نااہل مرد کیسے بڑے عہدوں پر فائز ہوجاتے ہیں؟

نااہل لوگ

ماہر نفسیات اور’’ وائے سومینی انکمپیٹنٹ مین بیکم لیڈرز‘‘  کے مصنف ڈاکٹر ٹومس چامورو پریمیوزک کا مطابق جب رہنماؤں کی بات ہوتی ہے تو ہم ان کی قابلیت کے بارے میں اتنا غور نہیں کرتے جتنا ہمیں کرنا چاہیے۔

اپنی کتاب میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہمیں مردوں میں نااہلی اس قدر پسند ہے کہ ہم اس کی اس نااہلی پر نوازنا شروع کر دیتے ہیں  اور اسی وجہ سے خواتین کی راہ میں بڑے عہدوں پر فائز ہونے میں مشکل پیش آتی ہے۔

نااہلوں کی جیت کیوجہ

ٹومس نے کہا کہ کاروبار یا سیاست میں رہنما کا انتخاب کرنا ایک نہایت اہم  ذمہ داری کا کام ہوتا ہے، لیکن ہم ان  لوگوں کی قابلیت کو دیکھے بغیر ہی رہنما منتخب کردیتے ہیں ، اور اس میں اپنی ٹیم کو لیڈ کرنے کی کوالٹی کو بھی نہیں دیکھتے ۔ اس کیوجہ یہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی خوداعتمادی کو ان کی دوسری قابلیتوں سے ذیادہ اہم سمجھتے ہیں اور اس شخص کو قابل بنا لیتے ہیں۔

ہم اپنی رائے مختصر سی ملاقات یہ ٹی وی پر ایک سیاستدان کی چھوٹی سے بات یہ پیغامات کی بنیاد پر بنا لیتے ہیں۔ اور ان کی عاجزی سے ذیادہ ان کی کرشماتی انداز پر غور کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایسے لوگوں کو رہنما ہونا پسند کرتے ہیں جن کی ایک پرکشیش شخصیت ہو ، دل بہلانے والا مزاج ہو جس کے ساتھ کام کرنے کا مزا آئے ، لیکن اس سب سے آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ آیا یہ شخص آپ کی رہنمائی کرے گا یا ٹیم کو فائدہ پہنچائے گا ؟

بعض اوقات ہم ایسے رہنما بھی پسند کرتے ہیں جن کو خود صرف اپنی ذات سے پیار ہوتا ہے اور یہ لوگ ہر وقت اپنی تعریف کرتے رہتے ہیں ۔

شخصیت کے بارے میں اوپر بتائی گئی مردوں میں یہ باتیں عورتوں کی نسبت ذیادہ پائی جاتیں ہیں اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اہم مقاموں پر مرد ہی رہنما کیوں بنائے جاتے ہیں۔

ٹومس کہتے ہیں کہ ہم یہ سوچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی کام کو صرف وہ شخص ہی سر انجام دے جو کام کے لیے بہترین ہو ،لیکن اس بات کے ثبوت کہاں ہیں؟

کئی بار ایچ آر یا نوکری کے لیے بھرتی کرنے والے لوگ بھی ادارے کے لیے چھوٹے ٹارگٹ پر غور کرتے ہیں جیسا کہ وہ سوچتے ہیں کہ اس شخص کو بھرتی کیا تو مجھے فائدہ ہوگا، کوئی خاص مشکل حل کرنےمیں ماہر ہوگا یا یہ شخص میری ہر بات مانے گا۔

ہر ادارے  میں  رہمنائی کے لیے لوگوں کا انتخاب کرنا اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ کوئی شخص کس طرح اپنی ٹیم میں ایک مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے تمام ٹیم والوں کے لیے مثال بنے اور ان میں کام کرنے کے لگن پیدا کرے۔

کسی بھی ادارے کی تین بنیادی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے

خوبیوں پر غور کرنا

قابلیت ، لوگوں سے نمٹنے کی صلاحیت، عاجزی ، خود آگہی، سالمیت اور نیا سیکھنے اور دوسروں کو سیکھانے کا شوق ایسی خوبیاں ہیں جنہیں ہر بندہ تلاش کرتا ہے رہنما بنانے کےلیے۔

عورتیں زیادہ ذہین ہوتی ہیں یا پھر مرد؟

جبلت سے ذیادہ ڈیٹا اور معلومات پر غور کریں

کسی شخص کی قابلیت کو سمجھنے کے لیے اس کی تب تک کی قابلیت اور امتحان میں اس کارکرگی پر غور کریں۔ اس کے علاوہ ٹومس کا کہنا تھا کہ ہر ادارے کے پاس بے شمار معلومات ہوتیں ہیں لیکن وہ ان معلومات کے علاوہ صرف ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کو پوچھنے کا دل کرتا ہے۔

بھرتی کرتے وقت مرد اور خوتین کا دھیان رکھا جائے

کئی بار مردوں کو خواتین پر اس  لیے فوقیت دی جاتی ہے کہ ان میں ہنر اور جنس کی بنیاد پر سلیکٹ کیا جاتا ہے اور عورتوں کی جگہ کی سیٹ بھی انہی مردوں کو مل جاتی ہے اس لیے انہیں چاہیے کہ مردوں اور خواتین کے درمیان توازن رکھا جائے جس سے آدھا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

آخر میں ٹومس کا کہنا تھا  اس کا صرف ایک حل ہے کہ لوگوں کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر رکھا جائے نہ کہ جنس کی بنیاد پر اور اگر ہر ادارہ قابلیت کی بنیاد پر لوگوں کو بھرتی کرنا شروع کردے تواس میں خاتین رہنما مردوں سے ذیادہ ہی ہوں گیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں