حکومت کا دوسرا منی بجٹ اور آئی ایم ایف

منی بجٹ

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے رواں مالی سال کا دوسرا منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا، فائلر کیلئے بینکنگ ٹرانزیکشن پر 0.3 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیا گیا۔

صنعتی مشینری کیلئے کسٹم ڈیوٹی میں 5 سال کی چھوٹ مل گئی ، 500 اسکوائر فٹ کے چھوٹے شادی ہالوں پر ٹیکس20 سے کم کر کے 5 ہزار کر دیا گیا،

1800سی سی سے بڑی گاڑیاں ،در آمدی موبائل اور سیٹلائٹ فون مہنگے ہو گئے ، نان فائلر 1300 سی سی تک گاڑی خرید سکے گا،سستے گھروں کیلئے 5 ارب کی قرض حسنہ سکیم لائی جائے گی،زراعت، صنعت اور بر آمدات کیلئے مراعات دی جائیں گی ، زرعی بینکوں کے ٹیکس کو 39 سے کم کرکے 20 فیصد کررہے ہیں،سٹاک مارکیٹ ٹریڈنگ پر ودہولڈنگ اور سیونگز پر عائد ٹیکس ختم کر دیا ، توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری 5 سال کیلئے تمام ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہو گی ، چھوٹے کاروبار پر ٹیکس آدھا کر دیا ۔

موجودہ بجٹ کی دلچسپ اور خاص بات یہ رہی کہ وزیر خزانہ اسد عمر معاشی اعداد و شمار پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات اور فقرہ بازی کا بھرپور جواب دیتے رہے۔ تقریر کے دوران انہوں نے کہا بجٹ نہیں اصلاحات کا پیکیج پیش کررہے ہیں، جس میں غریبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم اور مراعات یافتہ طبقے پربڑھایا جا رہا ہے ،میرے دائیں جانب والوں کے پاس پچھلے 10 اور 5 سال حکومت تھی، حکومت ملکی معیشت کو آئی سی یو میں چھوڑ کر گئی ،گزشتہ مالی سال ختم ہوا تو بجٹ خسارہ 6.6 فیصد تھا،اس کے علاوہ 800 ارب کا جو نقصان چھوڑ کر گئے ، اس کو پورا نہیں کرسکتے۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار جھوٹ کا پلندہ سناتے تھے ،کاش ان کا ضمیر جاگ جاتا، برآمدات 70 سے 40 فیصد رہ گئیں، بجلی کے نظام میں ایسی تباہی لائی گئی کہ ایک سال میں 450ارب کا خسارہ ہوا جبکہ گیس کے شعبے میں150ارب کا خسارہ ملا، پی آئی اے ،سٹیل مل کے اداروں میں ریکارڈ خسارہ بھی ہمارے حوالے کیا گیا ، ریلوے کا خسارہ 30ارب رہا ۔حکومت نے مشکل فیصلے کئے جو ناگزیر تھے کیونکہ علی بابا چالیس چور قوم کو ڈھائی سے 3 ہزار ارب کا مقروض کرگئے ۔اب امیر اور غریب طبقے میں فرق ختم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔

آج سے 2سال پہلے معاشی ماہرین نے خطرے کی نشاندہی کی،حکومت کو آگے الیکشن نظر آرہا تھا، اس لئے اصلاح کے بجائے الیکشن خریدنے کی کوشش کی اوربجٹ خسارہ 900 ارب سے بڑھادیا، اب وہ پیسہ کہاں سے آئے گا، کیا سوئس بینک سے آئے گا، یہ قرضہ عوام نے ادا کرنا ہے ۔

جنہوں نے الیکشن خریدنے کی کوشش کی، ان کو عوام نے گھر بھیج دیا۔ عوام نے مسائل کے حل کے لئے ہمیں ایوان میں بھیجا ، ایسا کام کرنا ہے کہ آئندہ آئی ایم ایف کے پاس جانا نہ پڑے تاکہ اگلی حکومت یہ نہ کہے کہ پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف کا قرض دیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ منی بجٹ کو قانونی ماہرین نے ٹیکس بجٹ قراردیتے ہوئے کہا ہے عملی طور پر عوام تک اس کے ثمرات پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

عوام کی دلچسپی گیس، بجلی، پانی، روزگار اور کم سے کم تنخواہ میں اضافے اور دیگر سہولتوں کی فراہمی میں ہے۔ جبکہ تاجروں اور صنعت کاروں نے منی بجٹ پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا۔انکے مطابق بجٹ میں عوام کو دھوکا دیا گیا، یہ عوام دشمن ہے، شفافیت ضروری ہے، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ معاشی ماہر ین کے مطابق بجٹ اچھا ہے اور اس کے بہتر نتائج ملیں گے۔

ایکسپورٹ کیلئے بہتر اقدامات کیے گئے ہیں تاہم ریونیو سائیڈ نظر انداز کی گئی۔ حکومت نے کاروبار کے فروغ کیلئے مثبت اقدامات کیے ہیں، خام مال پر ڈیوٹی کے خاتمے، نئی صنعتوں کیلئے 5 سال تک ٹیکس چھوٹ، فائلرز کیلئے بنکنگ لین دین پر وتھ ہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ اور نان فائلرز کو 1300 سی سی تک کی کاریں خریدنے کی اجازت دیے جانے کے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔

اسی طرح شادی ہالز میں ٹیکس کی شرح میں کمی، کمپنیوں کیلئے ہر ماہ وتھ ہولڈنگ ٹیکس اسٹیٹمنٹ کی پابندی کا خاتمہ، کاروبار میں نقصان کی صورت میں اسٹیٹمنٹ میں سرمایہ کو آئندہ 3 سال تک اوپر لے جانے کی اجازت اور شمسی توانائی کے آلات کی تیاری پر بھی 5 سال ٹیکس چھوٹ کے اعلانات بھی بہتر سمت میں مثبت اقدامات ہیں۔حکومت نے منی بجٹ پیش کرنے میں اہداف پر مبنی حکمت عملی اختیار کی لیکن ٹیکسوں میں اضافے کی تفصیلات آنے کے بعد ہی منی بجٹ کا صحیح جائزہ لیا جا سکے گا۔

صنعت کاروں کو بھی اس بات کا انتظار ہے کہ حکومت کن اشیاء پر ٹیکس کے نفاذ میں اضافہ کرے گی۔عوامی حلقوں کے مطابق سستے موبائل فونز سے ٹیکس برائے نام ختم کرنے کا دعویٰ عوام کو دھوکا دینے کے مترادف ہے، غریب آدمی کی آمدن کو سامنے رکھے بغیر بجٹ تیار کیا گیا ہے کیونکہ بجٹ پیش کرنیوالا شخص ماہر معاشیات نہیں۔ پی ٹی آئی اپنے دعووں میں کھوکھلی ثابت ہوچکی ہے۔

حکومت نے اپنی عیاشیاں بڑھا دی ہیں اور ان عیاشیوں کے اخرجات پورے کرنے کیلئے منی بجٹ کے نام سے عوام کی جیب سے پیسہ نکالنے کی نئی پالیسی بنائی گئی ہے۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھاکہ وہ وی آئی پی کلچر ختم کردیں گے لیکن آج بھی حکومتی وزیروں اور مشیروں کا بیس بیس گاڑیوں کا پرٹوکول قائم و دائم ہے۔تمام تر انکار کے باوجود حکومت کو بہرحال آئی ایم ایف کے در پر حاضری دینا ہی پڑے گی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں