حج اکبر

گورمکھ سنگھ کی وصیت

امتیاز اور صغیر کی شادی ہوئی تو شہر بھر میں دھوم مچ گئی۔ آتش بازیوں کا رواج باقی نہیں رہا تھا مگر دولہے کے باپ نے اس پرانی عیاشی پر بے دریغ روپیہ صرف کیا۔ جب صغیر زیوروں سے لدے پھندے سفید براق گھوڑے پر سوار تھا، تو اس کے چاروں طرف انار چھوٹ رہے تھے۔

مہتابیاں اپنے رنگ برنگ شعلے بکھیر رہی تھیں۔ پٹاخے پھوٹ رہے تھے۔ صغیر خوش تھا۔ بہت خوش کہ اس کی شادی امتیاز سے طے پا گئی تھی جس سے اس کو بے پناہ محبت تھی۔ صغیر نے امتیاز کو ایک شادی کی تقریب میں دیکھا۔ اس کی صرف ایک جھلک اسے دکھائی دی تھی۔ مگر وہ اس پر سو جان سے فریفتہ ہو گیا۔ اور اس نے دل میں عہد کرلیا کہ وہ اس کے علاوہ اور کسی کو اپنی رفیقہ ءِ حیات نہیں بنائے گا، چاہے دنیا اِدھر کی اُدھر نہ ہو جائے۔ دنیا اِدھر کی اُدھر نہ ہوئی۔ صغیر نے امتیاز سے ملنے کے راستے ڈھونڈ لیے۔ شروع شروع میں اس خوبرو لڑکی کے حجاب آڑے آیا، لیکن بعد میں صغیر کو اس کا التفات حاصل ہو گیا۔

صغیر بہت مخلص دل نوجوان تھا۔ اس میں ریا کاری نام کو بھی نہ تھی۔ اس کو امتیاز سے محبت ہو گئی تو اس نے یہ سمجھا کہ اسے اپنی زندگی کا اصل مقصد حاصل ہو گیا ہے۔ اس کو اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ امتیاز اسے قبول کرے گی یا نہیں۔ وہ اس قسم کا آدمی تھا کہ اپنی محبت کے جذبے ہی کے سہارے ساری زندگی بسر کردیتا۔ اِس کو جب امتیاز سے پہلی مرتبہ بات کرنے کا موقعہ ملا تو اس نے گفتگو کی ابتدا ہی ان الفاظ سے کی،

’’دیکھو لالی، میں ایک نامحرم آدمی ہوں۔ میں نے مجبور کیا ہے کہ تم مجھ سے ملو۔ اب اس ملاپ کا انجام نیک ہونا چاہیے۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اور خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہارے علاوہ اور کوئی عورت زندگی میں نہیں آئے گی۔ یہ میرے ضمیر اور دل کی اکٹھی آواز ہے۔ تم بھی وعدہ کرو کہ جب تک میں زندہ ہوں مجھے کوئی آزار نہیں پہنچاؤ گی اور میری موت کے بعد بھی مجھے یاد کرتی رہو گی۔ اس لیے کہ قبر میں بھی میری سوکھی ہڈیاں تمہارے پیار کی بھوکی ہوں گی‘‘

امتیاز نے دھڑکتے ہوئے دل سے وعدہ کیا کہ وہ اس عہد پر قائم رہے گی۔ اس کے بعد ان دونوں میں چھپ چھپ کے ملاقاتیں رہیں۔ صغیر اس کو نکاح سے پہلے ہاتھ لگانا بہت بڑا گناہ سمجھتا تھا۔ ان ملاقاتوں میں ان کا موضوع عشق و محبت نہیں ہوتا تھا۔ صغیر مطمئن تھا کہ امتیاز اس کی محبت کی دعوت قبول کر چکی ہے۔ اس پر اب اور زیادہ گفتگو کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ویسے وہ اپنی محبوبہ سے ملنا اس لیے ضروری سمجھتا تھا کہ وہ اس کے عادات و خصائل سے واقف ہو جائے اور وہ بھی اس کو اچھی طرح جان پہچان لے تاکہ وہ اس کی جبلت کا اندازہ کرسکے، اور اس کو شکایت کا کوئی موقع نہ دے۔ اس نے ایک دن امتیاز سے بڑے غیر عاشقانہ انداز میں کہا

’’تازی میں اب بھی تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم نے مجھ میں کوئی خامی دیکھی ہے، اگر میں تمہارے معیار پر پورا نہیں اترا تو مجھ سے صاف صاف کہہ دو، تم کسی بندھن میں گرفتار نہیں ہو۔ تم مجھے دُھتکار دو تو مجھے کوئی شکایت نہیں ہو گی۔ میری محبت میرے لیے کافی ہے۔ میں اس کے اور ان ملاقاتوں کے سہارے کافی دیر تک جی سکتا ہوں‘‘

امتیاز اس سے بہت متاثر ہوئی اس کا جی چاہا کہ صغیر کو اپنے گلے سے لگا کر رونا شروع کردے، مگر وہ اسے ناپسند کرتا۔ اس لیے اس نے اپنے جذبات اندر ہی اندر مسل ڈالے۔ وہ چاہتی تھی کہ صغیر اس سے فلسفیانہ باتیں نہ کرے۔ لیکن کبھی کبھی اس طور پر بھی اس سے پیش آئے، جس طرح فلموں میں ہیرو، اپنی ہیروئن سے پیش آتا ہے۔ مگر صغیر کو ایسی عامیانہ حرکات سے نفرت تھی۔ بہر حال ان دونوں کی شادی ہو گئی۔

پہلی رات کو حجلہ ءِ عروسی میں جب صغیر داخل ہوا تو امتیاز چھینک رہی تھی۔ وہ بہت متفکر ہوا۔ امتیاز کو بلاشبہ زکام ہورہا تھا، لیکن وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا خاوند اس معمولی سے عارضے کی طرف اتنا متوجہ ہو کہ اس کی تمام امنگوں کو فراموش کردے۔ وہ سر تا پا سپردگی تھی۔ مگر صغیر کو اس بات کی تشویش تھی کہ امتیاز اس کی جان سے زیادہ عزیز ہستی علیل ہے، چنانچہ اس نے فوراً ڈاکٹر بلوایا۔ جو دوائیاں اس نے تجویز کیں بازارسے خرید کر لایا اور اپنی نئی نویلی دلہن کو جس کو ڈاکٹر کی آمد سے کوئی دلچسپی تھی نہ اپنے خاوند کی تیمار داری سے، اسے مجبور کیا کہ وہ انجکشن لگوائے اور چار چار گھنٹے کے بعد دوا پِیے۔

زکام کچھ شدید قسم کا تھا، اس لیے چار دن اور چار راتیں صغیر اپنی دلہن کی تیمارد اری میں مصروف رہا۔ امتیاز چڑ گئی۔ وہ جانے کیا سوچ کر عروسی جوڑا پہنے صغیر کے گھر آئی تھی۔ مگر وہ بے کار اس کے زکام کو درست کرنے کے پیچھے پڑا ہوا تھا، جیسے دولہا دلہن کے لیے بس ایک یہی چیز اہم ہے، باقی اور باتیں فضول ہیں۔ تنگ آکر ایک دن اس نے اپنے ضرورت سے زیادہ شریف شوہر سے کہا

’’آپ چھوڑیے میرے علاج معالجے کو۔ میں اچھی بھلی ہوں‘‘

پھر اس نے دعوت بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔

’’میں دُلہن ہوں۔ آپ کے گھر آئی ہوں، اور آپ نے اسے ہسپتال بنا دیا ہے‘‘

صغیر نے بڑے پیار سے اپنی دلہن کا ہاتھ دبایا اور مسکرا کر کہا

’’تازی، خدا نہ کرے کہ یہ ہسپتال ہو۔ یہ میرا گھر نہیں تمہارا گھر ہے‘‘

اس کے بعد امتیاز کو جو فوری شکایت تھی رفع ہو گئی۔ اور وہ شیروشکر ہو کر رہنے لگے۔ صغیر اس سے محبت کرتا تھا، لیکن اس کو ہمیشہ امتیاز کی صحت، اس کے جسم کی خوبصورتیوں اور اس کو تروتازہ دیکھنے کا خیال رہتا۔ وہ اسے کانچ کے نازک پھولدان کی طرح سمجھتا تھا جس کے متعلق ہر وقت یہ خدشہ ہو کہ ذرا سی بے احتیاطی سے ٹُوٹ جائے گا۔ امتیاز اور صغیر کا رشتہ دوہرا تھا۔ دوبھائی اصغر حسین اور امجد حسین تھے۔ کھاتے پیتے تاجر۔ صغیر بڑے بھائی اصغر حسین کا لڑکا تھا، اور امتیاز امجد حسین کی بیٹی۔ اب یہ دونوں میاں بیوی تھے۔ شادی سے پہلے دونوں بھائیوں میں کچھ اختلاف تھے جو اس کے بعد دور ہو گئے تھے۔

امتیاز کی دو بہنیں اور تھیں جو اس پر جان چھڑکتی تھیں۔ امتیاز کا بیاہ ہوا تو ان دونوں کی باری قدرتی طور پر آگئی۔ وہ اپنے گھروں میں آباد بہت خوش تھیں۔ کبھی کبھی امتیاز سے ملنے آتیں اور صغیر کے اخلاق سے بہت متاثر ہوتیں۔ ان کی نظر میں وہ آئیڈیل شوہر تھا۔ دو برس گزر گئے، امتیاز کے ہاں کوئی بچہ نہ ہوا۔ دراصل صغیر چاہتا تھا اتنی چھوٹی عمر میں وہ اولاد کے بکھیڑوں میں نہ پڑے۔

ان دونوں کے دن ابھی تک کھیلنے کودنے کے تھے۔ صغیر اسے ہر روز سینما لے جاتا، باغ کی سیر کراتا۔ نہر کے کنارے کنارے اس کے ساتھ چہل قدمی کرتا۔ اس کی ہر آسائش کا اسے خیال تھا۔ بہترین سے بہترین کھانے، اچھے سے اچھے باورچی۔ اگر امتیاز کبھی باورچی خانے کا رخ کرتی تو وہ اس سے کہتا

’’تازی انگیٹھیوں پر پتھر کے کوئلے جلتے ہیں۔ اُن کی بُو بہت بُری ہوتی ہے اور صحت کے لیے بھی نامفید۔ میری جان تم اندر نہ جایا کرو، دو نوکر ہیں۔ کھانے پکانے کا کام جب تم نے ان کے سپرد کر رکھا ہے تو پھر اس زحمت کی کیا ضرورت؟‘‘

امتیاز مان جاتی۔ سردیوں میں صغیر کا بڑا بھائی اکبر جو نیروبی میں ایک عرصہ سے مقیم تھا اور ڈاکٹر تھا کسی کام کے سلسلے میں کراچی آیا تو اس نے سوچا کہ چلو لاہور صغیرسے مل آئیں۔ بذریعہ ہوائی جہاز پہنچا اور اپنے چھوٹے بھائی کے پاس ٹھہرا۔ وہ صرف چار روز کے لیے آیا کہ ہوائی جہاز میں اس کی سیٹ پانچویں روز کے لیے بک تھی۔ مگر جب اس کی بھابھی نے جو اس کی آمد پر بہت خوش ہوئی تھی اصرار کیا تو چھوٹے بھائی صغیر نے اس سے کہا

’’بھائی جان آپ اتنی دیر کے بعد آئے ہیں کچھ دن اور ٹھہر جایئے۔ میری شادی میں آپ شریک نہیں ہوئے تھے، جتنے دن آپ فالتو ٹھہریں گے، انہیں جرمانہ سمجھ لیجیے گا‘‘

امتیاز مسکرائی اور اکبر سے مخاطب ہوئی

’’اب تو آپ کو ٹھہرانا ہی پڑے گا۔ اور پھر مجھے آپ نے شادی پر کوئی تحفہ بھی تو نہیں دیا۔ میں جب تک وصول نہیں کر لُوں گی، آپ کیسے جاسکتے ہیں اور آپ کو میں جانے بھی کب دوں گی‘‘

دوسرے روز اکبر اس کو ساتھ لے کر گیا اور سچے موتیوں کا ایک ہار لے دیا۔ صغیر نے اپنے بھائی کا شکریہ ادا کیا۔ اس لیے کہ ہار بہت قیمتی تھا، کم از کم پانچ ہزار روپے کا ہو گا۔ اسی دن اکبر نے واپس نیروبی جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور صغیر سے کہا کہ وہ ہوائی جہاز میں اس کے ٹکٹ کا بندوبست کرے۔ اس لیے کہ اس کی لاہور شہر میں کافی واقفیت تھی۔ اکبر نے اس کو روپے دیے مگر اس نے برخوردارانہ انداز میں کہا

’’آپ ابھی اپنے پاس رکھیے میں لے لوں گا‘‘

اور ٹکٹ کا بندوبست کرنے چلا گیا۔ اسے کوئی دقت نہ ہوئی، اس لیے کہ ہوائی جہاز سروس کا جنرل منیجر اس کا دوست تھا۔ اس نے فوراً ٹکٹ لے دیا۔ صغیر کچھ دیر اس کے ساتھ بیٹھا گپ لڑاتا رہا اس کے بعد گھر کا رُخ کیا۔ موٹر گراج میں بند کرکے وہ اندر داخل ہوا، لیکن فوراً باہر نکل آیا۔ گراج سے موٹر نکالی اور اس میں بیٹھ کر جانے کہاں روانہ ہو گیا۔ اکبر اور امتیاز دیر تک اس کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آیا۔ انہوں نے موٹر کے آنے اور گراج میں بند کیے جانے کی آواز سنی تھی مگر انہوں نے سوچا کہ شاید ان کے کانوں کو دھوکا ہوا تھا۔ اس لیے کہ صغیر موجود تھا نہ اس کی موٹر۔ مگر وہ غائب کہاں ہو گیا تھا؟

اکبر کو واپس جانا تھا مگر اس نے پورا ایک ہفتہ انتظار کیا۔ ادھر ادھر کئی جگہ پوچھ گچھ کی۔ پولیس میں رپورٹ لکھوائی مگر صغیر کی کوئی سن گن نہ ملی۔ آخری دن جب کہ اکبر جارہا تھا، پولیس اسٹیشن سے اطلاع ملی کہ پی بی ایل کے 10059 نمبر کی موٹر کار جس کے ایک خانے میں صغیر اختر کے نام کا لائسنس نکلا ہے، ہوائی اڈے کے باہر کئی دنوں سے پڑی ہے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اکبر امجد حسین نام کے ایک آدمی نے آٹھ روز پہلے ہوائی جہاز میں نیروبی کا سفر کیا ہے۔ اکبر کی سیٹ نیروبی کے لیے بُک تھی۔ امتیاز سے رخصت لے کر جب وہ کینیا پہنچا تو اسے بڑی مشکلوں کے بعد صرف اتنا معلوم ہوا کہ ایک صاحب جن کا نام اکبر امجد تھا ہوائی جہاز کے ذریعے سے یہاں پہنچے تھے۔

ایک ہوٹل میں دو روز ٹھہرے اس کے بعد چلے گئے۔ اکبر نے بہت کوشش کی مگر پتہ نہ چلا۔ اس دوران میں اس کو امتیاز کے کئی خط آئے۔ پہلے دو تین خطوں کی تو اس نے رسید بھیجی، اس کے بعد جو بھی خط آتا پھاڑ دیتا کہ اس کی بیوی نہ پڑھ لے۔ دس برس گزر گئے۔ امجد حسین، یعنی امتیاز کا باپ بہت پریشان تھا۔ بہت لوگوں کا خیال تھا کہ صغیر مر کھپ چکا ہے مگر امجد کا دل نہیں مانتا تھا۔ کہیں اس کی لاش ہی مل جاتی۔ خود کشی کرنے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟۔ بڑا نیک، شریف اور برخوردار لڑکا تھا۔ امجد کو اس سے بہت محبت تھی۔ ایک ہی بات اس کی سمجھ میں آتی تھی کہ اس کی بیٹی امتیاز نے کہیں اس جیسے ذکی الحس آدمی کو ایسی ٹھیس نہ پہنچائی ہو کہ وہ شکستہ دل ہوکر کہیں رُوپوش ہو گیا ہے۔

چنانچہ اس نے امتیاز سے کئی مرتبہ اس بارے میں پوچھا مگر وہ صاف مُنکر ہو گئی۔ خدا اور رسول کی قسمیں کھا کر اس نے اپنے باپ کی تشفی کردی کہ اس سے ایسی کوئی حرکت سرزد نہیں ہوئی۔ اکثر اوقات وہ روتی بھی تھی۔ اس کو صغیر یاد آتا تھا۔ اس کی نرم و نازک محبت یاد آتی تھی۔ اس کا وہ دھیما دھیما، نسیم سحری کا سلوک یاد آتا تھا جو اس کی فطرت تھی۔ امجد حسین کا ایک دوست حج کو گیا۔

واپس آیا تو اس نے اس کو یہ خوش خبری سنائی کہ صغیر زندہ ہے اور ایک عرصے سے مکے میں مقیم ہے۔ امجد حسین بہت خوش ہوا۔ اس کو اس کے دوست نے صغیر ہندی کا اتا پتا بتا دیا تھا۔ اس نے اپنی بیٹی امتیاز کو تیار کیا کہ وہ اس کے ساتھ حجاز چلے۔ فوراً ہوائی جہاز کے سفر کا انتظام ہو گیا۔ امتیاز جانے کے لیے تیار نہیں تھی، اس کو جھجک سی محسوس ہورہی تھی۔ بہر حال باپ بیٹی سرزمینِ حجاز پہنچے۔ ہر مقدس مقام کی زیارت کی۔

امجد حسین نے ایک ایک کونہ چھان مارا مگر صغیر کا پتہ نہ چلا۔ چند آدمیوں سے جو اس کو جانتے تھے، صرف اتنا معلوم ہوا کہ وہ آپ کی آمد سے دس روز پہلے، کیونکہ اسے کسی نہ کسی طریق سے معلوم ہو چکا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیں، کھڑکی سے کودا اور گِر کر ہلاک ہو گیا۔ مرنے سے چند لمحات پہلے اس کے ہونٹوں پر ایک لفظ کانپ رہا تھا۔ غالباً امتیاز تھا۔ اس کی قبر کہاں تھی۔ وہ کب اور کیسے دفن ہوا، اس کے متعلق صغیر کے جاننے والوں نے کچھ نہ بتایا۔ یہ ان کے علم میں نہیں تھا۔ امتیاز کو یقین آگیا کہ اس کے خاوند نے خود کشی کرلی ہے۔ اس کو شاید اس کا سبب معلوم تھا، مگر اس کا باپ یہ ماننے سے یکسر منکر تھا۔ چنانچہ اس نے کئی بار اپنی بیٹی سے کہا

’’میرا دل نہیں مانتا۔ وہ زندہ ہے۔ وہ تمہاری محبت کی خاطر اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک خدا اس کو موت کے فرشتے کے حوالے نہ کردے۔ میں اس کو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ تمہاری جگہ اگر وہ میرا بیٹا ہوتا تو میں خود کو دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھتا‘‘

یہ سن کر امتیاز خاموش رہی۔ وہ سرزمین حجاز سے بے نیلِ مرام واپس آگئے۔ ایک برس اور گزر گیا۔ اس دوران میں امجد حسین بڑی مہلک بیماری، یعنی دل کے عارضے میں گرفتار ہوا اور وفات پاگیا۔ مرتے وقت اس نے اپنی بیٹی سے کچھ کہنا چاہا، مگر وہ بات شاید بڑی اذیت دہ تھی کہ وہ خاموش رہا اور صرف سرزنش بھری نگاہوں سے امتیاز کو دیکھتے دیکھتے مر گیا۔ اس کے بعد امتیاز اپنی بہن ممتاز کے پاس راولپنڈی چلی گئی۔ ان کی کوٹھی کے سامنے ایک اور کوٹھی تھی۔ جس میں ایک ادھیڑ عمر کا مرد جو بہت تھکا تھکا سا دکھائی دیتا تھا دھوپ تاپتا اور کتابیں پڑھتا رہتا تھا۔ ممتاز اس کو ہر روز دیکھتی۔ ایک دن اس نے امتیاز سے کہا

’’مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے یہ صغیر ہے۔ کیا تم نہیں پہچان سکتی ہو۔ وہی ناک نقشہ ہے، وہی متانت وہ سنجیدگی‘‘

امتیاز نے اس آدمی کی طرف غور سے دیکھا، اور ایک دم چِلائی

’’ہاں ہاں وہی ہے‘‘

پھر فوراً رُک گئی

’’لیکن وہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ وہ تو وفات پا چکے ہیں‘‘

انہیں دنوں ان دونوں کی چھوٹی بہن شہناز بھی آگئی۔ ممتاز اور امتیاز نے اس کو یہ قبل از وقت مُرجھایا اور افسردہ مرد دکھایا جس کی داڑھی کھچڑی تھی۔ اور اس سے پوچھا۔

’’تم بتاؤ، اس کی شکل صغیر سے ملتی ہے یا کہ نہیں؟‘‘

شہناز نے اس کو بڑی گہری نظروں سے دیکھا اور فیصلہ کن لہجے میں کہا

’’شکل ملتی ہے۔ یہ خود صغیر ہے۔ سو فی صدی صغیر‘‘

اور یہ کہہ کر وہ سامنے والی کوٹھی میں داخل ہو گئی۔ وہ شخص جو کتاب پڑھنے میں مشغول تھا، چونکا۔ شہناز جس نے شادی کے موقعے پر اس کی جوتی چرائی تھی، اسی پرانے انداز میں کہا

’’جناب! آپ کب تک چھپے رہیں گے‘‘

اس شخص نے شہناز کی طرف دیکھا اور بڑی سنجیدگی اختیارکرتے ہوئے پوچھا

’’آپ کون ہیں؟‘‘

شہناز طرار تھی۔ اس کے علاوہ اس کو یقین تھا کہ جس سے وہ ہم کلام ہے وہ اس کا بہنوئی ہے۔ چنانچہ اس نے بڑے نوکیلے لہجے میں کہا

’’جناب، میں آپ کی سالی شہناز ہوں‘‘

اس شخص نے شہناز کو سخت ناامید کیا۔ اس نے کہا

’’مجھے افسوس ہے کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے‘‘

اس کے بعد شہناز نے اور بہت سی باتیں کیں مگر اس نے بڑے ملائم انداز میں اس سے جو کچھ کہا، اس کا یہ مطلب تھا کہ تم ناحق اپنا وقت ضائع کررہی ہو۔ میں تمہیں جانتا ہوں نہ تمہاری بہن کو جس کے متعلق تم کہتی ہو کہ میری بیوی ہے۔ میری بیوی، میری اپنی زندگی ہے اور میں ہی اس کا خاوند۔ شہناز اور ممتاز نے لاکھ سر پٹکا، مگر وہ شخص جس کا نام راولپنڈی میں کسی کو بھی معلوم نہیں تھا، مانتا ہی نہیں تھا کہ وہ صغیر ہے۔ اس کو کسی چیز سے دلچسپی نہیں تھی، سوائے کتابوں کے۔ لیکن شہناز اور ممتاز کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ امتیاز کے متعلق تمام معلومات حاصل کرتا ہے۔ اس کو یہ بھی پتہ چل گیا تھا، اس پر اسرار مرد کے نوکر کے ذریعے سے کہ وہ راتوں کو اکثر روتا ہے، نمازیں پڑھتا ہے اور دُعائیں مانگتا ہے وہ زندہ رہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کو جو اذّیت پہنچی ہے اس سے دیر تک لطف اندوز ہوتا رہے۔ نوکر حیران تھا کہ انسان کی زندگی میں ایسی کون سی تکلیف ہو سکتی ہے جس سے وہ لُطف اٹھا سکتا ہے۔ سب باتیں امتیاز سنتی تھی اور اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ مر جائے۔ چنانچہ اس نے جب یہ سنا کہ وہ شخص جس کو امتیاز اچھی طرح پہچانتی تھی، اس کے نام سے قطعاً ناآشنا ہے تو اس نے ایک روز تولہ افیم کھالی اور یہ ظاہر کیا کہ اس کے سر میں درد ہے اور اکیلی آرام کرنا چاہتی ہے۔ وہ آرام کرنے چلی گئی۔

لیکن شہناز نے جب اس کو غنودگی کے عالم میں دیکھا تو اسے کچھ شبہ ہوا۔ اس نے ممتاز سے بات کی۔ اس کا ماتھا بھی ٹھنکا کمرے میں جا کر دیکھا تو امتیاز بالکل بے ہوش تھی۔ اس کو جھنجھوڑا مگر وہ نہ جاگی۔ شہناز دوڑی دوڑی سامنے والی کوٹھی میں گئی اور اس شخص سے جس کا نام راولپنڈی میں کسی کو معلوم نہیں تھا، سخت گھبراہٹ میں یہ اطلاع دی کہ اس کی بیوی نے زہر کھا لیا ہے، اور مرنے کے قریب ہے۔ یہ سن کر صرف اس نے اتنا کہا

’’آپ کو غلط فہمی ہے، وہ میری بیوی نہیں ہے۔ لیکن میرے ہاں اتفاق سے ایک ڈاکٹر آیا ہوا ہے۔ آپ چلیے میں اسے بھیج دیتا ہوں‘‘

شہناز گئی تو وہ اندر کوٹھی میں گیا، اور اپنے بھائی اکبر سے کہا

’’یہ کوٹھی جو سامنے ہے، اس میں کسی عورت نے زہر کھالیا ہے۔ بھائی جان آپ جلدی جائیے اور کوشش کیجیے کہ بچ جائے‘‘

اس کا بھائی جو نیروبی میں بہت بڑا ڈاکٹر تھا امتیاز کو نہ بچا سکا۔ دونوں نے جب ایک دوسرے کو دیکھا تو اس کا ردِّ عمل بہت مختلف تھا۔ امتیاز فوراً مر گئی اور اکبر اپنا بیگ لے کر واپس چلا گیا۔ صغیر نے اس سے پوچھا۔

’’کیا حال ہے مریضہ کا؟‘‘

اکبر نے جواب دیا۔

’’مر گئی‘‘

صغیر نے اپنے ہونٹ بھینچ کر بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔

’’میں زندہ رہوں گا‘‘

لیکن ایک دم سنگین فرش پر لڑکھڑانے کے بعد گرا اور۔ جب اکبر نے اس کی نبض دیکھی تو وہ ساکت تھی۔

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں