قبض

مائی نانکی

نئے لکھے ہُوئے مکالمے کا کاغذ میرے ہاتھ میں تھا۔ ایکٹر اور ڈائریکٹر کیمرے کے پاس سامنے کھڑے تھے۔ شوٹنگ میں ابھی کچھ دیر تھی۔ اس لیے کہ اسٹوڈیو کے ساتھ والا صابن کا کارخانہ چل رہا تھا۔ ہر روز اس کارخانے کے شور کی بدولت ہمارے سیٹھ صاحب کا کافی نقصان ہوتا تھا۔ کیونکہ شوٹنگ کے دوران میں جب ایکا ایکی اس کارخانے کی کوئی مشین چلنا شروع ہو جاتی۔ تو کئی کئی ہزار فٹ فلم کا ٹکڑا بیکار ہوجاتا اور ہمیں نئے سرے سے کئی سینوں کی دوبارہ شوٹنگ کرنا پڑتی۔

ڈائریکٹر صاحب ہیرو اور ہیروئن کے درمیان کیمرے کے پاس کھڑے سگرٹ پی رہے تھے اور میں سستانے کی خاطر کرسی پر ٹانگوں سمیت بیٹھا تھا۔ وہ یوں کہ میری دونوں ٹانگیں کرسی کی نشست پر تھیں اور میرا بوجھ نشست کی بجائے ان پر تھا۔ میری اس عادت پر بہت لوگوں کو اعتراض ہے مگر یہ واقعہ ہے کہ مجھے اصلی آرام صرف اسی طریقے پر بیٹھنے سے ملتا ہے۔ نینا جس کی دونوں آنکھیں بھینگی تھیں ڈائریکٹر صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا۔

’’صاحب، وہ بولتا ہے کہ تھوڑا کام باقی رہ گیا ہے پھر شور بند ہو جائے گا۔ ‘‘

یہ روز مرہ کی بات تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ابھی آدھ گھنٹے تک کارخانے میں صابن کٹتے اور ان پر ٹھپے لگتے رہیں گے۔ چنانچہ ڈائریکٹر صاحب ہیرو اور ہیروئن سمیت اسٹوڈیو سے باہر چلے گئے۔ میں وہیں کرسی پر بیٹھا رہا۔ سقفی لیمپ کی ناکافی روشنی میں سیٹ پر جو چیزیں پڑیں تھیں ان کا درمیانی فاصلہ اصلی فاصلے پر کچھ زیادہ دکھائی دے رہا تھا۔ اور گیروے رنگ کے تھری پلائی وڈ کے تختے جو دیواروں کی صورت میں کھڑے تھے پست قد دکھائی دیتے تھے۔ میں اس تبدیلی پر غور کررہا تھا کہ پاس ہی سے آواز آئی

’’السلام علیکم۔ ‘‘

میں نے جواب دیا

’’وعلیکم السلام‘‘

اور مڑ کر دیکھا تو مجھے ایک نئی صورت نظر آئی۔ میری آنکھوں میں

’’تم کون ہو؟‘‘

کا سوال تیرنے لگا۔ آدمی ہوشیارتھا، فوراً کہنے لگا۔

’’جناب میں آج ہی آپ کی کمپنی میں داخل ہُوا ہُوں۔ میرا نام عبدالرحمن ہے۔ خاص دہلی شہر کا رہنے والا ہُوں۔ آپکا وطن بھی تو شاید دہلی ہی ہے۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’جی نہیں۔ میں پنجاب کا باشندہ ہُوں۔ ‘‘

عبدالرحمن نے جیب سے عینک نکالی۔

’’معاف فرمائیے گا، چونکہ ڈائریکٹر صاحب نے عینک اتار دینے کا حکم دیا تھا اس لیے۔ ‘‘

اس دوران میں اُس نے عینک بڑی صفائی سے کانوں میں اٹکالی اور میری طرف پسندیدہ نگاہوں سے دیکھنا شروع کردیا۔

’’واللہ میں تو یہی سمجھا تھا کہ آپ دہلی کے ہیں، یعنی آپ کی زبان میں قطعاً پنجابیت نہیں۔ ماشاء اللہ کیا مکالمہ لکھا ہے۔ قلم توڑ دیا ہے واللہ۔ یہ اسٹوری بھی تو آپ ہی نے لکھی ہے؟‘‘

عبدالرحمن نے جب یہ باتیں کیں تو اس کا قد بھی میری نظر میں تھری پلائی وڈ کے تختوں کی طرح پست ہو گیا۔ میں نے روکھے پن کے ساتھ کہا۔

’’جی نہیں۔ ‘‘

وہ اور زیادہ لچکیلا ہو گیا۔

’’عجب زمانہ ہے صاحب، جو اہلیتوں کے مالک ہیں ان کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ یہ بمبئی شہر بھی تو میری سمجھ میں بالکل نہیں آیا۔ عجب اوٹ پٹانگ زبان بولتے ہیں یہاں کے لوگ، پندرہ دن مجھے یہاں آئے ہوئے ہو گئے ہیں مگر کیا عرض کروں سخت پریشان ہو گیا ہوں۔ آج آپ سے ملاقات ہو گئی۔ ‘‘

اس کے بعد اس نے اپنے ہاتھ ملکر اس روغن کی مروڑیاں بنانا شروع کردیں جو چہرے پر لگاتے وقت اسکے ہاتھوں پر رہ گیا تھا۔ میں نے جواب میں صرف

’’جی ہاں‘‘

کردیا اور خاموش ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے کاغذ کھولا اور رواروی میں لکھے ہُوئے مکالموں پر نظرثانی شروع کردی۔ چند غلطیاں تھیں جن کو درست کرنے کے لیے میں نے اپنا قلم نکالا۔ عبدالرحمن ابھی تک میرے پاس کھڑا تھا۔ مجھے اس کے کھڑے ہونے کے انداز سے ایسا محسوس ہُوا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔ چنانچہ میں نے پوچھا۔

’’فرمائیے۔ ‘‘

اس نے بڑی لجاجت کے ساتھ کہا۔

’’میں ایک بات عرض کروں۔ ‘‘

’’بڑے شوق سے۔ ‘‘

’’آٰپ اس طرح ٹانگیں اوپر کرکے نہ بیٹھا کریں۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

اس نے جھک کر کہا

’’بات یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے قبض ہو جایا کرتا ہے۔ ‘‘

’’قبض؟‘‘

میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔

’’قبض کیسے ہوسکتا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر میرے جی میں آئی کہ اس سے کہوں

’’میاں ہوش کی دوا لو۔ گھاس تو نہیں کھا گئے۔ مجھے اس طرح بیٹھتے بیس برس ہو گئے۔ آج کیا تمہارے کہنے سے مجھے قبض ہو جائیگا۔ ‘‘

مگر یہ سوچ کر چپ ہو گیا کہ بات بڑھ جائیگی اور مجھے بیکار کی مغز دردی کرنا پڑے گی۔ وہ مسکرایا۔ عینک کے شیشوں کے پیچھے اس کی آنکھوں کے آس پاس کا گوشت سکڑ گیا۔

’’آپ نے مذاق سمجھا ہے حالانکہ صحیح بات یہی ہے کہ ٹانگیں جوڑ کر پیٹ کے ساتھ لگا کر بیٹھنے سے معدے کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ میں نے تو اپنی ناچیز رائے پیش کی ہے۔ مانیں نہ مانیں یہ آپکو اختیار ہے۔ ‘‘

میں عجب مشکل میں پھنس گیا۔ اس کو اب میں کیا جواب دیتا۔ قبض۔ یعنی قبض ہو جائیگا۔ بیس برس کے دوران میں مجھے قبض نہ ہوا لیکن آج اس مسخرے کے کہنے سے مجھے قبض ہو جائیگا۔ قبض کھانے پینے سے ہوتا ہے نہ کہ کرسی یا کوچ پر بیٹھنے سے۔ جس طرح میں کرسی پر بیٹھتا ہوں اس سے تو آدمی کو راحت ہوتی ہے۔ دوسروں کو نہ سہی لیکن مجھے تو اس سے آرام ملتا ہے اور یہ سچی بات ہے کہ مجھے ٹانگیں جوڑ کر سینے کے ساتھ لگا دینے سے ایک خاص قسم کی فرحت حاصل ہوتی ہے۔ اسٹوڈیو میں عام طور پر شوٹنگ کے دوران میں کھڑا رہنا پڑتا ہے جس سے آدمی تھک جاتا ہے۔

دوسرے نامعلوم کس طریقے سے اپنی تھکن دُور کرتے ہیں مگر میں تو اسی طریقے سے دُور کرتا ہوں۔ کسی کے کہنے پر میں اپنی یہ عادت کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔ خواہ قبض کے بجائے مجھے سرسام ہو جائے۔ یہ ضد نہیں، دراصل بات یہ ہے کہ کرسی پر اس طرح بیٹھنے کا انداز میری عادت نہیں بلکہ میرے جسم کا ایک جائز مطالبہ ہے۔ جیسا کہ میں اس سے پہلے عرض کر چکا ہُوں اکثر لوگوں کو میرے اس طرح بیٹھے کے انداز پر اعتراض رہا ہے۔ اس اعتراض کی وجہ نہ میں نے ان لوگوں سے کبھی پوچھی ہے اور نہ انھوں نے کبھی خود بتائی ہے۔ اعتراض کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو میں اس معاملے میں اچھی طرح دلیل سننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ کوئی آدمی مجھے قائل نہیں کرسکتا۔ جب عبدالرحمن نے مجھ پر نکتہ چینی کی تو میں بھنّا گیا اور اس کا یُوں شکریہ ادا کیا جیسے کوئی یہ کہے۔

’’لعنت ہو تم پر۔ ‘‘

اس شکریہ کی رسید کے طور پر اس نے اپنے موٹے ہونٹوں پر میلی سی مسکراہٹ پیدا کی اور خاموش ہو گیا۔ اتنے میں ڈائریکٹر ہیرو اور ہیروئن آگئے اور شوٹنگ شروع ہو گئی۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ چلو اسی بہانے سے عبدالرحمن کے قبض سے نجات حاصل ہوئی۔ اس کی پہلی ملاقات پر ذیل کی باتیں میرے دماغ میں آئیں۔ -1 یہ ایکسٹرا جو کمپنی میں نیا بھرتی ہُوا ہے بہت بڑا چغد ہے۔ -2 یہ ایکسٹرا جو کمپنی میں نیا بھرتی ہُوا ہے سخت بد تمیز ہے۔ -3 یہ ایکسٹرا جو کمپنی نے نیا بھرتی کیا ہے پرلے درجہ کا مغز چاٹ ہے۔ -4 یہ ایکسٹرا جو کمپنی میں نیا داخل ہوا ہے مجھے اس سے بے حد نفرت پیدا ہو گئی ہے۔

اگر مجھے کسی شخص سے نفرت پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی زندگی کچھ عرصے کے لیے زیادہ متحرک ہو جائے گی۔ میں نفرت کرنے کے معاملے میں کافی مہارت رکھتا ہوں۔ آپ پوچھیں گے بھلا نفرت میں مہارت کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن میں آپ سے کہوں گا کہ ہر کام کرنے کے لیے ایک خاص سلیقے کی ضرورت ہوتی ہے اور نفرت میں چونکہ شدت زیادہ ہے اس لیے اس کے عامل کا ماہر ہونا اشد ضروری ہے۔ محبت ایک عام چیز ہے۔ حضرت آدم سے لیکر ماسٹر نثار تک سب محبت کرتے آئے ہیں مگر نفرت بہت کم لوگوں نے کی ہے اور جنہوں نے کی ہے ان میں سے اکثر کو اس کا سلیقہ نہیں آیا۔ نفرت محبت کے مقابلے میں بہت زیادہ لطیف اور شفاف ہے۔ محبت میں مٹھاس ہے جو اگر زیادہ دیر تک قائم رہے تو دل کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے۔

مگر نفرت میں ایک ایسی ترشی ہے جو دل کا قوام دُرست رکھتی ہے۔ میں تو اس بات کا قائل ہُوں کہ نفرت اس طریقے سے کرنا چاہیے کہ اس میں محبت کرنے کا مزا ملے۔ شیطان سے نفرت کرنے کا جو سبق ہمیں مذہب نے سکھایا ہے مجھے اس سے سو فی صدی اتفاق ہے۔ یہ ایک ایسی نفرت ہے جو شیطان کی شان کے خلاف نہیں۔ اگر دنیا میں شیطان نام کی کوئی ہستی موجود ہے تو وہ یقیناًاس نفرت سے جو کہ اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے خوش ہوتی ہو گی اور سچ پوچھیے تو یہ عالمگیر نفرت ہی شیطان کی زندگی کا ثبوت ہے۔ اگر ہمیں اس سے نہایت ہی بھونڈے طریقے پر نفرت کرنا سکھایا جاتا تو دنیا ایک بہت بڑی ہستی کے تصور سے خالی ہوتی۔

میں نے عبدالرحمن سے نفرت کرنا شروع کردی جس کا نتیجہ یہ ہُوا، کہ میری اور اس کی دونوں کی زندگی میں حرکت پیدا ہو گئی۔ اسٹوڈیو میں اور اسٹوڈیو کے باہر جہاں کہیں اس سے میری ملاقات ہوتی میں اس کی خیریت دریافت کرتا اور اس سے دیر تک باتیں کرتا رہتا۔ عبدالرحمن کا قد متوسط ہے اور بدن گُٹھا ہُوا۔ جب وہ نیکر پہن کر آتا تو اس کی بے بال پنڈلیوں کا گوشت فٹ بال کے نئے کور کے چمڑے کی طرح چمکتا ہے۔ ناک موٹی جس کی کوٹھی اُبھری ہُوئی ہے۔ چہرے کے خطوط منگولی ہیں۔ ماتھا چوڑا جس پر گہرے زخم کا نشان ہے۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی شیطان لڑکے نے اپنے ڈسک کی لکڑی میں چاقو سے چھوٹا سا گڑھا بنا دیا ہے۔ پیٹ سخت اور اُبھرا ہو۔ حافظ قرآن ہے۔ چنانچہ بات بات میں آیتوں کے حوالے دیتا ہے۔ کمپنی کے دوسرے ایکسٹرا اس کی اس عادت کو پسند نہیں کرتے۔

اس لیے کہ انھیں احترام کے باعث چپ ہو جانا پڑتا ہے۔ ڈائریکٹر صاحب کو جب میری زبانی معلوم ہوا کہ عبدالرحمن صاف زبان بولتا ہے اور غلطی نہیں کرتا تو انھوں نے اسے ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا شروع کردیا۔ ایک ہی فلم میں اسے دس مختلف آدمیوں کے بھیس میں لایا گیا۔ سفید پوشاک پہنا کراسے ہوٹل میں بیرا بنا کر کھڑا کردیا گیا۔ سر پر لمبے لمبے بال لگا کر اور چمٹا ہاتھ میں دے کر ایک جگہ اس کو سادھو بنایا گیا۔ چپڑاسی کی ضرورت محسوس ہُوئی تو اس کے چہرے پر گوند سے لمبی داڑھی چپکا دی گئی۔ ریلوے پلیٹ فارم پر بڑی مونچھیں لگا کر اس کو ٹکٹ چیکر بنا دیا گیا۔ یہ سب میری بدولت ہوا، اس لیے کہ مجھے اس سے نفرت پیدا ہو گئی تھی۔

عبدالرحمن خوش تھا کہ چند ہی دنوں میں وہ اتنا مقبول ہو گیا اور میں خوش تھا کہ دوسرے ایکسٹرا اس سے حسد کرنے لگے ہیں، میں نے موقعہ دیکھ کر سیٹھ سے سفارش کی، چنانچہ تیسرے مہینے اس کی تنخواہ میں دس روپے کا اضافہ بھی ہو گیا۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ کمپنی کے پچیس ایکسٹراؤں کی آنکھوں میں وہ خار بن کے کھٹکنے لگا۔ لُطف یہ ہے کہ عبدالرحمن کو اس بات کی مطلق خبر نہ تھی کہ میری وجہ سے اس کی تنخواہ میں اضافہ ہُوا ہے اور میری سفارشوں کے باعث کمپنی کے دوسرے ڈائریکٹر اس سے کام لینے لگے ہیں۔ فلم کمپنی میں کام کرنے کے علاوہ میں وہاں کے ایک مقامی ہفتہ وار اخبار کو بھی ایڈٹ کرتا ہُوں۔ ایک روز میں نے اپنا اخبار عبدالرحمن کے ہاتھ میں دیکھا۔ جب وہ میرے قریب آیا تو مسکرا کر اس نے پرچے کی ورق گردانی شروع کردی۔

’’منشی صاحب۔ یہ رسالہ آپ ہی۔ ‘‘

میں نے فوراً ہی جواب دیا۔

’’جی ہاں۔ ‘‘

’’ماشاء اللہ، کتنا خوبصورت پرچہ نکالتے ہیں آپ۔ کل رات اتفاق سے یہ میرے ہاتھ آگیا۔ بہت دلچسپ ہے، اب میں ہر ہفتے خریدا کروں گا۔ ‘‘

loading...

یہ اُس نے اس انداز میں کہا جیسے مجھ پر بڑا احسان کررہا ہے۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کردیا، چنانچہ بات ختم ہو گئی۔ کچھ دنوں کے بعد جبکہ میں اسٹوڈیو کے باہر نیم کے پیڑتلے ایک ٹُوٹی ہُوئی کرسی پر بیٹھا اپنے اخبار کے لیے ایک کالم لکھ رہا تھا۔ عبدالرحمن آیا اور بڑے ادب کے ساتھ ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ میں نے اسکی طرف دیکھا اور پوچھا

’’فرمائیے۔ ‘‘

’’آپ فارغ ہو جائیں تو میں۔ ‘‘

’’میں فارغ ہُوں۔ فرمائیے آپکو کیا کہنا ہے۔ ‘‘

اس کے جواب اُس نے ایک رنگین لفافہ کو کھولا اور اپنی تصویر میری طرف بڑھا دی۔ تصویرہاتھ میں لیتے ہی جب میری نظر اس پر پڑی تو مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔ یہ ہنسی چونکہ بے اختیار آئی تھی۔ اس لیے میں اسے روک نہ سکا۔ بعد میں جب مجھے اس بات کا احساس ہُوا کہ عبدالرحمن کو یہ ناگوار معلوم ہُوئی ہو گی تو میں نے کہا۔

’’عبدالرحمن صاحب اتفاق دیکھیے میں صبح سے پریشان تھا کہ ٹائیٹل پیچ کے بعد کا صفحہ کیسے پُر ہو گا۔ دو تصویروں کے بلاک مل گئے تھے۔ مگر ایک کی کمی تھی۔ اس وقت بھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ آپ نے اپنا فوٹو میری طرف بڑھا دیا۔ بہت اچھا فوٹو ہے۔ بلاک بھی اس کا خوب بنے گا۔ ‘‘

عبدالرحمن نے اپنے موٹے ہونٹ اندر کی طرف سکیڑ لیے۔

’’آپ کی بڑی عنایت ہے۔ تو۔ تو کیا یہ تصویر چھپ جائے گی؟‘‘

میں نے تصویرکو ایک نظر اور دیکھا اور مسکرا کرکہا۔

’’کیوں نہیں۔ اس ہفتے ہی کے لیے تو میں یہ کہہ رہا تھا۔ ‘‘

اس پر عبدالرحمن نے دوبارہ شکریہ ادا کیا۔ پرچے میں تصویر کے ساتھ ایک چھوٹا سا نوٹ نکل جائے تو میں اور بھی ممنون ہوں گا۔ جیسا آپ مناسب خیال فرمائیں۔ تو۔ تو۔ معاف کیجیے۔ میں آپ کے کام میں مخل ہو رہا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ اپنے ہاتھ آہستہ آہستہ ملتا ہُوا چلا گیا۔ میں نے اب تصویر کو غور سے دیکھا۔ آڑی مانگ نکلی ہوئی تھی، ایک ہاتھ میں بمبئی کی بھاری بھر کم ڈائرکٹری تھی جس پر چھپے ہوئے حروف بتا رہے تھے کہ سن سولہ کی یہ کتاب فوٹو گرافر نے اپنے گاہکوں کو تعلیم یافتہ دکھانے کے لیے ایک یا دو آنے میں خریدی ہو گی۔ دوسرے ہاتھ میں جو اوپر کو اُٹھا ہوا تھا ایک بہت بڑا پائپ تھا۔ اس پائپ کی ٹونٹی عبدالرحمن نے اس انداز سے اپنے منہ کی طرف بڑھائی تھی کہ معلوم ہوتا تھا چائے کا پیالہ پکڑے ہے۔ لبوں پر چائے کا گھونٹ پیتے وقت جو ایک خفیف سا ارتعاش پیدا ہُوا کرتا ہے وہ تصویر میں اس کے ہونٹوں پر جما ہوا دکھائی دیتا تھا۔ آنکھیں کیمرے کی طرف دیکھنے کے باعث کُھل گئی تھیں، ناک کے نتھنے تھوڑے پھول گئے تھے۔ سینے میں ابھار پیدا کرنے کی کوشش رائیگاں نہیں گئی تھی۔ کیونکہ وہ اچھا خاصا کارٹون بن گیا تھا۔ یاد رہے کہ عبدالرحمن انگریزی لکھنا پڑھنا بالکل نہیں جانتا اور تمباکو سے پرہیز کرتا ہے۔ میں نے اپنی گرہ سے دام خرچ کرکے اس کے فوٹو کا بلاک بنوایا اور وعدے کے مطابق ایک تعریفی نوٹ کیساتھ پرچے میں چھپوا دیا۔ دوسرے روز دس بجے کے قریب میں کمپنی کے غلیظ ریسٹوران میں بیٹھا کڑوی چائے پی رہا تھا کہ عبدالرحمن تازہ پرچہ جس میں اسکی تصویر چھپی تھی۔ ہاتھ میں لیے داخل ہُوا اور آداب عرض کرکے میری کرسی کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس کے ہونٹ اندر کی طرف سمٹ رہے تھے، آنکھوں کے آس پاس کا گوشت سکڑ رہا تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ممنون ہورہا ہے۔ بغل میں پرچہ دبا کر اس نے ہاتھ بھی ملنے شروع کردیئے۔ شکریے کے کئی فقرے اس نے دل ہی دل میں بنائے ہونگے۔ مگر نا موزوں سمجھ کر انھیں منسوخ کردیا ہو گا۔ جب میں نے اسے اس اُدھیڑ بُن میں دیکھا توماتم پرسی کے انداز میں اس سے کہا۔

’’تصویر چھپ گئی آپ کی؟۔ نوٹ بھی پڑھ لیا آپ نے؟‘‘

’’جی ہاں۔ آپ۔ کی بڑی نوازش ہے۔ ‘‘

ایک دم میرے سینے میں درد کی ٹیس اٹھی میرا رنگ پیلا پڑ گیا۔ یہ درد بہت پرانا ہے۔ جس کے دورے مجھے اکثر پڑتے رہتے ہیں۔ میں اس کے دفیعے کے لیے سینکڑوں علاج کرچکا ہوں۔ مگر لاحاصل چائے پیتے پیتے یہ درد ایک دم اُٹھا اور سارے سینے میں پھیل گیا۔ عبدالرحمن نے میری طرف غور سے دیکھا اور گھبرائے ہُوئے لہجہ میں کہا۔

’’آپکے دشمنوں کی طبیعت ناساز معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘

میں اس وقت ایسے موڈ میں تھا کہ دشمنوں کو بھی اس موذی مرض کا شکار ہوتے نہ دیکھ سکتا، چنانچہ میں نے بڑے روکھے پن کے ساتھ کہا۔

’’کچھ نہیں، میں بالکل ٹھیک ہُوں۔ ‘‘

’’جی نہیں، آپ کی طبیعت ناساز ہے۔ ‘‘

وہ سخت گھبرا گیا۔

’’میں۔ میں۔ میں آپ کی کیا خد مت کرسکتا ہوں؟‘‘

’’میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ مطلق فکر نہ کریں۔ سینے میں معمولی سا درد ہے، ابھی ٹھیک ہو جائیگا۔ ‘‘

’’سینے میں درد ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ تھوڑی دیر کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔

’’سینے میں درد ہے تو۔ تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ کو قبض ہے اور قبض۔ ‘‘

قریب تھا کہ میں بھنّا کر اس کو دو تین گالیاں سُنا دوں مگرمیں نے ضبط سے کام لیا۔

’’آپ۔ حد کرتے ہیں۔ آپ۔ سینے کے درد سے قبض کا کیا تعلق؟‘‘

’’جی نہیں۔ قبض ہو تو ایک سو ایک بیماری پیدا ہو جاتی ہے اور سینے کا درد تو یقیناً قبض ہی کا نتیجہ ہے۔ آپکی آنکھوں کی زردی صاف ظاہر کرتی ہے کہ آپکو پرانا قبض ہے اور جناب قبض کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو ایک دو روز تک اجابت نہ ہو۔ جی نہیں، آپ جس کو با فراغت اجابت سمجھتے ہیں ممکن ہے وہ قبض ہو۔ سینہ اور پیٹ تو پھر بالکل پاس پاس ہیں۔ قبض سے تو سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ۔ دراصل آپکی کمزوری کا باعث بھی یہی قبض ہے۔ ‘‘

عبدالرحمن چند لمحات کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ لیکن فوراً ہی اس نے اپنے لہجہ میں زیادہ چکناہٹ پیدا کرکے کہا۔

’’آپ نے کئی ڈاکٹروں کا علاج کیا ہو گا۔ ایک معمولی سا علاج میرا بھی دیکھیے۔ خدا کے حکم سے یہ مرض بالکل دُور ہو جائیگا۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کون سا مرض؟‘‘

عبدالرحمن نے زور زور سے ہاتھ ملے

’’یہی۔ یہی، قبض!‘‘

لاحول ولا، اس بیوقوف سے کس نہ کہہ دیا کہ مجھے قبض ہے، صرف میرے سینے میں درد ہے جوکہ بہت پرانا ہے اور سب ڈاکٹروں کی متفقہ رائے ہے کہ اس کا باعث اعصاب کی کمزوری ہے۔ مگریہ نیم حکیم خطرہ جان برابر کہے جارہا ہے کہ مجھے قبض ہے، قبض ہے، قبض ہے، کہیں ایسا نہ ہو میں اس کے سر پر غصے میں آکر چائے کا پیالہ دے ماروں۔ عجب نامعقول آدمی ہے، اپنی طبابت کا پٹارہ کھول بیٹھا ہے اور کسی کی سُنتا ہی نہیں۔ غصے کے باعث میں بالکل خاموش ہو گیا۔ اس خاموشی کا عبدالرحمن نے فائدہ اٹھایا اور قبض کا علاج بتانا شروع کردیا۔ خدا معلوم اس نے کیا کیا کچھ کہا۔

’’بات یہ ہے کہ پیٹ میں آپ کے سُدّے پڑ گئے ہیں۔ آپ کو روز اجابت تو ہو جاتی ہے مگر یہ سُدّے باہر نہیں نکلتے۔ معدے کا فعل چونکہ درست نہیں رہا اس لیے انتڑیوں میں خشکی پیدا ہو گئی ہے۔ رطوبت یعنی وہ لیسدار مادو جو فضلے کو نیچے پھسلنے میں مدد دیتا ہے آپکے اندر بہت کم رہ گیا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ رفع حاجت کے وقت آپ کو ضرورت سے زیادہ زور لگانا پڑتا ہو گا۔ قبض کھولنے کے لیے عام طور پر جو انگریزی مسہل دوائیں بازار میں بِکتی ہیں بجائے فائدے کے نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان سے عادت پڑ جاتی ہے اور جب عادت پڑ جائے تو آپ خیال فرمائیے کہ ہرروز پاخانہ لانے کے لیے آپ کو تین آنے خرچ کرنے پڑیں گے۔ یونانی دوائیں اوّل تو ہم لوگوں کے مزاج کے موافق ہوتی ہیں دوسرے۔ ‘‘

میں نے تنگ آکر اس سے کہا۔

’’آپ چائے پئیں گے؟‘‘

اور اس کا جواب سنے بغیر ہوٹل والے کو آرڈر دیا

’’گُلاب، ان کے لیے ایک ڈبل چائے لاؤ۔ ‘‘

چائے فوراً ہی آگئی، عبدالرحمن کرسی گھسیٹ کربیٹھا تو میں اٹھ کھڑا ہوا

’’معاف کیجیے گا، مجھے ڈائریکٹر صاحب کے ساتھ ایک سین کے متعلق بات چیت کرنا ہے۔ پھر کبھی گفتگو ہو گی۔ ‘‘

یہ سب کچھ اس قدر جلدی میں ہوا کہ قبض کی باقی داستان عبدالرحمن کی زبان پر منجمد ہو گئی اور میں رسٹوران سے باہر نکل گیا۔ درد شروع ہونے کے باعث میری طبیعت خراب ہو گئی تھی، اس کی باتوں نے اس کی تکدر میں اور بھی اضافہ کردیا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کیوں اس بات پر مصر ہے کہ مجھے قبض ہے۔ میری صحت دیکھ کر وہ کہہ سکتا تھا کہ میں مدقوق ہُوں جیسا کہ عام لوگ میرے متعلق کہتے آئے ہیں۔ وہ یہ کہہ سکتا تھا کہ مجھے سِل ہے۔ میری انتڑیوں میں ورم ہے۔ میرے معدے میں رسولی ہے، میرے دانت خراب ہیں۔ مجھے گٹھیا ہے مگر بار بار اس کا اس بات پر زور دینا کیا معنی رکھتا تھاکہ مجھے قبض ہورہا ہے یعنی اگر مجھے واقعی قبض تھا تو اس کا احساس مجھے پہلے ہونا چاہیے تھا نہ کہ حافظ عبدالرحمن کو؟۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ خواہ مخواہ مجھے قبض کا بیمار کیوں بنا رہا تھا۔ ہوٹل سے نکل کر میں ڈائریکٹر صاحب کے کمرے میں چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھے ہیرو، ولن اور تین چار ایکسٹریسوں کے ساتھ گپیں ہانک رہے تھے۔ آؤٹ ڈور شوٹنگ چونکہ بادلوں کے باعث ملتوی کردی گئی تھی۔ اس لیے سب کو چھٹی تھی۔ مجھے جب ہیرو کے پاس بیٹھے تین چار منٹ گزر گئے تو معلوم ہوا کہ حافظ عبدالرحمن کی باتیں ہورہی ہیں۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ایک ایکسٹرا نے اس کے خلاف کافی زہر اُگلا۔ دوسرے نے اس کی مختلف عادات کا مضحکہ اڑایا۔ تیسرے نے اس کے مکالمہ ادا کرنے کی نقل اتاری۔ ہیرو کو حافظ عبدالرحمن کے خلاف یہ شکایت تھی کہ وہ اس کی بول چال میں زبان کی غلطیاں نکالتا رہتا ہے، ولن نے ڈائریکٹر صاحب سے کہا۔

’’بڑا واہیات آدمی ہے صاحب، کل ایک آدمی سے کہہ رہا تھا کہ میرا ایکٹنگ بالکل فضول ہے۔ آپ اس کو ایک بار ذرا ڈانٹ پلا دیجیے‘‘

ڈائریکٹر صاحب مسکرا کر کہنے لگے

’’تم سب کو اس کے خلاف شکایت ہے مگر اسے میرے خلاف ایک زبردست شکایت ہے۔ ‘‘

تین چار آدمیوں نے اکٹھے پوچھا۔

’’وہ کیا۔ ‘‘

ڈائریکٹر صاحب نے پہلی مسکراہٹ کو طویل بنا کر کہا

’’وہ کہتا ہے کہ مجھے دائمی قبض ہے جس کے علاج کی طرف میں نے کبھی غور نہیں کیا۔ میں اس کو کئی بار یقین دِلا چکا ہُوں کہ مجھے قبض وبض نہیں ہے لیکن وہ مانتا ہی نہیں، ابھی تک اس بات پر اڑا ہوا ہے کہ مجھے قبض ہے۔ کئی علاج بھی مجھے بتا چکا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ مجھے اس طرح ممنون کرنا چاہتا ہے۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’وہ کیسے؟‘‘

’’یہ کہنے سے کہ مجھے قبض ہے اور پھر اس کا علاج بتانے سے۔ وہ مجھے ممنون ہی تو کرنا چاہتا ہے ورنہ پھر اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟۔ بات دراصل یہ ہے کہ اسے صرف اسی مرض کا علاج معلوم ہے یعنی اس کے پاس چند ایسی دوائیں موجود ہیں۔ جن سے قبض دور ہوسکتا ہے۔ چونکہ مجھے وہ خاص طور پر ممنون کرنا چاہتا ہے اس لیے ہر وقت اس تاک میں رہتا ہے کہ جونہی مجھے قبض ہو وہ فوراً علاج شروع کرکے مجھے ٹھیک کردے۔ آدمی دلچسپ ہے۔ ‘‘

ساری بات میری سمجھ میں آگئی اور میں نے زور زور سے ہنسنا شروع کردیا۔

’’ڈائریکٹر صاحب۔ آپ کے علاوہ حافظ صاحب کی نظرِ عنایت خاکسار پر بھی ہے۔ میں نے کل ان کا فوٹو اپنے پرچے میں چھپوایا ہے۔ اس احسان کا بدلہ اُتارنے کے لیے ابھی ابھی ہوٹل میں انھوں نے مجھے یقین دلانے کی کوشش کی کہ مجھے زبردست قبض ہو رہا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ میں ان کے اس حملے سے بچ گیا اس لیے کہ مجھے قبض نہیں ہے۔ ‘‘

اس گفتگو کے چوتھے روز مجھے قبض ہو گیا، یہ قبض ابھی تک جاری ہے یعنی اس کو پورے دو مہینے ہو گئے ہیں۔ میں کئی پیٹنٹ دوائیں استعمال کر چکا ہُوں۔ مگر ابھی تک اس سے نجات حاصل نہیں ہُوئی۔ اب میں سوچتا ہُوں کہ حافظ عبدالرحمن کو اپنی خواہش پوری کرنے کا ایک موقع دے ہی دُوں۔ کیا حرج ہے؟۔ مجھے اس سے محبت تو ہے نہیں۔

سعادت حسن منٹو
(Visited 6 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں