نا مکمل جے آئی ٹی رپورٹ ،عوامی دباؤ اور پولیس اصلاحات

ساہیوال

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے ساہیوال میں پولیس کے محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے آپریشن کو 100فیصد درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ساہیوال آپریشن درست جبکہ خلیل فیملی بے گناہ تھی،واقعہ قتل ہے،ڈرائیور ذیشان کے بارے میں جے آئی ٹی مزیدتحقیقات کریگی،2 ایڈیشنل آئی جیز ،ڈی آئی جی ، ایس ایس پی کو فارغ کردیا گیا جبکہ 5سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دفعہ 302چالان کے تحت کارروائی ہوگی،مقدمہ انسداد دہشتگردی عدالت میں جائیگا،ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کو بھی معطل کردیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں اجلاس بھی ہوا جس میں جے آئی ٹی نے ابتدائی رپورٹ پیش کردی ،انصاف کے تقاضے پورے کریں گے،ذیشان گنہگارتھا،ماضی میں کبھی 72گھنٹوں میں ایکشن نہیں ہوا، وزیراعلیٰ رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے توجوڈیشل کمیشن انکا صوابدید ہوگا۔

ساہیوال کے بدقسمت سانحے کے بعدکاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل، ڈپٹی انسپکٹرجنرل، ایک ایس ایس پی اور ایک اور متعلقہ ڈی آئی جی کو برطرف کرکے پنجاب حکومت نیصرف عوامی غم وغصے کوٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے۔گزشتہ 100دن کے دوران ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ عثمان بزدار کی حکومت نے کسی وجہ سے ایک سات ہی پولیس اہلکاروں کوبرطرف کردیاہو۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 30،اکتوبر2018کو پنجاب حکومت نے 17جون 2014کو ماڈل ٹاؤن سانحے میں ملوث پانچ اعلیٰ افسران کو برطرف کردیاتھا۔

جن افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایاگیااور اوایس ڈی تعینات کیاگیا تھا ان میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس اور سپرنٹنڈنٹ پولیس دونوں شامل تھے۔ جن لوگوں کو ہٹایاگیا تھا ان میں معروف واہلا، طارق عزیز، عبدالرحیم شیرازی، آفتاب پھولروان اور عمران کامران بخاری شامل تھے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل گزشتہ سال 17،اکتوبرکو پنجاب پولیس کے سربراہ امجدجاویدسلیمی نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور کئی انسپکٹرز سمیت 116پولیس افسران کو اسی واقعے کی بناء پرہٹادیاتھا ،جس میں 14شہری مارے گئے تھے اور 100سے زائد افراد گولیاں لگنے اور لاٹھیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔

ستمبر2018میں وزیراعظم عمران خان نے ماڈل ٹاؤن سانحے میں ملوث پولیس اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن افسران کو ہٹانے کے احکامات جاری کیے تھے۔ پنجاب حکومت نے لاہورہائیکورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے 5دسمبر2017کو ماڈل ٹاؤن سانحے کی رپورٹ جاری کی تھی۔ انکوائری رپورٹ میں کہاگیاتھا کہ پولیس افسران نے ان حقائق کو چھپانے کی کوشش کی تھی کہ کس نے مظاہرین پر گولیاں چلانے کاحکم دیاتھا۔

9،اکتوبر2018کو پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس محمد طاہر کو وفاقی حکومت نے ان کے عہدے سے اس لیے ہٹادیاتھاکہ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے اہم پارٹی عہدیداروں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز حکومتی افراد کی مرضی کے مطابق پوسٹنگ اور ٹرانسفرسے متعلق سفارش نہیں مانی تھی۔ محمدطاہر نے اس اعلیٰ عہدے پر صرف چارہفتے گزارے تھے۔
سانحہ ساہیوال میں مبینہ دہشت گرد قرار دیئے جانے والے ذیشان جاوید کیخلاف فوری ثبوت نہ ملنے پر جے آئی ٹی نے مزید مہلت طلب کی جس کے بعد حکومت نے ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر ہی سارا ملبہ سی ٹی ڈی اہلکاروں اور افسران پر ڈال دیا۔

loading...

ذیشان جاوید کے تمام رشتہ داروں کے کوائف اکھٹے کئے گئے مگر ان کا ریاست کیخلاف کسی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تصدیق فی الحال نہیں ہو سکی۔ خبروں کے مطابق وزیر اعظم واقعہ کی رپورٹ تین دن کے اندر مکمل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ خفیہ اداروں نے اطلاعات دی تھیں واقعہ کی ابتدائی رپورٹ جاری نہ ہوئی تو پنجاب میں سیاسی جماعتیں دھرنے اور احتجاج کرسکتی ہیں۔ جس مخبر کی اطلاع پر آپریشن ہوا، اسے بھی انڈر گراؤنڈ کردیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے وزیر اعظم کی ملک واپسی پر تمام اداروں کی مشترکہ بریفنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے ،جس میں وزیر اعظم کے سخت رویے سے بچنے کیلئے لائحہ عمل بنایا گیا ہے تاکہ وزیراعظم کو اداروں کیخلاف نرم رویہ رکھنے کی درخواست کی جائے۔ اس بارے میں بعض افسر لاہور میں ایک میٹنگ کرچکے ہیں ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے آئی جی پنجاب کو اس کیس سے دور رکھنے کے لئے لائحہ عمل طے کیا گیا ہے اور فی الفور ایڈیشنل آئی جی آپریشنز اظہر حمید، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر ،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی بابر سرفراز ،ایس ایس ایس پی سی ٹی ڈی جواد قمراور ڈی ایس پی ساہیوال سیف اللہ پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے جبکہکیس کی انکوائری مکمل ہونے کی ذمہ داری بھی ان افسران پر ڈالی جاسکتی ہے تاہم اعلیٰ سطح کے افسروں کو بچانے کے لئے مخصوص لابی نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کردیئے۔

ذرائع کا کہنا ہے ذیشان جاوید کے محلے داروں اور اہل علاقہ نے اس کی لاہور میں ایک ہی جگہ پینتیس برس رہنے کی تصدیق نے تحقیقات کرنے والی ٹیم کو مشکلات میں ڈال دیا ہے ۔ ذمہ داروں کا تعین نہ ہونے تک سول سوسائٹی ،سوشل میڈیا اور سیاسی جماعتوں کا پریشر بڑھتا رہے گا۔

سانحہ ساہیوال پر پوری قوم سوگوار ہے اور پولیس اورسی ٹی ڈی کی پیشہ ورانہ تربیت، اہلیت اور کارکردگی کے حوالے سے ایسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جن کا فی الوقت حکومت کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں۔عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بھی پولیس میں اصلاحات لانے پر زور دیتے رہے ہیں اور اب بھی انہوں نے کہا ہے کہ قطر سے واپسی پر وہ پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لینے کے بعد اس میں اصلاحات کا عمل شروع کریں گے۔ پولیس اصلاحات وقت کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت ہر جعلی پولیس مقابلے اور ہر ایسے واقعے کے بعد شدت سے محسوس کی جاتی ہے، جس میں پولیس کے جانبدارانہ رویے اور متشددانہ کارروائی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہو۔

ساہیوال کے سانحے سے پہلے بھی ایسے افسوسناک واقعات بار بار پیش آتے رہے ہیں۔سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس سانحے پر شدید احتجاج کیا گیا اور جوڈیشنل انکوائری کے علاوہ تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کے مطالبات کئے گئے۔ یہ تمام باتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ سانحہ ساہیوال سے سبق سیکھا جائے اور پولیس میں ایسی اصلاحات لائی جائیں کہ آئندہ ایسے روح فرسا واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ توقع ہے کہ مقتولین کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، لواحقین کو انصاف ملے گا اور اس کے ساتھ ہی حکومت عوامی دباؤ ٹالنے کے بجائے پولیس اصلاحات لانے کے لئے فوری ،قابل عمل اور موثر اقدامات کرے گی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں