بیٹیوں کی شادی کے متعلق اسلامی احکامات کیا ہیں؟؟

بیٹیوں کی شادی کے متعلق اسلامی احکامات کیا ہیں؟؟

حضرت محمدﷺ کے پاس جبرائیل تشریف لائے اور خُدا کا حکم سنایا، ” فاطمہ علی کی ھے” جبرائیل چلے گۓ. تو حضرت علی تشریف لائے حضرت فاطمہ کے رشتے کی بات ہوئی، حضورﷺ نے فرمایا (انشااللہ). اب یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ جب خُدا کا حکم آگیا تو انشااللہ کیوں کہا؟ ہاں کیوں نہیں کر دی؟ اور حکم بھی اس بیٹی کے بارے میں جو باپ کے حکم پر جان دے دے. رشتہ ایسا کہ کوئی بھی باپ لمحہ نہ لگائے ہاں بولنے میں… اُس پہ حکمِ ربی ھو! اور جبرائیل وحی سُنا کر جائیں…

پھر بھی میرے آقا محمدﷺ نے فورًا ہاں نہیں کی، بی بی فاطمہ کے پاس گئے بولے بیٹی علی کا رشتہ آیا ھے ھاں کر دوں؟ بی بی نے فورًا مثبت جواب دیا. آپ ﷺ پھر گۓ حضرت علی کو بلایا پھر ہاں کی اور شادی ھوئی.

اب آج کے اس ماڈرن دور میں بیٹیوں کی شادیاں اُن کی مرضی کے بِنا کر دی جاتی ہیں جیسے کسی جانور کو کسی بھی کھونٹے سے باندھ دیا جاتا ھے اُس کی مرضی کے بغیر یہ ظلم ہے.

بیٹی کیا کچھ گھرانوں میں تو بیٹوں سے بھی نہیں پوچھا جاتا کہ ہم لوگ برادری سے باہر نہیں کرتے خان ہیں، یا ملک یا چوہدری کسی دوسرے سے نہیں ہو سکتی ملک ہیں تو کسی خان راجپوت سے نہیں پنجابی، پٹھان، سندھی سب ایک دوسرے سے الگ الگ کیوں اپنے اِن نام نہاد زات بِرادری اور رواجوں کے بھینٹ اپنی اولادوں کی خوشیاں کر رہے ہیں آپ لوگ ؟

کہیں ایک بار پھر زبان کلچر اور ریت و رواج کی وجہ سے ہم لوگ زمانہِ جاھلیت کی طرف تو قدم نھیں اُٹھا رہے ؟؟
حضرت خدیجہ نے اپنی مرضی اور پسند سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا.
آج ہماری بیٹی کسی کو پسند کر لے تو بات ہماری عزتوں پہ آجاتی ہے…

سوال یے کہ کیا (نعوذ باللہ) آج ہماری عزتیں اُن پاک ہستیوں سے بھی بڑھ کر ہو گئ ہیں کہ آج ہم اپنی بہن بیٹی کو اُس کی مرضی سے شادی کرنے کی اِجازت تو دور کی بات اُن کی شادی کے لیۓ اُن سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کرتے؟؟

میرے نبیٌ نے بی بی فاطمہ سے کیوں پوچھا؟حضرت علی کو انتظار کیوں کروایا ؟ کیا نبی کی بیٹی انکار کر سکتی تھیں؟ علی کا رشتہ ٹھکرا سکتی تھیں؟ نھیں بلکل بھی نھیں! یے صرف اس لیۓ کیا اِس کے پیچھے حکمتِ عملی یے تھی کہ وہ اپنی اُمت کو یے سیکھ دے سکیں کے اولاد سے پوچھ کے اُن کی مرضی سے اُن کی شادیاں کرو. بہ ھر حال ذندگی تو اولاد نے ھی گزارنی ھے تو اپنی مرضی سے کیوں نھیں؟؟
ایک صحابی حضورٌ کی خِدمت میں حاضر ہوا. عرض کی! میں نے فلاں لڑکی کے لیے شادی کا پیغام بھجوایا ہے، آپٌ نے پوچھا تُم نے اُس لڑکی کو دیکھا ہے صحابی نے کہا نہیں ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر دیکھ لو تم نے زندگی گزارنی ہے!

سخل کھجور نبی کریم ﷺ کا ایک معجزہ…!

شادی سے پہلے دیکھنے کا بات چیت کرنے کا پسند کرنے کا حق شریعت نے انسان کو دیا ہے.
یہ ذات برادری، ریت رواج آج ہم نے بنائے ہیں اللہ نے نہیں !
تو میرے نبی ﷺ کے اُمتیو! یہ ریت رواج اور ذات بِرادریوں کے بُت توڑ دو،
اپنی آقا ﷺ کی سُنت پہ عمل کرو بچوں کی شادیاں اُن کی مرضی سے کرنا میرے نبیٌ کی سُنت ہے اور سُنت پہ عمل کرنے والوں کی عزتیں کبھی نھیں گھٹتی.
اپنی اولادوں کو اُن کی مرضی کی جائز زندگیاں گزارنے دو یہ حق انہیں شریعت نے دیا ہے.
آخر میں بس ایک سوال چھوڑ کے جا رہی ہوں!
اپنی دو چار دِن کی واہ واہ کے لئے آج بچوں کے ساتھ زبردستی کرنے والوں کی اولادیں اگر اپنی زندگی میں خوش نہ رہے صرف اس لیے کے ماں باپ کی عزت کا سوال ہے وہ چُپ رہے تو کل قیامت کے دِن اُن بچوں کا میرے نبیﷺ کا اور خُدا کا سامنا کیسے کرو گے؟؟

مہمان رائٹر: جویریہ ملک

(Visited 317 times, 6 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں