باپ کی وفات کے سات سالوں بعد پیدا ہونے والی بیٹی!

لیئٹ ملکا کی دلی خواہش تھی کہ ان کے ہاں بچے ہوں مگر انھیں وہ مناسب شخص ابھی تک نہیں ملا تھا جس کے ساتھ وہ اپنے خاندان کی شروعات کر سکتیں۔

پھر وہ ایک ایسے منصوبے کا حصہ بن گئی جس میں انھوں نے ایک شخص کے باپ بننے کی آخری خواہش پوری کی۔

جنوبی اسرائیل میں رہنے والی غیر شادی شدہ اور کنڈر گارٹن سکول کی استانی 35 سالہ لیئٹ ملکا کو کو سنہ 2013 میں محسوس ہوا کہ جلد ہی وہ ڈھلتی عمر کے اس حصے میں ہوں گی جب عورت کے لیے ماں بننا مشکل ہو جاتا ہے۔

لیئٹ کہتی ہیں کہ ’میں گزرتے وقت اور ماں بننے کا موقع کھو دینے کے خیال سے پریشان تھی۔ چنانچہ میں ڈاکٹر کے پاس گئی اور تولید کی اہلیت جانچنے کے چند ٹیسٹ کروائے۔‘

ٹیسٹ کے نتائج سے پتا چلا کہ لیئٹ کے ماں بننے کی صلاحیت بہت کم رہ گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے انھیں متنبہ کیا کہ اگر وہ مناسب شخص (رائٹ پرسن) کی تلاش کے انتظار میں رہیں تو ممکن ہے کہ وہ کبھی ماں نہ بن پائیں۔

لیئٹ کہتی ہیں کہ ’فوراً میں نے یہ فیصلہ کیا کہ جلد از جلد بچے کے حصول کے لیے میں ہر وہ کوشش کروں گی جو میں کر سکتی ہوں۔‘

ڈاکٹر سے ملنے کے بعد جیسے ہی وہ گھر واپس آئیں تو یہ جاننے کے لیے کے ان کے پاس سرِ دست کیا آپشنز ہیں انھوں نے آن لائن اس کی تلاش شروع کر دی۔

وہ کہتی ہیں ’میں چاہتی تھی کہ میرے بچے کو اپنے باپ کے بارے میں علم ہو اور اگر سپرم عطیہ کرنے کا طریقہ کار اپنایا جاتا تو ایسا ناممکن تھا۔‘

اتفاقاً انھوں نے یوٹیوب پر ایک انٹرویو دیکھا جو کہ ٹی وی نیوز پر سنہ 2009 میں نشر ہوا تھا۔ اس انٹرویو میں ولاد اور جولیا پوزنینسکی نامی میاں بیوی نے بتایا کہ وہ حکام سے اس بات کی اجازت لینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اپنے مرحوم بیٹے کے سپرم کو استعمال کر کے ایک بچے کی پیدائش عمل میں لائیں۔ ان کا بیٹا گذشتہ برس فوت ہو گیا تھا۔ انھیں بچے کی پیدائش کے لیے ایک عورت بھی مل گئی تھی۔

لیئٹ نے سوچا کہ اس جیسی صورتحال ان کے لیے بھی بہتر آپشن ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کیونکہ اس طرح پیدا ہونے والے بچے کو معلوم ہو گا کہ اس کا باپ کون تھا، اس کا خاندانی پسِ منظر کیا ہے اور سب سے بڑھ کر بچے کو دادا دادی اور خاندان میسر ہو گا۔‘

مزید تفصیلات کے حصول کے لیے لیئٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جوڑے کے وکیل سے رابطہ کریں گی۔ یہ جان کر انھیں بہت حیرت ہوئی کہ اگرچہ اس انٹرویو کو نشر ہوئے چار برس بیت چکے تھے مگر ولاد اور جولیا کو ابھی تک کامیابی نہیں ملی تھی جبکہ وہ خاتون جن کا انھوں نے انتظام کر رکھا تھا وہ بھی مزید اب اس کام کے لیے راضی نہیں تھیں۔

لیئٹ نے ولاد اور جولیا سے ملاقات کی بندوبست کیا۔ ملاقات کے روز ولاد اور جولیا اپنے ہمراہ ایک البم لائے جو ان کے محبوب بیٹے بیروک کی تصاویر سے بھرا ہوا تھا۔

اگرچہ ان کی بیٹے کی وفات کو بہت زیادہ عرصہ بیت چکا تھا مگر جولیا کے لیے بیٹے کو کھو دینے کا تذکرہ کرنا ناقابلِ برداشت تھا۔

جولیا کہتی ہیں کہ ’بیروک بہترین اور شاندار شخص تھا۔ لیکن اس کے بارے میں بات کرنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔‘

24 سالہ بیروک، جو کہ حائفہ میں قائم ایک مشہور یونیورسٹی ٹیکنیین میں ماحولیات کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، نے اپنے منہ میں ایک زخم کی موجودگی کو محسوس کیا جس سے خون ہمیشہ رستا رہتا تھا۔ بعد ازاں ان کو کینسر کی تشخیص ہوئی۔

کیونکہ کیموتھراپی کے دوران سپرم کی پیداوار ختم یا کم ہو سکتی ہے اسی لیے علاج شروع ہونے سے قبل بیروک کے کچھ سپرمز کو محفوظ کر لیا گیا۔ ان کے بال گر گئے جبکہ ڈاکٹروں نے ان کی زبان کے ایک حصے کو کاٹ دیا جس کے باعث وہ قوت گویائی سے محروم ہو گئے۔ لیکن اس عمل سے پہلے ہی وہ اپنی آخری خواہش بیان کر چکے تھے۔

ان کی والدہ جولیا کے مطابق ’بیروک نے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ اگر دوران علاج وہ مر گئے تو ایک مناسب خاتون کو ڈھونڈ کر اس کے سپرم کو بچہ پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔‘

بیروک 25 برس کی عمر میں سات نومبر سنہ 2008 کو فوت ہوئے۔

اپنی موت سے قبل بیروک نے اپنے وکیل ایرت روسنبلم کے سامنے اپنی بیالوجیکل وصیت تحریر کی۔ ایرت روسنبلم اسرائیل میں بعد از مرگ نئی نسل کی پیدائش کی مہم کے سرخیل ہیں۔

بیالوجیکل وصیت کے ذریعے کوئی شخص اپنی حیاتیاتی میراث پر مبنی خواہشات کو قانونی حیثیت دے سکتا ہے۔ اپنی وصیت میں بیروک نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کے محفوظ شدہ سپرم کو ان کی وفات کے بعد ان کے بچے کی پیدائش کے لیے استعمال کیا جائے۔

دنیا میں ایسی وصیت کرنے والے وہ پہلے شخص تھے۔

ان کی وفات کے فوراً بعد ان کی والدہ جولیا نے اپنے مرحوم بیٹے کی اس خواہش پر کام شروع کر دیا۔ نہ صرف انھوں نے اس ہونے والے بچے کی ماں کو ڈھونڈنا تھا بلکہ انھیں محفوظ شدہ سپرم کو تک رسائی کے لیے اسرائیلی عدالت کی اجازت درکار تھی۔

ایرت روسنبلم کی مدد سے ولاد اور جولیا نے جلد ہی ایک روسی نژاد اسرائیلی خاتون کو ڈھونڈ نکالا جو اس ہونے والے بچے کی ماں ہو سکتیں تھیں۔ اس مقصد کے لیے وہ عدالت بھی گئے تاکہ بیروک کے سپرم کو استعمال کرنے کی اجازت لے سکیں، اور یہ کیس انھوں نے جیت لیا۔ تاہم ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر اس خاتون کو کوئی اور ساتھی مل گیا اور وہ اپنے معاہدے سے دستبردار ہو گئیں۔

جولیا نے بتایا ’اس کے بعد ایک اور بہت اچھی نوجوان خاتون ہمارے پاس آئیں۔’ بجائے پہلی خاتون کے اس نئی خاتون کا نام عدالتی حکم نامے میں شامل کروایا گیا اور ان کا آئی وی ایف عمل (پراسیس) شروع ہوا۔ تاہم چھ راؤنڈز کے بعد بھی وہ خاتون حاملہ نہ ہو پائیں۔ اس عمل کے دوران بیروک کے سپرم کی محدود مقدار بہت زیادہ کم ہو گئی۔‘

اپنے بیٹے کو کھو دینے اور بیروک کے بچے کے حصول میں ہونے والی یکے بعد دیگرے ناکامیاں جولیا کے حوصلے کو مات نہ دیں سکیں اور وہ اگے بڑھنے کے لیے پرعزم رہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں اس بات کے لیے تیار تھی کے مجھے مزید نہیں جینا۔ لیکن میں نے تہیہ کیا اگر مجھے جینا ہے تو مجھے اپنی زندگی میں خوشی اور پیار واپس لانا ہو گا۔‘

’میں چاہتی تھی کہ میرا بیٹے کے وجود جاری رہے۔ میری دلی خواہش تھی کے میرا بیٹا واپس آ جائے۔ میں نے سوچا شاید ایک لڑکا پیدا ہو جو ہو بہو بیروک جیسا ہو۔‘

کیا وہ بیروک کی آخری خواہش پوری بھی کر پائیں گی اور اس میں کتنا وقت لگے گا وہ اس بارے میں غیر یقینی کا شکار تھیں۔ جولیا اپنی زندگی میں ایک بچے کی خواہش مند تھیں۔ 55 برس کی عمر میں جولیا اور ان کے شوہر ولاد نے عطیہ شدہ ایگز اور آئی وی ایف کے ذریعے اپنا خود کا بچہ پیدا کرنے کی کوشش بھی کی۔

جب ان کے بیٹے کی پیدائش ہوئی تو جولیا کا کہنا تھا کہ یہ ایک مرتبہ پھر تازہ ہوا کے جھونکے جیسا تھا۔

جولیا کو سنہ 2013 کا وہ دن بہت اچھی طرح یاد ہے جب وہ اور ان کے شوہر پہلی بار لیئٹ سے ملے۔

جولیا کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک خوبصورت اور نوجوان خاتون تھیں۔ کالے بال، سرخ کوٹ، اور وہ مجھے ابتدا ہی سے بہت اچھی لگیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ اچھی انسان تھیں۔‘

جولیا نے لیئٹ کو بیروک کی تصاویر والا البم دکھایا جو وہ اپنے ساتھ لائی تھیں۔ اور لیئٹ کا کہنا ہے کہ انھیں کافی اپنا پن محسوس ہوا۔

لیئٹ نے کہا کہ ’تصاویر کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ شخص کون تھا۔ اتنی پیاری آنکھیں، خوبصورت مسکراہٹ، بہت خوبرو اور دوستوں میں گِھرا ہوا۔‘

’اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنے والدین سے بہت لگاؤ رکھتا تھا۔ کیوں کے ہر تصویر میں وہ ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور گلے مل رہے تھے۔ میں اس کی آنکھوں میں خوشی اور محبت دیکھ سکتی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک عظیم انسان تھا۔‘

جولیا نے لیئٹ کو تصاویر دکھاتے ہوئے بتایا کہ بیروک کو زندگی کتنی پسند تھی، وہ کتنا سمارٹ اور ملنسار تھا، اس کو کھانا پکانا کتنا پسند تھا اور اس کے دوست کیسے تھے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب لیئٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسے شخص کے بچے کی ماں بنیں گی جو پانچ سال قبل وفات پا چکے ہیں اور جن سے وہ کبھی نہیں ملیں۔

لیئٹ، ولاد اور جولیا نے معاہدوں پر دستخط کیے جن کے تحت سپرم پر لیئٹ کی ملکیت کو تسلیم کیا گیا تاکہ کوئی دوسرا شخص ان کو استعمال نہ کر سکے۔

جولیا نے ان معاہدوں کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم ایسا نہ صرف بیروک کی آخری خواہش پوری کرنے کے لیے کر رہے تھے بلکہ اپنے پیارے پوتے کو حاصل کرنے کے لیے بھی۔‘

جولیا اور لیئٹ اس کے بعد ایک سماجی کارکن سے ملے جس نے ان سے ان کے نئے بننے والے تعلق کے حوالے سے سوالات کیے یہاں تک کہ بچے کا نام رکھنے پر اگر لڑائی ہوئی تو کیا ہو گا۔

اس کے بعد لیئٹ کے تولید کے متعلقہ ٹیسٹ شروع ہوئے اور آئی وی ایف کا پہلا راؤنڈ ناکام رہا۔

لیئٹ نے بتایا کہ ’صرف ایک بیضہ (ایگ) تھا۔ یہ ایک صدمہ تھا، مجھے زیادہ کی توقع تھی۔ اور پھر یہ بیضہ ارتقا کے اگلے مرحلے، بیضہ کا ایمبریو میں تبدیل ہونا، عبور نہ کر سکا۔‘

لیئٹ نے پرامید رہنے کی کوشش کی لیکن بیضہ دانی (اووری) سے زیادہ تعداد میں ایگز بنانے والی ادویات کھانے کے باوجود دوسری دفعہ بھی صرف ایک ہی ایگ تھا۔

لیئٹ نے کہا ’انھوں نے بیضے کو فرٹیلائز کیا اور پھر مجھے یہ جاننے کے لیے مجھے ایک روز انتظار کرنا پڑا کہ آیا یہ ایمبریو میں تبدیل ہوا ہے۔‘

اس مرتبہ خوش خبری تھی۔

’میں نے سوچا شاید کام مکمل ہو چکا ہے۔‘

ذرخیز (فرٹیلائز) کیا گیا بیضہ لیئٹ کی بیضہ دانی میں منتقل کیا گیا۔ ایک ہفتے انھوں نے امید کا دامن تھامے آرام اور انتظار کیا۔ اس کا بعد ان کا حاملہ ہونے کا ٹیسٹ ہوا اور نتائج جاننے کے لیے انھوں نے ہسپتال فون کیا۔

لیئٹ نے بتایا کہ ’وہ پرجوش انداز میں بتا رہے تھے، آپ کا حمل ٹھہر گیا ہے۔‘

لیئٹ نے یہ اچھی خبر سب سے پہلے اپنی بہن کو اور پھر جولیا کو بتائی۔ آئندہ آنے والے دنوں میں ان کو درپیش سنجیدہ صورتحال واضح ہونا شروع ہو گئی۔

لیئٹ کہتی ہیں کہ ’میں صدمے میں تھی۔ میں نے سوچا نہیں تھا کہ یہ ہونے جا رہا ہے۔ اور جب یہ ہوا تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں ولاد اور جولیا کو بھی زیادہ نہیں جانتی تھی۔ میں ان سے صرف دو یا تین مرتبہ ملی تھی۔‘

لیئٹ اپنے خاندان کے بارے میں بھی پریشان تھیں کہ آیا وہ بیروک کے خاندان سے گھل مل پائیں گے۔ ان کے والدین مراکش سے اسرائیل آئے تھے جبکہ ولاد اور جولیا روس سے۔ لیئٹ کا کہنا تھا کہ دونوں خاندان ثقافتی طور پر بہت مختلف تھے۔

لیئٹ نے ابھی اپنی والدہ کو بھی ولاد اور جولیا کے بارے میں نہیں بتایا تھا اور یہ بھی کہ وہ ان کے مرے ہوئے بیٹے کے بچے کی ماں بننے جا رہی تھیں۔

’میں ہر شخص کی رائے کا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتی تھی خاص کر میری والدہ کی۔ اس لیے میں نے اسے راز رکھا۔ لیکن جب میں نے انھیں یہ بتانے کے لیے فون کیا کہ میں حاملہ ہوں تو وہ خوش تھیں۔‘

لیئٹ کا حمل آگے بڑھ رہا تھا مگر ان کے خدشات ختم نہ ہو سکے۔ وہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ ان کا بچہ کیسا نظر آئے گا ان کو رات کو اس بارے میں خواب آتے تھے۔

جولیا بھی پریشان تھیں۔ وہ لیئٹ کے نزدیک رہنا چاہتی تھیں مگر انھیں لیئٹ کی خواہشات کے احترام کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا تھا.

شوہر پسند نہیں تو گزارہ کیسے کیا جائے؟

جولیا کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنی ایک سمجھدار رشتہ دار خاتون سے بات کی اور ان کا کہنا تھا کہ پہلے بچے کی پیدائش ہونے دو اور بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘

جب لیئٹ زچگی کے لیے لیبر روم میں گئیں تو جولیا کے ساتھ یہ خبر شئیر کرتے ہوئے انھیں کچھ بہتر محسوس نہیں ہو رہا تھا جبکہ دوسری طرف انھوں نے اپنی سگی والدہ کو بتایا تھا کہ وہ ہسپتال نہ آئیں کیونکہ بچے کی ولادت صبح سے پہلے ہونے کی امید نہیں ہے۔

لیئٹ نے بتایا ’لیکن آدھی رات کو انھیں کچھ سجھائی دیا، انھوں نے ٹیکسی پکڑی اور عین وقت پر ہسپتال پہنچ گئیں۔ میں ان کے آنے پر بہت خوش تھی۔ وہ اتنی پرجوش تھیں کے ان سے بات بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔ میری دو بہنیں بھی میرے ساتھ تھیں، جبکہ امریکہ میں مقیم میری تیسری بہن سکائپ پر موجود تھی۔ یہ بہت دلچسپ تھا۔‘

یکم دسمبر سنہ 2015 کو شیرا پیدا ہوئیں، اپنے والد کی وفات کے تقریباً سات برس بعد۔

لیئٹ کا کہنا تھا کہ ’وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی وہ خواب میں نظر آتی تھی۔ وہ بہت خوبصورت تھی، مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔‘

لیئٹ نے ولاد اور جولیا کو یہ خبر دینے کے لیے فون کیا۔

جولیا نے بتایا کہ ’مجھے ایسے محسوس ہوا کہ میرے ہولناک نقصان (بیٹے کی موت) کے بعد اب میرا دل دوبارہ دھڑکنا شروع ہو گیا۔‘

بیروک کی وہ تصاویر جو جولیا پہلی مرتبہ لیئٹ سے ملتے وقت ساتھ لائی تھیں وہ اب لیئٹ اور شیرا کے اشکخلان میں واقع اپارٹمنٹ میں رکھی ہیں۔ وہ بعض اوقات ان تصاویر کو دیکھتے اور اس شخص (بیروک) کے بارے میں بات کرتے ہیں جو ان کی طرف دیکھ کر ہنس رہا ہوتا ہے۔

لیئٹ کہتی ہیں کہ شیرا کی آنکھیں بالکل اپنے والد کی آنکھوں کی طرح نیلی ہیں۔

شیرا کی عمر اس وقت تین سال ہے۔ لیئٹ کہتی ہیں کہ بعض اوقات وہ اس بات پر پریشان ہو جاتی ہیں کہ شیرا کے والد نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آج کل اتنے متنوع خاندان ہوتے ہیں اور ہمارا خاندان بھی ان میں سے ایک ہے۔ شیرا کو معلوم ہے کہ ان کے والد نہیں ہیں مگر وہ بہت خوش ہے۔

اور اپنے بیٹے کی آخری خواہش پوری ہونے پر جولیا بھی خوش ہے۔

جولیا کہتی ہیں کہ ’وہ خوبصورت، سمارٹ اور خوش ہے۔ اس میں وہ سب کچھ ہے جو ایک بچے میں ہونا چاہیے۔ وہ بہترین ہے۔‘

(Visited 5 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں