیں۔ اس وقت متعدد فیکڑیاں مہنگے اور مقبول ترین لان ڈریسز کا ریپلیکا فروخت کر رہی ہیں۔ اس کا ڈیزائین بالکل اصلی سوٹ جیسا ہوتا ہے۔ اور اس کی قیمت بھی بہت مناسب ہوتی ہے۔

تباہی کا دوسرا بڑا سبب فیشن انڈسٹری!

مثال کے طور پر برانڈ پر جو سوٹ 10 ہزار کا ہے اس کا ریپلیکا آپ  کو آسانی سے صرف 800  سے 1000 روپے میں مل جاتا ہے اور اب تو یہ ہر عام بازار میں دستیاب ہے۔

لان
فوٹو فائل

اب تو ریپلیکا پر برانڈ کے سوٹ کا کوڈ لکھا ہوتا ہے آپ دوکاندار کو برانڈ کے سوٹ کا کوڈ بتائیں وہ آپ کو اس کا ریپلیکا دے دیتا ہے۔ ہر خاتون چاہتی ہے وہ اچھے سے اچھا لباس زیب تن کرے اور جہاں بھی جائے نیا جوڑا پہنے۔

بہت سی خواتین تو ایسی ہیں اگر وہ ایک جوڑا کسی ایک موقع پر پہن لیں تو وہ یہ جوڑا دوبارہ نہیں پہنتی۔ ان کو ہر محفل کے لیے نیا سوٹ چاہیے ہوتا ہے۔

ایسی خواتین کے لیے میرا مشورہ ہے کہ وہ برانڈ کے کیڑے خرید کر اپنے پیسے ضائع نہ کریں بلکہ وہ اس کا ریپلیکا خریدیں۔ اس طرح ان کے پیسے بھی بچیں گے اور برانڈ کے ڈیزائن پہننے کا شوق بھی پورا ہو جائے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں