آپ کو اپنے جنتی ہونے کی گارنٹی کون دے سکتا ہے؟

جنتی ہونے کی گارنٹی

مسلمان ہونے کے ناطے ہم چاہتے ہیں اللہ پاک ہمیں جنت میں اعلی مقام دیں۔مگر کیا آپ خود کی جنتی ہونے کی گارنٹی لینا چاپتے ہیں؟ جنت پانا کوئی مشکل کام نہیں ہے بس نظروں میں حیا ہونی چاہیئے اور حیا تب ہو گی جب دلوں میں خدا تبارک و تعالی کا خوف موجود ہو گا ۔ ہم بہت گناہگار ہیں لیکن ہو سکتا ہے ہماری ایک عادت ایک عبادت ہی ہمیں جنت میں پہنچا دے ۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر دل میں اللہ کا خوف ہو گا تو ہم تمام گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

یہ امام شافعیؒ کے زمانے کی بات ہے کہ ایک خلیفہ نے اپنی بیوی کو عجیب طریقے سے طلاق دے دی اور یہ طلاق آگے چل کر فقہ کا بہت بڑا مسئلہ بن گئی۔ ایک دن بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ دربار میں بیٹھا تھا ہنسی مزاق جاری تھا اور اسی ہنسی مزاق میں اُس نے ملکہ سے پوچھ لیا کہ ” تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے ؟ ”

ّوہ ملکہ بادشاہ کی سب سے عزیز ترین بیگم تھی وہ بھی مذاق میں بول پڑی کہ ” مجھے تو آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں “۔ اب بادشاہ یہ سن کر آگ بگولہ ہو گیا اسے بہت غصہ آیا اور شدید غصے کے عالم میں میں اس نے کہا اچھا اگر میں تمہیں جہنمی لگتا ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں ۔ ملکہ نے جب یہ سنا تو اُس نے رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ پھر بادشاہ کو بھی کچھ دیر بعد اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔اگلے دِن بادشاہ سلامت نے ملک کے تمام علماء، مفتی صاحبان اور اماموں کو دربار میں بلا لیا۔اور اُن سے پوچھا کہ” کیا اِس طریقے سے میری طلاق ہو چکی ہے؟ ”

بیٹیوں کی شادی کے متعلق اسلامی احکامات کیا ہیں؟؟

سب مفتی صاحبان ، عالموں اماموں اور بزرگوں کا یہی کہنا تھا کہ طلاق ہو چکی ہے اور شریعت کی روشنی میں ملکہ اب بادشاہ سلامت کی زوجہ نہیں رہی ۔ لیکن وہاں ایک بوڑھے مفتی بھی موجود تھے، وہ بالکل خاموش بیٹھے رہے۔بادشاہ نے اُن سے بھی یہی سوال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جناب یہ طلاق نہیں ہوئی کیونکہ آپ نے یہ کہا تھا کہ اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں اور آپ کو کیسے پتہ ہے کہ آپ جہنمی ہیں ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ آپ جہنمی ہیں کہ نہیں ہیں ۔ پھر کہنے لگے کہ اگر کوئی شخص آپ کے جنتی ہونے کی گارنٹی دے دے تو آپکی یہ طلاق نہیں ہوگی۔ بادشاہ یہ بات سن کر بہت خوش ہوا اور پھر جوشیلے انداز میں پوچھا ” لیکن مجھے اِس چیز کی گارنٹی کون دے گا۔۔۔؟ ”

loading...

سب علماء کرام نے اِس سوال کے جواب پر اپنے سر جھکا لیے، کیونکہ اس دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں جو کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کی گارنٹی دے سکے ۔ پھر وہاں موجود ایک نوجوان مفتی اٹھا اور
وہ نوجوان مفتی بادشاہ سلامت سے مخاطب ہوا
” بادشاہ سلامت میں آپکو یہ گارنٹی دے سکتا ہوں،
لیکن اِس کیلئے میں آپ سے ایک سوال پوچھوں گا، اگر آپکا جواب “ہاں” ہوا تو میں آپکو جنتی ہونے کی گارنٹی دے دوں گا ۔
بادشاہ نے کہا ہاں، پوچھو۔
مفتی نے پوچھا،
” کیا آپکی زندگی میں کبھی کوئی ایسا موقع آیا تھا، کہ آپ گناہ پر قادر تھے، لیکن آپ نے صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے وہ گناہ چھوڑ دیا تھا۔۔۔؟ ”
بادشاہ نے سر اُٹھایا اور کہا،
” ہاں، ایک بار ایسا ہوا تھا،
میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا اور وہاں ایک نوکرانی صفائی کر رہی تھی،

وہ لڑکی بہت خوبصورت تھی، میں بھٹک گیا،
میں نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
میں غلط نیت سے اُس لڑکی کی طرف بڑھا تو اُس نے رونا شروع کر دیا، اور وہ چلّا کر بولی،
” اے بادشاہ ! اللہ سے ڈرو، وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے”۔
میں نے جب یہ سنا تو میرے اُوپر اللہ تعالیٰ کا خوف طاری ہو گیا۔
میں اگرچہ بادشاہ تھا،
وہ لڑکی میرے کمرے میں تھی،
میں نے دروزے کو اندر سے کنڈی لگائی ہوئی تھی،
اور اُس وقت دنیا کی کوئی طاقت مجھے بُرائی سے نہیں روک سکتی تھی۔
لیکن میں نے صرف اللہ تعالیٰ کے خوف سے دروازہ کھول دیا، اور اُس لڑکی کو جانے کی اجازت دے دی۔۔۔
یہ سب سن کر وہ نوجوان مفتی مسکرایا اور اس نے قرآن پاک کی آیت سنائی جسکا ترجمعہ کچھ یوں ہے کہ ” جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر گیا اور اُس نے اپنے نفس کو خواہشات میں پڑنے سے بچا لیا تو ایسے شخص کا ٹھکانہ جنت ہوگا ۔
اِس کے بعد مفتی نے بادشاہ سلامت سے کہا،
” میں آپکو گارنٹی دیتا ہوں کہ آپ جنتی بھی ہیں، اور آپکی طلاق بھی نہیں ہوئی۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ جنت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپکے دل میں خدا کا خوف ہونا ضروری ہے کیونکہ اگر آپکا دل خوف خدا سے بھرا ہے تو اس بات کی گارنٹی دی جا سکتی ہے کہ آپ بہت سی برائیوں سے پیچھا چھڑا لیں گے ۔ اور آپکے لیئے جنت پانا آسان ہو جائے گا ۔ جہاں نہریں بہ رہی ہیں نو بہت ہی خوبصورت اور پرسکون جگہ ہے ۔

زونیرہ شبیر

پنڈیگھیب ، اٹک

(Visited 3,686 times, 972 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں