دادی اماں کہتی ہیں۔۔۔ “شوہر بچے ہونے کے بعد سدھر جاتا ہے”

محلے سے کوئی بھی شادی شدہ لڑکی شوہر کی شکایت لے کر آتی تو دادی اماں کہتی ہیں… “شوہر بچے ہونے کے بعد سدھر جاتا یے” لیکن کاش!… کاش! دادی اماں آپ کی باتیں آج کے دور میں بھی درست ثابت ہو جائیں.. اب ایسا نہیں ہے! وہ اک زمانہ تھا جب آوارگی میں ڈبے بےلگام گھوڑے کی طرح باپ کو گود میں آتے ہی بیٹی لگام ڈال دیتی تھی. اور باپ کی غیرت اور شرم جاگ جاتی تھی… آج کل تو سوشل میڈیا کا دور ہے، نہ بیویوں میں وہ ایمان، صبر ہے نہ شوہروں کو خدا یاد ہے. میں مفروضے بیان نہیں کر رہی.. صحافی ہوں نا .. دل دکھتا ہے

آج صبح الارم سے آنکھ کھلی اور حسب معمول اٹھنے کی دعا پڑھنےسے پہلے نیم بند آنکھوں سے وٹس ایپ کھولا۔۔(۔ نا نا میں کافر نہیں ،صحافی ہوں) ہر گروپ میں ایک ہی پوسٹ… پہلے عام کرائم سٹوری سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن تصاویر بول رہی تھیں کہ تفصیل پڑھنا فرض ہے…

میں نے پڑھنا شروع کیا۔ انگریزی میں لکھی گئی ایک پوسٹ کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ میں ابھی تک اس تحریر کی ایک سطر نہیِں بھول پارہی کہ “جب میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں آپریشن تھیٹر لاہور میں تھی اور اس وقت میرا شوہر نازش نامی لڑکی کے ساتھ کراچی کے ایک فلیٹ میں سو رہا تھا ” اس جملے نے میرے اندر توڑ پھوڑ کر دی ۔۔ میں انسان بن کر سوچتی تو انسانیت کا جنازہ نکلتا دکھائی دیتا، عورت بن کر سوچنے کی تو جرات کر ہی نہیں سکتی تھی۔کیونکہ اس سے بڑا کوئی غم نہیں ہے کہ آپکا مجازی خدا در در پر گرا پڑا رہے۔

یہ صرف فاطمہ سہیل کا دکھ نہیں ہے، اب تو یہ ہر تیسرے گھر کی کہانی یے جہاں مرد شادی کے بعد بھی فریب کاریوں میں پی ایچ ڈی کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتا یے ۔ ہمارے بڑے شادی کے بعد کے مسائل کو یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ بچہ پیدا ہوگا تو دیکھنا کیسے تم سے محبت کرنے لگے گا۔ اسی اثناء میں اولاد ہوجاتی ہے اور جیسے ہی اس عورت کو یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ماں کا رتبہ حاصل کرنے کے پہلے مرحلے پر ہے، مجازی خدا کے اندر کا درندہ ادھر ادھر منہ مارنے کی تیاری کرنے لگتا ہے اور نو ماہ میں اتنے جھگڑے ہوتے ہیں کہ ہاتھ بھی اٹھتا ہے اور بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔ کیونکہ مرد اس بات پر بہت پراعتماد ہوتا ہے کہ اب عورت جذبات کے اعتبار سے بہت حساس ہے اور اس حالت میں ادھر ہی کسی دیوار سے لگی پڑی رہے گی۔ اس دورانیے میں عودت کو نہ پیسہ چاہیئے ہوتا ہے، نہ بنگلہ اور نہ کوئی عیش! بس محبت کے چند بول اور احساس! اب تو یہ عام بات ہوگئی ہے کہ اپنے ہی بچے کی پیدائش پر باپ کسی اور حسینہ کی باہوں میں مدہوش پڑا ہوتا ہے۔
پھر خوشی کے شادیانے باپ کی غیر موجودگی پر رشتہ داروں کے طعنوں کے تڑکے سے عورت کو ماں بننے پر پچھتاوا دے جاتے ہیں۔

ارے بھائی ! اتنی ہی ٹیڑھی نسل کے ہو تو شادی مت کرو ،کم از کم نکاح کا تقدس تو پامال نہ کرو. معاشرے میں سینہ چوڑا کرکے اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ محبت کو پایہ تکمیل تک پہنچایا. استعمال نہیں کیا، شادی کی ہے۔ پھر یہ شرک کیوں؟ اتنی اذیت کہ شوہر کا رویہ دیکھ کر عورت کو اپنے بچے ہی ناجائز لگنے لگتے ہیں.
نہیں نہیں! مجھ پر فیمنسٹ کا ٹیگ لگا مجھ سے نظریں چرانے کی کوشش نہ کریں میں کرائم رپورٹر ہوں اسلئے ایسے واقعات کی تصدیق بڑے وثوق سے کر سکتی ہوں۔

حاملہ ہونے کے باوجود محسن عباس نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، اہلیہ کا الزام

مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ معاشرہ کس ڈگر پر چل پڑا ہے، یونیورسٹی لڑکوں کو آنٹیوں میں دلچسپی ہے اور شادی شدہ مردوں کو کم عمر بچی کی تلاش انہیں حیوان بنائے رکھتی ہے ۔

اس میں مردوں کا فرق نہیں ہے۔ چھوٹے قد سے چوڑے سینے والے سارے ہی ایک حمام میں ننگے ہیں ہاں سوچ کا فرق ہے اور شاید کسی حد تک تربیت اور گھر کے ماحول کا بھی۔ لیکن جس معاشرے میں منافقت عام ہو وہاں باطن جلد ظاہر ہو نہیِں پاتے۔

میں ایک عورت ہوں اور یقین کریں اور یہ بتا سکتی ہوں کہ عورت دنیا کے سارے مردوں کو لاکھ گھٹیا کہے مگر اپنے شوہر کا آخری حد تک دفاع کرنا چاہتی ہے کیونکہ اس کے ساتھ اس کا نام جڑا ہوتا یے اور عورت کے لئے Surname تبدیل کرنا کوئی عام بات نہیِں ہے ۔ اب اس میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ شادی کے فیصلے دل سے کئے جاتے ہیں اور شادی کے بعد جب دماغ چلتا ہے تو وہ شیطان بن جاتا یے اگر فیصلہ ہی دماغ سے کروایا جائے اور پھر اسے دل سے مان لیں تو مسائل بہت کم ہوسکتے ہیں ۔۔الٹی قوم کے الٹے طریقے ہیں کیا کریں ۔۔

میرا تو یہ ماننا ہے کہ شادی کے دو سال فیملی پلاننگ سے گریز کریں. پہلے یہ طے کریں کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ رہ بھی سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر کوئی شک ہے تو معاملات فوری حل کریں پھر بھی سنگین مسائل ہیں تو اس وقت الگ ہوجانا قدرے بہتر ہے۔ ہوتا کیا ہے کہ ایک بچہ گود میں اور دوسرا بابا بابا کرتا ہوا تماشا بنایا جاتا یے جس سے معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا ہے مگر یہاں سب سننے والے بہرے اور دیکھنے والے اندھے ہیں۔

خیر!حکومت وقت بلڈ ٹیسٹ کے علاوہ کوئی کریکٹر ٹیسٹ بھی نکال لے یا وہ ہاٹ سیٹ ٹیسٹ لازمی کردے تاکہ طلاقوں کے اس کھیل سے نکاح کی کمزور پڑتی طاقت کو بچایا جا سکے ۔ ارے بھائیوں، مردانہ کمزوری کے حکیم تو ہر چوک میں آپکے منتظر ہیں لیکن اس ذہنی کمزوری کے طبیب بس آپ ہیں صرف آپ !!! “خود” !

تحریر: دُعا مرزا

(Visited 18 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں