وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر!

بریگیڈیئر اعجاز شاہ جو کہ موجودہ وزیر داخلہ ہیں۔ وہ اپنی جوانی کا ایک قصہ سناتے ہیں کہ وہ جب پڑھنے کے لیئے برطانیہ گئے تو ان کی ایک کلاس فیلو تھیں۔ جنکا تعلق سپین سے تھا۔ پھر اس عورت سے انہیں عشق ہو گیا اور انہوں نے شادی کر لی۔

اب وہ عورت چونکہ سپین کی تھیں تو شادی کے بعد اس خاتون نے ان سے کہا کہ چلیں سپین چلتے ہیں۔ یہاں کیا کرنا ہے۔ اس طرح وہ دونوں سپین چلے گئے۔

ہمارے یہاں جب کوئی نئی شادی ہوتی ہے تو اس نوبیاہتا جوڑے کی بہت دعوتیں اور کھانے کئے جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جب یہ نو بہاہتا جوڑا سپین پہنچا تو ان خاتون کی والدہ نے انکا خوب زبردست طریقے سے استقبال کیا اور ان کے لئے شاندار دعوت کا اہتمام کیا گیا۔

وہ بہت ہی امیر خاتون تھیں اور اس کے گھر میں تین ملازمین بھی تھے جو کہ مغربی ممالک میں صرف انتہائی امیر اور شاہانہ زندگی بسر کرنے والوں کے گھروں میں ہوتے ہیں۔

جب کھانا تیار ہوا اور ٹیبل پر لگایا گیا تو بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی حیرانگی کی تب کوئی انتہا نہ رہی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ وہ کھانا سب سے پہلے ان تینوں ملازمین کو ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا کر کھلایا گیا۔ جب انہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا۔ تو پھر سے ٹیبل کی صفائی ہوئی اور دوبارہ کھانا لگایا گیا اور اب کی بار کھانا مہمانوں کو پیش کیا گیا۔

یہ ایک انوکھا واقعہ ہے جو کہ سپین میں پیش آیا۔ اگر ہم مطالعہ کریں اور جاننے کی کوشش کریں تو ایسے بہت سے واقعات اور قصے ہمیں سننے کو ملتے ہیں۔ جنھیں سن کر ہم سوچ میں پڑ جاتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ آخر آج کے دور میں بھی ایسا ہوتا ہے۔

بیک وقت طلاق ثلاثہ کا مسئلہ ۔۔۔!

لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ ہمارے اسلام کے اصول و ضوابط ہیں۔ چودہ سو سال پہلے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیؐ کے دور کو اگر پڑھا جائے تو ایسے واقعات کثرت سے ملتے ہیں۔ لیکن آج ہم میں اور ہمارے معاشرے میں ایسی کوئی بات موجود نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے ہاں کے امیر لوگ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ امیر ہیں اور انکے ملازمین کم طبقے کے غریب لوگ ہیں۔ اور تو اور جب ہوٹلوں، ریستوران وغیرہ میں جاتے ہیں تو اپنے ملازمین کو ساتھ لے کر ضرور جاتے ہیں۔ مگر پھر ہوٹل کے باہر یا الگ سے کسی ٹیبل پر بٹھا دیتے ہیں اور خود پیٹ بھر لینے کے بعد بھی اپنے ملازمین سے نہیں پوچھتے کہ آیا ان کو بھوک لگی ہے یا نہیں۔ وہ تو بچوں تک کا لحاظ نہیں کرتے۔ ان کے سامنے بیٹھ کر اچھا خاصہ کھاتے ہیں اور پھر واپس گھر کو آ جاتے ہیں۔

یہی تو ہمارے کام ہیں. یہی تو ہماری گھٹیا سوچ ہے اور یہی تو غرور ہے جو ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ جو ہمیں ترقی نہیں بلکہ تنزلی کی جانب لے کر جا رہا ہے۔ اور اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ کم سے کم تر ہوا جا رہا ہے۔

اور پھر جسے دیکھو اپنی ناکامی کا رونا روتا نظر آتا ہے کہ ہم ہی کیوں ناکام ہو رہے ہیں ہم ہی کیوں نیچے کی جانب جا رہے ہیں ۔ فلاں ملک کو دیکھو کتنے کم وقت میں کتنی ترقی کر لی فلاں ملک کو دیکھو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔

یہ صرف اور صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کی سوچ اچھی ہے۔ ان میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ مسلمان نہیں ہیں اور مسلمان نا ہوتے ہوِئے بھی وہ اسلام کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔ وہ وہ کر رہے ہیں جو ہمیں کرنا چاہیئے۔ جو ان کے نہیں بلکہ ہمارے مذہب میں شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ ترقی کی منازل تہ کرتے چلے جا رہے ہیں اور ہماری یہ ناکامی انہیں باتوں اور اصولوں پر عمل نا کرنے اور اسلام کو نہ پڑھنے اور اسلام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے۔

بیرون ملک کے کسی شخص نے کہا تھا کہ تاریخ میں حضرت عمر فاروقؓ سے بہتر کوئی خلیفہ اور حکمران آج تک پیدا نہیں ہوا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ یعنی انگریز وغیرہ اور تمام بیرون ملک کے لوگ اسلام کو اور قرآن کو پڑھتے اور جانتے ہیں۔ ہاں وہ با ت الگ ہے کہ وہ اسے عبادت سجھ کر نہیں، بلکہ ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے پڑھتے ہیں کہ آخر قرآن میں ہے کیا۔۔۔

اگر ہم مسلمان اسے پڑھتے ہیں تو ثواب کی نیت سے پڑھتے ہیں۔ بس قرآن کھولا پڑھا اور بند کر کے اوپر اونچی جگہ پر رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک سمجھ ہی نہیں پائے کہ آخر اسلام اور قرآن ہے کیا۔

یہی وجہ ہے آج ہم نہیں بلکہ ہماری ہی کتاب اور خلفائے راشدین سے مغربی لوگ تو فائدہ اٹھا رہے ہیں. مگر افسوس صد افسوس ہم اس سے کوسوں دور ہیں۔

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

(Visited 42 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں