الحمد اللہ کہنا نہیں، کرنا سیکھو

الحمد للہ

کہنے کو تو ہم سب کہتے ہیں ‘ الحمد اللہ ‘ اللہ نے ہمیں یہ دیا ہے، وہ دیا ہے۔ لیکن کیا واقعی ہم دل سے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں؟۔ کیا واقعی ہماری زبان ہمارے دل و دماغ کا ساتھ دے رہی ہوتی ہے؟۔ یا ہم باقی معاملات کی طرح یہاں بھی نیت میں ملاوٹ کئے بیٹھے ہیں اور صرف لفظی الحمد اللہ سے کام چلا رہے ہیں۔ دل میں دوسروں کی ترقی و آسائشیں ہمیں حسد کی آگ میں جلا رہی ہوتی ہیں؟۔

ہم جانتے ہیں کہ وہ صرف ایک اللہ ہی کی پاک ذات ہے۔ جس نے ہمیں پیدا کیا، علم عطا کیا، رہنے کے لئے گھر، پہننے کے لئے کپڑے، طرح طرح کے ان گنت کھانے، پھل اور ۔سبزیاں دیں۔ خوبصورت جسم و خدوخال، دل و دماغ سے نوازا۔ خدانخواستہ اگر اللہ تعالی ہمیں یہ عطا نہ کرتا۔ تو سوچیں ذرا ہماری زندگی کیا اتنی خوبصورت ہوتی؟ کبھی نہیں

میں یہ بات شرطیہ کہتی ہوں آپ نے یہ جملے لازمی سننے ہوں گے
اللہ کا شکر ہے مگر…
اللہ کا شکر ہے اگر…
اللہ کا شکر ہے لیکن …

یہ کیسا شکر ہے؟ یہ اگر مگر کیا ہے؟؟؟؟

مجھے نہیں لگتا ہم کبھی دل سے الحمد للہ کہتے ہوں اور تو اور ذرا سی مشکل آ جائے۔ تو ہم واویلہ مچا نے لگتے ہیں کہ اللہ تو ہماری سنتا ہی نہیں۔

ایک مرتبہ حضرت موسیٰ سے کسی غریب انسان نے پوچھا کہ آپ الله سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ الله سے پوچھئے گا کے اس نے مجھے اتنی مشکل زندگی کیوں دی ہے۔ مجھے اتنا غریب کیوں بنایا۔ پھر دوسرے شخص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ وہ آدمی دیکھو وہ کتنا خوش ہے کتنا امیر ہے
حضرت موسیٰ الله پاک کے پاس گئے اور پوچھا پھر واپس آ کر اس غریب آدمی کو بتایا کہ وہ الله پاک کا شکر ادا کرتا ہے تم شکر نہیں کرتے بلکہ ہر وقت خود کو اور اپنی قسمت کو کوستے رہتے ہو
غریب آدمی یہ سنتے ہی بولا ، میرے پاس ہے ہی کیا کہ جسکا میں شکر ادا کروں؟۔
یہ کہنا تھا ، ایک دم ہوا کا تیز جھونکا آیا اور غریب آدمی کے پاس سے ایک واحد چھوٹی سی شال بھی اڑا کر لے گیا.

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ایک ایک سانس پر بھی شکر ادا کرنا لازم ہے۔
بچپن سے ہم سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیشہ اللہ تبارک و تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیئے اور ہم جانتے بھی ہیں کہ شکر ادا کرنا کتنا ضروری ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود ہم اللہ تعالی کا صحیح معنوں میں کبھی شکر ادا نہیں کرتے اور نا ہی کبھی کوشش کرتے ہیں ۔
اللہ تعالٰی کا ارشاد پاک ہے کہ :
” اگر تم شکر ادا کرو گے تو تمہیں مزید عطا کیا جائے گا۔ لیکن اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک اللہ کا عذاب بہت سخت ہے ”
ایک مرتبہ کا زکر ہے کہ ایک شخص بہت غریب تھا وہ ایسے ہی جنگلوں میں پھرتا رہتا تھا اور اسے روز ہمیشہ دو ہی روٹیاں کھانے کو ملتی تھیں۔ پھر ایک مرتبہ حضرت موسٰیؑ کا گزر وہاں سے ہوا تو اس شخص نے حضرت موسیؑ سے کہا کہ اے حضرت موسی
آپ تو اللہ تعالی سے ملاقات کرتے ہیں ان سے باتیں کرتے ہیں اب جب اللہ تعالی سے ملنے کے لیئے جائیں گے تو اللہ تعالی سے پوچھنا کہ کیا اللہ تعالی نے میرے نصیب میں دو ہی روٹیاں لکھی ہیں یا اس سے کم زیادہ بھی ۔
تو حضرت موسیؑ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے اب جب میں جاؤں گا تو اللہ تعالی سے ضرور پوچھ لوں گا۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔
پھر جب حضرت موسیؑ اللہ تعالی سے ملے تو فرمایا کہ اے اللہ پاک فلاں بن فلاں شخص کہ رہا تھا کہ اللہ تعالی سے پوچھئے گا کہ کیا اللہ نے اس کے نصیب میں دو ہی روٹیاں لکھی ہیں۔ تو آپ بتا دیں کیونکہ مجھے واپس جا کر اسے بتانا ہو گا۔
تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے موسیؑ اس شخص کو بتا دینا کہ اس کے نصیب میں دو ہی روٹیاں ہیں۔
پھر انہوں نے واپس آ کر اس شخص کو بتایا کہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ اس نے آپ کے نصیب میں دو ہی روٹیاں لکھی ہیں۔
اس شخص نے اللہ پاک کا شکر ادا کیا کہ اسے دو روٹیاں ملیں گی اور وہ بھوکا نہیں سوئے گا۔
اگلے دن جب وہ شخص کھانا کھانے لگا تو ایک دوسرا شخص وہاں آیا تو کہنے لگا ‘ اللہ نے نام پہ کچھ دے دو ‘ اس شخص نے ایک روٹی اس کو دے دی اور ایک خود کھا لی۔ اگلے دن اس شخص کے پاس چار روٹیاں تھیں اور ایسے ہی بڑھتے بڑھتے اس شخص نے لنگر شروع کر دیا ۔

loading...

یہ بھی عورت ہے !

پھر ایک دن دوبارہ حضرت موسیؑ کا گزر وہاں سے ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ اتنا بڑا لنگر ہے اور بہت سے لوگ کھا رہے ہیں ۔ تب اس شخص نے کہا کہ اے موسیؑ آپ نے تو کہا تھا کہ میرے نصیب میں صرف دو ہی روٹیاں ہیں لیکن دیکھیں یہاں تو اتنا کچھ ہے ۔ تو حضرت موسیؑ نے کہا اچھا میں جا کر اللہ تعالیٰ سے پوچھتا ہوں ۔
پھر حضرت موسیؑ دوبارہ اللہ تعالیٰ کے پاس گئے اور سارا معاملہ سنایا ۔
تو اللہ تعالی مسکرائے اور فرمایا ” اے موسیؑ جو میں جانتا ہوں وہ آپ نہیں جانتے ۔ اس شخص کے نصیب میں تو دو ہی روٹیاں ہیں ۔ وہ اب بھی دو ہی روٹیاں کھاتا ہے اور باقی میرے نام کا سب کو کھلاتا ہے ۔ اور میرا تو میرے بندوں سے وعدہ ہے کہ اگر وہ میرے نام پہ ایک سکہ بھی کسی کو دیں گے تو بدلے میں میں انہیں دوگنا دوں گا ۔ اس شخص کے پاس دو روٹیاں تھیں اس نے ایک میرے نام پہ دے دی تو میں نے اسے چار روٹیاں دیں اس نے دو روٹیاں پھر میرے نام پہ دے دیں تو میں اسے چھ روٹیاں دے دیں ۔ وہ میرے نام پہ دیتا رہا میں اسے مزید عطا کرتا رہا ۔ اس نے شکر ادا کیا تو میں نے اسے مزید عطا کیا ”
اللہ تعالی کے نام پہ خرچ کیا گیا پیسہ اور مال و دولت پلٹ کر واپس ضرور آتا ہے ۔ بشرطیکہ اللہ پر بھروسہ ہو ۔
اللہ تعالی ہماری نیتوں کو دیکھتا ہے نا کہ ہمارے مال و دولت اور پیسے کو ۔
اور اللہ تعالی فرماتا ہے کہ :
” بے شک مجھ تک تمہاری نیئتیں پہنچتی ہیں تمہاری قربانی کی کھالیں نہیں ”

اس کے علاوہ شکر کے بہت سے اور بھی فائدے ہیں ۔
1) اللہ تعالی مزید عطا کرتا ہے ۔
2) اجر ملتا ہے ۔
3) دل خوشی سے بھر جاتا ہے ۔
4) مصیبتیں اور بلائیں ٹل جاتیں ہیں ۔
5) اللہ تعالی خوش ہوتا ہے ۔
اس کے علاوہ قرآنِ مجید میں سورۂ تکاثر اور سورۂ بنی اسرائیل میں بھی اس کا ذکر موجود ہے کہ قیامت کے دن ﷲ تعالیٰ اپنے بندے سے اپنی دی ہوئی تمام نعمتوں کے بارے میں سوال کریں گے ۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ بدن ، کانوں اور آنکھوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ ﷲ تعالیٰ بندے سے پوچھے گا کہ میں نے جو یہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں ان کو تم نے کن کاموں میں صرف کیا ۔ ہمارے ایک ایک سانس پر بھی دو شکر واجب ہیں :
1 جب ہم سانس اندر لیکر جاتے ہیں ۔
2 جب ہم سانس باہر نکالتے ہیں ۔
کیونکہ سانس باہر خارج کرنے سے زہریلی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج ہوتی ہے جبکہ سانس اندر لینے سے آکسیجن ملتی ہے ۔ اگر اللہ تعالی کے حکم سے ایسا نا ہو تو کیا زندگی باقی رہے گی ۔۔ ؟ نہیں بالکل نہیں ۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن سب انسانوں نے پانچ سوال کریں گے

(1) عمر کس کام میں خرچ کی؟

(2) جوانی کس مشغلہ میں صرف کی؟

(3) مال کس طرح سے کمایا تھا ؟

(4) اور کہاں پر خرچ کیا ؟

(5) جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا ؟

ہمیں ﷲ کی ہر نعمت کی قدر کرنی چاہیئے ۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ حضور اکرمؐ نے ایک شخص سے فرمایا کہ قیامت کے دن تمام نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا تو اس شخص نے پوچھا کن نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا مجھے تو بس آدھی روٹی ملتی ہے اور وہ بھی جو کی ، مجھے تو پیٹ بھر کر روٹی بھی کبھی نصیب نہیں ہوتی ۔
تو حضور پاکؐ نے ارشاد فرمایا کہ کیا پاؤں میں جوتا نہیں پہنتے ؟ کیا ٹھنڈا پانی نہیں پیتے؟ یہ بھی تو ﷲ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔
اسی طرح ایک مرتبہ ایک شخص حضور پاکؐ کی خدمت میں پیش ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہؐ میرے پاس کچھ نہیں ہے تو رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کرو تو وہ شخص کہنے لگا کہ میں کس چیز کا شکر ادا کروں میرے پاس تو کچھ نہیں ہے ۔
تو حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں آنکھیں دیں ہیں دیکھنے کے لیئے ، سننے کے لیئے کان دیئے ، چلنے کے لیئے پاوں دیئے کیا یہ نعمتیں نہیں ہیں ۔
ذرا سوچیں ! اللہ تعالی نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن ہم بہت ناشکرا پن دکھاتے ہیں ۔ ہمارا دل دماغ آنکھیں ناک کان بال ہاتھ پاوں سب اللہ تعالی کا دیا خوبصورت تحفہ ہیں جسکی ہمیں ہمیشہ قدر کرنی چاہیئے ۔تو کیا ہمیں ہمیشہ اللہ پاک کا شکر ادا نہیں کرنا چاہیئے ۔ ۔ ۔ ؟ ذرا سوچیں بلکہ ذرا نہیں پورا سوچیں ۔۔۔
زونیرہ شبیر
پنڈیگھیب ، اٹک

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں