ایک اکیلا پاکستان اور شیطانی طاقتیں

پاکستان

حکمرانوں کو عوام سے غلط بیانی کرنے سے کیوں سکون ملتا ہے ملک اس نہج پر کیوں پہنچ چکا ہے کہ غریب خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ پاکستان وسائل ہونے کے باوجود اتنا مجبور کیوں ہے اگر کرپشن ہی سب مسائل کی کنجی ہے تو دنیا کا کون سا ایسا ملک ہے جہاں کرپشن نہیں ہوتی ،ہمارے تو ان کے اشر اشیر بھی کرپشن نہیں ہے ،مگر وہ کرپشن پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ کامیابی کی سیڑھیاں بھی چڑھ رہے ہیں ،وغیرہ وغیرہ ۔ یہ عام فرد کے ذہن میں گونجتے سوالات ہیں ۔

حکمرانوں کو عوام سے جھوٹ بولنے میں مزہ آتا ہے ،کیونکہ وہ حکمرانی اور سیاست سنجیدہ لینے کی بجائے کھیل سمجھتے ہیں ۔ کھیل میں ’’جھوٹ اور فریب‘‘کو ایک آرٹ کے طور پر لیا جاتا ہے ۔ جو حریف کو اعتماد کے ساتھ جھوٹ اور اداکاری سے زچ کر جائے اسے کامیابی کا زیادہ موقع ملتا ہے ۔ لیکن حکمران یا سیاستدان یہ نہیں سمجھ رہے کہ انہیں 22کروڑ عوام کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔

جسے کھیل سمجھ کر نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر نبھانا ہو گا ۔ ہر فرد کے جان و مال کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے ۔ لیکن یہ لوگ اپنے فراءض سے بالکل نا آشنا ہیں ۔ انہوں نے 22کروڑ عوام کی حفاظت کیا کرنی ہے یہ خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ آئے روز لوگ اپنے مال اور جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ لوگ غربت کے ہاتھوں خودکشیاں کر رہے ہیں ۔ کیونکہ جہاں بیروزگاری اور غربت و افلاس اس حد تک بڑھ جائے جہاں پیٹ کی آگ کو بجھانا بھی مشکل ہو ،وہاں کرپشن ،جرائم اور بے حسی کیسے ختم ہو سکتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وسائل سے مالا مال کیا ہے ،مگر عوام سمجھنے سے قاصر ہے کہ کیا وجوہات ہیں کہ ملک اتنا بھی نہیں رہا کہ عوام دو وقت کی روٹی آرام سے کھا سکے ۔ اس کی وجوہات وہ نہیں جو حکمران گلے پھاڑ پھاڑ کر بتاتے ہیں ۔ اس کی وجہ بہت صاف ہے ہم نے عرصے سے اپنے جنگی اخراجات کو بڑھایا ہے ، مگر ان اخراجات کے لئے وسائل پیدا کرنے میں نا کام رہے ہیں ،ہم نے اپنی صنعت و تجارت، انڈسٹری ،زراعت اور ٹیکس کے نظام میں بہتری نہیں کی اور یہی وجہ تھی کہ ہم معاشی بحران میں آ گئے ۔

سوویت یونین جیسا بڑا ملک جب معاشی طور پر کمزور ہوا تو ٹوٹ گیا ۔ امریکا کو جنگی اخراجات بڑھانے کے باوجود ترقی میں فرق نہیں پڑا ،کیونکہ امریکہ نے سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے دنیا بھر کی معیشتوں کو اپنے کنٹرول میں کر رکھا تھا،جبکہ سوویت یونین کے دوست ممالک اْس کی معیشت پر مزید بوجھ بن گئے تھے ۔ نتیجتاً سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔

ہمارے درینہ دشمن بھارت نے بھی پاکستان کے ساتھ بالکل ایسا ہی کیا ہے ،جیسا امریکہ نے سوویت یونین کے ساتھ کیا ۔ کسی بھی ملک کو تباہ کرنا مقصود ہو تو اس کی معاشی تباہی کر دی جائے ۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف معاشی تباہی کی پالیسی اپناتے ہوئے اپنے اہداف حاصل کیے ہیں ۔

loading...

بھارت ایک بڑا ملک ہے اور بڑی معیشت بھی ہے، اْس کی قومی پیداوار سالانہ 7فیصد کے لحاظ سے ترقی کر رہی ہے، جو کہ چین سے بھی زیادہ ہے ۔ وہ اپنی قومی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے،حالانکہ اس کی دو تہائی آبادی بدترین غربت میں ڈوبی ہوئی ہے ،لیکن اسے بھی سپر پاور بننے کے جنون نے ایسا کرنے پر مجبور کر رکھا ہے ۔ اب پاکستان کی صورت حال یہ ہے کہ معیشت کی ترقی کی رفتار پونے تین فیصد سے بھی کم ہے ۔

یہ روزانہ ساڑھے چھ ارب روپے صرف قرضوں کا سود دینے پر مجبور ہیں ،مگر ہ میں اپنے جنگی اخراجات بڑھانے ہیں ۔ لیکن ایک وقت آئے گا کہ ہم معاشی صورت حال کی وجہ سے جنگی اخراجات بڑھا نہیں پائیں گے اور ہماری معاشی حالت مزید کمزور ہو جائے گی ۔ پھر یہاں پر بڑی سازش شروع ہو گی ،جس کا آغاز ایران نے کر دیا ہے ،بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات آغاز ہیں ۔ یہ عالمی سطح کی سازش ہے ۔ سی پیک سے امریکہ کو جو خطرات لاحق ہیں ،اسے وہ کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتا ۔ عالمی مالیاتی ادارے امریکہ بہادر کا بڑا ہتھیار ہیں ،جسے وہ کسی ملک کو قابو کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ پاکستان کی معاشی شہ رگ کو کاٹنے کے لئے اس ہتھیارکوباربار استعمال کیا گیا ۔

حکمرانوں کو سمجھ داری کا ثبوت دینا ہو گا، عالمی سطح پر سازش کا حصہ بن کر برباد ہونے کی بجائے ملکی مفادات کو اہمیت دینا ہو گی ۔ سوویت یونین سے سبق سیکھنا ہو گا ،سوویت یونین ٹوٹ گیا ،کیونکہ وہ معاشی طور پر کمزور ہو گیا تھا ۔ حالانکہ اس کے پاس ہزاروں ایٹمی مزائل تھے ۔ ہم اپنے آپ کو ایٹمی طاقت کہتے ہیں ،مگر دوسری طرف ملک کو چلانے کے لئے ہمارے پاس پھوٹی کوڑی نہیں ہے ۔ ہ میں اپنے ملک کے اندرونی معاملات کو درست کرنا ہو گا ۔ مدبرانہ فیصلوں کی ضرورت ہے ۔

وزیر اعظم کو کنٹینر سے نیچے اترنا ہو گا ۔ ماضی کی حکومتوں پر الزامات کی بجائے ملکی سیاست میں افہام وتفہیم پیدا کرنا ہوں گی ۔ کرپشن کرپشن کا آلاپ کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ ان کے اپنے وزراء اور دوست احباب کرپشن میں ملوث ہیں ،سزا جزا کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہنا ہے ، اس معاملے پر اتنا زیادہ فوکس کرنے کی بجائے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے ۔

عمران خان کے بیانات اکثر مذاق سے بھر پور ہوتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا ’’ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘‘ ۔ ’’مجھے اور بہت سی چیزیں مل گئی ہیں ،انہیں ڈر ہے اسی لئے میری حکومت کو گرانا چاہتے ہیں ‘‘ ۔ یہ وہی باتیں ہیں جو کنٹینر پر کہی جاتی رہی ہے ، ایم کیو ایم کے خلاف کہتے رہے ہیں ۔ ان کے خلاف کاغذات کے پلندے لے کر برطانیہ بھی گئے ،آخر آج وہی لوگ ان کی بغلوں میں ہیں ۔ اب وہ تمام لوگ نیک پاک اور تعریف کے قابل ہیں ۔ پیپلز پارٹی کا ہر فرد کرپٹ تھا وہی اب وہی آنکھ کے تارے بن چکے ہیں ۔ او بھائی جان ملک اور عوام کن حالات سے گزر رہے ہیں ،آپ کی تمام تر توجہ دو تین فیملی پر اٹکی ہوئی ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو منصب عطا کر دیا ،خدا را کچھ تو خیال کر لیں ۔ یا تو ملک و قوم کے لئے کچھ کر دیں ،یا عہدہ چھوڑ کر سیرو تفریح کریں ،’’مزے کریں ‘‘ جو آپ کا اصل شوق ہیں ۔ یہ حکمرانی آپ کے بس کی بات نہیں ہے ۔ سیاست کرکٹ کا کھیل نہیں ۔ یہاں 22کروڑ عوام کو جوئے کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا ۔

اس صورت حال کو سمجھ کر ہ میں بھی من حیث القوم کوئی بھر پور اقدام کی ضرورت ہے ۔ جس کے لئے تیاری کر لینا چاہیے ۔ اس ملک کی بدقسمتی رہی ہے کہ اس کا جو بھی حکمران آیا اس نے اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کو مقدم رکھا اور جاتے جاتے ملک کا نا قابل تلافی نقصان کیا ہے ۔ اس بار دیکھیں کیا نقصان ہوتا ہے!!

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں