شراب

گھوگا

’’آپ کے منہ سے بُو کیوں آ رہی ہے‘‘

’’کیسی بو؟‘‘

’’جیسی پہلے آیا کرتی تھی۔ مجھے بنانے کی کوشش نہ کیجیے‘‘

’’لاحول ولا، تم بنی بنائی ہو، تمھیں کون بنا سکتا ہے‘‘

’’آپ بات ٹال کیوں رہے ہیں؟

’’میں نے تو آج تک تمہاری کوئی بات نہیں ٹالی‘‘

’’لتے بدن پر جھولنے کا زمانہ آگیا ہے لیکن آپ کو کچھ فکر ہی نہیں‘‘

’’یہ تم نے اچھی کہی۔ تمہارے پاس کم سے کم بارہ ساڑھیاں پندرہ قمیضیں سولہ بلاؤز دس شلواریں اور پانچ بنیانیں ہوں گی اور تم کہتی ہو کہ لتے بدن پر جھولنے کا زمانہ آگیا ہے۔ تم عورتوں کی فطرت ہی یہی ہے کہ ہمیشہ ناشکری رہتی ہو‘‘

’’آپ بس مجھے ہر وقت یہی طعنہ دیتے ہیں۔ بتائیے ان پچھلے چھے مہینوں میں آپ نے مجھے کتنا روپیہ دیا ہے‘‘

حساب تو میرے پاس نہیں لیکن اندازاً چھ سات ہزار روپے ہوں گے‘‘

’’چھ سات ہزار؟ آپ نے ان میں سے کتنے لیے‘‘

’’یہ مجھے یاد نہیں‘‘

’’آپ کو بھلا یہ کب یاد رہے گا۔ چور اُچکے ہیں اول درجے کے۔

’’یہ تمہاری بڑی مہربانی ہے کہ تم نے مجھے اوّل درجے کا رتبہ بخشا۔ بس اب چپ رہو اور سو جاؤ‘‘

’’سو جاؤں؟‘‘

نیند کس کم بخت کو آئے گی۔ جس کا شوہر ایسا گیا گزرا ہو۔ آپ کو کم از کم میرا نہیں تو اپنی ان بچیوں ہی کا کچھ خیال رکھنا چاہیے۔ ان کے تن پر بھی کپڑے نہیں‘‘

ننگی پھرتی ہیں۔ ابھی دس روز ہوئے میں نے تمھیں ایک تھان پوپلین کا لا کر دیا تھا۔ اس سے تم نے تینوں بچیوں کے معلوم نہیں کتنے فراک بنائے۔ اب کہتی ہو کہ ان کے تن پر کپڑے ہی نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ غلط بیانی کیوں ہوتی ہے۔ کل کو تم یہ شکایت کرو گی کہ تمہارے پاس کوئی جوتا کوئی سینڈل نہیں۔ حالانکہ تمہاری الماری میں کئی جوتے اور سینڈلیں پڑی ہیں۔ چار روز ہوئے تمہارے لیے واکنگ شو لے کر آیا تھا۔ ‘‘

’’بڑا احسان کیا تھا آپ نے مجھ پر۔ ‘‘

’’احسان کی بات نہیں۔ میں ایک حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ ‘‘

’’آپ حقیقت بیان کررہے ہیں، تو اس حقیقت کا انکشاف بھی کر دیجیے کہ آج آپ کے منہ سے بو کیوں آرہی ہے‘‘

’’کیسی بو‘‘

’’اوہ۔ تو تمہارا مطلب ہے، میں نے شراب پی ہے‘‘

’’مطلب وطلب میں نہیں جانتی، جو بو آپ کے منہ سے میری ناک تک پہنچ رہی ہے صریحاً اسی خبیث چیز کی ہے‘‘

’’خواہ مخواہ تو کوئی شک نہیں کرتا۔ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ‘‘

’’بھئی کسی کی بھی قسم لے لو۔ میں نے نہیں پی۔ نہیں پی۔ ۔ نہیں پی‘‘

’’آپ کا اُکھڑا اُکھڑا لہجہ چغلی کھا رہا ہے۔ ‘‘

’’اس لہجے کو جھونکو جہنم میں۔ میں نے نہیں پی۔ !‘‘

’’خدا کرے ایسا ہی ہو۔ لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ آپ نے کم از کم آدھی بوتل پی ہے۔ ‘‘

’’یہ اندازہ تم نے کیسے لگایا؟‘‘

’’پندر برس ہو گئے ہیں آپ کے ساتھ زندگی گزارتے۔ کیا میں اتنا بھی نہیں سمجھ سکتی۔ آپ کو یاد ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے مجھے ٹیلی فون کیا تھا اور میں نے فوراً آپ کی آواز سے اندازہ لگا کر آپ سے کہاتھا کہ اس وقت آپ چار پیگ پیے ہوئے ہیں۔ کیا یہ جھوٹ تھا؟‘‘

’’نہیں۔ اُس دن میں نے واقعی چار پیگ پیے تھے۔ ‘‘

’’اب میرا اندازہ یہ ہے کہ آپ نے آدھی بوتل پی رکھی ہے۔ اس لیے آپ ہوش میں ہیں‘‘

’’یہ عجیب منطق ہے۔ ‘‘

’’منطق ونطق میں نہیں جانتی۔ میں نے آپ کے ساتھ پندرہ برس گزارے ہیں میں اس دوران میں یہی دیکھتی رہی ہوں کہ آپ دو تین پیگ پئیں تو بہک جاتے ہیں اگر پوری بوتل یا اس کا نصف چڑھا جائیں تو ہوش مند ہو جاتے ہیں‘‘

’’تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب بھی میں پیوں تو آدھے سے کم نہ پیوں‘‘

’’آپ کو تو مجھے ایک روز زہر پلانا پڑے گی تاکہ یہ قصہ ہی ختم ہوجائے‘‘

’’کون سا قصہ۔ زُلیخا کا؟‘‘

’’زلیخا کی ایسی کی تیسی۔ میرا نام کچھ اور ہے۔ غالباً آپ اس نشے کے عالم میں بھول گئے ہوں گے‘‘

’’میں تمہارا نام کیسے بھول سکتا ہوں؟‘‘

’’بتائیے کیا نام ہے میرا؟‘‘

’’تمہارا نام۔ تمہارا نام؟۔ لیکن نام میں کیا پڑا ہے چلو آج سے زلیخا ہی سہی‘‘

’’اورآپ یوسف!‘‘

’’قسم خدا کی، آج تم نے طبیعت صاف کر دی میری۔ لو یہ سو روپے کا نوٹ۔ آج اپنے لیے کوئی چیز خرید لو۔ ‘‘

’’یہ نوٹ آپ پاس ہی رکھیے۔ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ ایسے لمحات میں بہت فیاض ہو جایا کرتے ہیں۔

’’کون سے لمحات میں؟‘‘

’’یہی لمحات جب آپ نے پی رکھی ہو‘‘

’’یہ پی پی کی رٹ تم نے کیا لگا رکھی ہے تم سے سو دفعہ کہہ چکا ہوں کہ پچھلے چھے مہینوں سے میں نے ایک قطرہ بھی نہیں پیا لیکن تم مانتی ہی نہیں۔ اب اس کا علاج کیا ہوسکتا ہے؟‘‘

’’اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپناعلاج کرائیے۔ کسی اچھے ڈاکٹر سے مشورہ لیجیے تاکہ وہ آپ کی اس بد عادت کو دُور کرسکے۔ آپ کبھی غور و فکر کریں تو آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی صحت کتنی گر چکی ہے۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کے رہ گئے ہیں۔ میں ساری رات روتی رہتی ہوں۔ ‘‘

’’صرف ایک دو منٹ رونا کافی ہے، ساری رات رونے کی کیا ضرورت ہے اور پھر اتنا پانی آنکھوں میں کہاں سے آ جاتا ہے جو ساری رات تکیوں کوسیراب کرتا ہے۔ ‘‘

’’آپ مجھ سے مذاق نہ کیجیے‘‘

’’میں مذاق نہیں کررہا۔ ساری رات کوئی عورت، کوئی مرد رو نہیں سکتا۔ البتہ اونٹ یہ سلسلہ کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے کوہان میں کافی پانی جمع ہوتا ہے، جو آنسو بن بن کے ان کی آنکھوں سے ٹپک سکتا ہے۔ مگر مچھ ہیں، جن کے آنسو مشہور ہیں۔ یہ پانی میں رہتے ہیں اس لیے ان کو متواثر پانی بہانے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔ میں آبی حیوان یا جانور نہیں، اور نہ تم ہو‘‘

’’آپ تو فلسفہ بکھیرنے لگتے ہیں‘‘

’’فلسفہ کوئی اور چیز ہے، جس کے متعلق تمہارے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہو گا۔ میں صرف ایسی باتیں بیان کررہا تھا جو عام آدمی سوچ سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے، مگر افسوس ہے کہ تم نے انھیں نہ سمجھا اور ان پر فلسفے کا لیبل لگا دیا۔ ‘‘

’’میں جاہل ہوں۔ بیوقوف ہوں۔ ان پڑھ ہوں۔ مجھے یہ سب کچھ تسلیم ہے۔ جانے میری بلا کہ فلسفہ کیا ہے؟ میں تو صرف اتنا پوچھنا چاہتی تھی کہ آپ کے منہ سے وہ گندی گندی بو کیوں آرہی ہے؟‘‘

’’میں کیا جانوں۔ ہوسکتا ہے، میں نے آج دانت صاف نہ کیے ہوں‘‘

’’غلط ہے ہم دونوں نے اکٹھے صبح غسل خانے میں دانتوں پر برش کیا تھا۔ ٹوتھ پیسٹ ختم ہو گئی تھی۔ میں نے فوراً نوکر کو بھیجا اور وہ کولی نوس لے کر آیا۔ ‘‘

’’ہاں، ہاں مجھے یاد آیا‘‘

’’آپ ہوش ہی میں نہیں۔ آپ کی یاد کو اب کب تک جگاتی رہوں گی۔ ‘‘

’’یاد کو چھوڑو کل صبح تم ٹھیک پانچ بجے جگا دینا۔ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ ‘‘

’’ضروری کام کیا ہے آپ کو؟ شراب کی بوتل کا بندوبست کرنا ہو گا۔ ‘‘

’’بھئی، مدت ہوئی میں اس چیز سے نا آشنا ہو چکا ہوں‘‘

’’آج تو آپ پوری طرح آشنا ہو کے آئے ہیں‘‘

’’یہ سراسر بہتان ہے۔ میں تمہاری قسم کھا کے۔ ‘‘

’’میری قسم آپ نہ کھائیے۔ آپ کیسی بھی قسم کھائیں، مجھے آپ کی کسی بات پریقین نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ شراب پینے کے بعد آپ کی کوئی بات قابل اعتماد نہیں ہوتی۔ ‘‘

’’یعنی تم ابھی۔ ‘‘

’’آپ کو یہ ہچکی شروع کیوں ہو گئی۔ ‘‘

’’ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ مجھے معلوم نہیں۔ شاید ڈاکٹروں کو بھی نہ ہو۔ ‘‘

’’پانی لاؤں؟‘‘

’’نہیں۔ اندر میری الماری میں گلیسرین پڑی ہے، وہ لے آؤ‘‘

’’اس سے کیا ہو گا۔ ‘‘

’’وہی ہو گا جو منظورِ خدا ہو گا۔ ‘‘

’’آپ نشے میں ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ گلیسرین کا استعمال غلط ہو جائے‘‘

’’جاؤ۔ اُس کے چار قطرے فوراً ہچکی بند کر دیں گے۔ ‘‘

’’لیکن آپ کے منہ سے یہ بو کس چیز کی آرہی ہے۔ ‘‘

’’میرے پیچھے۔ کیو۔ کیو۔ کیوں پڑی ہو؟ گلیسرین لاؤ۔ ‘‘

’’لاتی ہوں۔ یہ سب شراب پینے کی وجہ سے ہے۔ ‘‘

’’کس کم بخت نے پی ہے۔ اگر پی ہوتی تو یہ حال نہ ہوتا‘‘

’’لے آئی ہو گلیسرین‘‘

’’جی نہیں، وہاں آپ کی بوتل پڑی تھی۔ اُس میں سے یہ تھوڑی سی گلاس میں ڈال کر لے آئی ہوں۔ پانی کا گلاس بھی ساتھ ہے۔ آپ خود جتنا چاہیں اس میں ملا لیجیے۔ میرا خیال ہے گلیسرین سے آپ کو اتنا فائدہ نہیں پہنچے گا جتنا اس چیز سے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں