اسٹاک ایکسچینج کیا ہے؟

ایکسچینج

ویسے تو بہت پہلے سے یہ الفاظ سننے کو ملتے ہےلیکن اجکل “اسٹاک ایکسچینج”, “انڈیکس” “100انڈیکس” اور “شیئرز میں اتار چڑھائو” کچھ زیادہ ہی سننے کو ملتے ہے تو اج یہ بتاتا چلاوں کہ اخر یہ ہوتے کیا ہے…. مکلمل سمجھانے کیلئے یہ پورا پڑھنا ہوگا.

شئیرز یعنی حصص کا کاروبار اس طرح سے ہوتا ہے کہ بڑے ادارے بینکوں سے ادھار لینے کی بجائے کوشش کرتے ہیں کہ اپنے حصص یعنی کچھ کاروباری حصے عوام کو فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ حصص یعنی شئیرز کہلاتے ہیں۔ ان شئیر خریدنے والوں کو شئیر ہولڈرز کہتے ہیں۔ جب سالانہ منافع ہوتا ہے تو اس کو شئیر ہولڈرز میں ان کی انویسٹمنٹ کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔

انڈیکس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ کتنے شئیرز کی قیمت میں اضافہ ہوا اور کتنے کی قیمت میں کمی۔ اس کی بنیاد پر کل انڈیکس ظاہر ہوتا ہے کہ آج کتنا انڈیکس چڑھا یا گرا۔ملکی حالات مستحکم ہوں تو سرمایہ دار یا عوام انویسٹمنٹ کرتے ہیں۔ ورنہ اگر ملکی حالات مستحکم نہ ہوں تو سرمایہ دار کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ روپے کی قیمت میں کمی، پیٹرول کی قیمت میں اضافہ وغیرہ اہم عوامل ہوتے ہیں۔

حصص خریدنے کے لئے باقاعدہ طور پر ڈاکومنٹیشن ہوتی ہے۔ آپ کا نام، پتہ وغیرہ لیا جاتا ہے اور جب منافع کا اعلان ہوتا ہے تو عموماً وہ لوگ آپ تک خود منافع کی رقم (بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں‌پہنچاتے ہیں

منافع یا نقصان کو ملکی حالات، کاروباری حالات وغیرہ سے ماپا جاتا ہے۔ جیسے سیمنٹ کے شئیرز کی قیمتیں کسی بڑے ڈیم یا تعمیراتی منصوبے کے اعلان کے بعد بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ بینک عموماً ترقی کی طرف جاتے ہیں وغیرہ۔۔مزے کی بات، توہم پرستی اور بھیڑ چال میں پوری سٹاک ایکسچینج کا کوئی مقابل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہلکی سی افواہ بھی کسی کمپنی کے شئیرز کو ڈبو سکتی ہے۔

جس کمپنی کے شئیرز زیادہ خریدے جائیں ان کی قیمت بڑھ جاتی ہیں اور جس کمپنی کے شئیرز بیچے جاتے ہیں زیادہ تعداد میں ان کی قیمت کم ہو جاتی ہیں اور اگر زیادہ کمپنیوں کے شئیرز کی قیمت بڑھ جائے تو اس سے انڈکس میں تیزی دیکھنے میں آتی ہے اور وہ بڑھ جاتا ہے اور اگر خریداری کم ہو اور شئیرز کا بیچنا یا کاروبار نہ ہو تو انڈکس گر جاتا ہے اور اسے مندی کہتے ہیں۔ جس قیمت پر سرمایہ دار نے شئیر خریدے ہوتے ہیں وہ ایک جیسی نہیں رہتی کیونکہ شئیرز کی قیمت کم زیادہ ہوتی رہتی ہے، اس میں کمپنی کی شہرت ، اس کے پھیلاؤ ، ترقی اور استحکام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر تھوڑی مزید وضاحت سے بات کریں تو سٹاک ایکسچینج میں کام کی نوعیت سمجھنے کیلیے پہلے آپ کو شیئرز کے بارے میں تفصیل سے جاننا ضروری ہے۔ کسی کمپنی کا اپنے شیئرز بیچنے کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ اپنے بزنس میں عوام کو حصہ دار بنا لیتی ہیں۔ اسکی کئی ایک وجوہات ہوتی ہیں، اپنی کمپنی میں پیسہ لانا سب سے بڑی وجہ ہے۔ اسکی نوعیت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے مثلاً کچھ کمپنیز پہلی دفعہ اپنے شیئرز مارکیٹ میں لاتی ہیں، کچھ بعد میں اپنا سرمایہ بڑھانے کیلیے اور کچھ وہ جنکی نج کاری ہوتی ہے اور حکومت، عوام کو بھی ان میں حصہ دار بنا لیتی ہے۔ اور یہ ساری کی ساری پبلک لمیٹڈ کمپنیز ہوتی ہیں۔شیئرز سے منافع کیسے ہوتا ہے، تو یہ سمجھیے کہ ہر کمپنی کے “عام” یا آرڈینری شیئر کی ایک ابتدائی قیمت ہوتی ہے جسے Face Value کہا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شیئر دس روپے میں۔ لیکن یہ صرف کتابی قیمت ہوتی ہے، اسکے مقابلے ہر کمپنی کے شیئر کی ایک مارکیٹ ویلیو بھی ہوتی ہے اور اسی مارکیٹ ویلیو سے نفع یا نقصان کا تعین ہوتا ہے۔

کسی بھی کمپنی کے شیئر کی مارکیٹ ویلیو کے تعین میں بہت سے عوامل ہوتے ہیں، مثلاً کمپنی کی Financial Position کیسی ہے، اس چیز کو جج کرنے کیلیے کچھ Indicators ہوتے ہیں جو کہ ماہرین کا کام ہے۔ پھر اس کمپنی کی مارکیٹ میں ساکھ کیا ہے، اس کمپنی کے فیوچر پلینز کیا ہیں، اسکی مینیجمنٹ کیسی ہے، وغیرہ۔
شیئرز سے منافع دو قسم کا ہوتا ہے، ایک تو وہ جو سٹاک ایکسچینج میں ہوتا ہے، مثلاً ایک شیئر آپ نے سو روپے میں خریدا، کچھ دن بعد اسکی مارکیٹ ویلیو دو سو ہوگئی اور آپ نے اپنے شیئرز بیچ دیے۔ دوسری طرح کے منافع کو Dividend کہتے ہیں، یہ وہ منافع ہوتا ہے جو کمپنی ہر سال یا ششماہی اپنے شیئر ہولڈرز کو فی شیئر کے حساب سے دیتی ہے، یہ بھی دو قسم کا ہوتا ہے ایک تو وہ کہ کمپنی کیش کی صورت میں دیتی ہے اور دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ کمپنی کیش نہیں دیتی بلکہ اسکے بدلے میں مزید شیئرز دے دیتی ہے۔

پہلی قسم کا منافع جو سٹاک ایکسچینج میں ہوتا ہے وہ پاکستان میں انتہائی رِسکی کام ہے کہ اس میں سٹہ ہوتا ہے اور ارب پتی لوگ، عام لوگوں کے تھوڑے سرمائے کو ہڑپ کرجاتے ہیں۔ اور Dividend جو ہے وہ صریحاً کمپنی ڈائریکٹرز کی مرضی پر ہوتا ہے کہ کتنا دیں یا بالکل بھی نہ دیں۔
کسی بھی کمپنی کے شیئرز کی مارکیٹ ویلیو، ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصول پر چلتی ہے، مثلاً آپ کو ایک خاص کمپنی کے شیئر درکار ہیں لیکن اس کمپنی کے شیئر بیچنے والے کم ہیں تو اس کمپنی کے شیئر کی قیمت بڑھ جائے گی۔ اس میں دیگر عوامل بھی ہوتے ہیں، مثلاً ایک تیل کمپنی اعلان کرتی ہے کہ انہوں نے نیا تیل ڈھونڈ لیا ہے تو لوگ سوچتے ہیں کہ اب ان کو نفع زیادہ ہوگا، یا کوئی کمپنی اعلان کرتی ہے کہ اس سال انکو زیادہ نفع کی توقع ہے، وغیرہ وغیرہ۔
جن کمپنیوں کی مالی حالت بہت اچھی ہوتی ہے اور انکا Dividend دینے کا ریکارڈ بھی اچھا ہوتا ہے انکو Blue Chip کمپنیاں کہا جاتا ہے اور انکے شیئر کی مارکیٹ ویلیو، فیس ویلیو سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً Unilever Pakistan کے شیئر کی فیس ویلیو شاید پچاس روپے ہے لیکن مارکیٹ میں وہ تین سو سے بھی اوپر کا بکتا رہا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کا اتار چڑھاو بھی کچھ عوامل پر ہوتا ہے۔ مثلاً کسی ملک میں امن و امان کی کیا صورتحال ہے یعنی کسی کمپنی کا بزنس ہوگا بھی کہ ہڑتالیں ہی رہیں گی، اس ملک کی ٹیکس پالیسی کیا ہے یا وہاں کاروبار کرنے کے کیا مواقع ہیں۔

100انڈیکس کیا ہوتا ہے

انڈیکس کا نظام ہر سٹاک ایکسچینج کا اپنا ہوتا ہے، مثلاً کراجی سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس KSE 100 Index کہلاتا ہے، انہوں نے یہ کیا ہوا ہے کہ ٹاپ کی سو کمپنیوں کو اپنی لسٹ میں رکھا ہوا ہے اور انکے اتار چڑھاؤ سے انڈیکس کا اتار چڑھاؤ نوٹ کرتے ہیں، فائدہ اس سے یہ ہوتا ہے کہ معلوم ہوجاتا ہے کہ عمومی کاروبار کس سمت میں جا رہا ہے۔
جب سٹاک ایکسچینج میں ہر طرف شیئر خریدنے والے ہونگے تو شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہوگا نتیجتاً انڈیکس میں بھی اضافہ ہوگا اور اسکے الٹ بیچنے کی صورت میں انڈیکس نیچے جاتا ہے۔
پاکستان میں سٹاک ایکسچینج کا مسئلہ ذرا ٹیڑھا ہے، یہاں پر بڑے بڑے گروپس مصنوعی طور پر ڈیمانڈ بناتے ہیں، جب عام آدمی دیکھتا ہے کہ آج کل تو انڈیکس مسلسل اوپر ہی جا رہا ہے تو وہ بھی شیئر مصنوعی بڑھی ہوئی قیمت پر خرید لیتا ہے، جب یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے تو بڑے گروپ ایک دم شیئر بیچنا شروع کردیتے ہیں اور شئیر کی قیمت نیچے گر جاتی ہے، اب جس بیچارے مگر لالچی یا بھولے بھالے شریف آدمی نے چار دن پہلے شیئر خریدا تھا سو روپے میں وہ اب پچاس میں بھی کوئی نہیں لے رہا۔اس لئے یہ ایک “اعلی دماغ”اور دل گردے والے انسان کے کرنے کا کام ہے۔

شدید مندی اور تیزی سے کیا مراد ہے

آخر میں آپ کو بتائوں کہ اگر ملک میں بے یقینی کی کیفیت ہو گی تو سرمایہ دار اپنے شیئرز بیچنے کی کوشش کریں گے اور جیسا کہ اوپر وضاحت کر چکا ہوں کہ بڑے پیمانے پر شیئرز کی فروخت سے قیمت کم ہو جائے گی اور انہی مختلف شیئرز کی قیمت کم ہونے کی بنیاد پر جب کل انڈیکس میں کمی ظاہر ہوگی تو آپ خبروں میں سن رہیں ہو نگے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں آج مندی کا رجحان رہا۔جب کہ اس کے برعکس اگر جتنے اچھے ملکی حالات ہوں گے اتنا ہی سرمایہ دار یقین کے ساتھ زیادہ شیئرز خریدیں گے اور جتنی زیادہ خریداری ہو گی انڈیکس پوائنٹس شوٹ کریں گے اور آپ نیوز سنیں گے کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج میں آج تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں