راجو

مائی نانکی

سن اکتیس کے شروع ہونے میں صرف رات کے چند برفائے ہوئے گھنٹے باقی تھے۔ وہ لحاف میں سردی کی شدت کے باعث کانپ رہا تھا۔ پتلون اور کوٹ سمیت لیٹا تھا، لیکن اس کے باوجود سردی کی لہریں اُس کی ہڈیوں تک پہنچ رہی تھیں۔ وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کمرے کی سبز روشنی میں جو سردی میں اضافہ کررہی تھی، زور زور سے ٹہلنا شروع کردیا کہ اس کا دوران خون تیز ہوجائے۔

تھوڑی دیر یوں چلنے پھرنے کے بعد جب اُس کے جسم کے اندر تھوڑی سی حرارت پیدا ہو گئی تو وہ آرام کرسی پر بیٹھ گیا اور سگریٹ سُلگا کر اپنے دماغ کو ٹٹولنے لگا۔ اس کا دماغ چونکہ بالکل خالی تھا، اس لیے اُس کی قوتِ سامعہ بہت تیز تھی۔ کمرے کی ساری کھڑکیاں بند تھیں، مگروہ باہر گلی میں ہوا کی مدھم سے مدھم گنگناہٹ بڑی آسانی سے سن سکتا تھا۔ اس گنگناہٹ میں اُسے انسانی آوازیں سُنائی دیں۔ ایک دبی دبی چیخ دسمبر کی آخری رات کی خاموشی میں چابک کے اول کی طرح ابھری، پھر کسی کی التجائیہ آواز لرزی۔

وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور اُس نے کھڑکی کی درزمیں سے باہر کی طرف دیکھا۔ وہی۔ وہی لڑکی یعنی سوداگروں کی نوکرانی میونسپلٹی کی لالٹین کے نیچے کھڑی تھی۔ صرف ایک سفید بُنیان پہنے۔ لیمپ کی روشنی میں یوں معلوم ہوتا تھا کہ اُس کے بدن پر برف کی ایک پتلی سی تہہ جم گئی ہے۔ اُس کے بُنیان کے نیچے، اس کی بدنما چھاتیاں، ناریلوں کے مانند لٹکی ہوئی تھیں۔ وہ اس انداز میں کھڑی تھی، گویا ابھی ابھی کشتی سے فارغ ہوئی ہے۔ ایسی حالت میں دیکھ کر سعید کے صناعانہ جذبات کو دھچکا سا لگا۔ اتنے میں کسی مرد کی بھنچی بھنچی آواز سنائی دی۔

’’خدا کے لیے اندر چلی آؤ۔ کوئی دیکھ لے گا تو آفت ہی آ جائے گی‘‘

وحشی بلی کی طرح اس نے غرا کر جواب دیا۔

’’میں نہیں آؤں گی۔ بس ایک بار جو کہہ دیا کہ نہیں آؤں گی۔ ‘‘

سوداگر کے بچے نے التجا کے طور اُس سے کہا۔

’’خدا کے لیے اونچے نہ بولو، کوئی سُن لے گا، راجو۔ ‘‘

تو اُس کا نام راجو تھا۔ راجو نے اپنی لنڈوری چٹیا کو جھٹکا دے کر کہا۔

’’سُن لے۔ ساری دنیا سُن لے۔ خدا کرے ساری دنیا سُن لے۔ اگر تم مجھے یوں ہی اپنے کمرے کے اندر آنے کو کہتے رہو گے، تو میں خود محلے بھر کو جگا کر سب کچھ کہہ دُوں گی۔ ‘‘

راجو اُس کو نظر آرہی تھی، مگر وہ جس سے مخاطب تھی وہ اُس کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اُس نے بڑی درز سے راجو کو دیکھا، اس کے بدن پر جھرجھری سی طاری ہو گی۔ اگر وہ ساری کی ساری ننگی ہوتی تو شاید اُس کے صناعانہ جذبات کو ٹھیس نہ پہنچتی۔ لیکن اُس کے جسم کے وہ حصے جوننگے تھے، دوسرے مستور حصوں کو عریانی کی دعوت دے رہے تھے۔ راجو میونسپلٹی کی لالٹین کے نیچے کھڑی تھی اور اُسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ عورت کے متعلق اُس کے جذبات اپنے کپڑے اُتار رہے ہیں۔ راجو کی غیر متناسب بانھیں، جو کاندھوں تک ننگی تھیں، نفرت انگیز طورپر لٹک رہی تھیں۔ مردانہ بنیان اور گول گلے میں سے اُس کی نیم پختہ ڈبل روٹی ایسی موٹی اور نرم چھاتیاں، کچھ اس انداز سے باہر جھانک رہی تھیں، گویا سبزی ترکاری کی ٹُوٹی ہوئی ٹوکری میں سے گوشت کے ٹکڑے دکھائی دے رہے ہوں۔ زیادہ استعمال سے گھسی ہوئی پتلی بنیان کا نچلا گھیراخود بخود اُوپر کو اُٹھ گیا (تھا) اور راجو کی ناف کا گڑھا، اُس کے خمیرے آٹے ایسے پھولے ہوئے پیٹ پر یوں دکھائی دیتا تھا۔ جیسے کسی نے انگلی کھبودی ہو۔ یہ نظارہ دیکھ کر اُس کے دماغ کا ذائقہ خراب ہو گیا۔ اُس نے چاہا کہ کھڑکی سے ہٹ کر اپنے بستر پر لیٹ جائے، اور سب کچھ بھول بھال کر سو جائے لیکن جانے کیوں، وہ سوراخ پر آنکھیں جمائے کھڑا رہا؟ راجو کو اس حالت میں دیکھ کر اُس کے دل میں کافی نفرت پیدا ہو گئی تھی۔ شاید وہ اسی نفرت کی وجہ سے اُس سے دلچسپی لے رہا تھا۔ سوداگر کے سب سے جھوٹ لڑکے نے جس کی عمر تیس برس کے لگ بھگ ہو گی، ایک بار پھر التجائیہ لہجے میں کہا۔

’’راجو خدا کے لیے اندر چلی آؤ۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ پھر کبھی تمھیں نہیں ستاؤں گا۔ لو اب مان جاؤ۔ یہ تمہاری بغل میں وکیلوں کا مکان ہے، ان میں سے کسی نے دیکھا یا سُن لیا تو بڑی بدنامی ہو گی۔ ‘‘

راجو خاموش رہی لیکن تھوڑی دیر کے بعد بولی۔

’’مجھے میرے کپڑے لادو۔ بس اب میں تمہارے گھر میں نہیں رہوں گی۔ تنگ آ گئی ہوں۔ کل سے وکیلوں کے ہاں نوکری کر لوں گی۔ سمجھے؟۔ اب اگر تم نے مجھ سے کچھ اور کہا تو خدا کی قسم شور مچانا شروع کردوں گی۔ میرے کپڑے چپ چاپ لا کے دے دو۔ ‘‘

سوداگر کے لڑکے کی آواز آئی۔

’’لیکن تم رات کہاں کاٹو گی؟‘‘

راجو نے جواب دیا۔

’’جہنم میں۔ تمھیں اس سے کیا۔ جاؤ تم اپنی بیوی کی بغل گرم کرو۔ میں کہیں نہ کہیں سو جاؤں گی۔ ‘‘

اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ سچ مچ رو رہی تھی۔ سوراخ پر سے آنکھ ہٹا کر وہ پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا۔ راجو کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اُسے عجیب قسم کا صدمہ ہوا تھا۔ اُس میں کوئی شک نہیں کہ اس صدمے کے ساتھ وہ نفرت بھی لپٹی ہوئی تھی جو راجو کو اس حالت میں دیکھ کر اُس کے دل میں پیدا ہوئی تھی، مگر غایت درجہ نرم دل ہونے کے باعث وہ پگھل سا گیا۔ راجو کی کھلاڑی آنکھوں میں جو شیشے کے مرتبان میں چمک دار مچھلیوں کی طرح سدا متحرک رہتی تھیں آنسو دیکھ کر اُس کا جی چاہا کہ انھیں تھپکا کر دلاسا دے۔ راجو کی جوانی کے چار قیمتی برس سوداگر بھائیوں نے معمولی چٹائی کی طرح استعمال کیے تھے ان برسوں میں تینوں بھائیوں کے نقش قدم کچھ اس طرح خلط ملط ہو گئے تھے کہ ان میں سے کسی کو اس بات کا خوف نہیں رہا تھا کہ کوئی ان کے پیروں کے نشان پہچان لے گا اور راجو کے متعلق بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے قدموں کے نشان دیکھتی تھی نہ دوسروں کے۔ اسے بس چلتے جانے کی دُھن تھی کسی بھی طرف۔ پر اب شاید اُس نے مُڑ کے دیکھا تھا۔ مُڑ کے اُس نے کیا دیکھا تھا جو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ اُس کو معلوم نہیں تھا باہر سن تیس کی آخری رات دم توڑ رہی تھی اور اُس کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہاں کہاں گئی؟۔ کیا وہ اندر چلی گئی؟۔ کیا وہ مان گئی تھی؟۔ مگر سوال یہ تھا کہ وہ کس بات پر جھگڑی تھی؟۔ راجو کے کانپتے ہوئے نتھنے ابھی تک اُس کو نظر آ رہے تھے۔ ضروراس کے اور سوداگر کے لڑکے کے درمیان جن کا نام محمود تھا کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا جبھی تو وہ دسمبر کی خون منجمد کردینے والی رات میں صرف ایک بنیان اور شلوار کے ساتھ باہر نکل آئی تھی اور اندر جانے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ راجو کو دُکھی دیکھ کر اُس کے ایک نامعلوم جذبے کو تسکین پہنچی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی اُس کے دل میں رحم کے جذبات بھی پیدا ہوئے تھے۔ کسی عورت سے اس نے کبھی ہمدری کا اظہار نہیں کیا تھا۔ شاید اسی لیے وہ راجو کو دکھی دیکھنا چاہتا تھا تاکہ وہ اُس سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرسکے۔ اُسے یقین تھا کہ اگروہ راجو کے قریب ہونا چاہے گا تو وہ جنگلی گھوڑی کی طرح بدکے گی نہیں۔ راجو غلاف چڑھی عورت نہیں تھی۔ وہ جیسی بھی تھی دُور سے نظر آجاتی تھی۔ اُس کی بھدی اور موٹی ہنسی جو اکثر اُس کے مٹ میلے ہونٹوں پر بچوں کے ٹُوٹے ہوئے گھروندے کے مانند نظر آتی تھی اصلی ہنسی تھی۔ بڑی صحت مند۔ اور اب اُس کی بھونرے جیسی متحرک آنکھوں نے آنسو اُگلے تھے، تو ان میں کوئی مصنوعی پن نہیں تھا۔ راجو کو وہ ایک مدت سے جانتا تھا۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کے چہرے کے تمام خطوط تبدیل ہوئے تھے اور وہ غیر محسوس طریق پر لڑکی سے عورت بننے کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تین سوداگر بھائیوں کو ہجوم نہیں سمجھتی تھی۔ یہ ہجوم اُسے پسند نہیں تھا اس لیے کہ ایک عورت کے ساتھ وہ صرف ایک مرد منسلک دیکھنے کا قائل تھا۔ مگر یہاں۔ یعنی راجو کے معاملے میں اُسے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کے درمیان رُک جانا پڑتا تھا۔ اس واقعے کے دوسرے روز جب وہ جاگ رہا تھا لحاف اوڑھے لیٹا تھا کہ راجو آئی اُ س نے کمرہ صاف کیا اُس نے یہ سمجھا کہ شاید جمعدار ہے۔ جو آج جلدی آگیا ہے۔ چنانچہ اُس نے لحاف کے اندر سے کہا۔

’’دیکھو بھئی۔ گرد مت اُڑانا۔ ‘‘

ایک نسوانی آواز اُس کو سنائی دی

’’جی میں۔ جی میں میں تو۔ ‘‘

اس نے لحاف اپنے سے جدا کیا اور دیکھا کہ راجو ہے۔ وہ بہت متحیر ہوا۔ چند لمحات وہ اُس کو دیکھتا رہا۔ اُس کے بعد اُس سے مخاطب ہوا۔

’’تم یہاں کیسے آئی ہو؟‘‘

راجو نے جھاڑن اپنے کاندھے پر رکھا اور جواب دیا۔

’’میں آج صبح یہاں آئی ہوں۔ سوداگروں کی نوکری میں نے چھوڑ دی ہے۔ ‘‘

اُس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہے۔ بہرحال اُس نے اتنا کہہ دیا۔

’’اچھا کیا۔ اب کیا تم نے ہمارے یہاں ملازمت اختیار کرلی ہے؟‘‘

’’جی ہاں‘‘

۔ یہ اس کا مختصر جوا ب تھا۔ اُس کو راجو سے سخت نفرت تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے گھر میں اس کا کسی قسم کا دخل نہ ہو لیکن اس کی والدہ نے جو بہت رحمدل تھیں اور جنھیں نوکرانی کی ضرورت بھی تھی راجو کو ملازم رکھ لیا تھا۔ اُس کو بڑی اُلجھن محسوس ہوئی کہ وہ رات کا تماشا دیکھ چکا تھا۔ اُسے اُس سے نفرت تھی۔ اس قدر نفرت کو وہ چاہتا تھا کہ وہ اُس کی نظروں کے سامنے نہ آئے۔ مگر وہ آتی تھی۔ صبح ناشتہ لے کر آتی۔ شیو کا سامان لے کر آتی۔ دوپہرکا کھانا پیش کرتی۔ مگر اس کو یہ سب باتیں بہت ناگوار گزرتیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ راجو اُس سے اس قسم کا سلوک کرے۔ چنانچہ ایک دن اُس نے تنگ آکر اس سے کہا۔

’’دیکھو راجو مجھے تمہاری ہمدردیاں پسند نہیں۔ میں اپنا کام خود کرسکتا ہوں۔ تم مہربانی کرکے تکلیف نہ کیا کرو۔ ‘‘

راجو نے بڑی متانت سے کہا۔

’’سرکار۔ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ میں تو آپ کی باندی ہوں۔ ‘‘

وہ جھینپ سا گیا۔

’’ٹھیک ہے۔ تم نوکرانی ہو۔ بس اس کا خیال رکھو۔ ‘‘

راجو نے تپائی کا کپڑا ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔

’’جی مجھے ہر چیز کا خیال ہے۔ مجھے اس بات کا بھی خیال ہے کہ آپ مجھے اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے۔ ‘‘

وہ لوٹ پوٹ گیا۔

’’میں۔ میں تمھیں اچھی نظروں سے کیوں نہیں دیکھتا۔ یہ تم نے کیسے جانا؟‘‘

راجو مسکرائی۔

’’حضور آپ امیر آدمی ہیں۔ آپ کو ہم غریبوں کے دُکھ درد کا کوئی احساس نہیں ہوسکتا۔ ‘‘

اُس کو راجو سے اور نفرت ہو گئی۔ وہ سمجھنے لگا کہ یہ لڑکی جو اُس کے گھر میں اُس کی والدہ کی نرم طبیعت کی وجہ سے آگئی ہے بہت واہیات ہے۔ راجو بڑی باقاعدگی سے کا م کرتی رہی۔ اُس کا کوئی نقص نکالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ جب اُس کی شادی کا سوال اُٹھا تو وہ بہت مضطرب ہوا۔ وہ اتنی جلدی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے والدین سے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ مجھے یہ جھنجھٹ ابھی نہیں چاہیے۔ اُس کے والدین نے بہت زور دیا کہ وہ شادی کرلے مگر وہ نہ مانا۔ اُسے کوئی لڑکی پسند نہیں آتی تھی۔ ایک دن وہ گھر سے غائب ہو گیا۔ اُس کے ساتھ راجو بھی۔ دوسرے دن معلوم ہوا کہ وہ میاں بیوی بن چکے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

(Visited 6 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں