21 رمضان المبارک شہادتِ حضرت علیؓ

حضرت علیؓ

آج تیسرا عشرہ شروع ہو چکا ہے اور اکیسواں روزہ ہے ۔ اس بابرکت دن اور بابرکت مہینے میں حضرت علیؓ کی شہادت واقع ہوئی ۔

حضرت علیؓ جنکا تعلق بنو ہاشم سے تھا۔ اور وہ حضرت عثمان غنیؓ کے بعد اسلام کے چوتھے خلیفہ بنے ۔

آپؐ کے چچا حضرت ابو طالب کے فرزند تھے ۔ آپؓ کے والد نے آپکا نام ” علی ” اور والدہ نے ” حیدر ” رکھا ۔ حضرت علیؓ کا لقب مرتضی تھا ۔ حضرت علیؓ بچپن سے ہی آپؐ کی تربیت میں رہے یہی وجہ تھی آپؓ کو آپؐ کی سیرت جاننے کا بھرپور موقع ملا ۔

حضرت علیؓ وہ واحد تھے جنہوں نے بچپن میں اسلام قبول کیا ۔ بچپن سے ہی اسلامی خدمات سرانجام دینے لگے ۔ مثال کے طور پر
1) شعب ابی طالب میں بنی ہاشم کی تین سال کی جلاوطنی کے دوران حضرت علیؓ نے رسد پہنچانے کی خدمت سرانجام دی ۔

2) ہجرت مدینہ کے وقت حضور اکرمؐ حضرت علیؓ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ کے لیئے روانہ ہوئے اور لوگوں کی امانتیں واپس کرنے کی زمہ داری بھی آپؓ کو دی ۔

3) خیبر کا قلعہ فتح کرنے میں حضرت علیؓ کا اہم کردار ہے ۔

4) صلح حدیبیہ کے موقع پر شرائط لکھنے کی خدمت بھی آپؓ نے ہی سرانجام دی ۔
آپؓ کی شادی مبارک آپؐ کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہؓ سے ہوئی اس طرح آپؓ کو حضور اکرمؐ کے داماد ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا ۔ اس کے علاوہ حضرت محمد مصطفیؐ نے خود کو علم کا شہر جبکہ حضرت علیؓ کو اسکا دروازہ قرار دیا ۔ مرتبے اور علم و حکمت کے لحاظ سے اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کا مرتبہ بہت بلند ہے ۔

آپؓ بے حد شجاع تھے ۔ اس کے علاوہ غزوہ بدر اور غزوہ خندق میں آپؓ نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا ۔

آپؓ خود فرمایا کرتے تھے کہ


” میں نے بتوں کی پوجا کبھی نہیں کی، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھ سے پہلے کسی نے خدا کی عبادت نہیں کی”
شروع سے ہی آپؐ حضرت علیؓ سے انتہا محبت کرتے تھے۔ جب کوہ صفا پر چڑھ کر حضور نے اعلان نبوت کیا اور اللہ کی عبادت کا حکم دیا اور آپؐ کی پیروی کرنے کا فرمایا تو آپکی آواز پر سب خاموش رہے مگر وہ صرف اور صرف حضرت علیؓ ہی تھے جو کھڑے ہوئے اور فرمایا
” میں عمر میں چھوٹا ہوں اور کمزور بھی ہوں لیکن میں آپؐ کا ہر پل ساتھ دوں گا “

اس وقت حضرت علیؓ کی عمر صرف 10 سال تھی ۔
پھر جب آپ کی عمر ۲۲ سال کی ہوئی تو آپ اپنی جان کی بازی لگا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر پوری رات لیٹے رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لیے نکل گئے۔ اور اس کے تین دن بعد خود بھی حضور سے کے پاس پہنچ گئے ۔ مدینہ پہنچ کر بھی آپؓ نے بہت سی خدمات سرانجام دیں ۔ ایک جنگ کو چھوڑ کر باقی تمام غزوات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ غزوئہ تبوک کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنگ میں شرکت سے روک دیا اور اہل بیت کی حفاظت کے لیے مدینہ ہی میں رہنے کا حکم دیا تو حضرت علیؓ پریشان ہو گئے لیکن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر ان کے اعزاز کو بلند کیا کہ
”علی تم اسے پسند نہیں کرتے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ مقام اور درجہ ہو جو ہارون کا موسیٰ کے نزدیک تھا “

حضرت علی کی اہمیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کتنی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم اہم اور مشکل ترین امور کی انجام دہی کے لیے حضرت علی کو ہی منتخب فرماتے تھے ۔

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد تین دن تک بلواوں کی حکومت رہی اس عرصے میں شہر میں افراتفری کا عالم رہا ۔ پھر حضرت علیؓ سے درخواست کی گئی کہ آپؓ خلیفہ کا عہدہ سنبھالیں ۔ پھر آپؓ نے اسلام اور مسلمانوں کی خاطر درخواست قبول کی اور مسجد میں تشریف لے گئے ۔ وہاں پر لوگوں کی اکثریت نے انکے ہاتھ پر بیعت ر لی۔ اور پھر اس طرح سے 35 ہجری میں حضرت علیؓ کی خلافت کا آغاز ہوا ۔

دور رسالت کے بعد پہلے تین خلفائے راشدین کے دور میں آپؓ شوری کے اہم رکن رہے ۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد آپؓ کو خلیفہ منتخب کیا گیا لیکن شام کے اموی حاکم حضرت امیر معاویہ نے آپؓ کی خلافت کو قبول نا کیا اور قاتلین عثمانؓ سے قصاص لینے کی خاطر آپؓ سے جنگ کی جس کی وجہ سے امت مسلمہ خونریزی کا شکار ہو گئی اور دو حصوں میں بٹ گئی ۔

حضرت علیؓ کا دور خلافت 35 ہجری سے 40 ہجری تک رہا ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں