حکومت سیاہ کرے یا سفید، اپوزیشن کو کیا؟

اپوزیشن کو کیا؟

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو آئے ابھی نو ماہ گزرے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے پیٹ میں سیاسی مروڑ اٹھنے لگے ہیں۔ جو کبھی بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے منعقدہ افطاری پر اکٹھے ہوتے ہیں اور کبھی عید کے بعد حکومت کے خلاف عوامی احتجاج شروع کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو وزیراعظم عمران خان کے نئے پاکستان میں مہنگائی سے تڑپتی عوام کا احساس اس وقت ہوا ہے۔ جب نیب اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کے خلاف ایکشن میں ہے۔ اس سے پہلے تک اپوزیشن کبھی سابق وزیراعلی پنجاب کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنوانے میں مصروف تھی اور کبھی اٹھارہویں ترمیم کو بچانے میں۔

موجودہ حالات میں سمجھنے اور سمجھ کر ہضم کرنے کی بات یہ ہے کہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف 1 کروڑ 68 لاکھ سے زائد ووٹ اور قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرکے اقتدار میں آئی ہے۔ چار میں سے دو صوبوں میں تحریک انصاف اور ایک میں اس کی اتحادی حکومت ہے۔ لہزا حکومت سیاہ کرے یا سفید۔ مہنگائی کرے یا ملک کو کنگلہ کردے۔ اپوزیشن کو کیا؟ عوام نے خود عمران خان کو منتخب کیا ہے۔ اب عمران خان جانیں اور عوام۔۔۔

میڈیا پر چلنے والی خبروں کا جائزہ لیا جائے تو سابق صدر آصف زرداری ایک طرف حکومت مخالف اتحاد بنانے کے لئے افطاریاں کروارہے ہیں اور دوسری طرف اپنے خلاف دائر ہونے والے نیب کے آٹھویں ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از وقت گرفتاری کروارہے ہیں۔ بھلا بندہ پوچھے کہ زرداری صاحب اگر آپ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے میں اتنے ہی سنجیدہ ہیں تو پھر جیل جانے سے ڈرتے کیوں ہیں۔ اچھا ہے اگر آپ اندر ہونگے تو عوامی احتجاج میں پیپلز پارٹی کا منجن زیادہ بکے گا۔

دوسری طرف تین بار وزیراعظم رہنے والے وزیراعظم نواز شریف نے طبی بنیادوں پر پھر ایک بار اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست جمع کروادی ہے۔ جبکہ سابق وزیراعلی پنجاب ضمانت ملنے کے بعد لندن روانہ ہوچکے ہیں۔

نئے پاکستان میں نواز لیگ کی لیڈر شپ تو ایسے سیاسی بھونچال میں پھنسی ہے کہ ایک طرف وہ سابق وزیراعظم کو طبی بنیادوں پر ہی سہی ضمانت پر رہا کروانا چاہتی ہے۔ جبکہ شہباز شریف جیل سے بچنے کے لئے لندن میں مقیم ہیں۔ نائب صدر منتخب ہونے والی مریم نواز کے خلاف تحریک انصاف الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرواچکی ہے۔ جبکہ حمزہ شہباز کو تو بلاول کی افطاری میں بن بلایا دیوانہ سمجھا گیا۔ ایسے میں نواز لیگ کی قیادت حکومت مخالف سرگرمیوں میں حصہ لے۔ نیب سے بچے یا سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کے لئے فکر مند ہو۔

loading...

خان صاحب۔۔۔آخر کب تک

حکومت مخالف بننے والے اتحاد میں جمعیت علما اسلام کے مولانا فضل الرحمان سب سے سرگرم ہیں اور ان کا بس چلے تو وہ حکومت کو کل ہی گھر بھجوا دیں۔ قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے شکست یافتہ مولانا صاحب کے لئے حکومت سے باہر بیٹھنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اسی لئے کبھی وہ نواز لیگ قیادت کو عوامی احتجاج پر اکسانے کی کوشیش کرتے ہیں اور کبھی پیپلز پارٹی کو۔ کیونکہ وہ باخوبی جانتے ہیں کہ ان کی اکیلی پارٹی حکومت کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتی۔

نئے پاکستان میں حکومت بھی ہونے والی مہنگائی کو ماننے سے انکاری نہیں اور پتلی معیشت کا ذمہ دار پچھلی حکومتوں کو ٹھراتی ہے۔ لیکن کب تک؟۔ نو ماہ کا وقت گزرنے میں جتنا وقت لگا ہے۔ اتنا ہی وقت مزید گزرنے کے بعد حکومتی کارکردگی کو ڈیڈھ سالہ کارکردگی کے طور پر دیکھا جائیگا اور موجودہ حالات دیکھ کر لگتا نہیں کہ پاکستان کے معاشی حالات ڈیڈھ سال بعد بھی قابو میں ہونگے۔

لیکن خیر۔۔۔ حکومت وزیر خزانہ بدلے یا اسٹیٹ بنک کا سربراہ۔ ایف بی آر کا چیئرمین تبدیل کرے یا منی چینجرز پر ڈالر کی خریدوفروخت پر پابندی لگائے۔ یہ اب حکومت کی صوابدید ہے اور حکومت کو عوام نے خود پر حکومت کرنے کے لئے خود مسلط کیا ہے۔ اب اگر عوام کا پٹرول ڈلواتے وقت دل، میٹر کی رفتار کی طرح تیز دھڑکنے لگتا ہے۔ یا گیس کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے سے عوام کے سروں کو گیس چڑھنے لگی ہے۔ یا نئے پاکستان میں پڑنے والی شدید گرمی میں بجلی کی قیمتیں ایئر کنڈیشنز کی گرم ہوائیں اندر کی طرف پھینکے گی۔ یا پھر پہلے سے آسمان کو ٹکراتی اشیا خردونوش کی قیمتیں ساتویں آسمان کو ٹکرانے لگیں گی۔۔۔ تو اپوزیشن جماعتوں کو کیا۔ وہ اپنے خلاف نیب ریفرنسز نبٹائیں اور عوام کی فکر کرنا چھوڑ دیں۔ کیونکہ عوام کی فکر کرنے کا وعدہ عمران خان تائیس سالوں سے کررہے ہیں۔ جنھیں کسی اور نے نہیں، اپنے پر حکومت کرنے کے لئے عوام نے خود منتخب کیا ہے۔ اب اس عوام کو اپنے اس فیصلے پر فخر محسوس ہوتا یا شرمندگی۔ یہ عوام جانے یا عمران خان۔ اپوزیشن کو کیا۔

نوید نسیم

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں