لتیکا رانی

مائی نانکی

وہ خوبصورت نہیں تھی۔ کوئی ایسی چیز اس کی شکل و صورت میں نہیں تھی جسے پرکشش کہا جاسکے، لیکن اس کے باوجود جب وہ پہلی بار فلم کے پردے پر آئی تو اس نے لوگوں کے دل موہ لیے اور یہ لوگ جو اسے فلم کے پردے پر ننھی منی اداؤں کے ساتھ بڑے نرم و نازک رومانوں میں چھوٹی سی تتلی کے مانند ادھر سے ادھر اور اُدھر سے اِدھر تھرکتے دیکھتے تھے، سمجھتے تھے کہ وہ خوبصورت ہے۔ اس کے چہرے مہرے اور اس کے ناز نخرے میں ان کو ایسی کشش نظر آتی تھی کہ وہ گھنٹوں اس کی روشنی میں مبہوت مکھیوں کی طرح بھنبھناتے رہتے تھے۔ اگر کسی سے پوچھا جاتا کہ تمہیں لتیکا رانی کے حسن و جمال میں کون سی سب سے بڑی خصوصیت نظر آتی ہے جو اسے دوسری ایکٹرسوں سے جدا گانہ حیثیت بخشتی ہے تو وہ بلا تامل یہ کہتا کہ اس کا بھولپن۔ اور یہ واقعہ ہے کہ پردے پر وہ انتہا درجے کی بھولی دکھائی دیتی تھی۔ اس کو دیکھ کر اس کے سوا کوئی اور خیال دماغ میں آ ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ بھولی ہے، بہت ہی بھولی۔ اور جن رومانوں کے پس منظر کے ساتھ وہ پیش ہوتی ان کے تانے بانے یوں معلوم ہوتا تھا کسی جولاہے کی الھڑ لڑکی نے تیار کیے ہیں۔ وہ جب بھی پردے پر پیش ہوئی، ایک معمولی ان پڑھ آدمی کی بیٹی کے روپ میں چمکیلی دنیا سے دور ایک شکستہ جھونپڑا ہی جس کی ساری دنیا تھی۔ کسی کسان کی بیٹی، کسی مزدور کی بیٹی، کسی کانٹا بدلنے والے کی بیٹی اور وہ ان کرداروں کے خول میں یوں سما جاتی تھی جیسے گلاس میں پانی۔ لتیکا رانی کا نام آتے ہی آنکھوں کے سامنے، ٹخنوں سے بہت اونچھا گھگھرا پہنے، کھینچ کر اوپر کی ہوئی ننھی منی چوٹی والی، مختصر قد کی ایک چھوٹی سی لڑکی آجاتی تھی جو مٹی کے چھوٹے چھوٹے گروندے بنانے یا بکری کے معصوم بچے کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہے۔ ننگے پاؤں، ننگے سر، پھنسی پھنسی چولی میں بڑے شاعرانہ انکسار کے ساتھ سینے کا چھوٹا سا ابھار، معتدل آنکھیں، شریف سی ناک، اس کے سراپا میں یوں سمجھیے کہ دوشیزدگی کا خلاصہ ہو گیا تھا جو ہر دیکھنے والے کی سمجھ میں آجاتا تھا۔ پہلے فلم میں آتے ہی وہ مشہور ہو گئی اور اس کی یہ شہرت اب تک قائم ہے حالانکہ اسے فلمی دنیا چھوڑے ایک مدت ہو چکی ہے۔ اپنی فلمی زندگی کے دوران میں اس نے شہرت کے ساتھ دولت بھی پیدا کی۔ اس نپے تلے انداز میں گویا اس کو اپنی جیب میں آنے والی ہر پائی کی آمد کا علم تھا اور شہرت کے تمام زینے بھی اس نے اسی انداز میں طے کیے کہ ہر آنے و الے زینے کی طرف اس کا قدم بڑے وثوق سے اٹھا ہوتا تھا۔ لتیکا رانی بہت بڑی ایکٹرس اور عجیب و غریب عورت تھی۔ اکیس برس کی عمر میں جب وہ فرانس میں تعلیم حاصل کررہی تھی تو اس نے فرانسیسی زبان کی بجائے ہندوستانی زبان سیکھنا شروع کردی۔ اسکول میں ایک مدراسی نوجوان کو اس سے محبت ہو گئی تھی، اس سے شادی کرنے کا وہ پورا پورا فیصلہ کر چکی تھی لیکن جب لنڈن گئی تو اس کی ملاقات ایک ادھیڑ عمر کے بنگالی سے ہوئی جو وہاں بیرسٹری پاس کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ لتیکا نے اپنا ارادہ بدل دیا اور دل میں طے کرلیا کہ وہ اس سے شادی کرے گی اور یہ فیصلہ اس نے بہت سوچ بچار کے بعد کیا تھا۔ اس نے بیرسٹری پاس کرنے والے ادھیڑ عمر کے بنگالی میں وہ آدمی دیکھا جو اس کے خوابوں کی تکمیل میں حصہ لے سکتا تھا۔ وہ مدراسی جس سے اس کو محبت تھی جرمنی میں پھیپھڑوں کے امراض کی تشخیص و علاج میں مہارت حاصل کررہا تھا۔ اس سے شادی کرکے زیادہ سے زیادہ اسے اپنے پھیپھڑوں کی اچھی دیکھ بھال کی ضمانت مل سکتی تھی، جو اسے درکار نہیں تھی۔ لیکن پرفلا رائے ایک خواب ساز تھا۔ ایسا خواب ساز جو بڑے دیرپا خواب بُن سکتا تھا اور لتیکا اس کے اردگرد اپنی نسوانیت کے بڑے مضبوط جالے تن سکتی تھی۔ پرفلا رائے ایک متوسط گھرانے کا فرد تھا۔ بہت محنتی، وہ چاہتا تو قانون کی بڑی سے بڑی ڈگری تمام طالب علموں سے ممتاز رہ کر حاصل کرسکتا تھا مگر اسے اس علم سے سخت نفرت تھی۔ صرف اپنے ماں باپ کو خوش رکھنے کی غرض سے وہ ڈنرز میں حاضری دیتا تھا اور تھوڑی دیر کتابوں کا مطالعہ بھی کرلیتا تھا۔ ورنہ اس کا دل و دماغ کسی اور ہی طرف لگا رہتا تھا۔ کس طرف؟ یہ اس کو معلوم نہیں تھا۔ دن رات وہ کھویا کھویا سا رہتا۔ اس کو ہجوم سے سخت نفرت تھی، پارٹیوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کا سارا وقت قریب قریب تنہائی میں گزرتا۔ کسی چائے خانے میں یا اپنی بوڑھی لینڈ لیڈی کے پاس بیٹھا وہ گھنٹوں ایسے قلعے بناتا رہتا جن کی بنیادیں ہوتی تھیں نہ فصیلیں۔ مگر اس کو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن اس سے کوئی نہ کوئی عمارت ضرور بن جائے گی جس کو دیکھ کر وہ خوش ہوا کرے گا۔ لتیکا جب پروفلارائے سے ملی تو چند ملاقاتوں ہی میں اس کو معلوم ہو گیا کہ یہ بیرسٹری کرنے والابنگالی معمولی آدمی نہیں۔ دوسرے مرد اس سے دلچسپی لیتے رہے تھے، اس لیے کہ وہ جوان تھی، ان میں سے اکثر نے اس کے حسن کی تعریف کی تھی، لیکن مدت ہوئی وہ اس کا فیصلہ اپنے خلاف کر چکی تھی۔ اس کو معلوم تھا کہ ان کی تعریف محض رسمی ہے۔ مدراسی ڈاکٹر جو اس سے واقعی محبت کرتا تھا اس کو صحیح معنوں میں خوبصورت سمجھتا تھا مگر لتیکا سمجھتی تھی کہ وہ اس کی نہیں اس کے پھیپھڑوں کی تعریف کررہا ہے جو اس کے کہنے کے مطابق بے داغ تھے۔ وہ ایک معمولی شکل و صورت کی لڑکی تھی۔ بہت ہی معمولی شکل و صورت کی۔ جس میں ایک جاذبیت تھی نہ کشش، اس نے کئی دفعہ محسوس کیا کہ وہ ادھوری سی ہے۔ اس میں بہت سی کمیاں ہیں جو پوری تو ہوسکتی ہیں مگر بڑی چھان بین کے بعد اور وہ بھی اس وقت جب اس کو خارجی امداد حاصل ہو۔ پرفلا رائے سے ملنے کے بعد لتیکا نے محسوس کیا تھا کہ وہ جو بظاہر سگرٹ پر سگرٹ پھونکتا رہتا ہے اور جس کا دماغ ایسا لگتا ہے، ہمیشہ غائب رہتا ہے اصل میں سگرٹوں کے پریشان دھوئیں میں اپنے دماغ کی غیر حاضری کے باوجود اس کی شکل و صورت کے تمام اجزاء بکھیر کر ان کو اپنے طور پر سنوارنے میں مشغول ر ہتا ہے۔ وہ اس کے اندازِ تکلم، اس کے ہونٹوں کی جنبش اور اس کی آنکھوں کی حرکت کو صرف اپنی نہیں دوسروں کی آنکھوں سے بھی دیکھتا ہے، پھر ان کو الٹ پلٹ کرتا ہے اور اپنے تصور میں تکلم کا نیا انداز، ہونٹوں کی نئی جنبش اور آنکھوں کی نئی حرکت پیدا کرتا ہے۔ ایک خفیف سی تبدیلی پر وہ بڑے اہم نتائج کی بنیادیں کھڑی کرتا ہے اور دل ہی دل میں خوش ہوتا ہے۔ لتیکا ذہین تھی، اس کو فوراً ہی معلوم ہو گیا تھا کہ پرفلارائے ایسا معمار ہے جو اسے عمارت کا نقشہ بنا کر نہیں دکھائے گا۔ وہ اس سے یہ بھی نہیں کہے گا کہ کون سی اینٹ اکھیڑ کر کہاں لگائی جائے گی تو عمارت کا سقم دور ہو گا۔ چنانچہ اس نے اس کے خیالات و افکار ہی سے سب ہدایتیں وصول کرنا شروع کردی تھیں۔ پرفلا رائے نے بھی فوراً ہی محسوس کرلیا کہ لتیکا اس کے خیالات کا مطالعہ کرتی ہے اور ان پر عمل کرتی ہے۔ وہ بہت خوش ہوا۔ چنانچہ اس خاموش درس و تدریس کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ پرفلارائے اور لتیکا دونوں مطمئن تھے، اس لیے کہ وہ دونوں لازم و ملزوم سے ہو گئے تھے۔ ایک کے بغیر دوسرا نامکمل تھا۔ لتیکا کو خاص طور پر اپنی ذہنی و جسمانی کروٹ میں پرفلا کی کی خاموش تنیقد کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ وہ اس کے ناز و ادا کی کسوٹی تھا، اس کی بظاہر خلا میں دیکھنے والی نگاہوں سے اس کو پتہ چل جاتا کہ اس کی پلک کی کونسی نوک ٹیڑھی ہے۔ لیکن وہ اب یہ حقیقت معلوم کر چکی تھی۔ کہ وہ حرارت جو اس کی خلا میں دیکھنے والی آنکھوں میں ہے، اس کی آغوش میں نہیں تھی۔ لتیکا کے لیے یہ بالکل ایسی تھی جیسی کھری چارپائی۔ لیکن وہ مطمئن تھی، اس لیے کہ اس کے خوابوں کے بال وپر نکالنے کے لیے پرفلا کی آنکھوں کی حرارت ہی کافی تھی۔ وہ بڑی سیاق دان اور اندازہ گیر عورت تھی۔ اس نے دو مہینے کے عرصے ہی میں حساب لگا لیا تھا کہ ایک برس کے اندر اندر اس کے خوابوں کے تکمیل کی ابتداء ہو جائے گی۔ کیونکر ہو گی اور کس فضا میں ہو گی۔ یہ سوچنا پرفلارائے کا کام تھا اور لتیکا کو یقین تھا کہ اس کا سدا متحرک دماغ کوئی نہ کوئی راہ پیدا کریگا۔ چنانچہ دونوں جب ہندوستان جانے کے ارادے سے برلن کی سیر کو گئے اور پرفلا کا ایک دوست انھیں اون فلم اسٹوڈیوز میں لے گیا تو لتیکا نے پروفلا کی خلا میں دیکھنے والی آنکھوں کی گہرائیوں میں اپنے مستقبل کی صاف جھلک دیکھ لی۔ وہ ایک مشہور جرمن ایکٹرس سے محوِ گفتگو تھا مگر لتیکا محسوس کررہی تھی کہ وہ اس کے سراپا کو کنیوس کا ٹکڑا بنا کر ایکٹرس لتیکا کے نقش و نگار بنا رہاہے۔ بمبئی پہنچے تو تاج محل ہوٹل میں پرفلا رائے کی ملاقات ایک انگریز نائٹ سے ہوئی جو قریب قریب قلاش تھا۔ مگر اس کی واقفیت کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ عمر ساٹھ سے کچھ اوپر، زبان میں لکنت، عادات و اطوار بڑی شستہ، پرفلا رائے اس کے متعلق کوئی رائے قائم نہ کرسکا۔ مگر لتیکا رانی کی اندازہ گیر طبیعت نے فوراً بھانپ لیا کہ اس سے بڑے مفید کام لیے جاسکتے ہیں، چنانچہ وہ نرس کی سی توجہ اور خلوص کے ساتھ اس سے ملنے جلنے لگی اور جیسا کہ لتیکا کو معلوم تھا ایک ڈن ڈنر پر ایک طرخ خود بخود طے ہو گیا کہ اس فلم کمپنی میں جو پرفلا رائے قائم کرے گا۔ وہ دو مہمان جوسر ہاورڈپسیکل نے مدعو کیے تھے ڈائرکٹر ہوں گے اور چند دن کے اندر اندر وہ تمام مراحل طے ہو گئے جو ایک لمیٹڈ کمپنی کی بنیادیں کھڑی کرنے میں درپیش آتے ہیں۔ سرہاورڈ بہت کام کا آدمی ثابت ہوا۔ یہ پرفلا کا رد عمل تھا، لیکن لتیکا شروع ہی سے جانتی تھی کہ وہ ایسا آدمی ہے جس کی افادیت بہت جلد پردہ ظہور پر آجائے گی۔ وہ جب اس کی خدمت گزاری میں کچھ وقت صرف کرتی تھی تو پرفلا حسد محسوس کرتا تھا، مگر لتیکا نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی قربت سے بڈھا سرہاورڈ ایک گونہ جنسی تسکین حاصل کرتا تھا، مگر وہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتی تھی۔ یوں تو وہ دو مالدار مہمان بھی اصل میں اسی کی وجہ سے اپنا سرمایہ لگانے کے لیے تیار ہوئے تھے اور لتیکا کو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس کے نزدیک یہ لوگ صرف اسی وقت تک اہم تھے جب تک ان کا سرمایہ ان کی تجوریوں میں تھا، وہ ان دونوں کا تصور بڑی آسانی سے کرسکتی تھی جب یہ مارواڑی سیٹھ اسٹوڈیوز میں اس کی ہلکی سی جھلک دیکھنے کے لیے بھی ترسا کریں گے لیکن یہ دن قریب لانے کیلیے اس کو کوئی عجلت نہیں تھی، ہر چیز اس کے حساب کے مطابق اپنے وقت پر ٹھیک ہورہی تھی۔ لمیٹڈ کمپنی کا قیام عمل میں آگیا۔ اس کے سارے حصے بھی فروخت ہو گئے۔ سرہاورڈ پیسکل کے وسیع تعلقات اور اثر و رسوخ کی وجہ سے ایک پر فضا مقام پر اسٹوڈیو کے لیے زمین کا ٹکڑا بھی مل گیا۔ ادھر سے فراغت ہوئی تو ڈائرکٹروں نے پرفلا رائے سے درخواست کی کہ وہ انگلینڈ جا کر ضروری سازوسامان خرید لائے۔ انگلینڈ جانے سے ایک روز پہلے پرفلا نے ٹھیٹ یورپی انداز میں لتیکا سے شادی کی درخواست کی جو اس نے فوراً منظور کرلی۔ چنانچہ اسی دن ان دنوں کی شادی ہو گئی۔ دونوں انگلینڈ گئے۔ ہنی مون میں دونوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ایک دوسرے کے جسم کے متعلق جو انکشافات ہونے تھے وہ عرصہ ہوا ان پر ہو چکے تھے، ان کو اب دھن صرف اس بات کی تھی کہ وہ کمپنی جو انھوں نے قائم کی ہے اس کے لیے مشینری خریدیں اور واپس بمبئی میں جا کر کام پر لگ جائیں۔ لتیکا نے کبھی اس کے متعلق نہ سوچا تھا کہ پرفلا جو فلم سازی سے قطعاً ناواقف ہے۔ اسٹوڈیو کیسے چلائے گا۔ اس کو اس کی ذہانت کا علم تھا۔ جس طرح اس نے خاموشی ہی خاموشی میں صرف اپنی خلا میں دیکھنے والی آنکھوں سے اس کی نوک پلک درست کردی تھی۔ اسی طرح اس کو یقین تھا کہ وہ فلم سازی میں بھی کامیاب ہو گا۔ وہ اس کو جب اپنے پہلے فلم میں ہیروئن بنا کر پیش کرے گا تو ہندوستان میں ایک قیامت برپا ہو جائے گی۔ پرفلا رائے فلم سازی کی تکنیک سے قطعاً ناآشنا تھا۔ جرمنی میں صرف چند دن اس نے اوفا اسٹوڈیوز میں اس صنعت کا سرسری مطالعہ کیا تھا، لیکن جب وہ انگلینڈ سے اپنے ساتھ ایک کیمرہ مین اور ایک ڈائریکٹر لے کر آیا اور انڈیا ٹاکیز لمیٹڈ کا پہلا فلم سیٹ پر گیا تو اسٹوڈیوز کے سارے عملے پر اس کی ذہانت اور قابلیت کی دھاگ بیٹھ گئی۔ بہت کم گفتگو کرتا تھا۔ صبح سویرے اسٹوڈیو آتا تھا اور سارا دن اپنے دفتر میں فلم کے مناظر اور مکالمے تیار کرانے میں مصروف رہتا تھا۔ شوٹنگ کا ایک پروگرام مرتب تھا جس کے مطابق کام ہوتا تھا، ہر شعبے کا ایک نگران مقرر تھا جو پرفلا کی ہدایت کے مطابق چلتا تھا۔ اسٹوڈیو میں ہر قسم کی آوارگی ممنوع تھی۔ بہت صاف ستھرا ماحول تھا جس میں ہر کام بڑے قرینے سے ہوتا تھا۔ پہلا فلم تیار ہو کر مارکیٹ میں آگیا۔ پرفلا رائے کی خلا میں دیکھنے والی آنکھوں نے جو کچھ دیکھنا چاہتا تھا وہی پردے پر پیش ہوا۔ وہ زمانہ بھڑکیلے پن کا تھا۔ ہیروئن وہی سمجھی جاتی تھی جو زرق برق کپڑوں میں ملبوس ہو۔ اونچی سوسائٹی سے متعلق ہو۔ ایسے رومانوں میں مبتلا ہو حیققت سے جنھیں دور کا بھی واسطہ نہیں ایسی زبان بولے جو اسٹیج کے ڈراموں میں بولی جاتی ہے۔ لیکن پرفلا رائے کے پہلے فلم میں سب کچھ اس کارد تھا۔ فلم بینوں کے لیے یہ تبدیلی، یہ اچانک انقلاب بڑا خوشگوار تھا، چنانچہ یہ ہندوستان میں ہر جگہ کامیاب ہوا اور لتیکا رانی نے عوام کے دل میں فوراً ہی اپنا مقام پیدا کرلیا۔ پرفلا رائے اس کامیابی پر بہت مطمئن تھا۔ وہ جب لتیکا کے معصوم حسن اور اس کی بھولی بھالی اداکاری کے متعلق اخباروں میں پڑھتا تھا تو اس کو اس خیال سے کہ وہ ان کا خالق ہے بہت راحت پہنچتی تھی۔ لیکن لتیکا پر اس کامیابی نے کوئی نمایاں اکثر نہیں کیا تھا۔ اس کی اندازہ گیر طبیعت کے لیے یہ کوئی غیر متوقع چیز نہیں تھی۔ وہ کامیابیاں جو مستقبل کی کوکھ میں چھپی ہوئی تھیں، کھلی ہوئی کتاب کے اوراق کی مانند اس کے سامنے تھیں۔ پہلے فلم کی نمائش عظمیٰ پر وہ کیسے کپڑے پن کر سینما ہال میں جائے گی۔ اپنے خاوند پرفلا رائے سے دوسروں کے سامنے کس قسم کی گفتگو کرے گی۔ جب اسے ہار پہنائے جائیں گے تو وہ انھیں اتار کر خوش کرنے کے لیے کس کے گلے میں ڈالے گی۔ اس کے ہونٹوں کا کون سا کونہ کس وقت پر کس انداز میں مسکرائے گا یہ سب اس نے ایک مہینہ پہلے سوچ لیا تھا۔ اسٹوڈیو میں لتیکا کو ہر حرکت ہر ادا ایک خاص پلان کے ماتحت عمل میں آتی تھی۔ اس کا مکان پاس ہی تھا۔ سرہاورڈ پیسکل کو پرفلا رائے نے اسٹوڈیو کے بالائی حصے میں جگہ دے رکھی تھی۔ لتیکا صبح سویرے آتی اور کچھ وقت سرہاروڈ کے ساتھ گزارتی، جس کو باغبانی کا شوق تھا۔ نصف گھنٹے تک وہ اس بڈھے الکن نائٹ کے ساتھ پھولوں کے متعلق گفتگو کرتی رہتی۔ اس کے بعد گھر چلی جاتی اور اپنے خاوند سے اس کی ضروریات کے مطابق تھوڑا سا پیار کرتی۔ وہ اسٹوڈیو چلا جاتا اور لتیکا اپنے سادہ میک اپ میں جس کا ایک ایک خط، ایک ایک نقطہ پرفلا کا بنایا ہوا تھا، مصروف ہوجاتی۔ دوسرا فلم تیار ہوا، پھر تیسرا، اسی طرح پانچواں، یہ سب کامیاب ہوئے اتنے کامیاب کہ دوسرے فلم سازوں کو انڈیا ٹاکیز لمیٹڈ کے قائم کردہ خطوط پر بدرجہ مجبوری چلنا پڑا۔ اس نقل میں وہ کامیاب ہوئے یا ناکام، اس کے متعلق ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ لتیکا کی شہرت ہر نئے فلم کے ساتھ آگے ہی آگے بڑھتی گئی۔ ہر جگہ انڈیا ٹاکیز لمیٹڈ کا شہرہ تھا۔ مگر پرفلا رائے کو بہت کم آدمی جانتے تھے۔ وہ جو اس کا معمار تھا، وہ جو لتیکا کا نصف بہتر تھا۔ لیکن پرلفا نے کبھی اس کے متعلق سوچا ہی نہیں تھا، اس کی خلا میں جھانکنے والی آنکھیں ہر وقت سگرٹ کے دھوئیں میں لتیکا کے نت نئے روپ بنانے میں مصروف رہتی تھیں۔ ان فلموں میں ہیرو کو کوئی اہمیت نہیں تھی۔ پرفلا رائے کے اشاروں پر وہ کہانی میں اٹھتا، بیٹھتا اور چلتا تھا۔ اسٹوڈیو میں بھی اس کی شخصیت معمولی تھی۔ سب جانتے تھے کہ پہلا نمبر مسٹر رائے کا اور دوسرا مسز رائے کا۔ جو باقی ہیں سب فضول ہیں۔ لیکن اس کا ردعمل یہ شرع ہوا کہ ہیرونے پر پرزے نکالنے شروع کردیے۔ لتیکا کے ساتھ اس کا نام پردے پر لازم و ملزوم ہو گیا تھا۔ اس لیے اس سے اس نے فائدہ اٹھانا چاہا۔ لتیکا سے اسے دلی نفرت تھی، اس لیے کہ وہ اس کے حقوق کی پروا ہی نہیں کرتی تھی۔ اس کا اظہار بھی اس نے اب آہستہ آہستہ اسٹوڈیو میں کرنا شروع کردیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اچانک پرفلا رائے نے اپنے آئندہ فلم میں اس کو شامل نہ کیا۔ اس پر چھوٹا سا ہنگامہ برپا ہوا لیکن فوراً ہی دب گیا۔ نئے ہیرو کی آمد سے تھوڑی دیر اسٹوڈیو میں چہ میگوئیاں ہوتی رہیں۔ لیکن یہ بھی آہستہ آہستہ غائب ہو گئیں۔ لتیکا اپنے شوہر کے اس فیصلے سے متفق نہیں تھی۔ لیکن اس سے اسے تبدیل کرانے کی کوشش نہ کی، جو حساب اس نے لگایا تھا اس کے مطابق تازہ فلم ناکام ثابت ہوا۔ اس کے بعد دوسرا بھی اور جیسا کہ لتیکا کو معلوم تھا، اس کی شہرت دبنے لگی اور ایک دن یہ سننے میں آیا کہ وہ نئے ہیرو کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ اخباروں میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ لتیکا کا دامن حیرت ناک طور پر رومانس وغیہ سے پاک رہا تھا۔ لوگوں نے جب سنا کہ وہ نئے ہیرو کے ساتھ بھاگ گئی ہے تو اس کے عشق کی کہانیاں گھڑنی شروع کردیں۔ پرفلا رائے کوبہت صدمہ ہوا جو اس کے قریب تھے ان کا بیان ہے کہ وہ کئی بار بے ہوش ہوا۔ لتیکا کا بھاگ جانا اس کی زندگی کا بہت بڑا صدمہ تھا۔ اس کا وجود اس کے لیے کینوس کا ایک ٹکڑا تھا۔ جس پر وہ اپنے خوابوں کی تصویر کشی کرتا تھا۔ اب ایسا ٹکڑا اسے اور کہیں سے دستیاب نہ ہوسکتا تھا۔ غم کے مارے وہ نڈھال ہو گیا اس نے کئی بار چاہا کہ اسٹوڈیو کو آگ لگا دے اور اس میں خود کو جھونک دے۔ مگر اس کے لیے بڑی ہمت کی ضرورت تھی جو اس میں نہیں تھی۔ آخر پرانا ہیرو آگے بڑھا اور اس نے معاملہ سلجھانے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ اس نے لتیکا کے بارے میں ایسے ایسے انکشافات کیے کہ پرفلا بھونچکے رہ گیا۔ اس نے بتایا۔

’’لتیکا ایسی عورت ہے جو محبت کے لطیف جذبے سے قطعاً محروم ہے۔ نئے ہیرو کے ساتھ وہ اس لیے نہیں بھگای کہ اس کو اس سے عشق ہے۔ یہ محض اسٹنٹ ہے۔ ایک ایسی چال ہے جس سے وہ اپنی تنزل پذیر شہرت کو تھوڑے عرصے کے لیے سنبھالا دینا چاہتی ہے اور اس میں اس نے اپنا شریک کار نئے ہیرو کو اس لیے بنایا ہے کہ وہ میری طرح خود سر نہیں وہ اس کو اس طرح اپنے ساتھ لے گئی ہے جس طرح کسی نوکر کو لے جاتے ہیں۔ اگر اس نے مجھے منتخب کیا ہوتا تو اس کی اسکیم کبھی کامیاب نہ ہوتی۔ میں کبھی اس کے احکام پر نہ چلتا۔ وہ اس وقت واپس آنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ اس کے حساب کے مطابق اس کی واپسی میں بہت دن اوپر ہو گئے ہیں۔ اور میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید میں یہ باتیں بھی اسی کے کہنے کے مطابق آپ کو بتا رہا ہوں۔ ‘‘

دوسرے تخلیقی فن کاروں کی طرح پرفلا رائے بھی پرلے درجے کا سکی تھا پرانے ہیرو کی یہ باتیں فوراً ذہن میں بیٹھ گئیں، لیکن جب لتیکا واپس آئی تو اس نے عاشق صادق کے سے گلے شکوے شروع کردیے اور اس کو بے وفائی کا مجرم قرار دیا۔ لتیکا خاموش رہی۔ اس نے اپنی بے گناہی کے جواز میں کچھ نہ کہا۔ پرانے ہیرو نے اس کے متعلق جو باتیں اس کے شوہر سے کی تھیں، اس نے ان پر بھی کوئی تبصرہ نہ کیا۔ اس کے کہنے کے مطابق پرانے ہیرو کی تنخواہ دوگنی ہو گئی۔ اب وہ اس سے باتیں بھی کرتی تھی، لیکن ان کے درمیان وہ فاصلہ بدستور قائم رہا۔ جس کی حدود شروع ہی سے مقرر کر چکی تھی۔ فلم پھر کامیاب ہوا۔ جو اس کے بعد پیش ہوا اسے بھی کامیابی نصیب ہوئی لیکن اس دوران میں انڈیا ٹاکیز لمیٹڈ کے خطوط پر چل اور کئی ادارے فلم سازی کی نئی راہیں کھول چکے تھے۔ متعدد نئے چہرے جو لتیکا کے مقابلے میں کئی گنا پرکشش تھے، اسکرین پر پیش ہو چکے تھے۔ پرانے ہیرو کا خیال تھا کہ لتیکا ضرور اپنے خاوند کو چھوڑ کر کسی اور فلم ساز کی آغوش میں چلی جائے گی جو اس کے وجود میں نئے جزیرے دریافت کرسکے۔ لیکن بہت دیر تک کوئی قابل ذکر بات وقوع پذیر نہ ہوئی۔ اسٹوڈیو میں لتیکا کے متعلق ہر روز مختلف باتیں ہوتی تھیں۔ سب یہ جاننے کی کوشش کرتے تھے کہ خاوند کے ساتھ اس کے تعلقات کس قسم کے ہیں۔ ان کے بارے میں کئی روایتیں مشہور تھیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی کہ وہ اپنے سائیں کے ساتھ خراب ہے۔ یہ روایت پرانے ہیرو سے تھی۔ اس کو یقین تھا کہ لتیکا اپنے سائیں رام بھروسے کے ذریعے سے اپنی جسمانی خواہشات پوری کرتی ہے اور اپنے خاوند پرفلارائے سے اس کے تعلقات صرف نمائشی بستر تک محدود ہیں۔ ! پرانا ہیرو اپنے اس مفروضے کے جواز میں یہ کہتا تھا۔

’’لتیکا جیسی عورت اس کے قسم کے تعلقات صرف ادنےٰ قسم کے نوکر ہی سے پیدا کرسکتی ہے جو اس کے اشارے پر آئے اور اشارے ہی پر چلا جائے۔ جس کی گردن اس کے احسان تلے دبی رہے۔ اگروہ عشق ومحبت کرنے کی اہلیت رکھتی تو نئے ہیرو کے ساتھ بھاگ کر پھر واپس نہ آتی۔ یہ اس کا اسٹنٹ تھا اور اس کا پول کھل چکا ہے۔ تم یقین مانو کہ اس کے دن لد چکے ہیں اور سب جانتی ہے اور اچھی طرح سمجھتی ہے اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ مسٹر رائے کی تمام طاقتیں اسے بنانے اور سنوارنے میں ختم ہو چکی ہیں، اب وہ آم کی چسی ہوئی گٹھلی کے مانند ہے۔ اس میں وہ رس نہیں رہا جس سے وہ اتنی دیر امرت حاصل کرتی رہی تھی۔ تم دیکھ لینا، تھوڑے ہی عرصے کے بعد اپنی کایا کلپ کرانے کی خاطر وہ کسی اور فلم ساز کی آغوش میں چلی جائے گی۔ ‘‘

لتیکا کسی اور فلم سازش کی آغوش میں نہ گئی! ایسا معلوم ہوتا کہ یہ موڑ اس کے بنائے ہوئے نقشے میں نہیں تھا۔ نئے ہیرو کے ساتھ بھاگ جانے کے بعد اس میں بظاہر کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ سرہاورڈ پیسکل کے ساتھ صبح سویرے باغبانی میں مصروف وہ ابھی اسی طرح نظر آتی تھی۔ اسٹوڈیو میں اس کے بارے میں جو باتیں ہوتی تھیں، اس کے علم میں تھیں، مگر وہ خاموش رہتی تھی، اس طرح پُر تمکنت طور پر خاموش! دو لفم اور بنے جو بہت بری طرح ناکام ہوئے۔ انڈیا ٹاکیز لمیٹڈ کا روشن نام مدھم پڑنے لگا لتیکا پر اس کا کوئی رد عمل ظاہر نہ ہوا۔ اسٹوڈیو کا ہر آدمی جانتا تھا کہ مسٹررائے سخت پریشان ہیں۔ پرانے ہیرو جو اپنا آقا کی قدر کرتا تھا اور اس کا ہم درد بھی تھا۔ کئی بار اسے رائے دی کہ وہ کمپنی کے بکھیڑوں سے الگ ہو جائے۔ فلم سازی کا کام اپنے شاگردوں کو سونپ دے اور خود آرام و سکون کی زندگی بسر کرنا شروع کردے۔ مگر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ پرفلارائے ایک بار پھر اپنی خواب ساز دماغ کی منتشر اور مضمحل قپوتیں مجتمع کرنا چاہتا ہے اور لتیکا کے وجود کے ڈھیلے تانے بانے میں ایک نئے اور دیرپا خواب کے نقش ابھارنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ گھر کے نوکروں سے جو خبریں باہر آتی تھیں، ان سے پتہ چلتا تھا کہ مسٹر رائے کا مزاج بہت چڑچڑا ہو گیا ہے۔ ہر وقت جھنجھلایا رہتا ہے کبھی کبھی غصے میں آکر لتیکا کو گندی گندی گالیاں بھی دیتا ہے، مگر وہ خاموش رہتی ہے۔ رات کو جب مسٹررائے کو شب بیداری کی شکایت ہوتی ہے تو وہ اس کا سر سہلاتی ہے، پاؤں دباتی ہے اور سُلا دیتی ہے۔ پہلے مسٹررائے کبھی اصرار نہیں کرتے تھے کہ لتیکا ان کے پاس سوئے، پر اب وہ کئی بار راتوں کو اٹھ اٹھ کر اسے ڈھونڈتے تھے اور اس کو مجبور کرتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ سوئے۔ پرانے ہیرو کو جب ایسی باتیں معلوم ہوتی تھیں تو اسے بہت دکھ ہوتا تھا۔

’’مسٹر رائے بہت بڑا آدمی ہے۔ لیکن افسوس کہ اس نے اپنا دماغ ایک ایسی عورت کے قدموں میں ڈال دیا جو کسی طرح بھی اس اعزاز کے قابل نہیں تھی۔ وہ عورت نہیں چڑیل تھی۔ میرے اختیار میں ہو تو میں اسے گولی سے اڑا دوں!۔ سب سے بڑی ٹریجڈی تو یہ ہے کہ مسٹررائے کو اب اس سے بہت زیادہ محبت ہو گئی ہے۔ ‘‘

جو زیادہ گہرائیوں میں اترنے والے تھے، ان کا یہ خیال تھا کہ پرفلا رائے میں چونکہ اب لتیکا کا کوئی اور رنگ روپ دینے کی قوت باقی نہیں رہی، اس لیے وہ جنجھلا کر اس کو خراب کردینا چاہتا ہے۔ اب تک وہ اسے ایک مقدس چیز سمجھتا رہا تھا جس پر اس نے گندگی اور نجاست کا ایک ذرہ تک بھی نہیں گرنے دیا تھا۔ مگر اب وہ اسے ناپاک کردینا چاہتا ہے، غلاظت میں لتھیڑ دینا چاہتا ہے، تاکہ جب وہ کسی کے منہ سے یہ سنے کہ تمہاری لتیکا کو ہم نے فلاں فلاں نجاست سے ملوث کیا ہے تو اسے زیادہ روحانی کوفت نہ ہو۔ وہ پہلے خوابوں کی نرم و نازک دنیا میں بستا تھا، اب حقیقت کے پتھروں کے ساتھ اپنا اور لتیکا کا سر پھوڑنا چاہتا ہے۔ وقت گزرتا گیا، انڈیا ٹاکیز لمیٹڈ کے بائیسویں فلم کی شوٹنگ جاری تھی، پرفلا رائے ایک بالکل نیا تجربہ کررہا تھا۔ لیکن اسٹوڈیو کے آدمیوں کو معلوم نہ تھا کہ وہ کس قسم کا ہے۔ رائے کے دفتر کی بتی رات کو دیر تک جلتی رہتی تھی۔ گھر جانے کے بجائے اب وہ اکثر وہیں سوتا تھا۔ کاغذوں کے انبار اس کی میز پر لگے رہتے تھے۔ جب اس کی ایش ٹرے صاف کی جاتی تو جلے ہوئے سگرٹوں کا ایک ڈھیر نکلتا۔ کہانی لکھی جارہی تھی۔ مگر کس نوعیت کی۔ اسی کے سینریو ڈیپارٹمنٹ کو بھی کچھ معلوم نہیں تھا۔ درزی خان کے لوگ قریب قریب بیکار تھے۔ ایک دن لیتکا وہاں نمودار ہوئی اور اس نے اپنے لیے لمبی آسینوں والا سیاہ بلاؤز بنانے کا حکم دیا۔ کپڑا اس کی پسند کے مطابق آیا، ڈیزائن بھی اس نے خود منتخب کیا، اس کے ساتھ ہی اس نے سیاہ جارجٹ کی ساڑھی منگوائی، پھر ہیئر ڈریسر مس ڈی میلو سے اپنے نئے ہیئر اسٹائل کے متعلق مفصل بات چیت کی۔ یہ باتیں جب اسٹوڈیو میں عام ہوئیں تو لوگوں نے نئے فلم کے متعلق اپنی اپنی فکر کے مطابق اندازے لگائے۔ پرانے ہیرو کا یہ خیال تھا کہ مسٹر رائے شاید اپنی زندگی کی ٹریجیڈی پیش کریں گے لیکن جب پہلی شوٹنگ کی اطلاع بورڈ پر لگی اور سیٹ پر کام شروع ہوا تو لوگوں کو بڑی ناامیدی ہوئی۔ وہی پرانا ماحول تھا اور وہی پرانے ملبوسات۔ شوٹنگ حسب معمول بڑے ہموار طریقے پر جاری رہی، لیکن اچانک ایک دن اسٹوڈیو میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ پرفلا رائے حسب معمول سیٹ پر نمودار ہوا۔ چند لمحات اس نے شوٹنگ دیکھی اور ایک دم کیمرہ مین پر برس پڑا۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ زور کا تھپڑ اس کے کان پر جڑ دیا۔ جس کے باعث وہ بے ہوش ہو گیا۔ پہلے تو اسٹوڈیو کے آدمی خاموش رہے لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ مسٹر رائے پر دیوانگی طاری ہے تو انھوں نے مل کر اسے پکڑ لیا اسے گھر لے گئے۔ اچھے سے اچھے ڈاکٹر بلائے گئے مگر پرفلا رائے کی دیوانگی بڑھتی گئی وہ بار بار لتیکا کو اپنے پاس بلاتا تھا مگر جب وہ اس کی نظروں کے سامنے آتی تھی تو اس کا جوش بڑھ جاتا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اسے نوچ ڈالے، اتنی گالیاں دیتا تھا، ایسے ایسے برے ناموں سے اسے یاد کرتا تھا کہ سننے والے حیرت زدہ ایک دوسرے کا منہ تکتے لگنے تھے۔ پورے چار دن تک پرفلا رائے پر دیوانگی طاری رہی۔ بہت خطرناک قسم کی دیوانگی۔ پانچویں روز صبح سویرے جب کہ لتیکا سرہاورڈپیسکل کے ساتھ باغبانی میں مصروف تھی اور دبی دبی زبان میں اپنے خاوند کی افسوسناک بیماری کا ذکر کررہی تھی۔ یہ اطلاع پہنچی کہ مسٹرر ائے آخری سانس لے رہے ہیں۔ یہ سن کر لتیکا کو غوش آگیا۔ سرہاورڈ اور اسٹوڈیو کے دوسرے آدمی ان کو ہوش میں لانے کی کوشش میں مصروف تھے کہ دوسری اطلاع پہنچی کہ مسٹر رائے سورگباش ہو گئے۔ دس بجے کے قریب جب لوگ ارتھی اٹھانے کے لیے کوٹھی پہنچے تو لتیکا نمودار ہوئی۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ بال پریشان تھے۔ سیاہ ساڑھی اور سیاہ بلاؤز پہنے ہوئے تھے۔ پرانے ہیرو نے اس کو دیکھا اور بڑی نفرت سے کہا۔

’’کمبخت کو معلوم تھا کہ یہ سین کب شوٹ کیا جانے والا ہے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں