وزنی اسکول بیگز کے بچوں کی صحت پر اثرات!

بشریٰ نواز

میری بیٹی کافی دنوں سے بہت کمزور اور سست دکھائی دے رہی تھی سکو ل سے اتے ہی بستر پے گر جانا اس کا روز کا معمول تھا لیکن آج میں کھانے کے لیے بلا رہی ہوں اور وہ ہے کہ اٹھنے کا نام نہیں لے رہی میں جب اس کے بدن کو ہاتھ لگایا تو اس کا جسم بخار سے تپ رہا تھا ہے حد کمزور بھی لگ رہی ہے مشکل سے کھانا کھلایا بخار کی دوا دی بیٹی سے پوچھ رہی ہوں کیا ہوا بولی ماما میری کمر اور گردن میں بہت درد ہے مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا اور وہ رونے لگی میں اس وقت جوکر سکتی تھی کیا مالش کی اسے تسلی دی رات کو میں اسے اپنے فیملی ڈاکٹر کے کلینک لے گئی۔

ویسے تو ہر کلینک پے رش ہوتا ہے لیکن میں وہاں بچوں کی تعداد دیکھ کے حیران ہو رہی تھی کیونکہ وہاں سب بچے کمر گر دن کی درد میں مبتلا تھے

ڈاکٹر صاحب دوا دینے کے ساتھ ہدایت بھی دے رہے تھے وزن نہ اٹھائیں

اپنی باری پر مجھے بھی یہی ہدایت ملی ڈاکٹر صاحب بچوں کے بیگ اتنے بھاری ہیں کہ اٹھا کے چلنا مشکل ہے اب کیا ہو سکتا ہے ہرسکول میں ایسا ہی ہے زیادہ تر بچے کمر اور گرد ن کی تکلیف کا شکار ہو رہے ہیں بچوں کی ہڈیا ں نازک ہوتی ہیں اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے میں آخری مریض تھی دوائی اور ہدایات کے ساتھ گھر کو آگئی

اتنا بھاری بھر کم بیگ معصوم بچے نازک ہڈیاں اتنی تکلیف کے ساتھ کیسے صحت مند جوان ہوں گے کیسے یہ کورس ذہن نشین کر پایں گے حیران ہوں اتنی کتابوں کے باوجود بچوں میں وہ ذہانت نہیں کیوں اتنا زیادہ کورس کور نہیں کر پا تے کچھ ہمارے ہاں ٹیوشن سنٹر رواج پا گے ہیں پہلے بھاری بیگ سکول اور پھر وہی بیگ اکادمی۔

اب ذرا ماضی کی طرف جھانکیں تو چھوٹی جماعتیں بیگ یا بستے چھوٹے اب چھوٹی جماعتیں اور بیگ بڑے یہ کیا تماشا ہے بچوں کے دماغ ابھی گروتھ کی ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہیں اور ہم نے سیدھی سٹیں گن تان لی یہ سارا مال بٹورنے کا دھندا ہے جتنی زیادہ کتابیں کاپیاں بکیں گی اتنا زیادہ مال بنے گا تعلیم نام کی کوئی چیز نہیں

انگریزی کا وبال اور حوا ہے جو ذہنوں پے سوار ہے بھئی انگریزی ایک زبان ہے بس۔ قوموں کی ترقی کا راز انگریزی نہیں بلکہ قومی زبانیں ہیں جاپان چائنہ جرمنی یا روس جیسے ممالک نے سائنس میں ترقی انگریزی سے تو نہیں کی

پاکستان میں ایک بے لگام معاشرہ ہے جس کا جو جی چاہے کرتا پھرتا ہر سکول کا کتابیں اور سلیبس الگ فیس اور یونفارم الگ ہم یقین سے کہ رہے ہیں یا تو بچے تعلیم سے باغی ہوجایں گے یا ذہنی مریض خدارا رحم کیجیے اس قوم پر آوے کا آوا تو پہلے ہی بگڑا ہوا کم از کم ایک توجہ اس طرف ہی دے دیں

باقاعدہ بورڈ بنایں۔ ایک نصاب تعلیم پورے پاکستان رائج کریں۔ ایک فیس کا معیار رکھیں اور قانون کو مضبوط کریں مڈل کلاس تو مر ہی جاے گی۔ کہاں سے اتنے اخراجات اٹھایں گے۔ پورے ملک میں ٹیوشن سنٹر بند ہونے چاہیں جب والدین بھاری فیس دے کر بھی بچوں کو ٹیوشن اور اکیڈمی میں بھجیں گے تو سکول کا معیار تو گیا جہنم میں۔ ایک تو بے تحاشا اخراجات دوسرا بچوں پر مزید ذہنی دباؤ بڑھے گا۔ نہ تو ایسے بچے سپورٹس میں کامیاب ہوں گے اور نہ صحتمند زندگی گزار سکیں گے

کتابیں کم کیجیے اور معیار بہتر۔ ورنہ بچوں میں کمر درد کے ساتھ دوسری بیماریاں بھی جنم لینے لگیں گی۔

بشکری ہم سب

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں