شانتی

شلجم

دو نوں پیرے ژین ڈیری کے باہر بڑے دھاریوں والے چھاتے کے نیچے کرسیوں پربیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ادھر سمندر تھا جس کی لہروں کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی۔

چائے بہت گرم تھی۔ اس لیے دونوں آہستہ آہستہ گھونٹ بھر رہے تھے موٹی بھوروں والی یہودن کی جانی پہچانی صورت تھی۔ یہ بڑا گول مٹول چہرہ، تیکھی ناک۔ موٹے موٹے بہت ہی زیادہ سرخی لگے ہونٹ۔ شام کو ہمیش درمیان والے دروازے کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی دکھائی دیتی تھی۔ مقبول نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور بلراج سے کہا۔

’’بیٹھی ہے جال پھینکنے۔ ‘‘

بلراج موٹی بھوؤں کی طرف دیکھے بغیر بولا۔

’’پھنس جائے گی کوئی نہ کوئی مچھلی۔ ‘‘

مقبول نے ایک پیسٹری منہ میں ڈالی۔

’’یہ کاروبار بھی عجیب کاروبارہے۔ کوئی دکان کھول کر بیٹھتی ہے۔ کوئی چل پھر کے سودا بیچتی ہے۔ کوئی اس طرح ریستورانوں میں گاہک کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے۔ جسم بیچنا بھی ایک آرٹ ہے، اور میرا خیال ہے بہت مشکل آرٹ ہے۔ یہ موٹی بھوؤں والی کیسے گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کیسے کسی مرد کو یہ بتاتی ہو گی کہ وہ بکاؤ ہے۔ ‘‘

بلراج مسکرایا۔

’’کسی روز وقت نکالو کہ کچھ دیر یہاں بیٹھو۔ تمہیں معلوم ہو جائیگا کہ نگاہوں ہی نگاہوں میں کیوں کر سودے ہوتے ہیں اس جنس کا بھاؤ کیسے چُکتا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے ایک مقبول کا ہاتھ پکڑا۔

’’اُدھر دیکھو، اُدھر۔ ‘‘

مقبول نے موٹی یہودن کی طرف دیکھا۔ بلراج نے اس کا ہاتھ دبایا۔

’’نہیں یار۔ اُدھر کونے کے چھاتے کے نیچے دیکھو۔ ‘‘

مقبول نے ادھر دیکھا۔ ایک دبلی پتلی، گوری چٹی لڑکی کرسی پر بیٹھ رہی تھی۔ بال کٹے ہوئے تھے۔ ناک نقشہ ٹھیک تھا۔ ہلکے زرد رنگ کی جارجٹ کی ساڑھی میں ملبوس تھی۔ مقبول نے بلراج سے پوچھا۔

’’کون ہے یہ لڑکی؟‘‘

بلراج نے اس لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

’’اماں وہی ہے جس کے بارے میں تم سے کہا تھا کہ بڑی عجیب و غریب ہے۔ ‘‘

مقبول نے کچھ دیر سوچا پھر کہا۔

’’کون سی یار تم، تم تو جس لڑکی سے بھی ملتے ہوعجیب وغریب ہی ہوتی ہے۔ ‘‘

بلراج مسکرایا۔

’’یہ بڑی خاص الخاص ہے۔ ذرا غور سے دیکھو۔ ‘‘

مقبول نے غور سے دیکھا۔ بریدہ بالوں کا رنگ بھوسلا تھا۔ ہلکے بسنتی رنگ کی ساڑھی کے نیچے چھوٹی آستینوں والا بلاؤز۔ پتلی پتلی بہت ہی گوری بانھیں۔ لڑکی نے اپنی گردن موڑی تو مقبول نے دیکھا کہ اس کے باریک ہونٹوں پر سرخی پھیلی ہوئی سی تھی۔

’’میں اور تو کچھ نہیں کہہ سکتا مگر تمہاری اس عجیب و غریب لڑکی کو سرخی استعمال کرنے کا سلیقہ نہیں ہے۔ اب اور غور سے دیکھا ہے تو ساڑھی کی پہناوٹ میں بھی خامیاں نظر آئی ہیں۔ بال سنوارنے کا انداز بھی ستھرا نہیں۔ ‘‘

بلراج ہنسا۔

’’تم صرف خامیاں ہی دیکھتے ہو۔ اچھائیوں پر تمہاری نگاہ کبھی نہیں پڑتی۔ ‘‘

مقبول نے کہا۔

’’جو اچھائیاں ہیں وہ اب بیان فرما دیجیے، لیکن پہلے یہ بتا دیجیے کہ آپ اس لڑکی کو ذاتی طور پر جانتے ہیں یا۔ ‘‘

لڑکی نے جب بلراج کو دیکھا تو مسکرائی۔ مقبول رک گیا۔

’’مجھے جواب مل گیا۔ اب آپ محترمہ کی خوبیاں بتا دیجیے۔ ‘‘

سب سے پہلی خوبی اس لڑکی میں یہ ہے کہ بہت صاف گو ہے۔ کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔ جو اس اس نے اپنے لیے بنا رکھے ہیں ان پر بڑی پابندی سے عمل کرتی ہے۔ پرسنل ہائی جین کا بہت خیال رکھتی ہے۔ محبت و حبت کی بالکل قائل نہیں۔ اس معاملے میں دل اس کا برف ہے۔ ‘‘

بلراج نے چاہیے کا آخری گھونٹ پیا

’’کہیے کیا خیال ہے؟‘‘

مقبول نے لڑکی کو ایک نظر دیکھا۔

’’جو خوبیاں تم نے بتائی ہیں ایک ایسی عورت میں نہیں ہونی چاہئیں۔ جس کے پاس مرد صرف اس خیال سے جاتے ہیں کہ وہ ان سے اصلی نہیں تو مصنوعی محبت ضرور کرے گی۔ خود فریبی ہیں اگر یہ لڑکی کسی مرد کی مدد نہیں کرتی تو میں سمجھتا ہوں بڑی بے وقوف ہے۔ ‘‘

’’یہی میں نے سوچا تھا۔ میں تم سے کیا بیان کروں، روکھے پن کی حد تک صاف گو ہے۔ اس سے باتیں کرو توکئی بار دھکے سے لگتے ہیں۔ ایک گھنٹہ ہو گیا۔ تم نے کھلی کوئی کام کی بات نہیں کی۔ میں چلی، اور یہ جا وہ جا۔ تمہارے منہ سے شراب کی بو آتی ہے۔ جاؤ چلے جاؤ۔ ساڑھی کو ہاتھ مت لگاؤ میلی ہو جائے گی‘‘

یہ کہہ کر بلراج نے سگریٹ سلگایا۔

’’عجیب و غریب لڑکی ہے۔ پہلی دفعہ جب اس سے ملاقات ہوئی تو میں بائی گوڈ چکرا گیا۔ چھوٹتے ہی مجھ سے کہا۔ ففٹی سے ایک پیسہ کم نہیں ہو گا۔ جیب میں ہیں تو چلو ورنہ مجھے اور کام ہیں۔ ‘‘

مقبول نے پوچھا۔

’’نام کیا ہے اس کا۔ ‘‘

’’شانتی بتایا اس نے۔ کشمیرن ہے‘‘

مقبول کشمیری تھا۔ چونک پڑا

’’کشمیرن!‘‘

’’تمہاری ہم وطن۔ ‘‘

مقبول نے لڑکی کی طرف دیکھا۔ ناک نقشہ صاف کشمیریوں کا تھا۔

’’یہاں کیسے آئی؟‘‘

’’معلوم نہیں!‘‘

’’کوئی رشتے دار ہے اس کا؟‘‘

مقبول لڑکی میں دلچسپی لینے لگا۔

’’وہاں کشمیر میں کوئی ہو تو میں کہہ نہیں سکتا۔ یہاں بمبئی میں اکیلی رہتی ہے۔ ‘‘

بلراج نے سگریٹ ایش ٹرے میں دبایا

’’ہاربنی روڈ یر ایک ہوٹل ہے، وہاں اس نے ایک کمرہ کرائے پر لے رکھا ہے۔ یہ مجھے ایک روز اتفاقاً معلوم ہو گیا ورنہ یہ اپنے ٹھکانے کا پتا کسی کو نہیں دیتی۔ جس کو ملنا ہوتا ہے یہاں پیرے ژین ڈیری میں چلا آتا ہے۔ شام کو پورے پانچ بجے آتی ہے یہاں!‘‘

مقبول کچھ دیرخاموش رہا۔ پھر بیرے کو اشارے سے بلایا اور اس سے بل لانے کے لیے کہا۔ اس دوران میں ایک خوش پوش نوجوان آیا اور اس لڑکی کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ دونوں باتیں کرنے لگے۔ مبقول بلراج سے مخاطب ہوا۔

’’اس سے کبھی ملاقات کرنی چاہیے۔ ‘‘

بلراج مسکرایا۔

’’ضرور ضرور۔ لیکن اس وقت نہیں۔ مصروف ہے۔ کبھی آجانا یہاں شام کو۔ اور ساتھ بیٹھ جانا۔ ‘‘

مقبول نے بل ادا کیا۔ دونوں دوست اٹھ کر چلے گئے۔ دوسرے روز مقبول اکیلا آیا اور چائے کا آرڈر دے کر بیٹھ گیا۔ ٹھیک پانچ بجے وہ لڑکی بس سے اتری اور پرس ہاتھ میں لٹکائے مقبول کے پاس سے گزری۔ چال بھدی تھی۔ جب وہ کچھ دور، کرسی پر بیٹھ گئی تو مقبول نے سوچا۔

’’اس میں جنسی کشش تو نام کو بھی نہیں۔ حیرت ہے کہ اس کا کاروبار کیونکر چلتا ہے۔ لپ اسٹک کیسے بے ہودہ طریقے سے استعمال کی ہے اس نے۔ ساڑھی کی پہناوٹ آج بھی خامیوں سے بھری ہے۔ پھر اس نے سوچا کہ اس سے کیسے ملے۔ اس کی چائے میز پر آچکی تھی ورنہ اٹھ کر وہ اس لڑکی کے پاس جا بیٹھتا۔ اس نے چائے پینا شروع کردی۔ اس دوران میں اس نے ایک ہلکا سا اشارہ کیا۔ لڑکی نے دیکھا کچھ توقف کے بعد اٹھی اور مقبول کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ مقبول پہلے تو کچھ گھبرایا لیکن فوراً ہی سنبھل کر لڑکی سے مخاطب ہوا۔

’’چائے شوق فرمائیں گی آپ۔ ‘‘

’’نہیں۔ ‘‘

اس کے جوابوں کے اس اختصار میں روکھا پن تھا۔ مبقول نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔

’’کشمیریوں کو تو چائے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ ‘‘

لڑکی نے بڑے بے ہنگم انداز میں پوچھا۔

’’تم چلنا چاہتے ہو میرے ساتھ۔ ‘‘

مقبول کو جیسے کسی نے اوندھے منہ گرا دیا۔ گھبراہٹ میں وہ صرف اس قدر کہہ سکا۔

’’ہا۔ ‘‘

لڑکی نے کہا۔

’’ففٹی روپیز۔ یس اور نو؟‘‘

یہ دوسرا ریلا تھا مگر مبقول نے اپنے قدم جما لیے

’’چلیے!‘‘

مقبول نے چائے کا بل ادا کیا۔ دونو اٹھ کر ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں اس نے کوئی بات نہ کی۔ لڑکی بھی خاموش رہی۔ ٹیکسی میں بیٹھے تو اس نے مقبول سے پوچھا۔

’’کہاں جائے گا تم؟‘‘

مقبول نے جواب دیا۔

’’جہاں تم لے جاؤ گی۔ ‘‘

’’ہم کچھ نہیں جانتا۔ تم بولو کدھر جائے گا؟‘‘

مقبول کو کوئی اور جواب نہ سوجھا تو کہا۔

’’ہم کچھ نہیں جانتا!‘‘

لڑکی نے ٹیکسی کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

’’تم کیسا آدمی ہے۔ خلی پیلی جوک کرتا ہے۔ ‘‘

مقبول نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

’’میں مذاق نہیں کرتا۔ مجھے تم سے صرف باتیں کرنی ہیں۔ ‘‘

وہ بگڑ کربولی

’’کیا۔ تم تو بولا تھا ففٹی روپیز یس!‘‘

مقبول نے جیب میں ہاتھ ڈ الا اور دس دس کے پانچ نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیے۔

’’یہ لو گھبراتی کیوں ہو۔ ‘‘

اس نے نوٹ لے لیے۔

’’تم جائے گا کہاں۔ ‘‘

مقبول نے کہا۔

’’تمہارے گھر۔ ‘‘

’’نہیں۔ ‘‘

’’کیوں نہیں۔ ‘‘

’’تم کو بولا ہے نہیں۔ ادھر ایسی بات نہیں ہو گی۔ ‘‘

مقبول مسکرایا۔

’’ٹھیک ہے۔ ایسی بات ادھر نہیں ہو گی۔ ‘‘

وہ کچھ متحیر سی ہوئی۔

’’تم کیسا آدمی ہے۔ ‘‘

’’جیسا میں ہوں۔ تم نے بولا ففٹی روپیز یس کہ نو۔ میں نے کہا یس اور نوٹ تمہارے حوالے کردیے۔ تم نے بولا اُدھر ایسی بات نہیں ہو گی۔ میں نے کہا بالکل نہیں ہو گی۔ اب اور کیا کہتی ہو۔ ‘‘

لڑکی سوچنے لگی۔ مقبول مسکرایا۔

’’دیکھو شانتی، بات یہ ہے۔ کل تم کو دیکھا۔ ایک دوست نے تمہاری کچھ باتیں سنائیں جو مجھے دلچسپ معلوم ہوئیں۔ آج میں نے تمہیں پکڑ لیا۔ اب تمہارے گھر چلتے ہیں۔ وہاں کچھ دیر تم سے باتیں کروں گا اور چلا جاؤں گا۔ کیا تمہیں یہ منظور نہیں۔ ‘‘

’’نہیں۔ یہ لو اپنے ففٹی روپیز۔ ‘‘

لڑکی کے چہرے پر جھنجلاہٹ تھی۔

’’تمہیں بس ففٹی روپیز کی پڑی ہے۔ روپے کے علاوہ بھی دنیا میں اور بہت سی چیزیں ہیں۔ چلو، ڈرائیور کو اپنا اڈریس بتاؤ۔ میں شریف آدمی ہوں۔ تمہارے ساتھ کوئی دھوکا نہیں کرونگا۔ ‘‘

مقبول کے انداز گفتگو میں صداقت تھی۔ لڑکی متاثر ہوئی۔ اس نے کچھ دیر سوچا پھرکہا۔

’’چلو۔ ڈرائیور، ہاربنی روڈ!‘‘

loading...

ٹیکسی چلی تو اس نے نوٹ مقبول کی جیب میں ڈال دیے۔

’’یہ میں نہیں لوں گی۔ ‘‘

مقبول نے اصرار نہ کیا۔

’’تمہاری مرضی!‘‘

ٹیکسی ایک پانچ منزلہ بلڈنگ کے پاس رکی۔ پہلی اور دوسری منزل پر مساس خانے تھے۔ تیسری، چوتھی اور پانچویں منزل ہوٹل کے لیے مخصوص تھی۔ بڑی تنگ و تار جگہ تھی۔ چوتھی منزل پر سیڑھیوں کے سامنے والا کمرہ شانتی کا تھا۔ اس نے پرس سے چابی نکال کر دروازہ کھولا۔ بہت مختصر سامان تھا۔ لوہے کا ایک پلنگ جس پر اجلی چادر بچھی تھی۔ کونے میں ڈرسنگ ٹیبل۔ ایک اسٹول، اس پر ٹیبل فین۔ چار ٹرنک تھے وہ پلنگ کے نیچے دھرے تھے۔ مقبول کمرے کی صفائی سے بہت متاثر ہوا۔ ہر چیز صاف ستھری تھی۔ تکیے کے غلاف عام طور پر میلے ہوتے ہیں مگر اس کے دونوں تکیے بے داغ غلافوں میں ملفوف تھے۔ مقبول پلنگ پر بیٹھنے لگا تو شانتی نے اسے روکا۔

’’نہیں۔ ادھر بیٹھنے کا اجازت نہیں۔ ہم کسی کو اپنے بستر پر نہیں بیٹھنے دیتا۔ کرسی پر بیٹھو یہ کہہ کروہ خود پلنگ پر بیٹھ گئی۔ مقبول مسکرا کر کرسی پر ٹک گیا۔ شانتی نے اپنا پرس تکیے کے نیچے رکھا اور مقبول سے پوچھا۔

’’بولو۔ کیا باتیں کرنا چاہتے ہو؟‘‘

مقبول نے شانتی کی طرف غور سے دیکھا۔

’’پہلی بات تو یہ ہے کہ تمہیں ہونٹوں پر لپ اسٹک لگانی بالکل نہیں آتی۔ ‘‘

شانتی نے برا نہ مانا۔ صرف اتنا کہا۔

’’مجھے مالوم ہے۔ ‘‘

’’اٹھو۔ مجھے لپ اسٹک دو میں تمہیں سکھاتا ہوں‘‘

یہ کہہ کر مقبول نے اپنا رومال نکالا۔ شانتی نے اس سے کہا۔

’’ڈرسنگ ٹیبل پر پڑا ہے، اٹھا لو۔ ‘‘

مقبول نے لپ اسٹک اٹھائی۔ اسے کھول کر دیکھا۔

’’ادھر آؤ، میں تمہارے ہونٹ پونچھوں۔ ‘‘

’’تمہارے رومال سے نہیں۔ میرا لو۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے ٹرنک کھولا اور ایک دھلا ہوا رومال مقبول کو دیا۔ مقبول نے اس کے ہونٹ پونچھے۔ بڑی نفاست سے نئی سرخی ان پر لگائی۔ پھر کنگھی سے اس کے بال ٹھیک کیے اور کہا۔

’’لو اب آئینہ دیکھو۔ ‘‘

شانتی اٹھ کر ڈرسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ بڑے غور سے اس نے اپنے ہونٹوں اور بالوں کا معائنہ کیا۔ پسندیدہ نظروں سے تبدیلی محسوس کی اور پلٹ کر مقبول سے صرف اتنا کہا۔

’’اب ٹھیک ہے‘‘

پھر پلنگ پر بیٹھ کر پوچھا۔

’’تمہارا کوئی بیوی ہے؟‘‘

مقبول نے جواب دیا۔

’’نہیں۔ ‘‘

کچھ دیر خاموشی رہی۔ مقبول چاہتا تھا باتیں ہوں چنانچہ اس نے سلسلہ کلام شروع کیا۔

’’اتنا تو مجھے معلوم ہے کہ تم کشمیر کی رہنے والی ہو۔ تمہارا نام شانتی ہے۔ یہاں رہتی ہو۔ یہ بتاؤ تم نے ففٹی روپیز کا معاملہ کیوں شروع کیا؟‘‘

شانتی نے یہ بے تکلف جواب دیا۔

’’میرا فادر سری نگر میں ڈاکٹر ہے۔ میں وہاں ہوسپیٹل میں نرس تھا۔ ایک لڑکے نے مجھ کو خراب کردیا۔ میں بھاگ کر ادھر کو آگئی۔ یہاں ہم کو ایک آدمی ملا۔ وہ ہم کو ففٹی روپیز دیا۔ بولا ہمارے ساتھ چلو۔ ہم گیا۔ بس کام چالو ہو گیا۔ ہم یہاں ہوٹل میں آگیا۔ پرہم ادھر کسی سے بات نہیں کرتی۔ سب رنڈی لوگ ہے۔ کسی کو یہاں نہیں آنے دیتی۔ ‘‘

مقبول نے کرید کرید کر تمام واقعات معلوم کرنا مناسب خیال نہ کیا۔ کچھ اور باتیں ہوئیں جن سے اسے پتا چلا کہ شانتی کو جنسی معاملے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جب اس کا ذکر آیا تو اس نے برا سا منہ بنا کر کہا۔

’’آئی ڈونٹ لائک۔ یِٹ از بیڈ۔ ‘‘

اس کے نزدیک ففٹی روپیز کا معاملہ ایک کاروباری معاملہ تھا۔ سرینگر کے ہسپتال میں جب کسی لڑکے نے اس کو خراب کیا تو جاتے وقت دس روپے دینا چاہے۔ شانتی کو بہت غصہ آیا۔ نوٹ پھاڑ دیا۔ اس واقعے کا اس کے دماغ پر یہ اثر ہوا کہ اس نے باقاعدہ کاروبار شروع کردیا۔ پچاس روپے فیس خود بخود مقرر ہو گئی۔ اب لذت کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔ چونکہ نرس رہ چکی تھی اس لیے بڑی محتاط رہتی تھی۔ ایک برس ہو گیا تھا اسے بمبئی میں آئے ہوئے۔ اس دوران میں اس نے دس ہزار روپے بچائے ہوتے مگر اس کو ریس کھیلنے کی لت پڑ گئی۔ پچھلی ریسوں پر اس کے پانچ ہزار اڑ گئے لیکن اس کو یقین تھا کہ وہ نئی ریسوں پر ضرور جیتے گی۔

’’ہم اپنا لوس پورا کرلے گا۔ ‘‘

اس کے پاس کوڑی کڑوی کا حساب موجود تھا۔ سو روپے ر وزانہ کما لیتی تھی جو فوراً بنک میں جمع کرا دیے جاتے تھے۔ سو سے زیادہ وہ نہیں کمانا چاہتی تھی۔ اس کو اپنی صحت کا بہت خیال تھا۔ دو گھنٹے گزر گئے تو اس نے پانی گھڑی دیکھی اور مقبول سے کہا۔

’’تم اب جاؤ۔ ہم کھانا کھائے گا اور سو جائے گا۔ ‘‘

مقبول اٹھ کر جانے لگا تو اس نے کہا۔

’’باتیں کرنے آؤ تو صبح کے ٹائم آؤ۔ شام کے ٹائم ہمارا نقصان ہوتی ہے۔ ‘‘

مقبول نے

’’اچھا‘‘

کہا اور چل دیا۔ دوسرے روز صبح دس بجے کے قریب مقبول شانتی کے پاس پہنچا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس کی آمد پسند نہیں کرے گی مگر اس نے کوئی ناگواری ظاہر نہ کی۔ مقبول دیر تک اس کے پاس بیٹھا رہا۔ اس دوران میں شانتی کو صحیح طریقے پر ساڑھی پہننی سکھائی۔ لڑکی ذہین تھی۔ جلدی سیکھ گئی۔ کپڑے اس کے پاس کافی تعداد میں اور اچھے تھے۔ یہ سب کے سب اس نے مقبول کو دکھائے۔ اس میں بچپنا تھا نہ بڑھاپا۔ شباب بھی نہیں تھا۔ وہ جیسے کچھ بنتے بنتے ایک دم رک گئی تھی، ایک ایسے مقام پر ٹھہر گئی تھی جس کے موسم کا تعین نہیں ہوسکتا۔ وہ خوبصورت تھی نہ بدصورت، عورت تھی نہ لڑکی۔ وہ پھول تھی نہ کلی۔ شاخ تھی نہ تنا۔ اس کو دیکھ کر بعض اوقات مقبول کو بہت الجھن ہوتی تھی۔ وہ اس میں وہ نقطہ دیکھنا چاہتا تھا۔ جہاں اس نے غلط ملط ہونا شروع کیا تھا۔ شانتی کے متعلق اور زیادہ جاننے کے لیے مقبول نے اس سے ہر دوسرے تیسرے روز ملنا شروع کردیا۔ وہ اس کی کوئی خاطر مدارت نہیں کرتی تھی۔ لیکن اب اس نے اس کو اپنے صاف ستھرے بستر پر بیٹھنے کی اجازت دے دی تھی۔ ایک دن مقبول کو بہت تعجب ہوا جب شانتی نے اس سے کہا۔

’’تم کوئی لڑکی مانگتا؟‘‘

مقبول لیٹا ہوا تھا چونک کر اٹھا۔

’’کیا کہا؟‘‘

شانتی نے کہا۔

’’ہم پوچھتی، تم کوئی لڑکی مانگتا تو ہم لا کر دیتا۔ ‘‘

مقبول نے اس سے دریافت کیا کہ یہ بیٹھے بیٹھے اسے کیا خیال آیا۔ کیوں اس نے یہ سوال کیا تو وہ خاموش ہو گئی۔ مقبول نے اصرار کیا تو شانتی نے بتایا کہ مقبول اسے ایک بیکار عورت سمجھتا ہے۔ اس کو حیرت ہے کہ مرد اس کے پاس کیوں آتے ہیں جبکہ وہ اتنی ٹھنڈی ہے۔ مقبول اس سے صرف باتیں کرتا ہے اور چلا جاتاہے۔ وہ اسے کھلونا سمجھتا ہے۔ آج اس نے سوچا، مجھ جیسی ساری عورتیں تو نہیں مقبول کو عورت کی ضرورت ہے، کیوں نہ وہ اسے ایک منگا دے۔ مقبول نے پہلی بار شانتی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ ایک دم وہ اٹھی اور چلانے لگی

’’ہم کچھ بھی نہیں ہے۔ جاؤ چلے جاؤ۔ ہمارے پاس کیوں آتا ہے تم۔ جاؤ۔ ‘‘

مقبول نے کچھ نہ کہا۔

’’خاموشی سے اٹھا اور چلا گیا۔ ‘‘

متواتر ایک ہفتہ دوپیرے ژین ڈیری جاتا رہا۔ مگر شانتی دکھائی نہ دی۔ آخر ایک صبح اس نے اس کے ہوٹل کا رخ کیا۔ شانتی نے دروازہ کھول دیا مگر کوئی بات نہ کی۔ مقبول کرسی پر بیٹھ گیا۔ شانتی کے ہونٹوں پر سرخی پرانے بھدے طریقے پر لگی تھی۔ بالوں کا حال بھی پرانا تھا۔ ساڑھی کی پہناوٹ تو اور زیادہ بدزیب تھی۔ مقبول اس سے مخاطب ہوا۔

’’مجھ سے ناراض ہو تم؟‘‘

شانتی نے جواب نہ دیا اور پلنگ پر بیٹھ گئی۔ مقبول نے تند لہجے میں پوچھا۔

’’بھول گئیں جو میں نے سکھایا تھا؟‘‘

شانتی خاموش رہی۔ مقبول نے غصے میں کہا۔

’’جواب دو ورنہ یاد رکھو ماروں گا۔ ‘‘

شانتی نے صرف اتنا کہا۔

’’مارو۔ ‘‘

مقبول نے اٹھ کر ایک زور کا چانٹا اس کے منہ پر جڑ دیا۔ شانتی بلبلا اٹھی۔ اس کی حیرت زدہ آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ مقبول نے جیب سے اپنا رومال نکالا۔ غصے میں اس کے ہونٹوں کی بھدی سرخی پونچھی۔ اس نے مزاحمت کی لیکن مقبول اپنا کام کرتا رہا۔ لپ اسٹک اٹھا کر نئی سرخی لگائی۔ کنگھے سے اس کے بال سنوارے، پھر اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔

’’ساڑھی ٹھیک کرو اپنی۔ ‘‘

شانتی اٹھی اور ساڑھی ٹھیک کرنے لگی مگر ایک دم اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا اور روتی روتی خود کو بستر پرگرا دیا۔ مقبول تھوڑی دیر خاموش رہا۔ جب شانتی کے رونے کی شدت کچھ کم ہوئی تو اس کے پاس جا کر کہا۔

’’شانتی اٹھو۔ میں جارہا ہوں۔ ‘‘

شانتی نے تڑپ کر کروٹ بدلی اور چلائی۔

’’نہیں نہیں۔ تم نہیں جاسکتے۔ ‘‘

اور دونوں بازو پھیلا کر دروازے کے درمیان میں کھڑی ہو گئی۔

’’تم گیا تو مار ڈالوں گی۔ ‘‘

وہ ہانپ رہی تھی۔ اس کا سینہ جس کے متعلق مقبول نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا جیسے گہری نیند سے اٹھنے کی کوشش کررہا تھا۔ مقبول کی حیرت زدہ آنکھوں کے سامنے شانتی نے تلے اوپر بڑی سرعت سے کئی رنگ بدلے۔ اس کی نمناک آنکھیں چمک رہی تھیں۔ سرخی لگے باریک ہونٹ ہولے ہولے لرز رہے تھے۔ ایک دم آگے بڑھ کر مقبول نے اس کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔ دونوں پلنگ پر بیٹھے تو شانتی نے اپنا سر نیوڑھا کر مقبول کی گود میں ڈال دیا۔ اس کے آنسو بند ہونے ہی میں نہ آتے تھے۔ مقبول نے اس کو پیار کیا۔ رونا بند کرنے کے لیے کہا تو وہ آنسوؤں میں اٹک اٹک کر بولی

’’ادھر سرینگر میں۔ ایک آدمی نے۔ ہم کو مار دیا تھا۔ ادھر ایک آدمی نے۔ ہم کو زندہ کردیا۔ ‘‘

دو گھنٹے کے بعد جب مقبول جانے لگا تو اس نے جیب سے پچاس روپے نکال کر شانتی کے پلنگ پر رکھے اور مسکرا کہا۔

’’یہ لو اپنے ففٹی روپیز!‘‘

شانتی نے بڑے غصے اور بڑی نفرت سے نوٹ اٹھائے اور پھینک دیے۔ پھر اس نے تیزی سے اپنی ڈرسنگ ٹیبل کا ایک دروازہ کھولا اور مقبول سے کہا۔

’’ادھر آؤ۔ دیکھو یہ کیا ہے؟‘‘

مقبول نے دیکھا۔ دراز میں سو سو کے کئی نوٹوں کے ٹکڑے پڑے تھے۔ مٹی بھر کے شانتی نے اٹھائے اور ہوا میں اچھالے۔

’’ہم اب یہ نہیں مانگتا!‘‘

مقبول مسکرایا۔ ہولے سے اس نے شانتی کے گال پر چھوٹی سی چپت لگائی اور پوچھا:

’’اب تم کیا مانگتا ہے!‘‘

شانتی نے جواب دیا۔

’’تم کو‘‘

یہ کہہ کر وہ مقبول کے ساتھ چمٹ گئی اور رونا شروع کردیا۔ مقبول نے اس کے بال سنوارتے ہوئے بڑے پیار سے کہا۔

’’روؤ نہیں۔ تم نے جو مانگا ہے وہ تمہیں مل گیا ہے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں