ریاست مدینہ اور استاد منگو

لیجیے احتیاط کے دامن سے ہمارا ہاتھ بھی اب سرکنے لگا۔ ریاست مدینہ کے تقابل اور طعنوں سے بھرپور نجی، دفتری، عوامی اور سفری مباحث سے تاحال خود کو الگ رکھا۔ لگتا ہے لب کشائی کی جسارت کا وقت آن پہنچا۔ ہمیں بھی اقبال عظیم کی طرح اپنے ضبط پر ناز تھا، مگر اب آنکھ چھلک گئی ہے:

بغیر کسی لگتی پھبتی سچ کہیں تو ہمیں بھی رنج ہے کہ یہ برا ہوا، کیوں کہ ریاست مدینہ ہر مسلمان کی طرح ہمارے اعتقاد کا حصہ ہے۔ البتہ کوئی اس کو اپنے لیے نمونہ بناتا ہے تو یہ بھی لائق احترام جذبہ ہے، جسے کریدنے کی جستجو میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے کا احتمال بہرحال موجود رہتا ہے۔ اس لیے دل ڈرتا تھا، ریاست مدینہ تو جیسے ہم پاکستانیوں کا تکیہ کلام ہوگیا ہے، الاماشاء اللہ۔ جسے بس اسٹاپ پر دس منٹ معمول سے زیادہ انتظار کرنا پڑجائے وہ بھی یہ کوسنا دے کر بس میں سوار ہوتا ہے ’’ریاست مدینہ میں ایسے ذلیل کیا جاتا ہے شہریوں کو‘‘۔ استغفراللہ۔ جس کا دودھ والا کسی وجہ سے ناغہ کرجائے تو اس محرومی کو بھی ریاست مدینہ کے معیار پر پرکھا جاتا ہے، علی ہٰذالقیاس۔

یہاں اس امر کی نشاندہی برمحل ہوگی کہ ریاست مدینہ کی بطور تکیہ کلام صرف وہیں تکرار ہوتی ہے جہاں کسی ضرورت یا سہولت کی دستیابی میں خلل، تاخیر یا دقت کا سامنا ہو۔ ذمے داری، ایمانداری، دیانت داری یا کسی اور داری کا معاملہ ہو تو پھر یہ تکیہ کلام ہمیں بھول جاتا ہے۔ یہ ہمارا وہی رویہ ہے جس کا حج و عمرہ کے موقع پر بیت اللہ اور مسجد نبوی کے پس منظر میں آج کل سیلفیاں لینے میں اظہار کیا جاتا ہے۔ دنیا والوں کے دلوں پر شاق نہ گزرے تو ہمیں یہ کہنے میں باک نہیں کہ سیلفی ذہنی پستی کا عملی اظہار ہے، اور حج و عمرہ کے دوران سیلفیاں… الامان والحفیظ۔۔ اگر خود کو شیشے میں دیکھتے رہنا معیوب تھا تو سیلفیوں میں گم رہنا کیا ہے؟ یہی ترقی ہے تو ایسی ترقی سے ہم باز آئے۔

اس قدرے دل جلی تمہیدی گزارش کے بعد عرض ہے کہ ریاست مدینہ ہمارا تکیہ کلام نہیں، ہم بھولوں کا وہ خواب ہے جو سعادت حسن منٹو کا استاد منگو ہندوستان میں ’نیا قانون‘ نافذ ہونے کے اعلان پر دیکھ لیتا ہے اور شدت سے یکم اپریل کا انتظار کرتا ہے، جو اس نئے قانون کے نافذ ہونے کی تاریخ تھی۔ یکم اپریل کو جب وہ نئے قانون کے زعم میں ایک انگریز کو مکا جڑ دیتا ہے اور اس کی پاداش میں اسے حوالات کی ہوا کھانا پڑتی ہے تو اس پر یہ حقیقت وا ہوتی ہے کہ ’نیا قانون‘ محض اعلان تک ہی محدود تھا، عملی طور پر پرانا قانون ہی نافذ ہے۔ ن لیگ کے تاحیات قائد (اللہ انہیں عمر خضر عطا کرے) اور تین مرتبہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کا تاج اپنے سر پر سجانے والے میاں محمد نواز شریف جب اپنے ضمانتی اور چھوٹے بھائی اور تینوں صوبوں کے بڑے بھائی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج تین بار اپنے سر پر سجانے والے خادم اعلیٰ ( سرکاری اشتہارات میں یہ لقب اس کثرت سے شائع ہوا کہ پنجابی شہباز شریف کا اصل نام بھول گئے) کے ساتھ لندن کے انہی فلیٹس میں بااعتماد انداز میں داخل ہوئے، جن کی بدولت انہیں ’گاڈ فادر‘ تک کہا گیا، تو ہمیں بھی استاد منگو کی طرح یقین ہوگیا کہ نئے پاکستان میں بھی قانون وہی پرانا ہے۔

اللہ بھلا کرے بحریہ ٹاؤن والے غریب پرور انسان کا، جس نے اپنی عدالت عظمیٰ میں ’’وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کرلیا‘‘ والی انٹری سے ہم پاکستانیوں کو یہ بروقت باور کرادیا تھا کہ قانون وہی پرانے والا ہے۔ لیکن تب ہم ان کا وہ ٹھینگا نہیں دیکھ پائے جو میاں محمد نواز شریف دکھا کر چلتے بنے۔ ضمانتی بھائی نے سادہ کاغذ پر خط شکستہ میں جو بیان حلفی قلم بند کیا، اسے تو قانون کی بالادستی کا نمونہ قرار دے کر فریم بند کرالینا چاہیے۔ یہ عدالتی تاریخ کا شاید اکلوتا بیان حلفی ہوگا جو ’نام ہی کافی ہے‘ کے اصول پر وصول کیا گیا۔ آپ اسے ہر اس ’شہباز‘ کا لکھا ہوا بیان حلفی قرار دے سکتے ہیں جس کے والد کا نام شریف ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اس پر کوئی شناختی کارڈ نمبر، کوئی اتا پتا اور کوئی فضول چیز درج کرنے کی زحمت نہیں کی گئی۔ خیر ان کی یہ عنایت بھی غنیمت ہے، ورنہ زبانی ضمانت کی وقعت اس سے کہیں زیادہ تھی۔ آخر خادم اعلیٰ کا کہا ہم پنجابیوں کے سر آنکھوں پر۔ ہم نے استاد منگو کی طرح زندگی کا تانگہ ہی تو چلانا ہے، ریاست مدینہ ہو یا تخت لاہور۔ ویسے بھی یکم اپریل کو نیا قانون نہیں، اپریل فول ہوتا ہے، جس کے ہم عادی ہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

(Visited 37 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں