امن عمل ڈی ریل کیوں ہو جاتا ہے؟

چائے کیسی تھی ؟

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو قابل عمل انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کی صورت میں ہم فوری کارروائی کرنے کے وعدے پر قائم ہیں بھارت پلوامہ حملے پر ٹھوس شواہد دے افسوس ہے بھارت میں انتخابات کی وجہ سے امن بدستور مبہم ہے مودی کو امن کو ایک موقع دینا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مودی کے ساتھ ملاقات میں اتفاق ہوا تھا چونکہ تخفیف غربت ہمارے خطے کی ترجیح ہے اس لئے ہمیں امن کی کوششوں کو دہشتگردی کے کسی واقعہ کی وجہ سے ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے۔ لیکن پلوامہ واقعہ سے بہت پہلے ستمبر2015 میں بھی ان کوششوں کو ڈی ریل کر دیا گیا۔ یہ باتیں وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہی گئیں۔

امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کا جاری رہنا بہت ضروری ہے کیونکہ تعلقات میں بہتری ایک مسلسل عمل ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ امن کی گاڑی ابھی چند کلومیٹر کا فاصلہ ہی طے کرتی ہے کہ کسی نہ کسی سٹیشن پر اسے بریک لگ جاتی ہے اور یہ وہیں جم کر کھڑی ہو جاتی ہے ، ممبئی سٹیشن پر یہ گاڑی پہلے ہی رکی ہوئی تھی تاہم بعض واقعات سے امید پیدا ہو چلی تھی کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے گا خصوصا پاکستان نے کرتار پور راہداری کا تصور پیش کر کے تعلقات کی بہتری کی جانب ایک ہائی جمپ لگائی تھی۔

اس اقدام سے سکھ برادری تو نہال ہو گئی اور ان کی دیرینہ خواہشات عملی شکل اختیارات کرنے کے قریب پہنچ گئیں لیکن بھارت کی مرکزی حکومت نے اس اقدام کا روشن پہلو دیکھنے کی بجائے اسے سکھوں کو رام کرنے کی پاکستانی کوششوں کے پس منظر میں دیکھا حالانکہ جتنے سکھ اس وقت بھارت کے شہری ہیں لگ بھگ اتنے ہی باقی دنیا میں بھی آباد ہیں اگرچہ راہداری سے استفادہ کرنے والوں کے بارے میں ابھی تفصیلات طے کرنا باقی ہیں لیکن بھارت نے اس سلسلے کو تیزی سے آگے نہیں بڑھایا ابھی اس ضمن میں مذاکرات کا آغاز ہوا ہی تھا کہ پلوامہ میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو گیا اور بھارتی حکومت سب کچھ بھول بھلا کر جنگی جنون کو ہوا دینے میں مصروف ہو گئی۔

پاکستان پر حملے کی باتیں کی جانے لگیں اور میڈیا اپنی حکومت کی خواہشات کو آگے بڑھانے میں مصروف ہو گیا لیکن جب پاکستان نے انہی سکوں میں جواب دینا شروع کیا اور خود بھارت کے اندر سے مودی کو مشورے دئے گئے تو پھر انہیں اپنی حماقتوں کا احساس ہوا۔

بھارت کا خیال تھا اور مودی نے اس تاثر کو پختہ تر کرنے میں بڑی زور آزمائی کی کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہو گیا لیکن چند دن کے اندر ہی معلوم ہو گیا کہ پلوامہ کے معاملے پر بھارتی موقف کے ڈرامے کو پذیرائی نہیں ملی، پاکستان کے دوست اس کے ساتھ کھڑے ہیں اور امریکہ سمیت عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انتہا پسندوں کی جانب سے پورے بھارت میں کشمیری باشندوں کو جس انداز میں ہراساں کیا جا رہا تھا بھارتی سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا پڑا اس کے باوجود یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا دہلی کی تہاڑ جیل میں کشمیری حریت لیڈر شبیر شاہ پر ہندو انتہا پسندوں نے حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا اس سے پہلے راجستھان کی جیل میں قید ایک پاکستانی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔

حالانکہ جیلوں میں بند قیدیوں کی حفاظت تو متعلقہ ادارے کی کلی ذمے داری ہے ایسے واقعات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ یا تو حکومت ان لوگوں کے آگے بے بس ہے یا پھر کسی منصوبہ بندی کے تحت اندر خانے ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ اس سلسلے کو روکا جائے ورنہ انتہا پسندی کی اس لہر میں خود بھارت بھسم ہو جائے گا کشمیری رہنما ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے درست ہی کہا کہ اگر کشمیریوں کے خون سے مودی الیکشن جیتنا چاہتے ہیں تو بے شک جیتیں لیکن اس سے کشمیر مضبوط نہیں ہو گا۔

جب تک جموں کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے دل نہیں جیتیں گے تب تک بات نہیں بنے گی، مودی اگر لال قلعے سے کشمیریوں کے دل جیتنے کی بات کرتے ہیں تو -35 اے کو ہٹا کر وہ کون سے دل جیتیں گے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ کا سوچنے والوں کو عقل سے کام لینا چاہئے۔ جنگ صرف بربادی لائے گی اس سے کوئی نہیں نکل سکے گا۔ ہمارے ملک پر اور مصیبت آئے گی جنگ نے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں کیا پاکستان اور بھارت چار جنگیں لڑ چکے ہیں۔

لیکن لائن وہیں کی وہیں ہے۔ پانچویں جنگ بھی کر لیجیے لیکن اس بار جنگ چھوٹی نہیں رہے گی۔مودی کے جنگی جنون کے جواب میں اس طرح کی آوازیں بھی بھارت میں اٹھ رہی ہیں ایسے میں بہتر طرز عمل یہی ہو گا کہ وزیر اعظم کے الفاظ میں مودی امن کو ایک موقع دیں اگرچہ ماضی میں بھی ایسی کوششیں کامیابی سے کم ہی ہم کنار ہوئی ہیں لیکن پاکستانی وزیر اعظم نے بھارتی وزیر اعظم مودی کو یاد دلایا ہے کہ انہوں نے توملاقات میں طے کیا تھا کہ امن عمل کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائیگا لیکن یہ تو پلوامہ سے بہت پہلے ستمبر2015  ہی میں ڈی ریل ہو گیا تھا۔بہترین راستہ یہ ہے کہ دہشتگردی کے اس واقعہ پر جنگ کی دھمکیاں دینے کی بجائے بھارت یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا۔

کیونکہ اس کا کشمیر میں کئے جانے والے ظلم و ستم سے گہرا تعلق ہے بعید نہیں کہ آئندہ بھی ایسے واقعات ہوں کیونکہ جن لوگوں کی زندگیاں لٹ چکی ہیں ان کے پاس زیادہ آپشن نہیں۔اس لئے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ کشمیریوں پر ظلم کا سلسلہ بند کیا جائے محض الزام تراشی یا پاکستان کو ایسے واقعات میں بلاوجہ ملوث کرنے سے دہشت گردی تو رک نہیں سکے گی البتہ امن عمل رکا رہے گا۔

جسے جاری کرنے کی ضرورت ہے،غربت برصغیر کے کروڑوں باسیوں کا مشترکہ مسئلہ ہے جنگ سے ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ جائیں گے اس لئے ضرورت ہے کہ جنگ کی باتوں سے گریز کر کے ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے نہ صرف امن عمل کا آغاز ہو ، بلکہ اسے تقویت بھی ملے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں