”دوتہائی اکثریت یا اتفاق رائے “

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی رٹ پٹیشن کے ازخود نوٹس میں تبدیل کے ہونے کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے پر بعض حلقوں کی جانب سے ایک بھونچالی کیفیت طاری کی گئی اور بغیر کسی وجہ کہ ملکی سالمیت، تحفظ ،خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے ضامن ادارے اور اس کے سربراہ کوموضوع بحث بنائے رکھا ۔

اس حوالے سے کسی گہرائی میں جائے بغیرکہ کس نے سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے معاملے کو لیکر رائی کاپہاڑ بنانے کی کوشش کی اور کس نے پیالی میں طوفان اٹھائے رکھا ، اتنا ضرور کہنا چاہتاہوں کہ دشمن ملک بھارت ، اس کی نسل پرست فاشسٹ حکومت اور میڈیا نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا ۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بھارتی میڈیا پر جس طرح کا طوفان بد تمیزی برپا کیاگیا۔ وہ پاکستان دشمنی میں بھارتی میڈیا کی معمول کی پریکٹس کا حصہ ہے لیکن ہمیں اس با ت پر بھی غور کرنا ہوگا کہ کہیں نادانستگی میں ہم سے بھی تو کوئی غلطی نہیں ہوگئی جس سے ہمارے ازلی دشمن کے ذرائع ابلاغ اور حکومت کو پروپیگنڈہ کرنے کاموقع مل گیا ۔

سپریم کورٹ میں تین دن کی بحث ، وکلا، آئینی ماہرین کی دلائل و آراءاور حکومت کی جانب سے یکے بہ دیگربلائے جانے والے ہنگامی اجلاسوں کے بعد سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے معاملہ پارلیمنٹ کی طرف ریفر کرکے آرمی چیف کو چھ ماہ کی توسیع دیتے ہوئے معاملے کا چھ بعد دوبارہ جائزہ لینے کاعندیہ بھی دیا ہے ۔سپریم کورٹ نے ایک طرح سے معاملہ حل کردیا ہے تاکہ آئندہ کوئی پاک فوج جیسے منظم ادارے کی تقرر وتوسیع کے معاملے پر انگلی نہ اٹھا سکے ۔ معزز چیف جسٹس نے آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے حوالے سے دائر کی جانے والی رٹ پٹیشن پر جس دوراندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کو از خود نوٹس میں تبدیل کیا عام کوتا ہ بیں نگا ہ اس معاملے کا ادراک کرنے سے قاصر ہے ۔جناب چیف جسٹس نے آئندہ کیلئے یہ دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیاہے کہ کسی کو یہ کہنے کاموقع ملے کہ ملک کو درپیش ہنگامی حالات کے تناظر میں پاک فوج کے سربراہ کا تقرر و توسیع کیسے کی گئی اور کیا آئین میں اس کی کوئی گنجائش بھی موجود ہے؟پارلیمنٹ میں آرمی چیف کے تقرر توسیع کے حوالے سے کی جانیوالی قانون سازی کے بعد ایسی افواہوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ بند ہوجائے گاجس سے پاک فوج کے ادارے اوراس کے سربراہ کوکسی بھی سطح پر ڈسکس کیاجاسکے ۔

پاک فوج ایک پروفیشنل ادارہ ہے !

اب رہا یہ معاملہ کہ حکمران جماعت کو ایوان میں چند ارکان کی برتری حاصل ہے اور آئین میں ترمیم کیلئے ارکان کی دوتہائی اکثریت کا ہونا ضروری ہے تو اس کاسادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ آئینی ترمیم ملکی دفاع کے ضامن ادارے کے سربراہ کے حوالے سے ہوگی جس کامنصب کسی بھی قسم کی سیاست سے بالاتر ہے ۔ بلاشہ آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے ملک کو جس طرح مشکلات سے نکالاہے اور جنگ کئے بغیر سفارتی محاذ پر کرتار پور راہداری کی صورت بھارت کوجس شکست سے دوچار کیاہے ، اس کی خفت بھارت سے مٹائے نہیں مٹ رہی ۔ آرمی چیف دفاعی محاذ کے ساتھ ساتھ جمہوری حکومت کی بھی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں اور ملک کو موجودہ معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے کی جانیوالی کوششوں میں بھی ان کا ایک نمایاں کردار ہے ۔

ایسے میں اگر ان کی تقریر وتوسیع کے معاملے پر آئینی ترمیم منظوری کیلئے ایوان میں آتی ہے تو حکومتی اراکین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی بڑھ چڑھ کر آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے گی بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ ہماری قومی اسمبلی آرمی چیف کے حوالے سے پیش کی جانیوالی آئینی ترمیم کو دوتہائی اکثریت کی بات ایک طرف رکھ کر اتفاق رائے سے منظور کرے گی تاکہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاس کی جانیوالی متفقہ قرارداد کے بعد ملک دشمنوں کے منہ پر زور دار مکا رسید کیا جاسکے ۔

(Visited 3,539 times, 930 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں