شیر آیا شیر آیا دوڑنا

فرشتہ

اونچے ٹیلے پر گڈریے کا لڑکا کھڑا، دور گھنے جنگلوں کی طرف منہ کیے چلا رہا تھا

’’شیر آیا شیر آیا دوڑنا۔ ‘‘

بہت دیر تک وہ اپنا گلا پھاڑتا رہا۔ اس کی جوان بلند آواز بہت دیر تک فضاؤں میں گونجتی رہی۔ جب چلا چلا کر اس کا حلق سوکھ گیا تو بستی سے دو تین بڈھے لاٹھیاؒ ٹیکتے ہوئے آئے اور گڈریے کے لڑکے کو کان سے پکڑ کر لے گئے۔ پنچایت بلائی گئی۔

بستی کے سارے عقلمند جمع ہوئے اور گڈریے کے لڑکے کا مقدمہ شروع ہوا۔ فرد جرم یہ تھی کہ اس نے غلط خبر دی اور بستی کے امن میں خلل ڈالا۔ لڑکے نے کہا۔

’’میرے بزرگو، تم غلط سمجھتے ہو۔ شیر آیا نہیں تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ آ نہیں سکتا؟‘‘

جواب ملا۔

’’وہ نہیں آ سکتا۔ ‘‘

لڑکے نے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

جواب ملا۔

’’محکمہ جنگلات کے افسر نے ہمیں چٹھی بھیجی تھی کہ شیر بڈھا ہو چکا ہے۔ ‘‘

لڑکے نے کہا۔

’’لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں کہ اس نے تھوڑے ہی روز ہوئے کایا کلپ کرایا تھا۔ ‘‘

جواب ملا۔

’’یہ افواہ تھی۔ ہم نے محکمہ جنگلات سے پوچھا تھا اور ہمیں یہ جواب آیا تھا کہ کایا کلپ کرانے کی بجائے شیر نے تو اپنے سارے دانت نکلوا دیے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی زندگی کے بقایا دن اہنسا میں گزارنا چاہتا ہے۔ ‘‘

لڑکے نے جوش کے ساتھ کہا۔

’’میرے بزرگو! کیا یہ جواب جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ ‘‘

سب نے بیک زبان ہو کر کہا۔

’’قطعاً نہیں۔ ہمیں محکمہ جنگلات کے افسر پر پورا بھروسا ہے۔ اس لیے کہ وہ سچ بولنے کا حلف اٹھا چکا ہے۔ ‘‘

لڑکے نے پوچھا۔

’’کیا یہ حلف جھوٹا نہیں ہو سکتا؟‘‘

جواب ملا۔

’’ہرگز نہیں۔ تم سازشی ہو، ففتھ کالمسٹ ہو، کمیونسٹ ہو، غدار ہو، ترقی پسند ہو۔ سعادت حسن منٹو ہو۔ ‘‘

لڑکا مسکرایا۔

’’خدا کا شکر ہے کہ میں وہ شیر نہیں جو آنے والا ہے۔ محکمہ جنگلات کا سچ بولنے والا افسر نہیں۔ میں۔ ‘‘

پنچایت کے ایک بوڑھے آدمی نے لڑکے کی بات کاٹ کر کہا۔

’’تم اسی گڈریے کے لڑکے کی اولاد ہو، جس کی کہانی سالہا سال سے سکولوں کی ابتدائی جماعتوں میں پڑھائی جا رہی ہے۔ تمہارا حشر بھی وہی ہو گا جو اس کا ہوا تھا۔ شیر آئے گا تو تمہاری ہی تکا بوٹی اڑا دے گا۔ ‘‘

گڈریے کا لڑکا مسکرایا۔

’’میں تو اس سے لڑوں گا۔ مجھے تو ہر گھڑی اس کے آنے کا کھٹکا لگا رہتا ہے۔ تم کیوں نہیں سمجھتے ہو کہ شیر آیا شیر آیا والی کہانی جو تم اپنے بچوں کو پڑھاتے ہو آج کی کہانی نہیں۔ آج کی کہانی میں تو شیر آیا شیر آیا کا مطلب یہ ہے کہ خبردار رہو۔ ہوشیار رہو۔ بہت ممکن ہے شیر کے بجائے کوئی گیدڑ دونوں نے نہیں ڈرتا، لیکن اس کی حیوانیت سے البتہ ضرور خائف رہتا ہوں اور اس حیوانیت کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ہمیشہ تیار کھتا ہوں۔ میرے بزرگو، اسکولوں میں سے وہ کتاب اٹھا لو۔ جس میں شیر آیا شیر آیا والی پرانی کہانی چھپی ہے۔ اس کی جگہ یہ نئی کہانی پڑھاؤ۔ ‘‘

ایک بوڑھے نے کھانستے کھنکارتے ہوئے کہا۔

’’یہ لونڈا ہمیں گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ ہمیں راہ مستقیم سے ہٹانا چاہتا ہے۔ ‘‘

لڑکے نے مسکرا کر کہا۔

’’زندگی خط مستقیم نہیں ہے میرے بزرگو۔ ‘‘

دوسرے بڈھے نے فرط جذبات سے لرزتے ہوئے کہا۔

’’یہ ملحد ہے، یہ بے دین ہے، فتنہ پردازوں کا ایجنٹ ہے۔ اس کو فوراً زندان میں ڈال دو۔ ‘‘

گڈریے کے لڑکے کو زندان میں ڈال دیا گیا۔ اسی رات بستی میں شیر داخل ہوا۔ بھگدڑ مچ گئی۔ کچھ بستی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ باقی شیر نے شکار کر لیے۔ مونچھوں کے ساتھ لگا ہوا خون چوستا جب شیر زندان کے پاس سے گزرا تو اس نے مضبوط آہنی سلاخوں کے پیچھے گڈریے کے لڑکے کو دیکھا اور دانت پیس کر رہ گیا۔ گڈریے کا لڑکا مسکرایا۔

’’دوست یہ میرے بزرگوں کی غلطی ہے ورنہ تم میرے لہو کا ذائقہ بھی چکھ لیتے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں