ڈرپوک

غسل خانہ

میدان بالکل صاف تھا۔ مگر جاوید کا خیال تھا کہ میونسپل کمیٹی کی لالٹین جو دیوار میں گڑی ہے۔ اس کوگھور رہی ہے۔ بار باروہ اس چوڑے صحن کو جس پر نانک شاہی اینٹوں کا اونچا نیچا فرش بنا ہوا تھا، طے کرکے اس نکڑ والے مکان تک پہنچنے کا ارادہ کرتا جو دوسری عمارتوں سے بالکل الگ تھلگ تھا۔ مگر یہ لالٹین جو مصنوعی آنکھ کی طرح ہر طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی، اس کے ارادے کو متزلزل کردیتی اور وہ اس بڑی موری کے اس طرف ہٹ جاتا جس کو پھاند کر وہ صحن کو چند قدموں میں طے کرسکتا تھا۔ صرف چند قدموں میں! جاوید کا گھر اس جگہ سے کافی دور تھا۔ مگر یہ فاصلہ بڑی تیزی سے طے کرکے یہاں پہنچ گیا تھا۔ اس کے خیالات کی رفتار اس کے قدموں کی رفتار سے زیادہ تیز تھی۔ راستے میں اس نے بہت سی چیزوں پرغور کیا۔ وہ بیوقوف نہیں تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ ایک بیسوا کے پاس جا رہا ہے۔ اور اس کو اس بات کا بھی پورا شعور تھا کہ وہ کس غرض سے اس کے یہاں جانا چاہتاہے۔ وہ عورت چاہتا تھا۔ عورت، خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔ عورت کی ضرورت اس کی زندگی میں یک بیک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ایک زمانے سے یہ ضرورت اس کے اندر آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتی رہی تھی۔ اور اب دفعتہً اس نے محسوس کیا تھا کہ عورت کے بغیر وہ ایک لمحہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ عورت اس کو ضرور ملنی چاہیے، ایسی عورت جس کی ران پر ہولے سے طمانچہ مار کروہ اس کی آواز سن سکے۔ ایسی عورت جس سے وہ واہیات قسم کی گفتگو کرسکے۔ جاوید پڑھا لکھا ہوشمند آدمی تھا۔ ہر بات کی اونچ نیچ سمجھتا تھا۔ مگر اس معاملے میں مزید غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کے دل میں ایک ایسی خواہش پیدا ہوئی تھی، جو اس کے لیے نئی نہ تھی۔ عورت کی قربت حاصل کرنے کی خواہش اس سے پہلے کئی بار اس کے دل میں پیدا ہوئی اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے انتہائی کوششوں کے بعد جب اسے ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی زندگی میں سالم عورت کبھی نہیں آئے گی۔ اور اگر اس نے اس سالم عورت کی تلاش جاری رکھی تو کسی روز وہ دیوانے کُتے کی طرح راہ چلتی عورت کو کاٹ کھائے گا۔ کاٹ کھانے کی حد تک اپنے ارادہ میں ناکام رہنے کے بعد اب دفعتہً اس کے دل میں اس خواہش نے کروٹ بدلی تھی۔ اب کسی عورت کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کرنے کاخیال اس کے دماغ سے نکل چکا تھا۔ عورت کا تصور اس کے دماغ میں موجود تھا۔ اس کے بال بھی تھے۔ مگر اب اس کی یہ خواہش تھی کہ وہ ان بالوں کو وحشیوں کی طرح کھینچے، نوچے، اکھیڑے۔ اب اس کے دماغ میں سے وہ عورت نکل چکی تھی جس کے ہونٹوں پر وہ اپنے ہونٹ اس طرح رکھنے کا آرزو مند تھا۔ جیسے تتلی پھولوں پر بیٹھتی ہے، اب وہ ان ہونٹوں کو اپنے گرم ہونٹوں سے داغنا چاہتا تھا۔ ہولے ہولے سرگوشیوں میں باتیں کرنے کا خیال بھی اس کے دماغ میں نہیں تھا۔ اب وہ بلند آواز میں باتیں کرنا چاہتا تھا۔ ایسی باتیں جو اس کے موجودہ ارادے کی طرح ننگی ہوں۔ اب سالم عورت اس کے پیش نظر نہیں تھی۔ وہ ایسی عورت چاہتا تھا جو گھس گھسا کر شکستہ حال مرد کی شکل اختیار کرگئی ہو۔ ایسی عورت جو آدھی عورت ہو۔ اور آدھی کچھ بھی نہ ہو۔ ایک زمانہ تھا جب جاوید عورت کہتے وقت اپنی آنکھوں میں خاص قسم کی ٹھنڈک محسوس کیا کرتا تھا۔ جب عورت کا تصور اسے چاند کی ٹھنڈی دنیا میں لے جاتا تھا۔ وہ

’’عورت‘‘

کہتا تھا۔ بڑی احتیاط سے جیسے اس کو اس بے جان لفظ کے ٹوٹنے کا ڈر ہو۔ ایک عرصے تک وہ اس دنیا کی سیر کرتا رہا مگر انجام کار اس کو معلوم ہوا کہ عورت کی تمنا اس کے دل میں ہے۔ اس کی زندگی کا ایسا خواب ہے جو خراب معدے کے ساتھ دیکھا جائے۔ جاوید اب خوابوں کی دنیا سے باہر نکل آیا تھا۔ بہت دیر تک ذہنی طور پر وہ اپنے آپ کو بہلاتا رہا۔ مگر اب اس کا جسم خوفناک حد تک بیدار ہو چکا تھا۔ اس کے تصور کی شدت نے اس کی جسمانی حسیات کی نوک پلک کچھ اس طور پر نکالی تھی کہ اب زندگی اس کے لیے سوئیوں کا بستر بن گئی۔ ہر خیال ایک نشتر بن گیا اور عورت اس کی نظروں میں ایسی شکل اختیار کرگئی جس کو وہ بیان بھی کرنا چاہتا تو نہ کرسکتا۔ جاوید کبھی انسان تھا۔ مگر اب انسانوں سے اسے نفرت تھی، اس قدر کہ اپنے آپ سے بھی متنفّر ہوچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ خود کو ذلیل کرنا چاہتا تھا۔ اس طورپر کہ ایک عرصے تک اس کے خوبصورت خیال جن کو وہ اپنے دماغ میں پھولوں کی طرح سجا کے رکھتا رہا تھا، غلاظت سے لتھڑے رہیں۔

’’مجھے نفاست تلاش کرنے میں ناکامی رہی ہے لیکن غلاظت تو میرے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اب جی یہ چاہتا ہے کہ اپنی روح اور جسم کے ہر ذرے کو اس غلاظت سے آلودہ کردوں۔ میری ناک جو اس سے پہلے خوشبوؤں کی متجسس رہی ہے اب بدبو دار اور متعفن چیزیں سونگھنے کے لیے بیتاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے آج اپنے پرانے خیالات کا چغہ اتار کر اس محلے کا رخ کیا ہے۔ جہاں ہر شے ایک پراسرار تعفن میں لپٹی نظر آتی ہے۔ یہ دنیا کس قدر بھیانک طور پر حسین ہے!‘‘

نانک شاہی اینٹوں کا ناہموار فرش اس کے سامنے تھا۔ لالٹین کی بیمار روشنی میں جاوید نے اس فرش کی طرف اپنی بدلی ہوئی نظروں سے دیکھا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ بہت سی ننگی عورتیں اوندھی لیٹی ہیں جن کی ہڈیاں جا بجا ابھر رہی ہیں۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس فرش کو طے کرکے نکڑ والے مکان کی سیڑھیوں تک پہنچ جائے اور کوٹھے پر چڑھ جائے مگر میونسپل کمیٹی کی لالٹین غیر مختتم ٹکٹکی باندھے اس کی طرف گھور رہی تھی۔ اس کے بڑھنے والے قدم رک گئے۔ اور وہ بھنا سا گیا۔ یہ لالٹین مجھے کیوں گھور رہی ہے۔ یہ میرے راستے میں کیوں روڑے اٹکاتی ہے۔ ‘‘

وہ جانتا تھا کہ یہ محض واہمہ ہے اور اصلیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن پھربھی اس کے قدم رک جاتے تھے۔ اور وہ اپنے دل میں تمام بھیانک ارادے لیے موری کے اس پار رہ جاتا تھا، وہ یہ سمجھتا تھا کہ اس کی زندگی کے ستائیس برسوں کی جھجک جو اسے ورثے میں ملی تھی، اس لالٹین میں جمع ہو گئی ہے۔ یہ جھجک جس کو پرانی کینچلی کی طرح اتار کروہ اپنے گھر چھوڑ آیا تھا، اس سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی جہاں اسے اپنی زندگی کا سب سے بھدا کھیل کھیلنا تھا۔ ایسا کھیل جو اسے کیچڑ میں لت پت کردے، اس کی روح کو ملوّث کردے۔ ایک میلی کچیلی عورت اس مکان میں رہتی تھی۔ اس کے پاس چار پانچ جوان عورتیں تھیں جو رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں یکساں بھدے پن سے پیشہ کیا کرتی تھیں۔ یہ عورتیں گندی موری سے غلاظت نکالنے والے پمپ کی طرح چلتی رہتی تھیں۔ جاوید کو اس قحبہ خانے کے متعلق اس کے ایک دوست نے بتایا تھا جو حسن و عشق کی تلاش کئی مرتبہ اس قبرستان میں دفن کر چکا تھا۔ جاوید سے وہ کہا کرتا تھا۔

’’تم عورت عورت پکارتے ہو۔ عورت ہے کہاں؟۔ مجھے تو اپنی زندگی میں صرف ایک عورت نظر آئی جو میری ماں تھی۔ مستورات البتہ دیکھی ہیں اور ان کے متعلق سنا بھی ہے لیکن جب کبھی عورت کی ضرورت محسوس ہوئی ہے تو میں نے مائی جیواں کے کوٹھے کو اپنا بہترین رفیق پایا ہے۔ بخدا مائی جیواں عورت نہیں فرشتہ ہے۔ خدا اس کو خضر کی عمر عطا فرمائے۔ ‘‘

جاوید مائی جیواں اور اس کے یہاں کی چار پانچ پیشہ کرنے والی عورتوں کے متعلق بہت کچھ سن چکا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ ان میں سے ایک ہر وقت گہرے رنگ کے شیشے والا چشمہ پہنے رہتی ہے۔ اس لیے کہ کسی بیماری کے باعث اس کی آنکھیں خراب ہو چکی ہیں۔ ایک کالی کلوٹی لونڈیا ہے جو ہر وقت ہنستی رہتی ہے۔ اس کے متعلق جاوید جب سوچتاتو عجیب و غریب تصویر اس کی آنکھوں کے سامنے کھچ جاتی۔

’’مجھے ایسی ہی عورت چاہیے جو ہر وقت ہنستی رہے۔ ایسی عورتوں کو ہنستے ہی رہنا چاہیے۔ جب وہ ہنستی ہو گی تو اس کے کالے کالے ہونٹ یوں کھلتے ہوں گے۔ جیسے بدبودار گندے پانی میں میلے بلبلے بن بن کر اٹھتے ہیں۔ ‘‘

مائی جیواں کے پاس ایک اور چھوکری بھی تھی۔ جو باقاعدہ طور پر پیشہ کرنے سے پہلے گلیوں اور بازاروں میں بھیک مانگا کرتی تھی۔ اب ایک برس سے وہ اس مکان میں تھی، جہاں اٹھارہ برسوں سے یہی کام ہورہا تھا۔ یہ اب پوڈر اور سرخی لگاتی تھی۔ جاوید اس کے متعلق بھی سوچتا۔

’’اس کے سرخی لگے گال بالکل داغدار سیبوں کے مانند ہوں گے۔ جو ہر کوئی خرید سکتا ہے۔ ‘‘

loading...

ان چار یا پانچ عورتوں میں سے جاوید کی کسی خاص پر نظر نہیں تھی۔ مجھے کوئی بھی مل جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھ سے دام لیے جائیں اور کھٹ سے ایک عورت میری بغل میں تھما دی جائے۔ ایک سیکنڈ کی دیر نہ ہونی چاہیے۔ کسی قسم کی گفتگو نہ ہو، کوئی نرم و نازک فقرہ منہ سے نہ نکلنے پائے۔ قدموں کی چاپ سنائی دے۔ دروازہ کھلنے کی کھڑکھڑاہٹ پیدا ہو۔ روپے کھنکھنائیں۔ اور آوازیں بھی آئیں مگر منہ بند رہے، اگر آواز نکلے تو ایسی جو انسانی آواز معلوم نہ ہو۔ ملاقات ہو بالکل حیوانوں کی طرح تہذیب و تمدن کے صندوق میں تالا لگ جائے۔ تھوڑی دیر کے لیے ایسی دنیا آباد ہو جائے جس میں سونگھنے، دیکھنے اور سننے کی نازک حسیات زنگ لگے استرے کے مانند کند ہو جائیں۔ جاوید بے چین ہو گیا۔ ایک الجھن سی اس کے دماغ میں پیدا ہو گئی۔ ارادہ اس کے اندر اتنی شدت اختیار کر چکا تھا۔ کہ اگر پہاڑ بھی اس کے راستے میں ہوتے تو وہ ان سے بھڑ جاتا۔ مگر میونسپل کمیٹی کی ایک اندھی لالٹین جس کو ہوا کا ایک جھونکا بجھا سکتا تھا۔ اس کی راہ میں بہت بُری طرح حائل ہو گئی تھی۔ اس کی بغل میں پان والے کی دکان کھلی تھی۔ تیز روشنی میں اس کی چھوٹی سی دکان کا اسباب اس قدر نمایاں ہورہا تھا کہ بہت سی چیزیں نظر نہیں آتی تھیں۔ بجلی کے قمقمے کے اردگرد مکھیاں اس انداز سے اڑ رہی تھیں جیسے ان کے پَر بوجھل ہورہے ہیں۔ جاوید نے جب ان کی طرف دیکھا تو اس کی الجھن میں اضافہ ہو گیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے کوئی سست رفتار چیز نظر آئے۔ اس کا کر گزرنے کا ارادہ جو وہ اپنے گھر سے لے کر یہاں آیا تھا ان مکھیوں کے ساتھ ساتھ بار بار ٹکرایا اور وہ اس کے احساس سے اس قدر پریشان ہوا کہ ایک ہلڑ سا اس کے دماغ میں مچ گیا۔

’’میں ڈرتا ہوں۔ میں خوف کھاتا ہوں۔ اس لالٹین سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ میرے تمام ارادے اس نے تباہ کردیے ہیں۔ میں ڈرپوک ہوں۔ میں ڈرپوک ہوں۔ لعنت ہو مجھ پر۔ ‘‘

اس نے کئی لعنتیں اپنے آپ پر بھیجیں مگر خاطر خواہ اثر پیدا نہ ہوا۔ اس کے قدم آگے نہ بڑھ سکے۔ نانک شاہی اینٹوں کا ناہموار فرش اس کے سامنے لیٹا رہا۔ گرمیوں کے دن تھے نصف رات گزرنے پر بھی ہوا ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی۔ بازار میں آمدورفت بہت کم تھی۔ گنتی کی صرف چند دکانیں کھلی تھیں۔ فضا خاموشی میں لپٹی ہوئی تھی۔ البتہ کبھی کبھی کسی کوٹھے سے ہوا کے گرم جھونکے کے ساتھ تھکی ہوئی موسیقی کا ایک ٹکڑا اڑ کر ادھر چلا آتا تھا اور گاڑھی خاموشی میں گھل جاتا تھا۔ جاوید کے سامنے یعنی مائی جیواں کے قحبہ خانے سے ادھر ہٹ کر بڑے بازار میں جو دکانوں کے اوپر کوٹھوں کی ایک قطار تھی۔ اس میں کئی جگہ زندگی کے آثار نظر آرہے تھے۔ اس کے بالمقابل کھڑکی میں تیز روشنی کے قمقمے کے نیچے ایک سیاہ فام عورت بیٹھی پنکھا جھل رہی تھی۔ اس کے سر کے اوپر بجلی کا بلب جل رہا تھا اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ سفید آگ کا ایک گولا ہے جو پگھل پگھل کر اس ویشیا پر گر رہا ہے۔ جاوید اس سیاہ فام عورت کے متعلق کچھ غور کرنے ہی والا تھا کہ بازار کے اس سرے سے جو اس کی آنکھوں سے اوجھل تھا۔ بڑے بھدے نعروں کی صورت میں چند آوازیں بلند ہوئیں۔ تھوڑی دیر کے بعد تین آدمی جھومتے جھامتے شراب کے نشے میں چور نمودار ہوئے۔ تینوں کے تینوں اس سیاہ فام عورت کے کوٹھے کے نیچے پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور جاوید کے کانوں نے ایسی ایسی واہیات باتیں سنیں کہ اس کے تمام ارادے اس کے اندر سمٹ کر رہ گئے۔ ایک شرابی نے جس کے قدم بہت زیادہ لڑکھڑا رہے تھے، اپنے مونچھوں بھرے ہونٹوں سے بڑی بھدی آواز کے ساتھ ایک بوسہ نوچ کر اس کالی ویشیا کی طرف اچھالا اور ایک ایسا فقرہ کسا کہ جاوید کی ساری ہمت پست ہو گئی۔ کوٹھے پر برقی لیمپ کی روشنی میں اس سیاہ فام عورت کے ہونٹ ایک آبنوسی قہقہے نے وا کیے اور اس نے شرابی کے فقرے کا جواب یوں دیا جیسے ٹوکری بھر کوڑا نیچے پھینک دیا ہے۔ نیچے غیر مربوط قہقہوں کا ایک فوارہ سا چھوٹ پڑا اور جاوید کے دیکھتے دیکھتے وہ تینوں شرابی کوٹھے پر چڑھے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ نشست جہاں وہ کالی ویشیا بیٹھی تھی خالی ہو گئی۔ جاوید اپنے آپ سے اور زیادہ متنفر ہو گیا۔

’’تم۔ تم۔ تم کیا ہو؟۔ میں پوچھتا ہوں، آخر تم کیا ہو۔ نہ تم یہ ہو، نہ وہ ہو۔ نہ تم انسان ہو نہ حیوان۔ تمہاری ذہانت و ذکاوت آج سب دھری کی دھری رہ گئی ہے۔ تین شرابی آتے ہیں۔ تمہاری طرح ان کے دل میں ارادہ نہیں ہوتا۔ لیکن بے دھڑک اس ویشیا سے واہیات باتیں کرتے ہیں اور ہنستے، قہقہے لگاتے کوٹھے پر چڑھ جاتے ہیں۔ گویا پتنگ اڑانے جارہے ہیں۔ اور تم۔ اور تم جو کہ اچھی طرح سمجھتے ہو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ یوں بیوقوفوں کی طرح بیچ بازار میں کھڑے ہو اور ایک بے جان لالٹین سے خوف کھا رہے ہو۔ تمہارا ارادہ اس قدر صاف اور شفاف ہے لیکن پھر بھی تمہارے قدم آگے نہیں بڑھتے۔ لعنت ہو تم پر۔ ‘‘

جاوید کے اندر ایک لمحے کے لیے خود انتقامی کا جذبہ پیدا ہوا۔ اس کے قدموں میں جنبش ہوئی اور موری پھاند کر وہ مائی جیواں کے کوٹھے کی طرف بڑھا۔ قریب تھا کہ وہ لپک کر سیڑھیوں کے پاس پہنچ جائے کہ اوپرسے ایک آدمی اترا۔ جاوید پیچھے ہٹ گیا۔ غیرارادی طور پر اس نے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش بھی کی لیکن کوٹھے پر سے نیچے آنے والے آدمی نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ اس آدمی نے اپنا ململ کا کرتہ اتار کرکاندھے پر دھرا تھا۔ اور دا ہنی کلائی میں موتیے کے پھولوں کا مسلا ہوا ہار لپیٹا تھا۔ اس کا بدن پسینے سے شرابور ہورہا تھا۔ جاوید کے وجود سے بے خبر وہ اپنے تہمد کو دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں تک اونچا کیے نانک شاہی اینٹوں کا اونچا نیچا فرش طے کرکے موری کے اس پار چلا گیا اور جاوید نے سوچنا شروع کیا کہ اس آدمی نے اس کی طرف کیوں نہیں دیکھا۔ اس دوران میں اس نے لالٹین کی طرف دیکھا تو وہ اسے یہ کہتی معلوم ہوئی۔

’’تم کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس لیے کہ تم ڈرپوک ہو۔ یاد ہے تمہیں پچھلے برس برسات میں جب تم نے اس ہندو لڑکی اندرا سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہا تو تمہارے جسم میں سکت نہیں رہی تھی۔ کیسے کیسے۔ بھیانک خیال تمہارے دماغ میں پیدا ہوئے تھے۔ یاد ہے، تم نے ہندو مسلم فساد کے متعلق بھی سوچا تھا اور ڈر گئے تھے۔ اس لڑکی کو تم نے اسی ڈر کے مارے بھلا دیا اور حمیدہ سے تم اس لیے محبت نہ کرسکے کہ وہ تمہاری رشتہ دار تھی اور تمہیں اس بات کا خوف تھا کہ تمہاری محبت کو غلط نظروں سے دیکھا جائے گا۔ کیسے کیسے وہم تمہارے اوپر ان دنوں مسلط تھے۔ اور پھر تم نے بلقیس سے محبت کرنا چاہی۔ مگر اس کو صرف ایک بار دیکھ کر تمہارے سب ارادے غائب ہو گئے اور تمہارا دل ویسے کا ویسا بنجر رہا۔ کیا تمہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ہر بار تم نے اپنی بے لوث محبت کو آپ ہی شک کی نظروں سے دیکھا ہے۔ تمہیں اس بات کا کبھی پوری طرح یقین نہیں آیا کہ تمہاری محبت ٹھیک فطری حالت میں ہے۔ تم ہمیشہ ڈرتے ہو۔ اس وقت بھی تم خائف ہو یہاں گھریلو عورتوں اور لڑکیوں کا سوال نہیں، ہندو مسلم فساد کا بھی اس جگہ کوئی خدشہ نہیں لیکن اس کے باوجود تم کبھی اس کوٹھے پر نہیں جاسکو گے۔ میں دیکھوں گی تم کس طرح اوپر جاتے ہو۔ ‘‘

جاوید کی رہی سہی ہمت بھی پست ہو گئی۔ اس نے محسوس کیا وہ واقعی پرلے حد درجے کا ڈرپوک ہے۔ بیتے ہوئے واقعات تیز ہوا میں رکھی ہوئی کتاب کے اوراق کی طرح اس کے دماغ میں دیر تک پھڑپھڑاتے رہے اور پہلی مرتبہ اس کو اس بات کا بڑی شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ اس کے وجود کی بنیادوں میں ایک ایسی جھجک بیٹھی ہوئی ہے جس نے اسے قابلِ رحم حد تک ڈرپوک بنا دیاہے۔ سامنے سیڑھیوں سے کسی کے اترنے کی آواز آئی۔ تو جاوید اپنے خیالات سے چونک پڑا۔ وہی جو گہرے رنگ کے شیشوں والی عینک پہنتی تھی اور جس کے متعلق وہ کئی بار اپنے دوست سے سن چکا تھا۔ سیڑھیوں کے اختتامی چبوترے پر کھڑی تھی۔ جاوید گھبرا گیا، قریب تھا کہ وہ آگے سرک جائے کہ اس نے بڑے بھدے طریقے پر اسے آواز دی۔

’’اجی ٹھہر جاؤ۔ میری جان گھبراؤ نہیں۔ آؤ۔ آؤ۔ ‘‘

اس کے بعد اس نے پچکارتے ہوئے کہا۔

’’چلے آؤ۔ آجاؤ۔ ‘‘

یہ سن کر جاوید کو ایسا محسوس ہوا کہ اگر وہ کچھ دیر وہاں ٹھہرا تو اس کی پیٹھ میں دُم اُگ آئے گی جو ویشیا کے پچکارنے پرہلنا شروع کردے گی۔ اس احساس سمیت اس نے چیوترے کی طرف گھبرائی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ مائی جیواں کے قحبے خانے کی اس عینک چڑھی لونڈیا نے کچھ اس طرح اپنے بالائی جسم کو حرکت دی کہ جاوید کے تمام ارادے پکے ہوئے بیروں کی مانند جھڑ گئے۔ اس نے پھر پچکارا

’’آؤ۔ میری جان اب آبھی جاؤ۔ ‘‘

جاوید اٹھ بھاگا۔ موری پھاند کر جب وہ بازار میں پہنچا تو اس نے ایک ایسے قہقہے کی آواز سنی جو خطرناک طور پر بھیانک تھا۔ وہ کانپ اٹھا۔ جب وہ اپنے گھر کے پاس پہنچا تو اس کے خیالات کے ہجوم میں سے دفعتہً ایک خیال رینگ کر آگے بڑھا۔ جس نے اس کو تسکین دی۔

’’جاوید، تم ایک بہت بڑے گناہ سے بچ گئے۔ خدا کا شکر بجا لاؤ۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں