رمضان المبارک کا آخری عشرہ اور اعتکاف

عشرے

رمضان المبارک کے تین بابرکت عشرے ہیں پہلا عشرہ رحمت کا عشرہ دوسرا عشرہ استغفار کا عشرہ جبکہ تیسرہ عشرہ نجات کا عشرہ یے ۔ اور اب دوسرا عشرہ یعنی استغفار کا عشرہ اختتام کو پہنچ رہا ہے اور تیسرہ عشرہ یعنی نجات کے عشرہ کی آمد ہے ۔ تیسرے عشرے میں مسلمانوں نے لیئے ایک عبادت مخصوص ہے جو کہ ” اعتکاف ” ہے ۔

اور ہر سال کی طرح اس سال بھی لاکھوں افراد مرد اور عورتیں اعتکاف بیٹھیں گی ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اعتکاف بیٹھے کے لیئے مرد حضرات مسجدوں اور خواتین گھر کے کسی ایک مخصوص اور پاک صاف کمرے کا انتخاب کر لیتی ہیں ۔ اور پھر پورے دس دن اعتکاف میں گزارتی ہیں اللہ تعالی کی عبادت کرتی ہیں ۔

اعتکاف ایک عربی زبان کا لفظ ہے جسکے لغوی معنی ” رک جانا ” اور ” ٹھہر جانا ” کے ہیں ۔

اعتکاف میں بیٹھے افراد کے لیئے ان کے باقی گھر والے سحری اور افطاری کا انتظام کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ اعتکاف میں ہر سانس کے بدلے نیکی ملتی ہے کیونکہ اعتکاف میں سونا بھی عبادت میں شمار ہوتا ہے ۔ اعتکاف میں لیلةالقدر کا ملنا لازمی امر ہے کیونکہ لیلةالقدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں پائی جاتی ہے ۔

اعتکاف حضور پاکؐ کی پسندیدہ عبادتوں میں سے ایک ہے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ
” حضور پاکؐ رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف میں بیٹھا کرتے تھے یہاں تک کہ آپؐ کا وصال ہو گیا ” پھر آپؐ کے وصال کے بعد آپؐ کی ازواج مطھرات یعنی بیویاں اعتکاف میں بیٹھا کرتی تھیں ۔ رمضان المبارک کے بیسویں روزے کو عصر کی نماز وہیں اعتکاف میں پڑھی جاتی ہے ۔

loading...

اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف فرماتے تھے۔ لیکن جس سال آپؐ کا وصال ہوا اس سال آپؐ نے بیس دن اعتکاف فرمایا تھا ۔

حضرت عائشہؓ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ
” آپؐ ہر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے آپؐ فجر کی نماز پڑھتے اور پھر وہاں اعتکاف والی مخصوص جگہ پر پہنچ جاتے ۔ ” راوی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے بھی اعتکاف کی اجازت چاہی تو آپؐ نے اجازت دے دی ۔ اور پھر انہوں نے مسجد میں خیمہ لگا لیا ۔ انہیں دیکھ کر حضرت حفصہؓ اور حضرت زینبؓ نے بھی خیمہ لگا لیا جب آپؐ نے یہ دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے ؟ تب انہیں بتایا گیا کہ آپؐ کی ازواج مطھرات کے خیمے ہیں . تو آپؐ نے فرمایا کہ ” انہوں نے نیکی کی غرض سے یہ کیا انہیں ہٹوا دو ” اور پھر تینوں خیمے ہٹوا دیئے گئے ۔ اور اس سال حضورؐ نے بھی رمضان المبارک میں اعتکاف نہیں فرمایا بلکہ شوال کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا “

اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اگر آپؐ نے حضرت عائشہؓ کو اعتکاف کی اجازت دے دی تو پھر انہوں نے باقی دونوں ازواج مطھرات کو منع کیوں فرمایا ۔۔۔۔ ؟

تو حضور پاکؐ نے اس لیئے منع فرمایا کیونکہ حضرت عائشہؓ کا گھر مبارک مسجد کے ساتھ تھا اور مسجد کا ایک دروازہ ان کے گھر کی جانب کھلتا تھا تو اس وجہ سے وہ ضرورت کا سامان بآسانی لے جا سکتی تھی جبکہ باقی ازواج کا گھر مبارک مسجد سے دور تھا اور انہیں بار بار مسجد سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا جو کہ حضور پاکؐ نے پسند نا فرمایا کہ ازواج مطھرات مردوں کی مسجد سے ہو کر گزریں . . اور اسی وجہ سے انہوں نے خیمے اکھڑوا دیئے ۔ حضرت عائشہؓ کا خیمہ بھی اکھڑوا دیا کیونکہ اس طرح باقی دو ازواج کو کوئی شکایت نا ہو اور خود بھی اعتکاف نہیں فرمایا اس غرض سے کہیں حضرت عائشہؓ کی دل آزاری نا ہو جائے اور پھر آپؐ نے شوال کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا ۔

کتنی خوبصورت بات ہے نا آپؐ نے کتنا زبردست فیصلہ کیا کہ ازواج مطھرات کے دلوں کو بھی صاف کر دیا حضرت عائشہ کی دل آزاری بھی نا ہونے دی اور رب تعالی کو بھی راضی کر لیا . . یعنی سارے حقوق پورے کر دیئے ۔۔ سبحان اللہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں