فیس بک اکاﺅنٹس ڈیٹا کیلئے پاکستان کی جانب سے درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ

فیس بک

پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم فیس بک سے صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے 2018 کی دوسری ششماہی کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے فیس بک استعمال کرنے والے افراد کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

جولائی سے دسمبر 2018 کے دوران پاکستان کی جانب سے فیس بک سے ایمرجنسی اور لیگل پراسیس کے نام پر مجموعی طور پر ڈیٹا کے حصول کے لیے 1752 درخواستیں دی گئیں، یہ تعداد جنوری سے جون 2018 کے دوران 1233، جولائی 2017 سے دسمبر 2017 کے دوران 1320 ، جنوری 2017 سے جون 2017 کے دوران 1050، جولائی 2016 سے دسمبر 2016 کے دوران 998، جبکہ جنوری 2016 سے جون 2016 کے دوران 719 تھی۔

فیس بک کے مطابق پاکستانی حکومت نے 2360 صارفین یا اکاﺅنٹس کے بارے میں ڈیٹا طلب کیا، یہ تعداد جنوری سے جون 2018 کے دوران 1609، جولائی سے دسمبر 2017 تک 1800، جنوری سے جون 2017 تک 1540، جولائی 2016 سے دسمبر 2016 تک 142، جبکہ جنوری سے جون 2016 کے دوران 1015 تھی۔

2360 اکاﺅنٹس یا صارفین کے لیے 1752 درخواستوں میں سے فیس بک نے 51 فیصد پر تعاون کرتے ہوئے حکومت کو کسی قسم کا ڈیٹا یا معلومات فراہم کیں۔

ہواوے موبائلز پر گوگل اور اینڈرائڈ سسٹم بند

مجموعی طور پر لیگل پراسیس کے لیے 1634 درخواستوں میں سے 52 فیصد جبکہ 118 ایمرجنسی درخواستوں میں سے 47 فیصد پر فیس بک انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی حکام کو ڈیٹا فراہم کیا گیا۔

اس سے ہٹ کر بھی پاکستان کی جانب سے فیس بک سے کسی جرم کی تحقیقات کے لیے 709 درخواستوں کے ذریعے 488 صارفین یا اکاﺅنٹس کاڈیٹا یا ریکارڈ محفوظ کرنے کی درخواست کی گئی۔

430 درخواستوں کے ذریعے 580 صارفین یا اکاؤنٹس کا ڈیٹا یا ریکارڈ محفوظ کرنے کی درخواست کی گئی۔

جنوری سے جون 2018 کے دوران 430 درخواستوں کے ذریعے 580 صارفین یا اکاﺅنٹس، جولائی سے دسمبر 2017 کے دوران 464 درخواستوں کے ذریعے 598 اکاؤنٹس یا صارفین ، جنوری سے جون 2017 کے دوران 399 درخواستوں کے ذریعے 613 اکاﺅٹس یا صارفین ، جولائی سے دسمبر 2016 میں 442 ، جبکہ جنوری سے جون 2016کے دوران 280 درخواستوں کے ذریعے 363 صارفین یا اکاﺅنٹس کا ڈیٹا یا ریکارڈ محفوظ رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔

(Visited 4 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں