میرٹ اورگڈ گورننس کے خیالی دعوے

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار باصلاحیت ٹیلنٹ سامنے لانا حکومت کا مشن ہے ۔ نئے پاکستان کی بنیاد میرٹ پر ہے اور میرٹ کوہر سطح پر پروموٹ کریں گے، ہماری حکومت نے صوبے میں میرٹ کے کلچر کو فروغ دیا ہے اور ہر ادارے میں بھرتیاں صرف اور صرف میرٹ پر کی جا رہی ہیں۔

دوسری طرف پنجاب کی تبدیلی سرکار نے اپنے ایک سالہ دور حکومت میں صوبے میں انتظامی افسران کے تبادلے و تقرریاں میرٹ و قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیں۔ صوبائی سیکرٹریز کے تبادلے سیاسی بنیادوں پر کئے گئے ، چیف سیکرٹری کا دفتر سرکاری خط وکتابت کے لئے ڈاک خانے کا کردار ادا کرتا رہا اور سال بھر سول انتظامی و پولیس افسران کے تبادلوں کا سیلاب جاری رہا۔

قانون کے مطابق ان افسران کی تعیناتی کے لئے صوبائی کابینہ کی منظوری لازم تھی جو نہ لی گئی اور یہ اختیار ایڈیشنل چیف سیکرٹری، چیف سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ ذاتی طور پر استعمال کرتے رہے ۔ ایک خبر کے مطابق صوبہ بھر میں اسسٹنٹ کمشنرز کا تقرر ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کرتے رہے جن میں اکثر مقامی تحصیلوں کے حکومتی پارٹی کے سیاسی افراد کا اثرو رسوخ بھی شامل تھا۔

ڈپٹی کمشنرز اورکمشنرز کی تعیناتی کی منظوری وزیر اعلیٰ پنجاب اکیلے چیف سیکرٹری کی بجھوائی گئی سمریوں پر دیتے رہے اور چیف سیکرٹری نوٹیفکیشن جاری کرتے رہے ۔ ایک سال کے دوران کئی تحصیلوں میں تین سے چار اسسٹنٹ کمشنرز تعینات جبکہ ضلع میں ڈپٹی کمشنرز اور ڈویژن میں دو سے تین کمشنر تبدیل کیے گئے ۔ سیکرٹریز کے تبادلوں میں بھی مستقل پالیسی پر عمل نہ کیا گیا، ایک سینئر بیورکریٹ کو ہفتہ میں چار صوبائی محکموں کا سربراہ لگایا گیا اور آخر کاروہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو تعینات ہوئے تو معاملہ رک سکا۔

سیکرٹری بلدیات کو تبدیل کرکے سیکرٹری آب بپاشی جبکہ سیکرٹری آبپاشی کو سیکرٹری بلدیات تعینات کیا گیا جس پر وزیر اعظم نے سخت برہمی کا اظہار کیا کیونکہ سیکرٹری بلدیات کا نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور پنچائیت ایکٹ تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے دو روکنی کمیٹی قائم کی جس کی سفارش پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو حکم دیا گیا کہ وہ اس باہمی تبادلے کو منسوخ کریں، تبادلہ ایک ماہ بعدمنسوخ کردیا گیا لیکن تاحال اس منسوخی پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔حکومت کے پہلے سال کے اختتام پر، سرکاری سطح سے، اس کی کارگزاری سے متعلق کچھ باتیں کی گئیں۔ بعض روایتی قسم کے دعوے ہوئے اور آئندہ ارادوں کے پر جوش عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

لوگوں نے ان دعوﺅں اور وعدہ ہائے فردا کو شوق سے سنا، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی نئی اطلاع مل جائے یہ خوش خبری سننے میں آ جائے کہ اب عوام کے بہبود کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ سچ یہ ہے کہ میڈیا کے اِس تیز تر دور میں لوگ ماضی کی نسبت بہت زیادہ با خبر ہو گئے ہیں۔ بالخصوص سوشل میڈیا کی وجہ سے، جب تک ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے ناظرین اور قارئین تک خبر پہنچتی ہے تو اکثر وہ کسی نہ کسی شکل میں پہلے سے ہی معاشرے میں گردش کر رہی ہوتی ہے اور لوگ اس سے کسی نہ کسی حد تک آگاہ ہوتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہی ہے کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے اور آج کے زمانے میں حقائق کو چھپانا گزرے زمانوں کی نسبت کہیں زیادہ مشکل بلکہ ناممکن ہو چکا ہے۔

حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر جو کارگزاری بتائی گئی اس میں سے ایک نکتہ بہت دلچسپ تھا۔ اگر درست ہوتا تو یہ اتنا اہم تھا کہ اور کچھ بھی بتانا ضروری نہ رہتا۔ بتایا گیا کہ حکومت نے ملک میں گڈ گورننس کی ابتدا کر دی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سن کر شاید سکتے میں آ گئے ہوں گے۔

دراصل ہمارے ہاں آج کل گڈ گورننس کا اتنا چرچا نہیں ہوتا جتنا ریاستِ مدینہ کا ہوتا ہے، اس کی شاید دو وجوہ ہوں۔ ایک یہ کہ گڈ گورننس کے تصور کو سابق حکومت کے دوران، خادمِ اعلیٰ اپنی مشہوری کے لیے بہت استعمال کیا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے اسی وجہ سے اس تصور کا استعمال متروک ہو گیا ہو۔

دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت جانتی ہو کہ ملک میں گڈ گورننس نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے لہذا بلا وجہ اس کا دعویٰ کر کے تنقید کو دعوت نہیں دینا چاہیے؛ تاہم چونکہ موجودہ حکومت نے یہ دعوی کر ہی دیا ہے کہ گڈ گورننس بھی اس کے ایمان کا حصہ ہے تو پھر یہ مجبوری بن جاتی ہے کہ پوچھا جائےکہ گڈ گورننس سے حکومت کی مراد کیا ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت گڈ گورننس سے کچھ اور مراد لیتی ہو اور باقی دنیا کچھ اور۔ دنیا میں گڈ گورننس سے عام طور پر مراد یہ لی جاتی ہے کہ حکومت کے ادارے اور دفاتر شفافیت اور دیانتداری کے ساتھ، سختی سے قانون اور قواعد کی حدود میں رہتے ہوئے، اپنے ذمے فرائض کو سرانجام دیں اور یہ بھی یقینی ہو کہ نافذ قوانین اور قواعد عوام کے وسیع ترین مفاد کی ضمانت دیتے ہوں۔ گڈ گورننس کے قیام کے لیے دنیا بھر میں کئی تقاضے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

کشمیریوں کی آزادی کا نیا باب !

لازم ہوتا ہے کہ تمام سرکاری تقرریاں اور تعیناتیاں، ہر سطح پر، میرٹ کے رائج تقاضوں کے عین مطابق ہوں۔ اگر اِس تاثر، بلکہ یقین کو چیلنج کیا جائے گا تو عوام میں سے اکثر منفی مثالوں کی طویل فہرستیں مرتب کر سکتے ہیں۔ گڈ گورننس کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ ہر سطح پر سرکاری عہدے دار اپنی ذمہ داریوں کا صراحت سے علم رکھتے ہوں، وہ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہوں، انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تمام جائز اختیارات بھی حاصل ہوں اور اِن اختیارات کے جائز استعمال میں کوئی رسمی یا غیر رسمی رکاوٹ ان کے راستے میں حائل نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان تقاضوں میں سے کوئی تقاضا پورا ہوتا ہے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ سابق حکومتیں میرٹ کو پاﺅں تلے روندتی رہی ہیں اور یہ کہ گڈ گورننس نام کی کوئی بات ان حکومتوں کے ہاں کبھی بھی نہ تھی۔ تو کیا پاکستان تحریکِ انصاف نے وہ رائج طریقے بدل دیئے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی کابیناﺅں میں تقرریوں سے لے کر ہر سطح کے سرکاری افسران کی تعیناتیوں تک کیا طریقِ کار بدل گئے ہیں۔ آئے دن سرکاری ملازمین کی نا قابلِ فہم اکھاڑ پچھاڑ، نا قابلِ فہم تعیناتیاں سب کچھ واضح کرتی رہتی ہیں۔

گڈ گورننس کا دعویٰ کرنے والوں کو مشورہ ہی دیا جا سکتا ہے کہ پہلے گڈ گورننس کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھیں اس کے بعد دعوے کریں۔ میرٹ کیا ہوتا ہے، اسے سمجھیں اور قومی زندگی میں میرٹ قائم کرنا کیوں ضروری ہوتا ہے اس پر غور فرمائیں۔ امید ہے کہ گڈ گورننس کے دعوے دار جب ان دونوں تصورات کو سمجھ لیں گے اور ان کی حقیقت کو جان لیں گے تو آئندہ یہ دعویٰ کرنے میں احتیاط برتیں گے کہ حکومت نے ملک میں گڈ گورننس کی ابتدا کر دی ہے۔

اگر یہاں کوئی گڈ گورننس قائم ہوئی ہوتی تو انہیں اپنے بیانات میں اس کے دعوے کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ملک اور قوم کے مثبت طور پر بدلتے ہوئے معاملات ہی زبانِ حال سے سب کچھ بیان کر رہے ہوتے۔ یہ ساری صورتحال حکمرانوں کی خصوصی توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔

(Visited 31 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں