وزیراعظم عمران خان کے 5 نکات اور عملی اقدامات

وزیراعظم عمران خان نے چین کے میگا منصوبے ون بیلٹ ون روڈکے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے 5نکات پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ کالر کرائم کا خاتمہ، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے، ٹورازم کوریڈور، غربت میں کمی کیلئے فنڈ کا قیام اور آزاد تجارت کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پاکستان میں توانائی بحران میں کمی ہوئی،چین کے تعاون سے گوادرتیزی سے دنیا کا تجارتی مرکزبن رہا ہے۔

پاکستان وائٹ کالرکرائم کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کررہا ہے،چین سے زراعت، صحت اور تعلیم میں تعاون کا فروغ چاہتے ہیں، بنیادی ڈھانچے، ریلوے، آئی ٹی اورتوانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، پاکستان اورچین سی پیک کے اگلے فیز کی طرف بڑھ رہے ہیں، سی پیک کے اگلے فیز میں سپیشل اکنامک زونزکا قیام ہوگا۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ‘بیلٹ اینڈ روڈ فورم 2019’ کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیش کردہ پانچ نکات میں کہا، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں، سیاحت کا فروغ ، کرپشن اور وائٹ کالر کرائمز کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، غربت کے خاتمے کے لیے فنڈز کا قیام اور تجارت و سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے سی پیک کے تحت تعاون کے 5 نکات پیش کیے جو یہ ہیں: درخت لگانے کے منصوبوں کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی روک تھام، بی آر آئی سیاحتی راہداری کا قیام، بد عنوانی کے خلاف تعاون کیلئے شعبے کا قیام، غربت مٹاﺅ فنڈ کی تشکیل اور تجارتی آزادی اور نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی۔

وزیر اعظم کے پیش کردہ پانچ نکاتی فارمولا پر کام کرنے کے مثبت اثرات و نتائج سامنے آنے کی توقع کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ مندرجہ بالا تمام نکات پر ٹھیک طریقے سے کام کیا گیا تو ہماری قومی معیشت کا گراف خود بخود بلند ہونا شروع ہو جائے گا۔ دنیا بھر میں پچھلے کچھ عرصے سے جاری غیر یقینی جیو پولیٹیکل صورتحال اور تجارت میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور رکاوٹوں کی موجودگی میں یہ منصوبہ تعاون، اشتراکیت، روابط اور مشترکہ خوشحالی کا باعث بن سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان نکات کو بروئے کار کیسے لایا جائے گا ۔

خاص طور پر ان مخدوش حالات میں جبکہ حکومت گزشتہ آٹھ نو ماہ میں معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی ایک ہدف بھی پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا تو خوش آئند ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کا نقشہ اور اپنے عوام کی زندگیاں بدلنے والے ہیں لیکن حالات کا جائزہ لیں تو اس سوال کا کوئی جواب کہیں نظر نہیں آتا کہ کیسے؟ ممکن ہے وزیر اعظم کے ذہن میں اس کا کوئی خاکہ ہو۔ اگر ہے تو انہیں عوام کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔

اس حقیقت سے کون ذی شعور انکار کر سکتا ہے کہ معاشی ترقی اور اقتصادی بڑھوتری کیلئے سب سے پہلے اس ملک اور پھر اس خطے میں پائیدار امن قائم ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں پے در پے مسلح آپریشنوں کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑی جا چکی ہے اور امن و امان کی صورتحال چند سال پہلے کی نسبت بہت بہتر اور اطمینان بخش ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی بہتر اور پرامن رہیں اور مستقل بنیادوں پر رہیں۔

اس سلسلے میں ٹھنڈی ہوائیں نہیں آ رہیں بلکہ ایک نئی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ وزیر اعظم نے توقع ظاہر کی ہے کہ بھارت میں الیکشن کی تکمیل کے بعد اس پڑوسی ملک کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا،بدقسمتی سے اس کا دارومدار بھی مودی کی فتح سے مشروط ہے۔ اسی طرح حال ہی میں عمران خان نے ایران کا جو دورہ کیا اس کے نتیجے میں ہمارے اس پڑوسی کے ساتھ تعلقات بھی ماضی قریب کی نسبت بہتر ہو نے کی توقع کی جانی چاہئیے ۔ لیکن تیسری جانب صورتحال تغیر پذیر ہے اور پاکستان کو اس کے لیے خود کو ابھی سے تیار کرنا ہو گا۔

اگرچہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہم نے ماضی میں بہت نقصان اٹھا لیا اب افغان جھگڑے کا حصہ نہیں ہوں گے لیکن ہمارے اس مغربی پڑوسی ملک میں طالبان اور داعش کے مابین جو لڑائی چل رہی ہے اور افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا جو سلسلہ جاری ہے یہ دو ایسے معاملات ہیں،جن سے نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔

امریکہ افغانستان سے فرار میں جتنی عجلت کا مظاہرہ کر رہا ہے اس کا نتیجہ یقینی طور پر سوویت انہدام کے بعد والے افغانستان جیسا ہی نکلے گا۔ پاکستان کو اس بدلتی ہوئی صورتحال سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے۔ بہرصورت سی پیک کو چین کی معاونت سے اپریشنل کرنا ہے جس کیلئے ہمیں ہر وہ سوراخ بند کرنا ہوگا جہاں سے سی پیک پر تحفظات اٹھانے کی راہیں نکالنے کا موقع مل سکتا ہو۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں