تصویر

مائی نانکی

’’بچے کہاں ہیں؟‘‘

’’مر گئے ہیں‘‘

سب کے سب؟‘‘

’’ہاں، سب کے سب۔ آپ کو آج ان کے متعلق پوچھنے کا کیا خیال آگیا۔ میں اُن کا باپ ہوں‘‘

’’آپ ایسا باپ خدا کرے کبھی پیدا ہی نہ ہو‘‘

’’تم آج اتنی خفا کیوں ہو۔ میری سمجھ میں نہیں آتا‘گھڑی میں رتی گھڑی میں ماشہ ہو جاتی ہو۔ دفتر سے تھک کر آیا ہوں اور تم نے یہ چخ چخ شروع کردی ہے۔ بہتر تھا کہ میں وہاں دفتر ہی میں پنکھے کے نیچے آرام کرتا۔ ‘‘

’’پنکھا یہاں بھی ہے۔ آپ آرام طلب ہیں۔ یہیں آرام فرما سکتے ہیں‘‘

’’تمہارا طنز کبھی نہیں جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ یہ چیز تمہیں جہیز میں ملی تھی‘‘

’’میں کہتی ہوں، کہ آپ مجھ سے اس قسم کی خرافات نہ بکا کیجیے۔ آپ کے دیدوں کا تو پانی ہی ڈھل گیا ہے‘‘

’’یہاں تو سب کچھ ڈھل گیا ہے۔ تمہاری وہ جوانی کہاں گئی؟۔ میں تو اب ایسا محسوس کرتا ہوں جیسے سو برس کا بڈھا ہوں‘‘

’’یہ آپ کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ میں نے تو خود کو کبھی عمر رسیدہ محسوس نہیں کیا‘‘

’’میرے اعمال اتنے سیاہ تو نہیں۔ اور پھر میں تمہارا شوہر ہوتے ہوئے کیا اتنا بھی محسوس نہیں کر سکتا کہ تمہارا شباب اب روبہ تنزل ہے‘‘

’’مجھ سے ایسی زبان میں گفتگو کیجیے جس کو میں سمجھ سکوں۔ یہ تروبہ نزل کیا ہوا‘‘

چھوڑو اسے۔ آؤ محبت پیار کی باتیں کریں!‘‘

آپ نے ابھی ابھی تو کہا تھا کہ آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سو برس کے بڈھے ہیں‘‘

بھئی دل تو جوان ہے‘‘

آپ کے دل کو میں کیا کہوں۔ آپ اسے دل کہتے ہیں مجھ سے کوئی پوچھے تو میں یہی کہوں گی کہ پتھر کا ایک ٹکڑا ہے جو اس شخص نے اپنے پہلو میں دبا رکھا ہے اور دعویٰ یہ کرتا ہے کہ اس میں محبت بھری ہوئی ہے۔ آپ محبت کرنا کیا جانیں۔ محبت تو صرف عورت ہی کر سکتی ہے‘‘

’’آج تک کتنی عورتوں نے مردوں سے محبت کی ہے۔ ذرا تاریخ کا مطالعہ کرو۔ ہمیشہ مردوں ہی نے عورتوں سے محبت کی اور اسے نبھایا۔ عورتیں تو ہمیشہ بے وفا رہی ہیں‘‘

’’جھوٹ۔ اس کا اوّل جھوٹ ‘ اس کا آخر جھوٹ۔ بیوفائی تو ہمیشہ مردوں نے کی ہے‘‘

اور وہ جو انگلستان کے بادشاہ نے ایک معمولی عورت کے لیے تخت و تاج چھوڑ دیا تھا؟۔ وہ کیا جھوٹی اور فرضی داستان ہے‘‘

’’بس ایک مثال پیش کر دی اور مجھ پر رعب ڈال دیا‘‘

’’بھئی تاریخ میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ مرد جب کسی عورت سے عشق کرتا ہے تو وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹتا‘ کم بخت اپنی جان قربان کر دیگا مگر اپنی محبوبہ کو ذرا سی بھی ایزا پہنچنے نہیں دے گا‘ تم نہیں جانتی ہو مرد میں جبکہ وہ محبت میں گرفتار ہو کتنی طاقت ہوتی ہے‘‘

’’سب جانتی ہوں۔ آپ سے تو کل الماری کا جما ہوا دروازہ بھی نہیں کھل سکا۔ آخر مجھے ہی زور لگا کر کھولنا پڑا‘‘

’’دیکھو‘ جانم۔ تم زیادتی کر رہی ہو۔ تمھیں معلوم ہے کہ میرے داہنے بازو میں ریح کا درد تھا‘ میں اُس دن دفتر بھی نہیں گیا تھا اور سارا دن اور ساری رات پڑا کراہتا رہا تھا۔ تم نے میرا کوئی خیال نہ کیا اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ سنیما دیکھنے چلی گئیں‘‘

’’آپ تو بہانہ کر رہے تھے‘‘

’’لا حول و لا۔ یعنی میں بہانہ کر رہا تھا‘ درد کے مارے میرا بُرا حال ہو رہا ہے اور تم کہتی ہو کہ میں بہانہ کر رہا تھا۔ لعنت ہے ایسی زندگی پر‘‘

’’یہ لعنت مجھ پر بھیجی گئی ہے!‘‘

’’تمہاری عقل پر تو پتھر پڑ گئے ہیں۔ میں اپنی زندگی کا رونا رو رہا تھا‘‘

’’آپ تو ہر وقت روتے ہی رہتے ہیں‘‘

’’تم تو ہنستی رہتی ہو۔ اس لیے کہ تمھیں کسی کی پرواہ ہی نہیں۔ بچے جائیں جہنم میں‘ میرا جنازہ نکل جائے۔ یہ مکان جل کر راکھ ہو جائے مگر تم ہنستی رہو گی۔ ایسی بے دل عورت میں نے آج تک اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی‘‘

’’کتنی عورتیں دیکھی ہیں آپ نے اب تک؟‘‘

’’ہزاروں‘ لاکھوں۔ سڑکوں پر تو آج کل عورتیں ہی عورتیں نظر آتی ہیں‘‘

’’جھوٹ نہ بولیے۔ آپ نے کوئی نہ کوئی عورت خاص طور پر دیکھی ہے‘‘

’’خاص طور پر سے تمہارا مطلب کیا ہے؟‘‘

’’میں آپ کے راز کھولنا نہیں چاہتی۔ میں اب چلتی ہوں‘‘

’’کہاں؟‘‘

’’ایک سہیلی کے یہاں۔ اس سے اپنا دکھڑا بیان کروں گی ‘ خود روؤں گی‘ اُس کو بھی رلاؤں گی۔ اس طرح کچھ جی ہلکا ہو جائے گا‘‘

وہ دکھڑا جو تمھیں اپنی سہیلی سے بیان کرنا ہے‘ مجھے ہی بتا دو۔ میں تمہارے غم میں شریک ہونے کا وعدہ کرتا ہوں۔

’’آپ کے وعدے؟۔ کبھی ایفا ہوئے ہیں؟‘‘

’’تم بہت زیادتی کر رہی ہو۔ میں نے آج تک تم سے جو بھی وعدہ کیا پورا کیا۔ ابھی پچھلے دنوں تم نے مجھ سے کہا کہ چائے کا ایک سیٹ لا دو۔ میں نے ایک دوست سے روپے قرض لے کر بہت عمدہ سیٹ خرید کر تمھیں لا دیا۔

’’بڑا احسان کیا مجھ پر۔ وہ تو دراصل آپ اپنے دوستوں کے لیے لائے تھے۔ اس میں سے دو پیالے کس نے توڑے تھے؟ ذرا یہ تو بتائیے؟‘‘

’’ایک پیالہ تمہارے بڑے لڑکے نے توڑا۔ دوسرا تمہاری چھوٹی بچی نے‘‘

’’سارا الزام آپ ہمیشہ انھیں پر دھرتے ہیں۔ اچھا اب یہ بحث بند ہو۔ مجھے نہا دھو کر کپڑے پہننا اور جُوڑا کرنا ہے۔

’’دیکھو‘ میں نے آج تک کبھی سخت گیری نہیں کی‘ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آتا رہا ہوں مگر آج میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ باہر نہیں جا سکتیں‘‘

’’اجی واہ۔ بڑے آئے‘ مجھ پر حکم چلانے والے۔ آپ ہیں کون؟‘‘

’’اتنی جلدی بھول گئی ہو۔ میں تمہارا خاوند ہوں‘‘

’’میں نہیں جانتی ‘ خاوند کیا ہوتا ہے۔ میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ میں باہر جاؤں گی اور ضرور جاؤں گی‘ دیکھتی ہوں‘ مجھے کون روکتا ہے‘‘

’’تم نہیں جاؤ گی۔ بس یہ میرا فیصلہ ہے‘‘

’’فیصلہ اب عدالت ہی کرے گی‘‘

’’عدالت کا یہاں کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا آج تم کیسی اوٹ پٹانگ باتیں کر رہی ہو‘ تک کی بات کرو۔ جاؤ نہا لو تاکہ تمہارا دماغ کسی حد تک ٹھنڈا ہو جائے‘‘

’’آپ کے ساتھ رہ کر میں تو سر سے پیر تک برف ہو چکی ہوں‘‘

کوئی عورت اپنے خاوند سے خوش نہیں ہوتی‘ خواہ وہ بیچارہ کتنا ہی شریف کیوں نہ ہو۔ اس میں کیڑے ڈالنا اس کی سرشت میں داخل ہے۔ میں نے تمہاری کئی خطائیں اورغلطیاں معاف کی ہیں‘‘

’’میں نے خدانخواستہ کون سی خطا کی ہے؟‘‘

’’پچھلے برس تم نے شلجم کی شب دیگ بڑے ٹھاٹ سے پکانے کا ارادہ کیا۔ شام کو چولہے پر ہنڈیا رکھ کر تم ایسی سوئیں کہ اُٹھ کر جب میں باورچی خانے میں گیا تو دیکھا کہ دیگچی میں سارے شلجم کوئلے بنے ہوئے ہیں۔ ان کو نکال کر میں نے انگیٹھی سلگائی اور چائے تیار کی۔ تم سو رہی تھیں‘‘

’’میں یہ بکواس سننے کے لیے تیار نہیں‘‘

’’اس لیے کہ اس میں جھوٹ کا ایک ذرّہ بھی نہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ عورت کو سچ اور حقیقت سے کیوں چڑ ہے۔ میں اگر کہہ دُوں کہ تمہارا بایاں گال تمہارے دائیں کے مقابلے میں کسی قدر زیادہ موٹا ہے تو شاید تم مجھے ساری عمر نہ بخشو۔ مگر یہ حقیقت ہے جسے شاید تم بھی اچھی طرح محسوس کرتی ہو۔ دیکھو یہ پیپر ویٹ وہیں رکھ دو۔ اٹھا کے میرے سر پر دے مارا تو تھانہ تھنول ہو جائے گا‘‘

’’میں نے پیپر ویٹ اس لیے اُٹھایا تھا کہ یہ آپ کے چہرے کے عین مطابق ہے۔ اس کے اندر جو ہوا کے بلبلے سے ہیں وہ آپ کی آنکھیں ہیں۔ اور یہ جو لال سی چیز ہے وہ آپ کی ناک ہے جو ہمیشہ سُرخ رہتی ہے۔ میں نے جب آپ کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے ایسا لگا تھا جیسے آپ کی آنکھوں کے نیچے جو گائے کی آنکھیں ہیں‘ ایک کاکروچ اوندھے منہ بیٹھا ہے‘‘

’’تمہارا جی ہلکا ہو گیا؟‘‘

’’میرا جی کبھی ہلکا نہیں ہو گا۔ مجھے آپ جانے دیجیے۔ نہا دھو کر میں شاید یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلی جاؤں‘‘

’’جانے سے پہلے یہ تو بتا جاؤ کہ یہ جانا کس بنا پر ہے؟‘‘

’’میں بتانا نہیں چاہتی۔ آپ تو اوّل درجے کے بے شرم ہیں‘‘

’’بھئی ‘ تمہاری اس ساری گفتگو کا مطلب ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔ معلوم نہیں ‘ تمھیں مجھ سے کیا شکایت ایک دم پیدا ہو گئی ہے‘‘

’’ذرا اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالیے‘‘

’’میرا کوٹ کہاں ہے؟‘‘

’’لاتی ہوں۔ لاتی ہوں‘‘

’’میرے کوٹ میں کیا ہو سکتا ہے۔ وہسکی کی بوتل تھی۔ وہ تو میں نے باہر ہی ختم کر کے پھینک دی تھی۔ لیکن ہو سکتا ہے رہ گئی ہو‘‘

’’لیجیے ‘ آپ کا کوٹ یہ رہا‘‘

’’اب میں کیا کروں؟‘‘

’’اس کی اندر کی جیب میں ہاتھ ڈالیے۔ اور اُس لڑکی کی تصویر نکالیے جس سے آپ آج کل عشق لڑا رہے ہیں‘‘

’’لا حول و لا‘‘

تم نے میرے اوسان خطا کر دیے تھے۔ یہ تصویر ‘ میری جان‘ میری بہن کی ہے جس کو تم نے ابھی تک نہیں دیکھا‘ افریقہ میں ہے۔ تم نے یہ خط نہیں دیکھا۔ ساتھ ہی تو تھا۔ یہ لو‘‘

’’ہائے‘ کتنی خوبصورت لڑکی ہے۔ میرے بھائی جان کے لیے بالکل ٹھیک رہے گی‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں