بھارت نے 571 ریاستیں کیسے ہڑپ کیں؟

مقبوضہ کشمیر میں کیا ہوا اور کیا ہونے والا ہے؟ اسے اچھی طرح سمجھنے کے لئے ہمیں کچھ پیچھے جانا ہو گا۔

تاریخ کا جائزہ لینا ہوگا کہ یہ یونین ٹریٹری ہوتی کیا ہے؟ بھارت نے ماضی میں بننے والی یونین ٹریٹریز کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے جس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ اب مقبوضہ کشمیر کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟

مسلمانوں کی انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے نتیجے میں آزادی پانے والا انڈیا گزشتہ 72 برسوں میں اپنی سرحدی حدود میں متعد تبدیلیاں لا چکا ہے۔

پہلے مرحلے میں جنوری 1950ء میں بھارت نے اپنی ڈومینین حیثیت ختم کر کے ’’ری پبلک آف سٹیٹس‘‘ کہلانے کااعلان کیا۔ جس کی آڑ میں عالمی ممالک کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی چھوٹی ریاستوں کے تہذیبی آثار بھی مٹانے کی کوشش کی ہے۔

آج میسور کہاں ہے؟ یہ طاقتور علاقہ اب ایک ریاست نہیں بلکہ شہر ہے، اس کے اکثر حصے کاٹ کر الگ کر دیئے گئے ہیں۔ کیا کوئی سورشترا (Saurashtra) کے نام سے واقف ہے؟ ہر گز نہیں۔ اس نام کی بڑی ریاست اب ایک شہر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

یہ جان لینا چاہیے کہ بھارتی حکومت نے ایسا پہلی مرتبہ نہیں کیا۔ بھارت ایسے اقدامات نو مرتبہ کر چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں دو یونین ٹیریٹریز کا قیام تازہ ترین مثال ہے۔ اسے یونین کا درجہ دے دیا ہے۔

ایسی بڑی تبدیلی 1956ء میں کی گئی تھی جب (States Reorganization Act) جاری کر کے ریاستوں کو انتظامی تبدیلیوں کے نام پر ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

حیدر آباد، جونا گڑھ، منی پور اور تری پورہ بھی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے نتیجے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے تھے۔ بعض ریاستوں کو بزور شمشیر 1947ء سے 1949ء کے درمیانی عرصے میں ہندوستان کا حصہ بنا لیا گیا تھا۔ جس پر دنیا بھر میں شور مچا مگر بھارت عالمی بحران کا فائدہ اٹھا کر ریاستوں کی آزادی کو سلب کرتا رہا۔

بھارت نے 1961ء میں آزاد ریاست گوا، 1962ء میں پونڈے چری اور 1975ء میں سکم کو ہڑپ کر لیا۔ بھارتی ریاستوں کے لئے 1951ء سے 1997ء کا دور سیاہ ترین تھا۔ جب سب سے بڑی جمہوریت میں کم از کم 88 مرتبہ گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔

گورنر راج لگانے کے لئے دانستہ طور پر لسانیت کو ہوا دی گئی۔ یہی کچھ اب مقبوضہ کشمیر میں ہونے والا ہے۔ پہلے مرحلے میں لسانی بنیاد پر لیہ کو الگ کر دیا گیا ہے۔

اول تو 1947ء میں ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند اس طریقے سے کی کہ ایک طرف تو بھارت میں شامل ہونے والے حصے مفلوج اور اپاہج نہ ہوں۔ مکمل اکائی ہوں۔ دوسرے یہ کہ زیادہ اسے زیا دہ ریاستیں بھی بھارت کا حصہ بن جائیں۔

چنانچہ 1947ء میں تقسیم کے بعد 571 ریاستیں ان علاقوں میں رہ گئیں جنہیں اب بھارت کہا جاتا ہے۔ ان سب کو ملا کر 27 بڑی ریاستوں کی تشکیل کی گئی۔

بھارتی حکام نے کہا کہ یہ ریاستیں تاریخی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہیں۔ یعنی ان پر کس کی حکومت تھی؟ یہ کس کا حصہ رہی تھیں؟ نظام حکومت کیسا تھا؟ وغیرہ۔

میسور، وندھیہ پردیش، کچ، مدھیہ بھارت، پٹیالہ ایسٹ انیڈ پنجاب یونین، سورشترا، بھوپال، اوڑیسہ، سکم، نارتھ ایسٹ فرنٹیئر ایجنسی، کوچین، لکشد دی، بہار، آسام، تری پورہ، مدھیہ پردیش، راجھستان ہماچل پردیش، آسام، اترپردیش، مغربی بنگال، بمبئی، مدراس اور کیرالہ کی ریاستیں بھی شامل تھیں۔

اکثر ریاستیں آج بھارت کے نقشے سے غائب ہیں، ان کے نام ونشان مٹا دیئے گئے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حیدر آباد سمیت کئی ریاستیں بے حد خوشحال تھیں، ان کے وسائل بھارت کے معاشی استحکام کا باعث بنے۔

بھارت سینکڑوں زبانوں کا گھر ہے۔ ریاستوں کو خوفزدہ کیا گیا کہ لسانی بنیادوں پر صوبے بنائے گئے تو ان کی طاقت کمزور پڑ جائے گی۔ ہر صوبے میں درجنوں زبانیں بولی جا تی تھیں، اسی لئے مقامی قائدین بھی پریشان ہو گئے۔

لسانیت کے پھیلاؤ اور ریاستوں کے قدیم تشخص کے خاتمے کے لئے 1948ء میں سابق جج الہٰ آباد ہائیکورٹ ایس کے دھر کو ری کی سربراہی میں ’’ری آر گنائزیشن کمیشن ‘‘بنایا گیا۔ جبکہ جسٹس ایف فاضل علی، ایچ این کونزورو (KunZuru) اور کے ایم پانیکرپر مشتمل کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا۔

ریاستوں کی ’’تنظیم نو‘‘ کے نام پر جو کچھ وہاں ہونے والا تھا، اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ہندو کی سوچ دوسری قوموں کو کچلنے میں سب سے آگے ہے۔ کچھ ایسا ہی ری آرگنائزیشن کمیشن نے تجویز کیا۔ بلکہ کئی معاملات میں حکومت کمیشن سے بھی آگے چلی گئی۔

ری آرگنائزیشن کمیشن نے کہا کہ ’’بھارت کو 16 ریاستوں اور تین وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا جائے‘‘۔ انہوں نے اپنی تفصیلی رپورٹ 1955ء میں پیش کر دی تھی۔

حکومت نے تجاویزکا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو 14 ریاستوں اور چھ یونین ٹریرٹریز میں تقسیم کر دیا۔ 14 نئی ریاستوں میں جموں وکشمیر، آندھرا پردیش، آسام، اڑسیہ، پنجاب، مغربی بنگال، بمبئی، راجھستان، کیرالہ، میسور، اتر پردیش، بہار، مدراس اور مدھیہ پردیش شامل تھیں۔

حکومت نے تحریک کو کمزور کرنے کئے لئے بہار کے اٹھارہ اضلاع کو کاٹ کر جھارکنڈ کی الگ ریاست بنائی گئی۔ جس سے مغربی بنگال، مدھیہ پردیش اور اوڑیسہ میں تحریکوں کو کمزور کرنے میں مدد ملی۔ چھ یونین ٹیرٹریز میں نکوبار آئی لینڈ، دہلی،منی پور، تری پورہ، ہماچل پردیش اور منی کوائے بھی شامل تھے۔

اس کے بعد 1953ء میں مدراس کو کاٹ کر لسانی بنیادوں پر تیلگو النسل افراد کے لئے ریاست آندھرا پردیش بنا دی گئی۔ اس کا ایک اور مقصد تینوں کونوں (مقبوضہ کشمیر اور پنجاب، آسام، تری پورہ، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور مدراس) میں چلنے والی تحریکوں کو خبردار کرنا تھا۔ یہ واضح اشارہ تھا کہ جس علاقے میں بھی کوئی آواز اٹھے گی ،اسکے حصے بخرے کر دیئے جائیں گے۔

1956ء میں ملک بھر میں 14 سٹیٹس اور 6 یونین ٹیریٹریز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ نئے قانون میں تین پرتی نظام قائم کیا گیا۔ جو پہلے صوبے تھے، انہیں اے کیٹگری میں رکھا گیا۔ ’’پر نسلی ریاستوں ‘‘ کو بی اور یونین ٹیریٹریز کو سی کیٹگری میں رکھا گیا۔

آخر الذکر براہ راست مرکز کے تسلط میں چلی گئیں۔ انڈین آئین کے اس غیر انسانی پہلو پر آج تک کسی ادارے یا این جی او نے بحث ہی نہیں کی۔ انڈیا کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی ’’ری آرگنازیشن‘‘ تھی۔

ان میں سے چھ سٹیٹس اور پانچ یونین ٹیریرٹریز اپنی اسی حالت میں اب تک قائم ہیں۔ دیگر کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ری آرگنازیشن کمیشن نے لسانی بنیادوں پر بھارتی پنجاب اور ممبئی کی تقسیم کی مخالفت کی تھی مگر حکمران نہ مانے۔ سکھوں کو کمزور کرنے کے لئے پنجاب کی تقسیم ان کے پلان کا حصہ تھی، سو یہ کام بھی کر دیا گیا۔

ممبئی کو کمزور کرنے کے لئے ممبئی میں بدترین خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا کی گئی تھی۔ گجرات اور مہاراشٹرا کی تشکیل کے لئے وہاں مظاہرے جاری تھے۔ مرکزی حکومت کی لاپرواہی سے مظاہروں میں شدت آ گئی۔

مرکز کا تو مقصد ہی ریاستوں کو لسانی بنیادوں پر چھوٹی سے چھوٹی اکائی میں تقسیم کرنا تھا۔ یہ ’’Divide and Rule‘‘ کی نئی اور جدید شکل تھی۔

چنانچہ 1960ء میں گجرات اور مہاراشٹرا کے علاقے الگ کر دیئے گئے۔ 1963ء میں ناگالینڈ میں تحریک کو کچلنے کے لئے ایک ’’ناگیوں‘‘ کے لئے نئی ریاست بنائی گئی۔

اس مرحلے میں کئی بڑے شہروں کے حصے بخرے کرکے ان کی طاقت کو ختم کر دیا گیا۔ یوں کل ریاستوں کی تعداد سولہ ہو گئی۔ اسی عرصے میں بھارت گوا، دامن (Daman) اور دیو (Diu) کی ریاستوں پر بھی قبضہ کر چکا تھا۔ گوا کو کبھی یونین ٹریرٹری اور کبھی ریاست بنا دیا گیا۔

پنجاب کو کمزور کرنے کے لئے ایک تحریک کو ہوا دی گئی جس کا مطمع نظر ہندی بولنے والوں کے لئے الگ حصے کا قیام تھا۔ اس کی تشکیل کے لئے ’’جے سی شاہ کمشین ‘‘رپورٹ نکالی گئی۔

اس کمیشن کی رپورٹ پر اپریل 1956ء میں پارلیمنٹ نے بھارتی پنجاب کو کمزور کرنے کے لئے ایکٹ منظور کیا تھا جس کی آڑ میں 1966ء میں پنجاب کو تقسیم کرکے ہریانہ کے نام سے نئی ریاست قائم کی گئی۔

بھارتی پنجاب کے کچھ پہاڑی علاقے کاٹ کر (اس وقت کی) یونین ٹیریٹری ہماچل پردیش کو دے دیئے گئے۔ کانگریس کا خیال تھا کہ سکھ پہاڑوں میں منظم ہو رہے ہیں، چنانچہ ان سے پہاڑ ہی چھین لئے گئے۔

چندی گڑھ کو یونین ٹیرٹری بنا کر اسے ہریانہ اور پنجاب کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ یوں سکھوں کے کچھ علاقے مرکز کے کنٹرول میں چلے گئے۔ یہ تقسیم لسانی بنیادوں پر کی گئی۔ بعد ازاں ہماچل پردیش کو یونین ٹیرٹیری کی بجائے ریاست بنا دیا گیا۔

1970ء کی دہائی میں اندرا گاندھی کی کانگریس کے خلاف بھی کئی ریاستوں میں تحریکیں چل رہی تھیں۔ متعدد ریاستوں میں گورنر راج سے کام چلانے کی کوشش کی گئی۔

جب یہ کارڈ بھی کارآمد ثابت نہ ہوا تو یونین ٹریٹری کا حربہ آزمایا گیا۔ 1969ء سے 1971ء تک یہی کہانی دہرائی جاتی رہی۔ شمال مشرقی ریاستوں میں توڑ پھوڑ کے لئے ’’نارتھ ایسٹرن ایریاز ری آرگنائزئشن ایکٹ 1971‘‘ جاری کیا گیا۔

اس مرتبہ حکمرانوں کا نشانہ نکسل باڑی تھے۔ ان کی تحریک کو زک پہنچانا ہی مرکز کا نصب العین تھا۔ شمال اور جنوب مشرقی ریاستوں میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں کو دبانے کے لئے نئی یونین ٹیرٹریز قائم کی گئیں۔

منی پور اور تری پورہ کو سٹیٹ کا درجہ دے دیا گیا جبکہ 1972ء میں آسام کے حصے بخرے کئے گئے۔ اس میں سے میزو رام کی یونین ٹریٹری اور میگھالایا (Meghalaya) کی ریاست بنائی گئی جس سے ریاستوں کی تعداد 21 ہو گئی۔

اس کے تین سال بعد 1975ء میں جعلی ریفرنڈم کی ذریعے سکم پر قبضہ کر کے اسے بھارتی ریاست بنا دیا گیا۔ مئی 1987ء میں شمال مشرق میں اورناچل اور میزو رام کی ریاست قائم کی گئی۔ 1987ء میں گوا کو بھارت کی 25ویں ریاست بنا دیا گیا۔

ماضی میں انہیں یونین ٹریرٹری کا درجہ حاصل تھا۔ گوا، دامن (Daman) اور (Diu) کو سٹیٹ آف گوا کا حصہ اور دامن اور دیو کو یونین ٹیرٹریز بنا دیا گیا۔

اس صدی کے آغاز میں ایک اور بڑی ری آرگنائزیشن کا عمل شروع ہوا۔ نومبر 2000ء میں بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کو کاٹ کر اتر آنچل، جھرکنڈ، چتیس گڑھ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

2 جون 2014ء میں تلنگانہ ریاست کے قیام کے ساتھ ہی ریاستوں کی کل تعداد 29 ہوگئی۔ ان کا مقصد بھی سیاست چمکانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس کا مقصد بھی ریاستوں کو کمزور کرنا تھا۔

مغربی بنگال میں گورکھے ایک مدت سے الگ ریاست کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں مگر نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ گورکھے نیپالی النسل ہیں۔ انہیں اپنے تشخص اور وطن کی تلاش ہے۔ گورکھوں کی بغاوت 1980ء کی دہائی میں مدھم پڑ گئی تھی مگر اب پھر شدت پسندی آ رہی ہے۔

ہندو ان سے بھی بہاریوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ ماضی میں انہیں نیم خود مختاری ملی تھی مگر اس سے اختیارت کی تقسیم نہ ہونے سے نیم خود مختاری کا تصور پنپ نہ سکا۔

اسی طرح چنائی کے قرب میں ترقی ہوئی ہے۔ دوسرے علاقے پسماندگی کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ تامل ناڈو میں بھی لسانیت پھیل رہی ہے۔ اسے شمال اور جنوب میں تقسیم کرنے کی لہر اٹھ رہی ہے۔ دریائے کاوری (Cuavery) کے شمال اور جنوب میں الگ الگ ریاستیں بنانے کے مطالبے کئے جا رہے ہیں۔

بھارتی آئین کی خلاف ورزی

بھارتی آئین کا آرٹیکل دو اورتین حکومت کوریاستوں کی حدود میں ردوبدل کا اختیار دیتا ہے مگر اس کی سخت شرائط ہیں۔ یہی وہ شرائط ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان بھی عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔

شرط اول

اس آئین کا اطلاق صرف ان علاقوں پر ہوتا ہے جو بھارت کا حصہ ہیں۔ (ان کے علاوہ کسی علاقے پر کرنا حماقت اور طاقت کے اندھے استعمال کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

شرط دوم

اس قسم کا بل صرف صدر کی سفارش سے ہی پیش کیا جا سکے گا (جبکہ مقبوضہ کشمیر کے بل صدر کو پتا ہی نہ تھا، یہ امیت شاہ نے پیش کیا، بعد میں منظوری کے لئے صدر کو بھیجا گیا۔

شرط سوم

اپنی سفارش سے پہلے صدر یہ بل لازمی طور پر مذکورہ اسمبلی کو بھیجنے کا پابند ہے۔ جو مقررہ مدت کے اندر اندر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ (اس آرٹیکل پر بھی عمل پر نہیں کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کی لیجسلیٹیو اسمبلی کی سفارشات لازمی قرار دی گئی ہیں۔ایسا کئے بغیر بل ہی آگے نہیں بھیجا سکتا۔

اس سلسلے میں (MUST) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، لہذا بھارتی حکومت کو لجیسلیٹیو اسمبلی کے قیام کا انتظار کرنا چاہیے تھا، اس کے لئے نئے انتخابات بھی ہو سکتے تھے۔

شرط چہارم

بھارت یہ سب کچھ ان ریاستوں اور یونین ٹریرٹریز میں ہی کر سکتا ہے۔

(Visited 100 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں