منی بجٹ کے بعد آئی ایم ایف کے مزید مطالبات

منی بجٹ

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اپنے قریبی رفقاء سے مشاورت کی اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے تجاویز اور آراء طلب کی ہیں تاکہ منی بجٹ پر بحث کرانے کی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری کی جاسکے۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا ماحول بہتر رکھنے اور ایوان کی کارروائی چلانے کے لئے پارلیمانی لیڈرز پر مشتمل 13 رکنی نگران کمیٹی قائم کر دی۔ وزیراعظم عمران خان، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے چیئرمین آصف علی زرداری بھی ایک میز پر بیٹھیں گے، تینوں کمیٹی ارکان میں شامل ہیں۔ کمیٹی کی طرف سے ارکان کے طرز عمل کی نگرانی اور ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ کمیٹی گزشتہ سیشن میں منظور متفقہ قرارداد کے تحت قائم کی گئی ہے۔

کمیٹی سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں کام کرے گی۔ کمیٹی کے جاری اختیارات کے مطابق قواعد و ضوابط کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس کو چلانے کی نگرانی کمیٹی کرے گی۔ سات رکنی مینڈیٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ کمیٹی پرامن ماحول میں اجلاس کی کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے کردار ادا کرے گی اور ارکان کے طرز عمل سے متعلق ہاؤس کی طرف سے بھجوائے گئے معاملے کی تحقیق کرے گی۔

ارکان کے خلاف تضحیک آمیز اور غیرپارلیمانی ریمارکس کا نوٹس لے سکے گی۔ کمیٹی ارکان کے استحقاق کے مجروح ہونے کا بھی جائزہ لے سکے گی۔ اس طرح ارکان کے خلاف بھی شکایات کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ تاہم عدالتوں میں زیرالتوامقدمات اور میڈیا میں بے بنیاد خبر کی بنیاد پر کمیٹی کو نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہو گا ۔ کمیٹی سہ ماہی بنیادوں پر اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی جس میں ارکان کے مجموعی طور پر طرز عمل کے بارے میں رپورٹ بھی شامل ہو گی۔ قواعد و ضوابط کے مطابق کمیٹی کام کرے گی۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے اپنے رویوں میں لچک لانے کیلئے مشاورت شروع کر دی ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس کی اچانک برخاستگی اور شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر منسوخ ہونے کے خدشے پر مسلم لیگ (ن) میں بھی پریشانی بڑھ گئی ہے، اس وجہ سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس یکم فروری تک موخر کر دیا ہے۔

اگرچہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کی شق 180 پی اے سی سمیت کسی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو اپنے یا کسی رکن کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی اجازت دیتی ہے تاہم ایسا نہیں ہے کہ وہ سپیکر کو بائی پاس کرتے ہوئے پروڈکشن آرڈر کر دے، اس کیلئے سیکرٹری اسمبلی یا دیگر مجاز اتھارٹی کی اجازت مشروط ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جب تک وزیراعظم عمران خان نہیں چاہیں گے، سپیکر اسد قیصر شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرینگے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں اچانک قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر کے سپیکر اسد قیصر اپنے حلقہ انتخاب صوابی روانہ ہوگئے اور اپوزیشن کی طرف سے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود لیگی رہنماؤں سے بات نہیں کی۔تین چار روز بعد(ن) لیگ اور سپیکر اسد قیصر میں رابطہ ہوا۔ انہوں نے اپوزیشن کو اپنے رویہ میں لچک کی ہدایت کی، اس صورت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ریکوزیشن کے بغیر بلانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:- حکومت کا دوسرا منی بجٹ اور آئی ایم ایف

مسلم لیگ( ن )کی مجبوری اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرانا ہے، جو حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ سپیکر کی طرف سے پارلیمان کی 13 رکنی کمیٹی کا اعلان اس سلسلہ کی کڑی ہے، حکومت کیلئے منی بجٹ پر ایوان میں بحث کرانا ضروری ہے، اسے متحدہ اپوزیشن کی مدد و تعاون درکار ہے۔رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اپنے قریبی رفقاء سے مشاورت کی اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے تجاویز اور آراء طلب کی ہیں تاکہ منی بجٹ پر بحث کرانے کی آئینی و قانونی ذمہ داری پوری کی جاسکے۔ وزیراعظم کے ایک ترجمان کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور حکومت پارلیمنٹ میں پرامن اور خوشگوار ماحول رکھنا چاہتی ہے۔ حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ پارلیمنٹ کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلائی جائے، اس سلسلہ میں وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔

اس معاملہ پر پارٹی میں مشاورت اور غور جاری ہے لیکن یہ سب کچھ اپوزیشن کے رویہ اورطرز عمل سے مشروط ہوگا۔صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن نے اپنے رویوں اورطرز عمل پر نظرثانی کیلئے مشاورت شروع کر دی ہے۔ قوی امکان ہے کہ یکم فروری جمعرات سے قبل اس کا نتیجہ نکل آئے گا اور شہباز شریف پی اے سی اجلاس کی صدارت کرسکیں گے۔ملک کی مخدوش معاشی صورتحال کی بہتری کا دارومدار سیاسی درجہ حرارت کے اعتدال اور امن وامان کی خوشگوار صورتحال پر ہے۔

حکومت کے قیام سے لے کر تاحال سیاسی ماحول کی گرما گرمی اور حکومتی وزیروں،مشیروں اور جواب آں غزل کے طورپراپوزیشن لیڈروں کے بیانت سے یہ تاثر قوی تر ہوتا جارہا تھا کہ سیاستدان عوامی مسائل سے بے پرواہ ہوکر محض اپنے اپنے ذاتی مفادات کا راگ الاپے چلے جارہے ہیں ۔حقیقتاًاب تک دونوں حکومتی ایوانوں میں کوئی موثر قانون سازی تک نہ ہوسکی۔ایسے میں امید کی جانی چاہئیے کہ اس کمیٹی کے ذریعے ہی سہی لیکن قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں سیر حاصل بحث کے بعد قانون سازی کا عمل شروع ہوسکے گا۔

loading...

Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں