مہاراجہ رنجیت سنگھ کو “کانا” کہنے پر پابندی

رنجیت سنگھ

مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب کے مہا راجہ تھے۔ ان کا نام رنجیت سنگھ تھا۔ اس لیے انھیں مہا راجہ رنجیت سنگھ کہتے ہیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا انصاف مشہور ہے، ویسے تو ہندوستان کے سبھی راجاؤں کا انصاف مشہور ہے لیکن یہ واقعی سب کو ایک آنکھ سے دیکھتے تھے۔
سزا دینے میں مجرم اور غیر مجرم کی تخصیص نہ برتتے تھے۔ جو شخص کوئی جرم نہ کرے وہ بھی پکڑا جاتا تھا – فرماتے تھے علاج سے پرہیز بہتر ہے۔

اس وقت اس شخص کو سزا نہ ملتی تو آگے چل کر ضرور کوئی جرم کرتا۔ بعد کے حکمرانوں نے انہی کی تقلید میں جرم نہ کرنے والے کو حفظ ما تقدم کے طور پر سزا دینے اور جیل بھجوانے کا اصول اختیار کیا، کبھی مجرم کو بھی سزا دیتے ہیں اگر وہ ہاتھ آجائے اور اس کا وکیل اچھا نہ ہو۔
از ابن انشاء (اردو کی آخری کتاب )

بجٹ 2019: کیا سستا، کیا مہنگا۔

​کوہ نور اور تیمور لعل کا مالک اور سونے کے تخت کے باوجود وہ زمین پر بیٹھتا تھا رانا رنجیت سنگھ چیچک کی بناء پر ایک آنکھ سے دیکھتا تھا اس کے دربار میں کہتے ہیں “کانا ” کہنےپر پابندی تھی۔

(Visited 4 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں