اقبال کی شاعری میں تصورِ مردِ مومن

اللہ تبارک و تعالٰی کی رحمت و کرم سے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا، انسان کو علم و عقل کی بنیاد پر ہی تمام مخلوقِ خدا پر فوقیت حاصل ہے۔ اور اسی علم و عقل سے انسان نے تمام کائنات کو مسخر کیا اور عملِ تسخیر کے کچھ مراحل ابھی باقی ہیں ۔ پس اسی خوبی کی بناء پر میں ” اقبال کا تصورِ مرد ِمومن ” جیسے احسن موضوع پر قلم اُٹھا رہی ہوں۔

بعض لوگ اس قدر سریع الفکر ، صحیح النظر اور صائب الرائے ہوتے ہیں کہ آئندہ ہونے والے واقعات کی پیشن گوئی کر سکتے ہیں گویا یہ لوگ غیب کی باتوں کو ایک باریک پردہ کی آڑ سے دیکھ سکتے ہیں ۔

جب انسان اس بلند درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو وہ ملائکہ کی سرحد مین داخل ہو جاتا ہے یعنی ایک ایسی شخصیت عالمِ وجود میں آ جاتی ہے جو انسانی شخصیت سے بلند ہو تی ہے اور اس میں اور فرشتوں میں تھوڑا فرق رہ جاتا ہے۔ اس شخصیت کے لیے مردِ کامل ، مردِ مومن اوربندہ آفاقی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

نطشے ، برگساں اور ارسطو نے بھی مردِ مومن کے تصورات و نظریات پیش کیے ۔ نطشے کے مردِ مومن میں تین خصوصیات پائی جاتی ہیں : قوت، فراست اور تکبر۔ ارسطو کا مردِ کامل خیالی انسان کی طرح ہے جسکے اعمال کی تفصیل اور کردار کا خاکہ دستیاب نہیں ۔جبکہ یہاں ہم علامہ اقبال کے مردِ مومن اور مردِ کامل پر بحث کرتے ہوئے ، اسکے کردار کا خاکہ اور اعمال کی تفصیل بیان کریں گے۔

ڈاکٹر علامہ اقبال) 9نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء (بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر ، مصنف ،قانون دان ،سیاستدان ،مسلم صوفی اور تحریکِ پاکستان کی اہم ترین شخصیت میں سے ایک تھے۔ اُردُو، فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی انکی بنیادی شہرت کی وجہ ہے۔ شاعری میں بنیادی رُجحان تصوف اور احیائے امتِ اسلام کی طرف تھا۔ “دار ریکنسڑیکشن آف اسلام ” کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی۔اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے اور پاکستان کا قومی شا عر بھی تصور کیا جاتاہے۔

اقبال کے افکار میں ” مردِ مومن ” یا ” انسانِ کامل” کا ذکر جابجا ملتا ہے ۔اسکے لیے وہ بندہ آفاقی ، بندہِ مومن ، مردِ خدا اور اس قسم کی بہت سے اصلاحات کا استعمال کرتے ہیں ۔ حقیقتاً یہ ایک ہستی کے مختلف نام ہیں ۔

 نقطہ پرکارِ حق مردِ خدا کا یقین
اور عالم تم ، وہم وطلسم و مجاز
عالم ہے فقط مومن ِ جانبا زکی میراث
مومن نہیں ہے جو صاحبِ افلاک نہیں ہے
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب وکار آفرین ، کار کشا ، کارساز
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اسکے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدلتی ہیں تقدیریں

غرض یہ مثالی ہستی اقبال کو اتنی محبوب ہے کہ بار بار اس کا ذکر کرتے ہیں اس سلسلہ میں جو سوالات اُٹھائے گئے ہیں ان میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں کہ اقبال نے مردِ مومن کے تصور کو کہاں سے اخذ کیاہے؟

انکے مردِ مومن کی صفات کیا ہیں ؟ انکا یہ تصور محض تخیلی ہے یا کوئی حقیقی شخصیت ان کے لیے مثال بنی ہے؟ اقبال کے مردِ مومن کی چند خصوصیات یہ ہیں:۔

• اقبال کا مردِ مومن قرآن و حدیث کا پابند ہے اس پر قرآن کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ جیسے ابوبکر صدیق
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق

• اقبال کا مردِ مومن جلال و جمال کا مجموعہ ہے۔ جیسے عمرِ فاروق
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

• اقبال کا مردِ مومن پیکرِ صبر و رضا ہے حلیم الطبع اور منکسر المزاج ہے جیسے عثمانِ غنی

ہر لحظہ ہےمومن کی نئی آن نئی شان
گفتار میں ،کردار میں ،اللہ کی برہان

• اقبال کا مومن حق کے لیے موم اور باطل کے لیے شعلہ جوالہ بن جاتا ہے جیسے علی مرتضیٰ
ہو حلقہ ٫ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

• اقبال کا مومن عشق کو عقل پر ترجیح دیتا ہے اور جو عشق تابعِ عقل ہو اسے خام خیال کرتا ہے، وہ مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر عشق کی خاطر ظلم و ستم سہتا ہے۔

جیسے بلال بن رُباح
روزِ ازل مجھ سے کہا یہ جبریل نے
عقل کا جو غلام ہو وہ دل نہ کر قبول

• اقبال کا مومن فاتحِ اُندلُس طارق بن زیاد ، فاتحِ بیت المقدس صلاح الدین ایوبی، فاتح ہندوستان محمود غزنوی ، فاتحِ افریقہ موسیٰ بن نصیر اور فاتحِ سندھ محمد بن قاسم جیسی شخصیات میں نظر آتا ہے۔

 یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

• اقبال کے مردِ مومن کا ایک وصف اسکی خودی ہے۔ اقبال کا فوق البشر چونکہ مسلمان ہے اس لیے اسکی خودی اطاعت٫ الٰہی کی پابند ہے۔

 خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟

ماہ نور نصیر

(Visited 6 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں